المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 11 · حديث 2270
2269 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا يحيى بن مطيع الشيباني ثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية عن إسماعيل عن قيس عن جرير أن عيينة ابن حصن Y دخل على النبي صلى الله عليه و سلم وعنده عائشة فقال : من هذه الجالسة إلى جانبك ؟ قال : ( عاشة ) قال أفلا أنزل لك عن خير منها ؟ يعني امرأته فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا ) قال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( اخرج فاستأذن ) قال : إنها يمين علي أن لا أستأذن على مضري فقالت عائشة رحمها الله : من هذا ؟ قال : ( هذا أحمق متبع )
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عیینہ بن حصین حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ سے عرض کی : آپ کے پاس بیٹھنے والی کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ! حضرت عیینہ نے عرض کی : کیا آپ کے لیے اس عورت سے زیادہ مقام والی نہیں ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں فرمایا : نکلو اور اجازت مانگو۔ اس نے کہا : مجھ پر قسم ہے کہ میں مضری پر اجازت نہ مانگوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ ایسا احمق ہے جس کی اتباع کی جاتی ہے ۔
جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← يحيى بن مطيع الشيباني ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2270
