المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سالم بن عبد الله بن عمر عن أبي رافع · حديث 931
927 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ( ح ) وحدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس قالا ثنا يعقوب بن محمد بن طحلاء عن أبي الرجال عن سالم بن عبد الله عن أبي رافع قال Y بعثني رسول الله أقتل الكلاب فخرجت أقتل كلما لقيت حتى جئت العصية فإذا كلب حول بيت فأرغته لأقتله فنادتني امرأة من البيت فقالت : ما تريد ؟ قلت : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أقتل الكلاب فقالت : ارجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره أني امرأة قد ذهب بصري وإنه يؤذنني بالآتي ويطرد عني السبع فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : ( ارجع فاقتله ) فرجعت فقتلته
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کتوں کا مارنے کا حکم دیا ، میں نکلا، جو بھی (کتا ) مجھے ملتا میں اُسے مارتا ، جب مقام عصیہ کے پاس آیا تو وہاں گھر کے ارد گرد ایک کتا پھرتا ہوا دیکھا ، میں نے اس کو مارنے کی ارادہ کیاتومجھے گھر سے ایک عورت نے آواز دی ، اس نے کہا: تو کیا چاہتا ہے ؟ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کے لیے بھیجا ہے ۔ اُس عورت نے کہا: واپس جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایک عورت جس کی آنکھ کی بینائی نہیں ہے ، آنے والی چیزیں مجھے تکلیف دیتی ہیں اور یہ درندے مجھے سے دور کرتا ہے ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آیا ، میں نے آپ کو یہ سب بتایا تو آپ نے فرمایا: واپس جاؤ اور اس کو مار دو! میں واپس آیا اور اس کو مار دیا ۔
أَبِي رَافِعٍ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي الرِّجَالِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 931
