المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ وما أسند حاطب · حديث 3067
3066 - حدثنا موسى بن هارون ثنا هاشم بن الحارث ثنا عبيد الله بن عمرو عن إسحاق بن راشد عن الزهري عن عروة بن الزبير Y عن عبد الرحمن بن حاطب بن أبي بلتعة أنه حدث أن أباه كتب إلى كفار قريش كتابا وهو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قد شهد بدرا فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا و الزبير فقال : انطلقا حتى تدركا امرأة معها كتاب فائتياني به فانطلقا حتى لقياها فقالا : اعطينا الكتاب الذي معك وأخبراها أنهما غير منصرفين حتى ينزعا كل ثوب عليها فقالت : ألستما رجلين مسلمين ؟ قالا : بلى ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثنا أن معك كتابا فلما أيقنت أنها غير منفلتة منهما حلت الكتاب من رأسها فدفعته إليهما فدع رسول الله صلى الله عليه و سلم حاطبا حتى قرأ عليه الكتاب فقال : أتعرف هذا الكتاب ؟ قال : نعم قال : فما حملك على ذاك ؟ قال : هناك ولدي وذو قرابتي وكنت امرءا غريبا فيكم معشر قريش فقال عمر : ائذن لي في قتل حاطب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا لأنه قد شهد بدرا وإنك لا تدري لعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال : اعلموا ما شئتم إني غافر لكم
حضرت عبدالرحمٰن بن حاطب بن ابی بلتعہ سے روایت ہے کہ ان کے والد گرامی نے قریش مکہ کی طرف ایک خط لکھا جبکہ وہ بدری صحابی تھے ' پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر ت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلا کر ارشاد فرمایا: چلے جاؤ یہاں تک کہ تم ایک عورت کو پاؤ گے' جس کے پاس ایک خط ہے' پس تم دونوں وہ خط میرے پاس لے کر آؤ' پس وہ دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ اس عورت سے ملے ' اس سے کہا: وہ خط ہمارے حوالے کر جو تیرے پاس ہے اور اس عورت کو خبردار کیا کہ وہ دونوں یوں ہی خالی واپس جانے والے نہیں ہیں حتی کہ اگر انہیں اس کے کپڑے بھی اتارنے پڑے تو اس کے سارے کپڑے بھی اتار دیں گے' اس نے کہا: کیا تم دونوں مسلمان نہیں ہو؟ ان دونوں نے فرمایا:کیوں نہیں ! لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود بتا کر بھیجا ہے کہ تیرے پاس خط ہے' پس جب اس عورت کو کامل یقین ہو گیا کہ وہ ان دونوں آدمیوں سے جان نہیں چھڑا سکتی تو اس نے وہ خط اپنے سر کے بالوں سے نکال کر ' ان دونوں کے حوالے کر دیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب حاطب کو بلایا ' اس کے سامنے وہ خط پڑھ کر فرمایا: کیا آپ اس خط کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ کام کرنے پر کس چیز نے تیار کیا؟ عرض کی: وہاں میری اولاد او قریبی رشتہ دار ہیں ' میں مسافر آدمی ہوں' تمہارے اندر جیسے گروہ قریش ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: حاطب کو قتل کرنے میں مجھے اجازت عنایت فرمائیں ! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! کیونکہ یہ بدر میں شریک ہوا تھا اور آپ نہیں جانتے ' یقینا ً اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جھانک کر فرمایا: (آج کے بعد) تم جو عمل کرو' میں تمہیں ضرور بخشوں گا۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← هاشم بن الحارث ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3067
