المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ومن أخبار الأشعث بن قيس · حديث 653
649 - حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي ثنا عبد المؤمن بن علي ثنا عبد السلام بن حرب عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال Y لما قدم بالأشعث بن قيس أسيرا على أبي بكر الصديق رضي الله عنه أطلق وثاقه وزوجه أخته فاخترط سيفه دخل سوق الإبل فجعل لا يرى جملا ولا ناقة إلا عرقبه وصاح الناس كفر الأشعث فلما فرغ طرح سيفه وقال : إني والله ما كفرت ولكن زوجني هذا الرجل أخته ولو كنا في بلادنا كانت لنا وليمة غير هذه يا أهل المدينة انحروا وكلوا ويا أصحاب الإبل تعالوا خذوا شرواها
حضرت قیس بن ابو حازم فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس بے اطبے قئد جو آزاد کر کے اس کی بہن سے شادی کر لی ، اس نے تلوار سونتی ، اونٹوں کے بازار میں داخل ہوا، اونٹ یا اونٹنی کو دیکھتا تو اس کی کونچیں کاٹتا ، لوگوں نے شور مچایا ، اشعث نے انکار کیا ، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے تلوار پھینکی اور کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میں نے انکار نہیں کیا ، اس آدمی نے میری شادی اپنی بہن سے کی ، اگر ہم اپنی شہر میں ہوتے تو ہم اس کے علاوہ سے ولیمہ کرتے اے اہل مدینہ ، نحر کرو اور کھاؤ ! اے اونٹوں کے مالکو ! آؤ اور اس کی قیمت لو۔
قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 653
