المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 248 - الحكم بن حزن الكلفي · حديث 3166
3165 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا عمرو بن خالد الحراني ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا سعيد بن منصور و الهيثم بن خارجة قالوا ثنا شهاب بن خراش بن حوشب Y حدثني شعيب بن زريق الطائي قال : جلست إلى رجل له صحبة مع النبي صلى الله عليه و سلم يقال له الحكم بن حزن الكلفي فأنشأ يحدث قال : وفدت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم سابع سبعة أو تاسع تسعة فاستؤذن لنا فدخلنا عليه فقلنا : يا رسول الله زرناك لتدعو لنا بخير فدعا لنا بخير وأمر بنا فأنزلنا وأمر لنا بشيء من تمر والشأن إذ ذاك دون فلبثنا بها أياما شهدنا بها الجمعة مع النبي صلى الله عليه و سلم فقام متوكئا على قوس أو عصى فحمد الله عزوجل وأثنى عليه كلمات خفيفات طيبات مباركات ثم قال : أيها الناس إنكم لن تطيقوا ولن تفعلوا كما أمرتم به ولكن سددوا وابشروا
حضرت شعیب بن زریق الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا' ان کو حکم بن حزن الکلفی کہا جاتا ہے' وہ حدیث بیان کرنے لگے ' وہ فرمانے لگے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سات یا نو افراد آئے' ہم نے اجازت مانگی ' اجازت دی گئی تو ہم آپ کے پاس آئے' ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کی زیارت کرنے کے لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے بھلائی کی دعا کریں ' آپ نے ہمارے لیے بھلائی کی دعا کی' ہمارے متعلق حکم دیا تو ہماری مہمان نوازی کی گئی ' ہمیں کھجور دینے کا حکم دیا' وہ شان بہت عمدہ تھی' ہم آپ کے پاس چند دن رہے' ہم جمعہ کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے' آپ عصا پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے' آپ نے اللہ کی حمد و ثناء کی' چند مختصر پاکیزہ کلمات مبارک کے ساتھ ' پھر فرمایا: اے لوگو! تم ہر گز طاقت نہ رکھو گے' اور نہ تم ہر گز کر سکتے ہو جس طرح تم کو اس کا حکم دیا گیا لیکن سیدھے سیدھے رہو اور خوشخبری دو۔
شعيب بن زريق الطائي ← شهاب بن خراش بن حوشب ← سعيد بن منصور و الهيثم بن خارجة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3166
