المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ما إسند جعفر رضي الله عنه · حديث 1479
1478 - حدثنا محمد بن عبد الرحيم الديباجي التستري ثنا محمد بن آدم المصيصي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و عبد الرحمن بن سلم الرازي قالا ثنا أبو كريب قالا ثنا أسد بن عمرو الكوفي ثنا مجالد بن سعيد الشعبي عن عبد الله بن جعفر عن أبيه Y قال بعثت قريش عمرو بن العاص و عمارة بن الوليد بهدية من أبي سفيان إلى النجاشي فقالوا له ونحن عنده : قد بعثوا إليك أناسا من سفلتنا وسفهائهم فادفعهم إلينا قال : لا حتى أسمع كلامهم فبعث إلينا وقال : ما تقولون ؟ فقلنا : إن قومنا يعبدون الأوثان وإن الله عز و جل بعث إلينا رسولا فآمنا به وصدقناه فقال لهم النجاشي : عبيدا هم لكم ؟ قالوا : لا قال : فلكم عليهم دين ؟ قالوا : لا قال : فخلوا سبيلهم فخرجنا من عنده فقال عمرو بن العاص : إن هؤلاء يقولون في عيسى غير ما تقولون قال : إن لم يقولوا في عيسى مثل ما أقول لم أدعهم في أرضي ساعة من نهار قال : فأرسل إلينا فكانت الدعوة الثانية أشد علينا من الأولى فقال : ما يقول صاحبكم في عيسى ابن مريم ؟ فقلنا : هو يقول : هو روح الله وكلمته ألقاها إلى العذراء البتول قال : فأرسل فقال : ادعوا فلانا القس وفلانا الراهب فأتاه ناس منهم فقال : ما تقولون في عيسى بن مريم فقالوا : أنت أعلمنا فما تقول ؟ قال النجاشي فأخذ شيئا من الأرض ثم قال : هكذا عيسى ما زاد على ما قال هؤلاء مثل هذا ثم قال لهم : أيؤذيكم أحد ؟ قالوا : نعم فأمر مناديا فنادى من آذى أحدا منهم فأغرموه أربعة دراهم ثم قال : يكفيكم فقلنا لا فأضعفها فلما هاجر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المدينة وظهر بها قلنا له : إن صاحبنا قد خرج إلى المدينة وظهر بها وهاجر وقتل الذين كنا حدثناك عنهم وقد أردنا الرحيل إليه فزودنا قال : نعم فحملنا وزودنا وأعطانا ثم قال : أخبر صاحبك ما صنعت إليكم وهذا رسولي معك وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وأنه رسول الله فقل له : يستغفر لي قال جعفر : فخرجنا حتى أتينا المدينة فتلقاني رسول الله صلى الله عليه و سلم فاعتنقني فقال : ( ما أدري أنا بفتح خيبر أفرح أو بقدوم جعفر ) ثم جلس فقام رسول النجاشي فقال : هو ذا جعفر فسله ما صنع به صاحبنا فقلت : نعم قد فعل بنا كذا وحملنا وزودنا ونصرنا وشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وقال : قل له يستغفر لي فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فتوضأ ثم دعا ثلاث مرات : ( اللهم اغفر للنجاشي ) فقال المسلمون : آمين قال جعفر : فقلت للرسول : إنطلق فأخبر صاحبك ما رأيت من النبي صلى الله عليه و سلم واللفظ لحديث محمد بن آدم
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نےعمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو ام سفیان سے تحفہ دے کر حضرت نجاشی کی طرف بھیجا ' انہوں نے حضرت نجاشی سے فرمایا: ہم آپ کے پاس ہیں' آپ کی طرف ہمارے کمزور وار بے وقوف کو بھیجا ہے' ہمارے حوالے کردیں۔ حضرت نجاشی نے فرمایا: ایسا نہیں ہو گا' جب تک ان کی بات نہ سنوں ' حضرت نجاشی نے ہماری طرف اپنے بندے بھیجے۔ نجاشی نے کہا: آپ کیا کہتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے' اللہ عزوجل نے ہماری طرف رسول بھیجا' ہم اس پر ایمان لائے' اور ان کی تصدیق کی۔ حضرت نجاشی نے انکو کہا : یہ تمہارے غلام ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں ! حضرت نجاشی نے کہا: کیا تمہارا ان پر قرض ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں ! حضرت نجاشی نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو ! ہم حضرت نجاشی کے پاس سے نکلے ۔ عمرو بن عاص نے کہا: یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس کے علاوہ کہتے ہیں جو تمہارا عقیدہ ہے ۔ حضرت نجاشی نے کہا: اگر یہ لوگ حضرت عیسیٰ کے متعلق وہ نہ کہیں جو میں کہتا ہوں تو میں دن کی ایک گھڑی بھی ان کو اپنے ملک میں نہیں چھوڑوں گا! حضرت نجاشی نے ہماری طرف آدمی بھیجا ' دوسری بار بلانا ہن پر زیادہ سخت تھا پہلی مرتبہ سے ۔ نجاشی نے کہا: تمہارے صاحب حضرت عیسیٰ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ فرماتے ہیں : وہ روح اللہ ہیں اور اس کا وہ کلمہ جو کنواری بتول کی طرف القاء کیا گیا تھا۔ نجاشی نے کہا: فلاں قسی اور راہب کو بلاؤ! نجاشی نے کہا: تم حضرت عیسیٰ کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں ' آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت نجاشی نے کہا: زمین سے کوئی شی لی ' پھر کہا: حضرت عیسیٰ اسی طرح تھے' ان کے متعلق انہوں نے ا س سے زیادہ نہیں کہا ہے۔ پھر ان کو کہا: کیا تم کو کسی نے تکلیف دی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نجاشی نے منادی کو اعلان کرنے کا حکم دیا کہ اعلان کرو: جس نے ان کو تکلیف دی ہے وہ چار درہم بطور تاوان کے دیں۔ پھر کہا: تمہیں کافی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں ! اس کو دفنا کریں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی اور وہاں پر غالب ہوئے۔ ہم نے کہا: ہمارے صاحب مدینہ کی طرف نکلے تو وہاں غلبہ پا لیا ہے اور ہجرت کی ہے اور ان لوگوں کو قتل کیا ہے جن کے بارے میں ہم آپ سے گفتگو کر رہے تھے' ہم نے واپسی کا ارادہ کر لیا ہے ہم کو زاد راہ دیں۔ حضرت نجاشی نے کہا: جی ہاں! ہم کو سواریاں دیں اور زاد راہ دیا اور بھی دیا' پھر کہا: تم اپنے صاحب کو بتانا کہ میں نے تمہارے ساتھ جو اچھا سلوک کیا' یہ میراقاصد ہے' آپ کے ساتھ ہے' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےعلاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ سے میرے لیے بخشش کی دعا کروانا۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ہم نکلے' ہم مدینہ آئے' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے معانقہ کیا' آپ نے فرمایا: مجھےمعلوم نہیں ہے کہ میں خیبر کے فتح ہونے پر یا اے جعفر ! آپ کے آنے پر زیادہ خوش ہوا ہوں۔ پھر آپ بیٹھے ' حضرت نجاشی کا نمائندہ کھڑا ہوا' اس نے کہا: یہ جعفر ہیں' ان سے پوچھیں ہمارے صاحب نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ میں نے کہا: ہمارے ساتھ ایسے ایسے کیا ' ہمیں سواریاں دیں اور زاد راہ یا ہماری مدد کی اور گواہی دیں کہ اللہ کےعلاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور عرض کی کہ آپ سے عرض کریں کہ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے وضو کیا'تین مرتبہ دعا کی : اے اللہ ! نجاشی کو بخش دے! صحابہ کرام نے آمین کہی۔ حضرت جعفر فرماتے ہیں: ہم نے اس کے نمائندے سے کہا: آپ جائیں اور اپنے صاحب کو بتانا جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے طریقہ دیکھا ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ محمد بن آدم کے ہیں۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← مجالد بن سعيد الشعبي ← أسد بن عمرو الكوفي ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← محمد بن عبد الله الحضرمي و عبد الرحمن بن سلم الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّيباجِيُّ التُّسْتَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1479
