المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 12 - و أسامة بن شريك الثعلبي من بني ثعلبة بن يربوع رحمه الله باب ما جاء في التداوي وترك الغيبة وحسن الخلق · حديث 466
463 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حرب قالا : ثنا شعبة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بعرفات فسلمت عليه وكأن على رؤوس أصحابه الطير فجاءته الأعراب من ههنا وههنا : يا رسول الله علينا حرج في كذا وكذا ؟ علينا حرج في كذا وكذا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( عباد الله رفع الله الحرج إلا من افترض من امرئ مسلم ظلما فذلك الذي حرج وهلك ) قالوا : يا رسول الله نتداوى ؟ قال : ( تداووا فإن الله عزوجل لم ينزل داء إلا وضع له دواء إلا الهرم ) قالوا : يا رسول الله فما خير ما أعطي الناس ؟ فقال : ( إن الناس لم يعطوا شيئا خيرا من خلق حسن )
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مقام عرفات میں آیا، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ کے صحابہ آپ کے ارد گرد ایسے تشریف فرما تھے جس طرح ان کے سروں پر پرندے ہیں ، دیہات کے لوگ ادھر ادھر سے آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم پر ایسے ایسے کرنے میں حرج ہے ؟ ہم پر ایسے ایسے کرنے میں حرج ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے بندو ! اللہ عزو جل نے حرج اٹھا لی ہے مگر جس نے کسی مسلمان سے ظلماً قرض لیا تو یہ حرام ہے اور ہلاکت ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم دوا لیں ؟ آپ نے فرمایا : دواء لو ! کیونکہ اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں بھیجی مگر اس کی دواء بھی بنائی ہے سوائے موت کے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں کو جو سب سے بہتر چیز دی گئی ہے ، وہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کو سب سے اچھی شی جو دی گئی ہے وہ اچھا اخلاق ہے ۔
أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 466
