المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ صفة عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 51
50 - أخبرنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا مبارك بن فضالة عن الحسن عن الأسود بن سريع قال Y كنت أنشده يعني النبي صلى الله عليه و سلم ولا أعرف أصحابه حتى جاء رجل بعيد ما بين المناكب أصلع فقيل لي : اسكت اسكت فقلت : واثكلاه من هذا الذي أسكت له عند النبي صلى الله عليه و سلم ؟ فقيل لي : عمر بن الخطاب
حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار پڑھ رہا تھا، میں آپ کے صحابہ کو نہیں جانتا تھا، دور سے ایک آدمی آتا ہوا دکھائی دیا، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا، اور سر کے اگلے بال نہ تھے ، مجھے کہا گیا : خاموش ہو جاؤ! خاموش ہو جاؤ! میں نے کہا: تیری ماں روئے! کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مجھے خاموش کروایا جارہا ہے ۔ مجھے کہا گیا : عمر بن خطاب کی وجہ سے۔
الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 51
