المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ 106 - بسر بن جحاش القرشي ويقال بشر · حديث 1194
1193 - حدثنا أبو زيد أحمد بن عبد الرحيم بن يزيد الحوطي و أحمد ابن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي قالا ثنا أبو المغيرة عبد القدوس بن الحجاج ثنا حريز بن عثمان عن عبد الرحمن بن ميسرة عن جبير بن نفير عن بسر بن جحاش القرشي Y أن النبي صلى الله عليه و سلم بصق يوما على كفه فوضع عليها إصبعه ثم قال : ( يا ابن آدم إن الله عز و جل يقول لن تعجزني وقد خلقتك من مثل هذه حتى إذا سويتك وعدلتك مشيت بين بردين وللأرض منك وئيد فجمعت وصنعت حتى إذا بلغت التراقي قلت أتصدق وأنى أوان الصدقة ؟ )
حضرت بسر بن حجاش قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اپنی ہتھیلی پر رکھا ' اس پر اپنی انگشت مبارک رکھی' پھر فرمایا: اے انسان ! اللہ عزوجل فرماتا ہے: تو مجھے ہر گز عاجز نہیں کر سکے گا جبکہ میں نے تجھے اس کی مثل سے پیدا کیا ہے' یہاں تک کہ میں نے تجھے سیدھا اور برابر پیدا کیا ' تو د و کپڑوں کو پہن کے چلا ' زمین کو تیرے لیے ٹھہرایا ' تو نے مال جمع کیا ' اور صنعت کاری کی یہاں تک کہ تیری آخری سانس گلے تک پہنچی تو کہنے لگا: میں صدقہ کروں' ابھی صدقہ کے برتن کہاں ہیں؟
بسر بن جحاش القرشي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1194
