المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ أبو جميلة عن الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2762
2761 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد Y عن حصين بن أبي جميلة أن الحسن بن علي رضي الله عنه حين قتل علي رضي الله عنه أستخلف فبينما هو يصلي بالناس إذ وثب عليه رجل فطعنه بخنجر في وركه فتمرض منها أشهرا ثم قام على المنبر يخطب فقال : يا أهل العراق اتقوا الله فينا فإنا أمراؤكم وضيفانك ونحن أهل البيت الذي قال الله عز و جل { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا } فما زال يومئذ يتكلم حتى ما يرى في المسجد إلا باكيا
حضرت ابو جمیلہ سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خلیفہ بنایا گیا ، آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک کسی آدمی نے آپ پر حملہ کر دیا ، آپ کی پنڈلی کو زخمی کیا گیا ، اس وجہ سے آپ کئی ماہ تک بیمار رہے ، پھر آپ منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر فرمایا: اے عراق والوصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ہمارے متعلق ڈرو! میں تمہارا امیر بھی ہوں اور تمہارا امام بھی ، ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : "اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو!کہ تم سے ہرناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھر ا کرے " اس کے بعد آپ مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ لوگ مسجد میں رونے لگے ۔
حصين بن أبي جميلة ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2762
