المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ 103 - بديل بن ورقاء الخزاعي · حديث 1188
1187 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا سليمان بن أحمد الواسطي ثنا الوليد بن مسلم حدثني سليمان بن موسى أن بديل بن بشر بن عبد الله بن سلمة بن بديل بن ورقاء أخبره قال أخبرني جدي عن عبد الله بن سلمة عن أبيه عن بديل بن ورقاء Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل في حلفة يوم الحديبية خزاعة وكتب إليهم وإلى بديل بن ورقاء و سروات بني عمرو : ( سلام عليكم فإني أحمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو أما بعد فإني لم أثم بالكم ولم أضع في جنبكم وإن أكرم أهل تهامة علي لأنتم ومن تبعكم من المطيبين وقد أخذت لمن هاجر منكم مثل ما أخذت لنفسي ولو هاجر بأرضه غير ساكن مكة وإنكم غير خائفين من قبلي ولا مخوفين ) هذا أو نحوه
حضرت بدیل بن ورقاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے دن' ایک گروہ میں قبیلہ بنو خزاعہ کے پاس آئے' ان کی طرف جناب بدیل بن ورقاء اور بنی عمرو قبیلہ کے شریف لوگوں کی طرف ایک خط لکھا: سلام علیکم! (تم پر سلامتی ہو!) بے شک تمہاری سامنے اللہ کی تعریف کر رہا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں' حمدو ثناء کے بعد ' بے شک میں نے کبھی تمہارا دل نہیں توڑا اور نہ تمہارے پہلو (دل) میں کبھی کوئی چیز ڈالی ہے'' پورے تہامہ کو لوگوں سے سب سے زیادہ میرے سامنے عزت والے تم ہو' یا وہ جو مطیبین (پاکیزہ لوگوں) میں سے تمہارے پیچھے چلیں' میں تمہارے مہاجر کے لیے اسی کے برابر حصہ لے رکھا ہے جو میں نے اپنی ذات کے لیے لے رکھا ہے' اگرچہ کسی نے اپنے ملک میں ہجرت کی لیکن مکہ میں رہائش پذیر نہ ہوا ' اور تم لوگوں کو میری طرف سے کوئی ڈر خوف نہیں ہے اور نہ ہی تم ڈرائے جانے والے ہو۔ یہ الفاظ فرمائے یا اس جیسے دیگر الفاظ تھے۔
سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1188
