المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 234 - جندرة بن خيشنة أبو قرصافة الليثي مولى بني ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة · حديث 2514
2513 - حدثنا محمد بن الحسن بن قتيبة العسقلاني ثنا أيوب بن علي بن الهيصم ثنا زياد بن سيار حدثتني عزة بنت عياض بن أبي قرصافة قالت سمعت جدي أبا قرصافة صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y كان بدء إسلامي أني كنت يتيما بين أمي وخالتي فكان أكثر ميلي إلى خالتي وكنت أرعى شويهات لي وكانت خالتي كثيرا مما تقول لي يا بني لا تمر إلى هذا الرجل تعني النبي صلى الله عليه و سلم فيغويك ويضللك فكنت أخرج حتى آتي المرعى فأترك شويهاتي ثم آتي النبي صلى الله عليه و سلم فلا أزال عنده أسمع منه ثم أروح بغنمي ضمرا يابسات الضروع وقالت لي خالتي ما لغنمك يابسات الضروع قلت ما أدري ثم عدت إليه اليوم الثاني ففعل كما فعل اليوم الأول غير أني سمعته يقول أيها الناس هاجروا وتمسكوا بالإسلام فإن الهجرة لا تنقطع ما دام الجهاد ثم إني رجعت بغنمي كما رجعت اليوم الأول ثم عدت إليه في اليوم الثالث فلم أزل عند النبي صلى الله عليه و سلم أسمع منه حتى أسلمت وبايعته وصافحته بيدي وشكوت إليه أمر خالتي وأمر غنمي فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم جئني بالشياه فجئته بهن فمسح ظهورهن وضروعهن ودعا فيهن بالبركة فامتلأت شحما ولبنا فلما دخلت على خالتي بهن قالت يا بني هكذا فارع قلت يا خالة ما رعيت إلا حيث كنت أرعى كل يوم ولكن أخبرك بقصتي فأخبرتها بالقصة وإتياني النبي صلى الله عليه و سلم وأخبرتها بسيرته وبكلامه فقالت لي أمي وخالتي اذهب بنا إليه فذهبت أنا وأمي وخالتي فأسلمن وبايعن رسول الله صلى الله عليه و سلم وما صافحنا فهذا ما كان من إسلام أبي قرصافة وهجرته إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال زياد وكان أبو قرصافة يسكن أرض تهامة
حضرت عزہ بن عیاض بن ابو قرصافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے دادا ابو قرصافہ' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میراا سلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ رہتا تھا ' میں زیادہ تر اپنی خالہ کے پاس رہتا تھا ' میں ان کی بکریاں چراتا اور میری خالہ اکثر مجھے کہتی تھی : اے بیٹے! اس آدمی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جانا ' وہ تجھے گمراہ اور بیوقوف کر دے گا۔ میں نکلتا' چراگاہ پر آتا ' میں بکریاں چھوڑتا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا' میں ہمیشہ آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سنتا ۔ میری بکریو ں کے تھنوں میں دودھ خشک ہونا شروع ہو گیا۔ میری خالہ نے مجھے کہا: بکریوں کے تھنوں میں دودھ کیوں خشک ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: مجھےمعلوم نہیں ہے! پھر دوسرے دن میں نے ایسے ہی کیا جس طرح پہلے دن کیا تھا ' سوائے اس کے کہ میں نے سنا تھا: اے لوگو! ہجرت کرو اور اسلام کو مظبوطی سے تھال لو کیونکہ ہجرت رہ گئی ہے جب تک جہاد رہے گا۔ پھر میں اپنی بکریوں کےپاس آیا جس طرح پہلے دن آیا تھا۔ پھر میں تیسرے دن آیا' میں مسلسل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا رہا یہاں تک کہ میں اسلام لایا اور آپ کی بیعت کی' میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کیا اور میں نے اپنی خالہ کی بات اور بکریوں کا معاملہ ذکر کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میرے پاس بکریوں کو لاؤ! میں آپ کی پاس لایا تو آپ نے ان کے پیٹ اور تھنوں پر دستِ مبارک پھیرا اور انکے لیے برکت کی دعا کی' ان میں چربی اور دودھ بھر گیا۔ جب میں انہیں اپنی خالہ کے پاس لے کر گیا تو خالہ نےکہا: اےمیرے بیٹے! اس طرح چروایا کرو۔ میں نے کہا: اے خالہ ! میں تو ہر روز چراتا ہوں' لیکن آج میں ایک بات بتاتا ہوں' میں نے بات بتائی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی خبر دی' میں نے آپ کی سیرت اور گفتگو کو بتائی۔ میری والدہ اور میری خالہ نے کہا: ہمیں بھی آپ کے پاس لے جاؤ! میں اپنی والدہ اور خالہ کو لے کر گیا' وہ دونوں مسلمان ہوئیں' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی' آپ نے مصافحہ نہیں کیا۔ حضرت ابو قرصافہ کے اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کا سبب یہ واقعہ ہوا۔ حضرت زیاد فرماتے ہیں : حضرت ابو قرصافہ تہامہ ملک میں رہتے تھے۔
جدي أبا قرصافة صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زياد بن سيار حدثتني عزة بنت عياض بن أبي قرصافة ← أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2514
