المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن بلال · حديث 1021
1017 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي حدثنا أبو بلال الأشعري ثنا قيس بن الربيع عن أبي حمزة عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن بلال قال Y كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم عندي تمر فتغير فأخرجته إلى السوق فبعته صاعين بصاع فلما قربت إليه منه قال : ( ما هذا يا بلال ) فأخبرته قال : ( مهلا أردد البيع ثم بع تمرا بذهب أو فضة أو حنطة ثم اشتر به تمرا ) ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( التمر بالتمر مثلا بمثل والحنطة بالحنطة مثلا بمثل والذهب بالذهب وزنا بوزن والفضة بالفضة وزنا بوزن فإذا اختلف النوعان فلا بأس واحد بعشرة )
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بلا ل نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کھجور یں میرے پاس تھیں، اُن کی حالت بدل گئی تو میں ان کو بازار لے گیا ، میں نے ایک صاع کے بدلے دو صاع بیچے ، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا: اے بلال ! یہ کیا ہے ؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: چھوڑو! بیع واپس کردو! کھجور ، سونے یا چاندی یا گندم کے بدلے فروخت کرو پھر اس کے بدلے کھجور خریدو، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر ، گندم گندم کے بدلے برابر برابر ، سونا سونے کے بدلے برابر برابر وزن کر کے اور چاندی چاندی کے بدلے وزن کر کے فروخت کرو، جب دو قسم ہو جائیں تو ایک کو دس کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
بِلَالٍ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1021
