المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 185 - جندب بن مكيث الجهني · حديث 1727
1726 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو معمر المقعد ثنا عبد الوارث بن سعيد عن محمد بن إسحاق وحدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن أسحاق حدثني يعقوب بن عتبة عن مسلم بن عبد الله الجهني عن جندب بن عبد الله الجهني ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا جعفر بن مهران السباك ثنا عبد الأعلى السامي حدثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن مسلم بن عبد الله عن جندب بن عبد الله الجهني قال Y بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم غالب بن عبد الله الكلبي كلب عوف بن ليث في سرية كنت فيهم فأمره أن يشن الغارة على بني الملوح بالكديد قال : فخرجنا حتى إذا كنا بقديد لقينا الحارث بن برصاء الليثي فأخذناه قال : إنما جئت لأسلم إنما خرجت أريد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قلنا إن تكن مسلما فلن يضرك رباط ليلة وإن تكن غير ذلك فسنوثق منك فأوثقناه رباطا ثم خلفنا عليه رويجلا لنا أسود كان معنا فقلنا له : إن نازعك فاحتز رأسه ثم أتينا الكديد مع مغرب الشمس وكنا في ناحية من الوادي وبعثني أصحابي ربيئة لهم إلى تل مشرف على الحاضر قال : فأسندت فيه حتى إذا كنت على ظهره ونظرت إلى القوم انبطحت فوالله إني لعليه أنظر إذ خرج رجل من خبائه فقال : لامرأته والله إني لأرى سوادا ما رأيته في أول النهار فانظري في أوعيتك لا يكون الكلاب اجترت بعضها فنظرت قالت : فوالله ما أفقد من أوعيتي شيئا قال : أعطني قوسي فأعطته قوسا وسهمين معها قال : فرمى بسهم واحد فوالله ما أخطأ جنبي قال قانتزعته وثبت قال ثم رمى بالآخر فوضعه في منكبي فانتزعته وثبت فقال لامرأته : لو كانت زائلة لقد تحرك بعد لقد خالطه سهماي فإذا أنت أصبحت فابتغيهما فخذيهما ولا تضيعهما الكلاب قال : ثم دخل حتى إذا راحت رائحة الناس من إبلهم وغنمهم قد احتلبوا وغبطوا واطمأنوا شننا عليهم الغارة فقتلنا واستقنا الغنم ثم وجهناها وخرج صريخ القوم في قومهم فجاءهم الدهم فجاؤوا في طلبنا حتى مررنا بابن البرصاء فانطلقنا به معنا وبصاحبنا الذي خلفناه قال : فأدركنا القوم حتى نظرنا إليهم ما بيننا وبينهم إلا الوادي على ناحيته موجهين ومن ناحية الأخرى في طلبنا إذ جاء الله به من حيث شاء ما رأينا قبل ذلك مطرا ما يقدر أحدا على أن يجيزه لقد رأيتهم وقوفا ينظرون إلينا ونحن نحدوها ما يقدر رجل منهم أن يصل ألينا حتى إذا عرجناها ما أنسى قول راجز من المسلمين وهو يحدوها في أعقابها : ( أبى أبو القاسم أن تعر بي ... في خطل نباته مغلوب ) ( صفر أعاليه كلون المذهب )
حضرت جندب بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ الکلبی کو (بنی )کلب عوف بن لیث (کی طرف )بھیجا ،ایک سریہ میں ،میں بھی ان میں تھا ،آپ نے حکم دیا :بنی ملوح پر حملہ کرنے کا جو مقام کدید میں رہتے تھے ۔حضرت جندب فرماتے ہیں کہ ہم نکلے ،جب مقام قدید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن برصاء اللیثی ملے ،ہم نے اس کو پکڑا اس نےکہا :میں اسلام لانے کے لیے آیا ہوں ۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملنا چاہتا ہوں ،ہم نے اس کو کہا :اگر تو مسلمان (ہونےکے لیے آرہاہے )تو ایک (ہماری حفاظت میں رہے )تو تیرے لیے کوئی نقصان نہیں ہو گا ،اگر (تو مسلمان ہونے کے لیے نہیں آرہا ہے )تو ہم تجھے قید کرلیں گے ،اس کے بعد ہم نے اس کو باندھ لیا ،پھر ہم نے اس کا سامان باندھ لیا ،ہمارے ساتھ ایک سیاہ فام آدمی تھا ،ہم نے اس کو کہا :اگر یہ تیرے ساتھ جھگڑے تو اس کا سر کاٹ دینا ،پھر ہم سورج غروب ہونے کے وقت مقام کدید پر آئے ،ہم وادی کے کنارے پر تھے اور میرے ساتھی نے مجھے ایک اونچی جگہ بھیجا ان کے دیکھنے کے لیے کہ آنے والے کی اطلاع کروں ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جب میں اس پر چڑھا ،جب میں اس جگہ پر تھا تو میں نے لوگوں کی طرف دیکھا ،اللہ کی قسم !میں اونچی جگہ پر تھا کہ میں دیکھوں ،اچانک ایک آدمی اپنے خیمہ سے نکلا ،اس نے اپنی بیوی سے کہا :اللہ کی قسم ! میں نے سیاہی دیکھی ہے (مراد سایہ )جو میں نے دن کے شروع میں نہیں دیکھا ہے ،تو اپنے برتنوں کو دیکھ کہیں کتوں نے تیرے کچھ برتن (نکال کر)باہر تو نہیں پھینکے ہیں !میں نے دیکھا کہ اس کی بیوی نے کہا :اللہ کی قسم ! میں اپنے برتن میں سے کوئی شی کم نہیں دیکھ رہی ہوں اس نے کہا :میری کمان دے ! اس کی بیوی نے اس کو کمان دی اور ساتھ دو تیر بھی دیئے ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اس نے تیر مارا ،اللہ کی قسم ! وہ میرے پہلو پر لگا ،میں نے اس کو نکال دیا اور اس جگہ رہا (آگے پیچھے نہیں ہوا )پھر اس نے دوسرا تیر مارا ،وہ میرے کندھے پر لگا ،میں نے اس کو بھی نکالا اور اسی جگہ رہا (آگے پیچھے نہیں ہوا )اس نے اپنی بیوی سے کہا :اگر کوئی جان والی (شی ہوتی )تو اس کے بعد حرکت کرتی (تیر لگنے کے بعد )جب صبح ہوئی تو تو نے میرے دونوں تیر ے تلاش کرکے لانے ہیں کیونکہ میرے دونوں تیر اس جگہ لگے ہوئے ہوں گے ،ایسا نہ ہوں کہ کتے اس کے ذریعے نقصان کریں ۔پھر وہ داخل ہوا ،جب لوگ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے دودھ دوھ کر اور باندھ کر راحت پاگئے اور مطمئن ہو گئے تو ان پر ہم نے حملہ کیا اور ان کو قتل کیا اور ان کی بکریاں ہانک لیں،پھر ہم واپس آئے ،ان کے لوگ چیخنے لگے ،آوازیں دینے لگے ،وہ ہماری تلاش میں نکلے ،جب ہم ابن برصاء کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو بھی اور جو ہم اپنے پیچھے اپنے ساتھی چھوڑ آئے تھے ،اس کو ساتھ لے کر چلے ۔ان لوگوں نے ہم کو پالیا ،ہمارے اور ان کے درمیان ایک وادی کا فاصلہ رہ گیا تھا ،اچانک اللہ عزوجل نے ایسی بارش نازل فرمائی کہ ہم نے کبھی ایسی بارش نہیں دیکھی تھی ،اس سے نجات پانے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا تھا ،میں نے ان کو کھڑا دیکھا ،وہ ہم کو دیکھ رہے تھے ،ہم ان کے سامنے تھے ،ان میں کوئی آدمی ہم تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ جب ہم نے پالیا جو بھول گئے تھے ،مسلمانوں میں سے کسی کے رجز کو :"وہ اس کا پیچھا کر رہے تھے ابو القاسم نے انکا ر کیا ،کوئی خالی گزرے خط میں ،اس جگہ گھاس اگی ہو ئی تھی جس طرح سونے کارنگ ہوتا ہے "۔
جندب بن عبد الله الجهني ← مسلم بن عبد الله، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى السَّامِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← جندب بن عبد الله الجهني ← مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 1727
