المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 59 - إياس بن معاذ الأنصاري · حديث 809
805 - حدثنا محمد بن هشام بن أبي الدميك ثنا علي بن المديني ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن ابن إسحاق حدثني حصين بن عبد الرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ أخو بني عبد الأشهل عن محمود بن لبيد أخي بني عبد الأشهل قال Y لما قدم أبو الحيسر أنس بن رافع مكة ومعه فتية من بني عبد الأشهل فيهم إياس بن معاذ يلتمسون الحلف من قريش على قومهم من الخزرج سمع بهم رسلو الله صلى الله عليه و سلم فأتاهم فجلس إليهم فقال لهم : ( هل أدلكم إلى خير مما جئتم له ؟ ) قالوا : وما ذلاك ؟ قال : ( أنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثني إلى العباد أدعوهم إلى أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وأنزل الله علي الكتاب ) ثم شرع لهم الإسلام وتلا عليهم القرآن فقال إياك بن معاذ وكان غلاما حدثا : أي قومي هذا والله خير مما جئتم له قال : فأخذ أبو الحيسر أنس بن رافع حفنة من البطحاء فضرب بها في وجه إياس وقال : دعنا منك فلعمري لقد جئنا لغير هذا قال : فصمت إياس وقام عنهم رسول الله صلى الله عليه و سلم وانصرفوا إلى المدينة فكانت وقعة بعاث بين الأوس والخزرج ثم لم يلبث إياس بن معاذ أن هلك قال محمود بن لبيد : فأخبرني من حضره من قومه عند موته أنهم لم يزالوا يسمعونه يهلل الله ويكبره ويحمده ويسبحه حتى مات فما كانوا يشكون أن قد مات مسلما لقد كان استشعر الإسلام في ذلك المجلس حين سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما سمع
حضرت محمود بن لبید بنی عبداشہل کے بھائی سے روایت ہے کہ جب ابو حیسر انس بن رافع مکہ آئے تو ان کے ساتھ بنی عبداشہل کا گروہ تھا، ان میں حضرت ایاس بن معاذ بھی تھے ،قریش سے نکل کر اپنی قوم خزرج کے پاس جانا چاہتے تھے ، اس تلاش میں تے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات سن لی۔ آپ ان کے پاس آئے ، ان کے پاس بیٹھے ، آپ نے انہیں فرمایا: کیا تمہارے پاس ایسی بھلائی ہے جو میں لے کر آیا ہوں؟ اُنہوں نے کہا: وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں ، مجھے بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے کہ میں ان کو اللہ کی عبادت کی دعوت دوں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اللہ عزوجل نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے ۔ پھر آپ نے ان کے سامنے اسلام کے احکامات واضح کیے ، قرآن کی تلاوت سنائی ۔ حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ، یہ اُ وقت نوعمر تھے: اے میری قوم!اللہ کی قسم !یہ بہتر ہے جو تم لے کر آئے ہو ۔ ابو حیسر انس بن رافع نے بطحا ء سے مٹھی مٹی لے کر حضرت ایاس کے چہرے پر ماری اور کہا: ہم نے تجھے چھوڑ دیا، عمر کی قسم ! ہم اس کے علاوہ لے کر رہیں گے ۔ حضرت ایاس خاموش رہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے اُٹھ گئے ، آپ مدینہ تشریف لے گئے ، ابھی آپ اوس اور خزرج کے درمیان والی جگہ میں تھے ، واقعہ بعاث کے پاس، حضرت ایاس بن معاذ ہلاک ہونے سے نہیں ٹھہرے ۔ حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے بتایا کہ جوان کی قوم میں سے ان کی موت کے وقت موجود تھے کہ وہ مسلسل آپ سے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور اللہ اکبر، الحمد اللہ اور سبحان اللہ پڑھتے رہے وصال تک وہ لو گ شکوہ کرتے رہے کہ آپ کا وصال حالت اسلام میں ہوا ہے ، وہ اس وقت اسلام لائے تھے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُنہوں نے سناتھا۔
مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ← حصين بن عبد الرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ أخو بني عبد الأشهل ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 809
