المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 5 · حديث 2260
2259 - حدثنا أحمد بن عمرو البزار ثنا أبو كريب ثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن جرير Y قال : كنت باليمن ومعي ذو كلاع و ذو عمرو فأقبلت أخبرهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ذو عمرو : يا جرير إن يك صاحبك كما تذكر لقد أتى على أجله منذ ثلاث فرفع لنا رجل فقلنا ما الخبر ؟ قالوا : قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم واستخلف أبو بكر رضي الله عنه والناس صالحون ثم رجعنا فقالا : اقرئ صاحبك السلام ثم قال ذو عمرو : يا جرير إنكم لن تزالوا صالحين ما إذا هلك أمير قام أمير فإذا ما كان سيوفا كنتم ملوكا ترضون رضا الملوك وتغضبون غضب الملوك
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں یمن میں تھا، میرے ساتھ ذوکلاع اور ذو عمرو تھے ، میں ان کے پاس آیا، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق بتایا۔ ذو عمرو نے کہا : اے جریر ! اگر آپ کا ساتھی ایسے ہی ہے جس طرح تو ذکر کرتا ہے تو میرے پاس ان کے وصال کی خبر تین دن سے آئی ہے ، ہمارے پاس ایک آدمی خبر لے کر آیا ، ہم نے کہا : کیا خبر ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے اور حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنایا گیا اور لوگ نیک ہیں ۔ پھر یہ واپس آئے ، دونوں نے کہا : اپنے ساتھی کو سلام کہنا، پھر ذوعمرو نے کہا : اے جریر ! تم بھی نیک لوگوں میں سے ہو، جب امیر چلا جائے تو دوسرا امیر ہوگا، جب تلواریں نہیں ہوں گی تو تم ایسے بادشاہ ہو گے جو تم راضی ہو گے جس طرح بادشاہ ناراض ہوتے ہیں ، تم ایسے ناراض ہو گے جس طرح بادشاہ ناراض ہوتے ہیں ۔
جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2260
