المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب البيان في نسخ ذلك ورجوع ابن عباس عن الصرف ونهيه عنه رضي الله عنه · حديث 456
453 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عمرو بن دينار أنه سمع أبا المنهال يقول Y باع شريك لي بالكوفة دراهم بدارهم بينهما فضل فقلت : ما أرى هذا يصلح قال : لقد بعتها في السوق فما عاب ذلك علي أحد فأتيت البراء بن عازب فسألته فقال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة وتجارتنا هكذا فقال : ( ما كان يدا بيد فلا بأس به وما كان نسيئا فلا خير فيه ) وأتيت زيد بن أرقم فإنه كان أعظم تجارة مني فأتيته فذكرت ذلك له فقال : صدق البراء قال الحميدي : هذا منسوخ لا يؤخذ بهذا
حضرت ابو منہال فرماتے ہیں : شریک میرے لیے کوفہ میں ایک درہم ، درہم کے بدلہ فروخت کیا ، دونوں میں زیادتی کے ساتھ ۔ میں نے کہا : میں اس کو درست نہیں مانتا ہوں، میں نے بازار میں فروخت کیا، کسی نے مجھ پر عیب نہیں لگایا۔ میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے آپ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ آئے ہم اس طرح تجارت کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : جو نقد نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو ادھار ہو اس میں بھلائی نہیں ہے ۔ میں حضرت زید بن ارقم کے پاس آیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ تاجر تھے ۔ میں آپ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو حضرت ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : براء نے سچ کہا ۔ امام حمیدی فرماتے ہیں : یہ منسوخ ہے ۔
عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى
Hadith 456
