المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ أبو عبد الله الجشمي عن جندب · حديث 1668
1667 - حدثنا العباس بن حمدان الحنفي الأصبهاني ثنا نصر بن علي ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثني أبي حدثني الجريري عن أبي عبد الله الجشمي ثنا جندب Y قال : جاء أعرابي فأناخ راحلته ثم عقلها ثم صلى خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى راحلته فأطلق عقالها ثم ركبها ثم نادى : اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتنا أحدا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما تقولون ؟ هو أضل أم بعيره ؟ لقد حظر رحمة واسعة إن الله عز و جل خلق مئة رحمة ثم أنزل منها رحمة تعاطف بها الخلائق جنها وإنسها وبهائمها وعنده تسعة وتسعون أتقولون هو أضل أم بعيره ؟ )
حضرت ابو عبداللہ جشمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آیا ،اس نے اپنی سواری بٹھائی ،پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ،جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا ،اسے کھولا او راس پر سوار ہوا ،پھر یہ دعا کرنے لگا:اے اللہ مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راحت دے ! اپنی رحمت میں ہمارے ساتھ کسی اور کا شریک نہ کر ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :تم کیا کہتے ہو؟یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ! اس نے وسیع رحمت کو کم کردیا ،اللہ عزوجل نے رحمت کے سو حصے پیدا کیے ہیں ،پھر ان میں سے ایک نازل کیا ہے،اس کے ذریعے جن ،جانور آپس میں ایک دوسرے سےمحبت کرتے ہیں اور ننانوے اس کے پاس ہیں ،کیا تم کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟
جُنْدُبٍ ← أبي عبد الله الجشمي ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← العباس بن حمدان الحنفي الأصبهاني
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1668
