المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ شهر بن حوشب عن جندب · حديث 1724
1723 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي حدثنا سعيد بن سليمان ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي عن عبد الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب قال حدثني جندب بن سفيان رجل من بجيلة قال Y إني لعند رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جاءه بشير من سريته فأخبره بالنصر الذي نصر الله سريته وبفتح الله الذي فتح لهم وقال : يا رسول الله بينما نحن نطلب القوم وقد هزمهم الله تعالى إذ لحقت رجلا بالسيف فلما حس أن السيف مواقعه وهو يسعى ويقول : إني مسلم إني مسلم قال : ( فقتلته ؟ ) فقال : يا رسول الله إنما تعوذ قال : فهلا شققت عن قلبه فنظرت أصادق هو أم كاذب ؟ ) قال : لو شققت عن قلبه ما كان علمي هل قلبه إلا بضعة من لحم ؟ قال : ( لا ما في قلبه تعلم ولا لسانه صدقت ) قال : يا رسول الله استغفر لي قال : ( لا أستغفر لك ) قال : فمات ذلك الرجل فدفنوه فأصبح على وجه الأرض ثم دفنوه فأصبح على وجه الأرض ثلاث مرات فلما رأوا ذلك استحيوا وخزوا مما لقي فاحتملوه فألقوه في شعب من تلك الشعاب في شعب من الشعاب
حضرت جندب بن سفیان قبیلہ بجیلہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا ،جس وقت سریہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص خوشخبر ی لے کر آیا ،اس نے اس کی مدد کے متعلق بتایا جو اللہ نے ان کی سریہ میں مدد کی اور اللہ کی فتح جو ان کو فتح دی ،اس نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگوں کو تلاش کررہے تھے ،اللہ عزوجل نے ان کو بھگا دیا ،جب ایک آدمی کی تلوار مجھے لگی ،میں نے تلوار لگنے کو محسوس کیا ،وہ دوڑ پڑا اور کہنے لگا میں مسلمان ہوں ! میں مسلمان ہوں ! میں مسلمان ہوں میں نے اس کو قتل کردیا ؛اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بچنے کے لیے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اس کا چل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ کیا وہ سچا ہے یا جھوٹا ؟اس نے عرض کی اگر میں اس کا دل چیرتا تو مجھے علم نہ ہوتا اس کے دل میں کیا ہے وہ تو گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو دل کے اندر کی بات کو نہیں جانتا ہے تو اس کی زبان کی تصدیق کر۔اس آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !میرے لیے بخشش مانگیں !آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تیرے لیے بخشش نہیں مانگو ں گا وہ آدمی مر گیا اس کو صبح کےوقت دفن کیا ،وہ زمین کے اوپر پڑا ہوا تھا ،پھر دفن کیا وہ صبح کے وقت زمین کے اوپر تھا ،ایسا تین مرتبہ کیا ،جب انہوں نے ایسا دیکھا تو انہوں نے شرم کی اور ندامت کی ،انہوں نے اس کو اٹھایا اور گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں پھینک آئے۔
جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ رَجُلٍ مِنْ بَجِيلَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1724
