المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عبد الله بن لحي الهوزني عن بلال · حديث 1123
1119 - حدثنا أحمد بن خليد الحلبي ثنا أبو توبة الربيع بن نافع حدثنا معاوية بن سلام عن زيد بن سلام أنه سمع أبا سلام قال حدثني عبد الله الهوزني قال Y لقيت بلالا مؤذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا بلال حدثني كيف كانت نفقة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال : ما كان له شيء كنت أنا الذي ألي ذاك منه منذ بعثه الله عز و جل حتى توفي وكان إذا أتاه الإنسان المسلم فرآه عاريا يأمرني به فأنطلق فأستقرض فأشتري البردة فأكسوه وأطعمه حتى اعترضني رجل من المشركين فقال : يا بلال إن عندي سعة فلا تستقرض من أحد إلا مني ففعلت فلما كان ذات يوم توضأت ثم قمت لأؤذن بالصلاة فإذا المشرك قد أقبل في عصابة من التجار فلما رآني قال : يا حبشي قلت : يا لبيك فتجهمني وقال لي قولا عظيما فقال : أتدري كم بينك وبين الشهر ؟ قلت : قريب قال : إنما بينك وبينه أربع وآخذك بالذي لي عليك فإني لم أعطك الذي أعطيتك من كرامتك ولا كرامة صاحبك علي ولكن إنما أعطيتك لأتخذك لي عبدا فأردك ترعى الغنم كما كنت قبل ذلك فأخذ في نفسي ما يأخذ في أنفس الناس فانطلقت ثم أذنت بالصلاة حتى إذا صليت العتمة رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أهله فاستأذنت عليه فأذن لي فقلت : يا رسول الله إن المشرك الذي كنت إدنت منه قال لي كذا وكذا وليس عندك ما تقضي عني وليس عندي وهو فاضحي فائذن لي أن أبق إلى بعض هؤلاء الأحياء الذين قد أسلموا حتى يرزق الله رسوله صلى الله عليه و سلم ما يقضي عني فخرجت حتى أتيت منزلي فجعلت سيفي وجرابي ومجني ونعلي عند رأسي واستقبلت بوجهي الأفق فكلما نمت ساعة انتبهت فإذا رأيت علي ليلا نمت حتى ينشق عمود الصبح الأول فأردت أن أنطلق فإذا إنسان يسعى يدعو : يا بلال أجب رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلقت حتى أتيته فإذا أربع ركائب مناخات عليهن أحمالهن فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستأذنت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ابشر فقد جاءك الله بقضائك ) فحمدت الله عز و جل وقال : ( ألم تمر على الركائب المناخات الأربع ؟ ) قلت : بلى قال : ( إن لك رقابهن وما عليهن كسوة وطعام أهداهن إلي عظيم فدك فاقبضهن ثم اقض دينك ) ففعلت فحططت عنهن أحمالهن ثم عقلتهن ثم قمت إلى تأذيني صلاة الصبح حتى إذا صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم خرجت إلى البقيع فجعلت إصبعي في أذني فناديت فقلت : من كان يطلب رسول الله صلى الله عليه و سلم بدين فليحضر فما زلت أبيع وأقضي حتى لم يبق على رسول الله صلى الله عليه و سلم دين في الأرض حتى فضل في يدي أوقيتان أو وقية ونصف ثم انطلقت إلى المسجد وقد ذهب عامة النهار وإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قاعد في المسجد وحده فسلمت عليه فقال لي : ( ما فعل ما قبلك ؟ ) قلت : قد قضى الله كل شيء كان على رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يبق شيء فقال : ( أفضل شيء ؟ ) فقلت : نعم قال : ( انظر أن تريحني منها فإني لست داخلا على أحد من أهلي حتى تريحني منه ) فلم يأتنا أحد حتى أمسينا فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم العتمة دعاني فقال لي : ( ما فعل الذي قبلك ؟ ) قلت : هو معي لم يأتنا أحد فبات في المسجد حتى أصبح فظل اليوم الثاني حتى كان في آخر النهار جاء راكبان فانطلقت بهما وأطعمتهما وكسوتهما حتى إذا صلى العتمة دعاني فقال : ( ما فعل الذي قبلك ؟ ) فقلت : قد أراحك الله منه يا رسول الله فكبر وحمد الله عز و جل شفقا من أن يدركه الموت وعنده ذلك ثم اتبعته حتى جاء أزواجه فسلم على امرأة امرأة حتى أتى مبيته فهو الذي سألتني عنه
حضرت عبداللہ الہوزنی فرماتے ہیں کہ ہو مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال سے ملا، میں نے عرض کی: اے بلال ! مجھے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزمرہ کا کام کاج کیا تھا ؟ حضرت بلال نے فرمایا کہ آپ دنیوی کام نہیں کرتے تھے ، میں آپ کے ساتھ رہاہوں ، جب سے آپ نے اعلان نبوت فرمایا، اس وقت سے لے کر آپ کے وصال مبارک تک، آپ کے پاس جب کوئی مسلمان آدمی آتا تھا آپ اس کو ننگا دیکھتے ، مجھے آپ اس کے متعلق حکم دیتے ، میں جاتا اور میں قرض لیتا۔ پس میں اس کے لیے چادر خریدتا پھر میں اس کو پہنا تا اور اس کو کھلاتا یہاں تک کہ میرا سامنا مشرکوں میں سے ایک آدمی سے ہوا ۔ مجھے اس نے کہا: اے بلال ! میرے پاس گنجائش ہے تُو قرض صرف مجھ سے ہی لیا کر ، میں نے ایسے ہی کیا۔ جب ایک دن میں وضو کر رہا تھا تو میں نماز کی اذان کے لیے اُٹھا ، دیکھا ایک مشرک تاجروں کے ایک گروہ کے ساتھ آرہاہے ، جب اس نے مجھے دیکھا تو اس ن ے کہا: اے حبشی! میں نے کہا: حاضر ہوں ! وہ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت بات بھی کہی۔ اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے درمیان اور میرے درمیان قرض کے کتنے مہینے مہلت رہ گئی ہے ؟ میں نے کہا: قریب ہے ! اس نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان چار ماہ رہ گئے ہیں ، میں نے آپ سے وہ لینے ہیں جو میرا قرض آپ کے ذمہ ہے ، میں نے تجھے نہ اس لیے دیئے تھے کہ تُو قابل عزت نہ اور نہ اس لیے کہ آپ کے صاحب کے مجھ پر کوئی احسان ہیں ، میں نے تمہیں دیئے تھے تاکہ میں تجھے غلام بناؤں ، میں تجھے واپس لے آؤں گا، تُو میری بکریاں چرائے جس طرح اس سے پہلے چراتا تھا ۔ میرے دل میں بات آئی جو لوگوں کے دل میں آتی ہے ، میں چلا، پھر میں نے نماز کے لیے اذان دی یہاں تک کہ جب میں نے عشاء کی نماز پڑھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر چلے گئے ، میں نے آپ سے اجازت چاہی تو مجھے اجازت دی، میں نے عرض کی: یار سول اللہ ! اس مشرک نے جس سے میں قرض لیتا تھا ، اس نے مجھے اس طرح اس طرح کہا ہے اور آپ کے پاس اتنا مال نہیں ہے جس سے اس کا قرض ادا کیا جائے اور میرے پاس نہیں ہے ، یہ تو میرے لیے رسوائی ہے ۔ آپ مجھے اجازت دیں کہ بعض اُن احباب کی طرف چلاجاؤں جو مسلمان ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ اور اس کا رسول مال دیں جس سے قرض ادا ہو جائے ۔ پس میں نکلا یہاں تک کہ میں اپنے گھر آیا ، میں نے اپنی تلوار اور تھیلی اور جوتیاں اپنے پاس رکھیں ، پس میں نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف کیا، جب میں تھوری دیر کے لیے سویا، میں اُٹھا جب رات ہوئی میں سو گیا یہاں تک کہ پو پھوٹی، میں نے جانے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی درڑتا ہواآیا ،وہ مجھے بلانے لگا: اے بلال! تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا رہے ہیں ، میں چلا ییاں تک کہ میں آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ کے پاس چار سو اریاں تھیں جن پر سامان تھا ، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے اجازت مانگی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے خوشخبری ہو! بے شک اللہ نے آپ کا قرض ادا کر نے کے لیے مال دے دیا ہے ۔ میں نے اللہ کی حمد کی، آپ نے فرمایا: کیا چار سواریاں یہاں موجود نہیں ہیں؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تیرے لیے جو غلام ہیں ان پر اور سامان وغیرہ اور کھانا وغیرہ فدک کے بادشاہ نے ہم کو ہدیہ بھیجا ہے ان کو لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔ سو میں نے ایسے ہی کیا، میں نے اُن سواروںسے سامان اُتاراپھر میں نے کپڑے میں باندھا، پھر میں صبح کی اذان دینے کے لیے اُٹھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی میں جنت البقیع کی طرف نکلا، میں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں رکھیں، میں نے آواز دی : جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرض لینا ہو لےلے ، وہ آئے اور لے لے ، میں مسلسل قرض ادا کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ پر قرض باقی ہی نہیں رہا کسی کا بھی زمین میں ، یہاں ک کہ دو یا ایک اور اوقیہ میرے ہاتھ میں باقی رہا ۔ پھر میں مسجد کی طرف چلا ، جب دوپہر کا وقت چلا گیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے عرض کی: بے شک اللہ نے ہر شے کاقرض ادا کر دیا جو اس کے رسول پر تھا ، کوئی شے باقی نہیں رہی۔ آپ نے فرمایا: کیا کوئی شے رہی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے فرمایا: دیکھو! میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ مجھے اس سے راحت حاصل ہو ، ہمارے پاس لینے کے لیے کوئی نہیں آیا یہاں تک کہ شام ہو گئی ۔ سو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی تو مجھے آپ نے بلوایا ، آپ نے فرمایا: جو تیرے پاس تھا اس کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے ، ہمارے پاس کوئی نہیں آیا۔ آپ نے رات مسجد میں گزاری یہاں تک کہ صبح ہوگئی ، دوسرے دن نماز پڑھائی یہاں تک کہ دوسر ادن آیا، اس کا آخری حصہ آیا تو دوسوار آئے ، میں ان کے پاس گیا ، میں نے اُن دونوں کو کھلایا اور پہنایا یہاں تک کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی ، مجھے آپ نے بلوایا، آپ نے فرمایا: کیا کیا جو تیرے پاس مال تھا ؟ میں نے عرض کی: اللہ نے آپ کو اس سے راحت دی ہے ، یار سول اللہ ! آپ نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمد کی، ڈرتے ہوئے کہ (مجھے) موت اس حالت میں نہ آئے کہ وہ مال میرے پاس ہو۔ پھر میں آپ کے پیچھے چلا یہاں تک کہ آپ نے اپنی ازواج میں سے کسی عورت کو سلام کیا یہاں تک کہ رات آپ نے وہاں گزاری ، یہ وہ ہے جس کے متعلق آپ نے مجھے سے پوچھا ۔
زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1123
