المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 64 - أسود بن أصرم المحاربي · حديث 821
817 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن عقال الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ( ح ) وحدثنا أبو عقيل أنس بن سلم الخولاني و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا أبو المعافى محمد بن وهب بن أبي كريمة الحراني ثنا محمد بن سلمة عن أبي عبد الرحيم عن عبد الوهاب بن بخت عن سليمان بن حبيب المحاربي عن أسود بن أصرم المحاربي Y أنه قدم بإبل له سمان إلى المدينة في زمن قحل وجدوب من الأرض فلما رآها أهل المدينة عجبوا من سمنها فذكرت ذلك للرسول صلى الله عليه و سلم فأرسل إليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتي بها فخرج إليها فنظر إليها فقال : ( لم جلبت إبلك هذه ؟ ) قال أردت بها خادما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من عنده خادم ؟ ) فقال عثمان بن عفان رضي الله عنه : عندي يا رسول الله قال : ( فائت بها ) فجاء بها عثمان فلما رآها أسود قال : مثلها أريد فقال : عندك فخذها فأخذها أسود وقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم إبله فقال أسود : يا رسول الله أوصني قال : ( هل تملك لسانك ؟ ) قال : فما أملك إذا لم أملكه ؟ قال : ( أفتملك يدك ؟ ) قالل : فماذا أملك إذا لم أملك يدي ؟ قال : ( فلا تقل بلسانك إلا معروفا ولا تبسط يدك إلا إلى خير )
حضرت اسود بن اصرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں اونٹ پر سمان سے مدینہ میں آیا ، زمن قحل اور جدوب کی زمین سے ، جب اس کو مدینہ والوں نے دیکھا تو وہ اس کے موٹے ہونے پر تعجب کرنے لگے ، میں نے اس کاذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹ کو لانے کے لیے فرمایا اس کو لایا تو آپ اونٹ کے پاس آئے ، اُسے دیکھا اور فرمایا: تُو نے اپنا اونٹ اتنا موٹا کیوں کیا ہے ؟ عرض کی: میں اس سے خدمت لینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کے پاس خادم ہے ؟ حضرت عثمان بن عفان نے عرض کی: یار سول اللہ : میرے پاس ہے ! آپ نے فرمایا: اسے لاؤ! حضرت عثمان لے کر آئے تو میں نے اس کو دیکھا اور عرض کی: اس کی مثل میرا ارادہ تھا ۔ آپ نے فرمایا : تیرے پاس ہے ا س کو لےلے ۔ میں پکڑ لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ لے لیا میں عرض کی: یار سول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کریں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تیری زبان تیرے قابومیں ہے ؟ میں نے عرض کی: اس کا کون مالک ہوگا جب میں نہیں ہوں گا؟ آپ نے فرمایا: کیا تو اپنے ہاتھ کا مالک ہوں؟ میں عرض کی: میں اپنے ہاتھ کا مالک نہیں ہوں گا تو کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تو زبان سے اچھی بات کہہ اور اپنا ہاتھ بھلائی کے لیے پھیلا۔
أَسْوَدُ بْنُ أَصْرَمَ الْمُحَارِبِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ← عبد الوهاب بن بخت ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ← أبو عقيل أنس بن سلم الخولاني و الحسين بن اسحاق التستري ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 821
