المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ الفضل بن عبيد الله بن أبي رافع · حديث 966
962 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن ابن جريج حدثني منبوذ رجل من آل أبي رافع عن الفضل بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبي رافع قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا صلى العصر ربما ذهب إلى بني عبد الأشهل فيتحدث عندهم وربما يتحدث إلى صلاة المغرب فبينما أنا أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى صلاة المغرب وهو يسرع فمررنا بالبقيع فقال : ( أف أف لك ) فظننت أنه يريدني فقال لي : ( امش مالك ؟ ) فقلت : يا رسول الله أحدثت شيئا قال : ( وما ذاك ؟ ) فقلت : أففت مني يا رسول الله فقال : ( لا ولكن هذا قبر فلان بعثته ساعيا على بني فلان فغل درعا فدرع الآن مثلها من النار )
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز عصر پڑھا لیتے تو آپ بسااوقات بنی عبدالاشہل کی طرف جاتے ، ان سے گفتگو کرتے ، بسا اوقات نماز مغرب پڑھ کر جاتے ، میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب کے لیے چل رہاتھا ، آپ تیز چل رہے تھے،ہم جنت البقیع کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: اُف ، اُف تیرے لیے ! میں نے گمان کیا کہ آپ مجھے مراد لے رہے ہیں ، آپ نے مجھے فرمایا: چلو ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی: یار سول اللہ ! میں نے کوئی شے محسوس کی ہے ؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے ؟ میں ےعرض کی : یار سول اللہ ! آپ نے مجھے اُف کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ یہ فلاں کی قبر ہے ، میں اسے زکٰوۃ وصول کرنے والا بنا کر بنی فلاں کے پاس بھیجا ، اس نے ایک زرہ کی خیانت کی ، اب اس کی مثل جہنم میں زرہ پہنائی گئی ہے ۔
أَبِي رَافِعٍ ← الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 966
