المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.
ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ان کے پاس کھجوروں کا ٹوکرا موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! یہ کیا ہے ؟ عرض کی : میں نے آپ کیلئے ذخیرہ رکھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! تیرے لیے ہلاکت ہو! کیا تو کہ دوزخ میں اس کے دھوئیں سے نہیں ڈرتا ؟ اے بلال ! ان کو خرچ کر اور عرش والے کے کرم کے صدقے غریبی سے نہ ڈر۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا ، مجھے دروازہ دکھایا، جس سے میری امت کے لوگ داخل ہوں گے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا یہاں تک کہ میں بھی اسے دیکھتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : رہا تیرا معاملہ تو جنت میں میری امت میں سے سب سے پہلے تو ہی داخل ہوگا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس ایک سیاہ لونڈی لایا۔ عرض کی : میرے اوپر مومنہ لونڈی آزاد کرنا لازم ہے ( کیا اس لونڈی کو آزاد کر سکتا ہوں ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ( لونڈی سے ) نے فرمایا : تیرا رب کون ہے ؟ تو اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا: اور کہا : اللہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : میں کون ہوں ؟ اس نے جواب دیا : اس کے رسول اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس آدمی سے کہا : اسے آزاد کر دے ، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی کو مسجد میں گم شدہ شی کا اعلان کرتے ہوئے سنو تو کہو : ( اللہ کرے ) تجھے نہ ملے ، جب تم مسجد میں بیع کرتے ہوئے دیکھو تو کہو : اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے بالکل منع نہ کرے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن میں ایک وقت ہوتا ہے کہ اس وقت کو کوئی مسلمان بندہ پا لیتا ہے اور اللہ سے بھلائی مانگتا ہے تو اللہ اس کو عطا کرتا ہے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے ، اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، بیشک وہ ( قبر والا ) لوگوں کی جوتیوں کی آواز بھی سنتا ہے ، جب وہ اس سے پیٹھ پھیر کر چلتے ہیں ۔ پس اگر وہ مومن ہوتا ہے تو نماز اس کے سر کے پاس، زکوٰۃ اس کے دائیں طرف ، روزہ اس کے بائیں طرف ، نیک کام ، نیکیاں اور لوگوں سے کیے گئے احسانات اس کے پاؤں والی طرف سے ہوتے ہیں ۔ پس اس کے سر والی طرف سے ( عذاب ) آتا ہے تو نماز کہتی ہے : میری طرف سے تیرے داخل ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ دائیں طرف سے آتا ہے تو زکوٰۃ کہتی ہے : میری طرف سے تیرے داخل ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ پھر اس کے بائیں طرف سے آتا ہے تو روزہ کہتا ہے : میری طرف سے تیرے داخل ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ پھر پاؤں والی طرف سے آتا ہے تو نیک کام ، نیکیاں اور لوگوں سے کیے ہوئے احسانات کہتے ہیں : ہماری طرف سے تیرے داخل ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ پس اسے کہا جاتا ہے : بیٹھ جا۔ وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے ایسے لگتا ہے جیسے سورج غروب ہو رہا ہے ۔ پس اس سے کہا جاتا ہے : تیرا کیا قول ( خیال و نظریہ ) تھا اس ہستی کے بارے میں جو تمہارے اندر رہی رہی ؟ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ۔ پس وہ کہے گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ ہمارے رب کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ ہمارے پاس تشریف لائے ۔ پس ہم نے دل سے مانا اور پیروی کی ۔ پس اس سے کہا جائے گا : تو نے سچ کہا : اسی پر تو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا ۔ پس اس کی قبر کو تاحد نظر وسیع کر دیا جائے گا ۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مفہوم یہی ہے : " اللہ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں حق بات ( کلمہ توحید ) پر ثابت قدمی عطا فرماتا ہے "۔ پس کہا جائے گا : اس کے سامنے جہنم کا دروازہ کھول دیا جائے گا اور کہا جائے گا : اگر تو اللہ کی نافرمانی کرتا تو یہ تیرا مقام ہوتا ۔ پس اس کا رشک اور خوشی بڑھ جائے گی اور کہا جائے گا : اب اس کے سامنے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس کھول دیا جائے گا تو کہا جائے گا : یہ تیرا مقام ہے اور جو کچھ تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ، ( وہ یہ ہے ۔ ) ۔ پس اس کا رشک اور خوشی بڑھ جائے گی۔ پس جو اس سے ظاہر ہوگا، اس کا جسم اسی طرح بنا دیا جائے گا۔ اس کی روح کو پرندے کی روح میں رکھا جائے گا ، اسے جنت کے درختوں پر لٹکا دیا جائے گا۔ جہاں تک تعلق ہے ، کافر کا تو اس کے سر کی طرف سے ( عذاب ) لایا جائے گا تو کوئی شی ( روکنے والی ) نہیں پائی جائے گی۔ پس وہ بیٹھ جائے گا، اس حال میں کہ وہ خوف میں اور مرعوب ہو گا اور اس سے کہا جائے گا : اس ہستی کے بارے میں تو کیا کہتا تھا، جو تمہارے اندر تھی اور کیا گواہی دیتا تھا۔ پس وہ آپ کا نام نہیں بتا سکے گا تو کہا جائے گا : ( یہ ) محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہیں ۔ پس وہ کہے گا : میں نے لوگوں کو سنا، وہ ایک بات کہتے تھے تو جیسے انہوں نے کہا، میں نے کہا ۔ پس اس سے کہا جائے گا : تو نے سچ کہا : ( ہماری اطلاع کے مطابق ) تو نے اسی پر زندگی گزاری ، اسی پر تجھے موت آئی اور ان شاء اللہ اسی پر تو اٹھایا جائے گا۔ پس اس پر قبر تنگ کر دی جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے : اور جس نے میری یاد دلانے والی ہدایت سے منہ پھیرا تو بیشک اس کی زندگی بہت تنگ ہوگی۔ پس کہا جائے گا : اس کے سامنے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا ۔ پس اس سے کہا جائے گا : اگر تو اللہ کی اطاعت کرتا تو میرا یہ مقام ہوتا اور جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیار کیا۔ پس اس کی حسرت اور بربادی میں اضافہ ہو جائے گا۔ پھر کہا جائے گا : جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جائے ۔ پس وہ کھول دیا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا : اب یہ تیرا ٹھکانہ ہے اور جو کچھ تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ، ( وہ تیرے سامنے ہے ۔ ) پس اس کی حسرت اور بربادی میں اضافہ ہو جائے گا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جس نے سورج کے طلوع ہونے کے وقت : " اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق " پڑھے تو اس رات اسے کوئی شی نقصان نہیں دے گی ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سوال کیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم براجمان تھے ۔ پس ایک آدمی نے اسے دیا تو پیچھے لوگ مسلسل اسے دینے لگے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جس نے اچھی سنت قائم کی ، اس پر عمل ہوتا رہا ( تو قیامت تک ) اسے اپنے عمل اور جو بعد میں عمل کرے گا ، اس کا اجر ملتا رہے گا۔ بغیر اس کے کہ دوسرے لوگوں کے اجر میں کوئی کمی کی جائے ۔ اور جس نے بری سنت قائم کی تو اس پر اس کا گناہ بھی ہو گا اور ان کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ کسی کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کریم بن کریم بن کریم بن کریم حضرت یوسف بنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ،ان تمام پر اللہ کی رحمت ہو۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جسے قاضی بنایا گیا ، اسے بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0