Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 109

108 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا الحسن بن موسى ثنا أبو هلال ثنا قتادة Y أن عثمان رضي الله عنه قتل وهو ابن تسعين أو ثمان وثمانين سنة

حضرت قتادہ فرماتےہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس وقت آپ کی عمر 90 یا 88 سال تھی۔

قتادة أن عثمان قتل وهو ابن تسعين أو ثمان وثمانين سنة ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 109

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 110

109 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا عبد الملك الماجشون قال سمعت مالكا يقول Y قتل عثمان رضي الله عنه فأقام مطروحا على كناسة بني فلان ثلاثا فأتاه اثنا عشر رجلا فيهم جدي مالك بن أبي عامر و حويطب بن عبد العزى و حكيم بن حزام و عبد الله بن الزبير و عائشة بنت عثمان معهم مصباح في حق فحملوه على باب وإن رأسه يقول على الباب طق طق حتى أتوا به البقيع فاختلفوا في الصلاة عليه فصلى عليه حكيم بن حزام أو حويطب بن عبد العزى شك عبد الرحمن ثم أرادوا دفنه فقام رجل من بني مازن فقال : والله لئن دفنتموه مع المسلمين لأخبرن الناس فحملهوه حتى أتوا به إلى حش كوكب فلما دلوه فيقبره صاحت عائشة بنت عثمان فقال لها ابن الزبير : اسكتي فوالله لئن عدت لأضربن الذي فيه عيناك فلما دفنوه وسووا عليه التراب قال لها ابن الزبير : صيحي ما بدا لك أن تصيحي قال مالك : وكان عثمان بن عفان رضي الله عنه قبل ذلك يمر بحش كوكب فيقول : ليدفنن ههنا رجل صالح قال أبو القاسم : الحش البستان

حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، آپ کو کناسہ بنی فلان کے پاس تین دن تک چھوڑے رکھا، آپ کے پاس بارہ آدمی آئے، ان میں میرے دادا مالک بن ابو عامر اور حویطب بن عبدالعزیٰ ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن زبیر، عائشہ بنت عثمان تھے۔ ان کے پاس چراغ تھا، آپ کو دروازے پر لایا، آپ کے سر سے آواز آ رہی تھی ، دروازے سے ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی، آپ کو جنت البقیع میں لایا گیا، آپ کی نماز جنازہ پڑھانے میں اختلاف ہوا، آپ کاجنازہ حکیم بن خزام یا حویطب بن عبدالعزیٰ نےعبدالرحمٰن کو شک ہے ، پڑھایا پھر آپ کو دفن کرنے کا ارادہ کیا۔ بنی مازن سے ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ان کو مسلمانوں کے ساتھ دفن کرو گے تو میں لوگوں کو بتاؤں گا۔ آپ کا جنازہ اٹھایا ، اس کو باغ میں لایا گیا، جب قبر کے اندر رکھنے لگے تو حضرت عائشہ بنت عثمان رونے لگیں۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ! اگر دوبارہ آپ روئیں تو میں آپ کی آنکھ پر ماروں گا۔ جب آپ کو دفن کیا گیا، مٹی برابر کی گئی تو حضرت ابن زبیر نے عائشہ بنت عثمان سے فرمایا: جتنا رونا ہے رو لو! حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان اس سے پہلے اس باغ کے پاس سے گزرے تھے، فرمایا تھا: یہاں نیک آدمی کو دفن کیا جائے۔ امام طبرانی فرماتے ہیں : الحش سے مراد باغ ہے۔

مَالِکًا ← عبد الملك الماجشون ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 110

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 111

110 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا عبد الوهاب بن الضحاك ثنا إسماعيل بن عياش أنا محمد بن يزيد الرحبي ثنا سهم بن حبيش وكان مما شهد قتل عثمان قال Y فلما أمسينا قلت : لئن تركتم صاحبكم حتى يصبح مثلوا به فانطلقوا به إلى بقيع الغرقد فأمكنا له من جوف الليل ثم حملناه وغشينا سواد من خلفنا فهبناهم حتى كدنا أن نتفرق عنه فنادى مناد : لا روع عليكم اثبتوا فإنا قد جئنا لنشهده معكم وكان ابن حبيش يقول : هو والله الملائكة

حضرت سہم بن حبیش فرماتے ہیں کہ وہ ان میں سے ہیں جو حضرت عثمان کی شہادت کے وقت موجود تھے۔ جب ہم نے شام کی تو میں نے کہا: اگر تم نےصبح تک اپنے ساتھی کو چھوڑا تو ان کا مُثلہ کیا جائےگا۔ ان کو جنت البقیع میں لے جاؤ تو ہم نے رات کے اندھیرے میں اٹھایا ، ہمارے پیچھے سے ہو کر اندھیرے نے ڈھانپ لیا، ہم ڈرنے لگے قریب تھا کہ ہم علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ۔ ایک آوازدینے والے نے آواز دی: تم نہ ڈرو! ثابت قدم رہو! ہم تمہارے ساتھ شریک ہونے کےلیے آئے ہیں۔ حضرت ابن حبیش فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! وہ فرشتے تھے۔

سهم بن حبيش وكان مما شهد قتل عثمان ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّحَبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 111

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 112

111 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا عبد المنعم بن بشير الأنصاري ثنا علي بن غراب المحاربي عن عبد الله بن سعيد عن أبيه قال Y كنا جلوسا عند علي بن أبي طالب رضي الله عنه وعن يمينه عمار بن ياسر وعن يساره محمد بن أبي بكر إذ جاء غراب بن فلان الصيدني فقال : يا أمير المؤمنين ما تقول في عثمان ؟ فبدره الرجلان فقالا : عم تسأل ؟ عن رجل كفر بالله من بعد إيمانه ونافق فقال الرجل لهما : لست إياكما أسأل ولا إليكما جئت فقال له علي : لست أقول ما قالا فقالا له جميعا : فلم قتلناه إذا ؟ قال : ولي عليكم فأساء الولاية في آخر أيامه وجزعتم فأسأتم الجزع والله إني لأرجو أن أكون أنا وعثمان كما قال الله عز و جل : { ونزعنا ما في صدورهم من غل إخوانا على سرر متقابلين }

حضرت عبداللہ بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا: ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ کے دائیں جانب حضرت عمار بن یاسر اور بائیں جانب حضرت محمد بن ابوبکر تھے، اچانک فلاں کا بیٹے غراب صیدنی نے آکر کہا: اے امیر المومنین! آپ کا حضرت عثمان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ دو آدمی جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف گئے اور اس سے سوال کیا: بول ! تو نے کس کے بارے میں سوال کیا ہے ، جس نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور منافقت کی؟ اس آدمی نے بڑے اطمینان سے کہا: نہ میں نے تم سے سوال کیا ہے اور نہ میں تم دونوں کے پاس آیا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا: میں یہ بات نہیں کہہ سکتا جو ان دونوں نے کی ہے ۔ ان دونوں نے یک زبان ہو کر کہا : پھر ہم نے انہیں قتل کیوں کیا ہے ؟ فرمایا: ان کو تمہار والی بنایا گیا، ان کے دور کے آخری دنوں میں حالات بگڑ گئے تم نے جزع فزع کی، تمہارا رونا بے جا تھا، قسم بخدا مجھے امید ہے ( قیامت کے دن جنت میں) میں اور عثمان اسی طرح ہوں گے جس طرح اللہ نے فرمایا: " اور ان کے سینوں میں جو کچھ ہے ( آپس کے دنیا کے) کینے ہوں گے ( ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے) ہم وہ سب کھینچ لیں گے، آپ میں محبت کرنے والے بھائی بھائی ہو کر جنت کے تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے"۔

يَسَارِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يَمِينِهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ الْمُحَارِبِيُّ ← عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 112

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 113

112 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد حدثنا مجالد بن سعيد عن عمير بن زودي قال Y خطب علي رضي الله عنه الناس فقال : يا أيها الناس إنه والله لئن لم يدخل النار إلا من قتل عثمان لا أدخلها ولئن لم يدخل الجنة إلا من قتل عثمان لا أدخلها قال : فلما نزل قيل له تكلمت بكلمة فرقت عليك بها أصحابك فخطبهم فقال : يا أيها الناس إلا أن الله عزوجل قتل عثمان وأنا معه قال حماد وحدثنا حبيب بن الشهيد عن محمد بن سيرين قال كلمة قرشية لها وجهان

حضرت عمیر بن زودی فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگوں ! اللہ کی قسم ہے ! اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل دوزخ میں داخل ہوا تو میں اس دوزخ میں داخل نہیں ہوں گا۔ اور اگر حضرت عثمان کے قاتلین میں سے کوئی (خدانخواستہ) جنت میں داخل ہو گیا تو میں ایسی جنت میں داخل نہیں ہوں گا۔ راوی کا بیان ہے : جب آپ منبر سے اترے تو آپ سے عرض کی گئی: آپ نے اپنے ساتھیوں کو اپنےکلام سے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، آپ نے پھر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! خبردار ! بے شک اللہ نے حضرت عثمان کو شہادت عطا فرمائی ہے اور میں بھی ان کے ساتھ ( شہادت پانے والا) ہوں ۔ حضرت حماد کا قول ہے : حبیب بن شہید نے ہم سے حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کیا ، فرماتے ہیں: یہ کلام قریشیوں والا ہے جس کی دو صورتیں ( دو معنی) ہیں ۔ حضرت ابوالقاسم کا قول ہے : یعنی گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت تو میں بھی ان کے ساتھ شہید ہوں۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ ← عُمَيْر بن زودي، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 113

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 114

113 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم ثنا حماد بن زيد حدثنا مجالد بن سعيد عن عمير بن زودي قال Y خطبهم علي رضي الله عنه فقطعوا عليه خطبته فقال : إنما وهنت يوم قتل عثمان رضي الله عنه وضرب لهم مثلا مثل ثلاثة أثوار وأسد اجتمعن في أجمة أسود وأحمر وأبيض وكان الأسد إذا أراد واحدا منهن اجتمعن عليه فامتنعن عليه فقال الأسد للأسود والأحمر : إنما يفضحنا في أجمتنا ويشهرنا هذا الأبيض فدعاني حتى آكله فلونكما على لوني ولوني على لونكما فحمل عليه الأسد فلم يلبث أن قتله ثم قال للأسود : إنما يفضحنا ويشهرنا في أجمتنا هذا الأحمر فدعني حتى آكله فلوني على لونك ولونك على لوني لحمل عليه فقتله ثم قال للأسود : إني آكلك قال : دعني أصوت ثلاثة أصوات فقال ألا إنما أكلت يوم أكل الأبيض ألا إنما أكلت يوم أكل الأبيض ألا إنما أكلت يوم أكل الأبيض ألا إنما وهنت يوم قتل عثمان

حضرت عمیر بن زودی فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، ان پر اپنے خطبے کی کاٹ پڑ گئی ( یعنی لوگوں نے درمیان سے آپ کی بات کو کاٹ دیا) پس آپ نے فرمایا: حضرت عثمان کی شہادت کے دن میں کمزور پڑ گیا ، لوگوں کو تین بیلوں اور ایک خیر کے جنگل میں اکٹھا ہونے والی مثال دی، سیاہ سرخ اور سفید بیل ۔ شیر جب ان میں سے کسی ایک کوکھانے کا ارادہ کرتا تو وہ تینوں اس کے خلاف اکٹھے ہو جاتے اور اسے اپنا ارادہ پورا کرنے سے روک دیتے، ایک دن شیر نے کالے اور سرخ بیل سے کہا : ہم تو اپنے جنگل میں رہ کر بھی رسوا ہو گئے اور یہ سفید بیل ہم سے زیادہ مشہور ہو گیا، کبھی تم دونوں مجھے موقع دو تو میں اسے کھا جاؤں، تم دونوں کا رنگ ، میرے رنگ پر اور میرارنگ ، تم دونوں کے رنگ پر ہے ، پس شیر نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے کھانے پر دیر نہیں لگائی، پھر ایک دن اس نے سیاہ بیل سے کہا: ہمارے ہی جنگل میں یہ سرخ آگے نکل گیا، ہم تو ذلیل ہو گئے، تم اجازت دو کسی دن میں اسے کھالوں ، شیر نے اس پر حملہ کر کے تھوڑی دیر میں مار دیا، تیرا رنگ مجھ پر اور میرا رنگ تیرے رنگ پر ہے ۔ پھر اس نے کالے سے کہا: بے شک میں تجھے بھی کھاؤں گا، اس نے جواب دیا: تو مجھے چھوڑ ! میں تین آوزایں نکالتا ہوں۔ اس نے کہا : خبر دار ! میں اس دن ہی کھالیا گیا ہوں جس دن سفید کو کھایا گیا، خبر دار! میں بھی اسی دن کا کھایا ہوا ہوں جس دن سفید کھایا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے خبردار ! صرف میں اسی دن کمزور ہو گیا جس دن حضرت عثمان شہید ہوئے۔

عُمَيْر بن زودي، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 114

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 115

114 - حدثنا أبو خليفة حدثنا أبو عمر حفص بن عمر الحوضي ثنا الحسن بن أبي جعفر ثنا مجالد عن الشعبي قال Y لقي مسروق الأشتر فقال مسروق للأشتر : قتلتم عثمان ؟ قال : نعم قال : أما والله لقد قتلتموه صواما قواما قال : فانطلق الأشتر فأخبر عمارا رضي الله عنه فأتى عمار مسروقا فقال : والله ليجلدن عمار وليسيرن أبا ذر وليحمين الحمى وتقول قتلتموه صواما قواما فقال له مسروق : فوالله ما فعلتم واحدا من ثنتين ما عاقبتم به وما صبرتم فهو خير للصابرين قال : فكأنما ألقمه حجرا قال : وقال الشعبي : وما ولدت همدانية مثل مسروق

حضرت شعبی فرماتے ہیں : جناب مسروق ، اشتر سے ملے ، مسروق نے اشتر سے کہا: تم نے حضرت عثمان کو شہید کیا؟ اس نے جواب دیا: ہاں! مسروق بولے : قسم بخدا! تم نے ایک ایسی ہستی کو شہید کیا ہے جو دنوں کو روزے رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے والی تھی ۔ راوی کہتا ہے : اشتر نے جا کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ حضرت عمار نے جناب مسروق کے پاس آکر کہا : قسم بخدا! عمار کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ابوذر کو قید کیا جاتا ہے اور چراگاہ کی حفاظت کی جاتی ہے اور تو کہتا ہے : تم نے روزے رکھنے والے ، قیام کرنے والے کو قتل کیا ہے ۔ جناب مسروق نے ان کو جواب دیا: قسم بخدا ! جو تم نے دو میں سے ایک سے سلوک کیا، جیسی تمہاری سزا دی گئی اس کے برابر جو تم نے سزا دی اور جو تم نے صبر کیا، پس وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہترین ہے ۔ راوی کہتا ہے : یوں لگتا ہے جیسے مسروق نے ان کے منہ میں پتھر دے دیا: راوی کا بیان ہے : اور امام شعبی کا قول ہے کہ کسی ہمدانی عورت نے مسروق کی مثل نہیں جنا۔

الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 115

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 116

115 - حدثنا أبو خليفة ثنا أحمد بن يحيى بن حميد الطويل ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو عن أبيه عن جده علقمة بن وقاص قال Y اجتمعنا في دار مخرمة بعدما قتل عثمان رضي الله عنه نريد البيعة فقال أبو جهم بن حذيفة : إنا من بايعنا منكم فإنا لا نحول دون قصاص فقال عمار بن ياسر : أما من دم عثمان فلا فقال أبو جهم : يا ابن سمية والله لتقادنه من جلدات جلدتها ولا يقاد لدم عثمان رضي الله عنه فانصرفوا يومئذ عن غير بيعة

حضرت علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد ہم مخرمہ کے گھر میں بیعت کرنے کے ارادے سے اکٹھے ہوئے ۔ ابوجہیم بن حذیفہ نے کہا: تم میں سے جس کے ہاتھ پر بھی ہم بیعت کریں گے، قصاص سے کم کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فوراً بول پڑے کیا تیری مراد حضرت عثمان کے خون کا قصاص ہے، وہ تو ہم نہیں لیں گے۔ حضرت ابوجہم نے کہا: اے ابن سمیہ! قسم بخدا ! ان کوڑوں کا بدلہ تو ضرور لیا جائے جو تجھے لگے لیکن اگر نہ لیا جائے تو حضرت عثمان کے خون کا بدلہ نہ لیا جائے (یہ کیسی بات ہے ) پس وہ سارے اس دن بغیر بیعت کے لوٹ گئے۔

جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 116

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 117

116 - حدثنا سليمان بن الحسن العطار البصري ثنا أبو كامل الجحدري ثنا إسماعيل بن إبراهيم أنا ابن عون عن الحسن قال : أخبرني وثاب وكان ممن أدركه عتق عثمان رضي الله عنه فكان يقوم بين يدي عثمان قال Y بعثني عثمان فدعوت له الأشتر فقال ابن عون فأظنه قال : فطرحت لأمير المؤمنين وسادة له وسادة فقال : يا أشتر ما يريد الناس مني ؟ قال : ثلاثا ما من إحداهن بد قال : ما هن ؟ قال : يخيرونك بين أن تخلع لهم أمرهم فتقول : هذا أمركم فاختاروا له من شئتم وبين أن تقص من نفسك فإن أبيت هذين فإن القوم قاتلوك قال : ما من إحداهن بد ؟ قال : ما من إحداهن بد قال : أما أن أخلع لهم أمرهم فما كنت لأخلع سربالا سربلته قال : وقال الحسن قال : والله لأن أقدم فيضرب عنقي أحب إلي من أن أخلع أمر أمة محمد صلى الله عليه و سلم بعضها على بعض قال ابن عون : وهذا أشبه بكلام عثمان وأما أن أقص من نفسي فوالله لقد علمت أن صاحبي بين يدي كانا يعاقبان وما يقوم بدني للقصاص وأما أن تقتلوني فوالله لئن قتلتموني لا تحابون بعدي أبدا ولا تقاتلون بعدي أبدا ولا تقاتلون بعدي عدوا جميعا أبدا فقام الأشتر فانطلق فمكثنا فقلنا لعل الناس إذ جاء رجل كأنه ذئب فاطلع من باب ثم رجع ثم جاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهوا إلى عثمان رضي الله عنه فأخذ بلحيته فقال بها وقال بها حتى سمعت وقع أضراسه وقال ما أغنى عنك معاوية ما أغنى عنك ابن عامر ما أغنى عنك كتبك قال : أرسل لحيتي يا ابن أخي أرسل لحيتي يا ابن أخي قال : فأنا رأيته استدعى رجلا من القوم بعينه فقام إليه بمشقص حتى وجأه به في رأسه قلت : ثم مه ؟ قال : ثم تعاونوا عليه والله حتى قتلوه

حضرت حسن فرماتے ہیں: مجھے حضرت وثاب نے خبر دی ، ان کا تعلق ان حضرات سے تھا جن کی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا تھا، پس وہ حضرت عثمان کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا ، میں اشتر کو آپ کے پاس بلا کر لایا۔ پس ابن عون کا کہنا ہے : میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امیر المومنین کے لیے تکیہ پھینکا جو ان کا اپنا تھا۔ پس آپ نے فرمایا: اے اشتر! لوگ مجھ سے کیا ارادہ رکھتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: تین باتیں ہیں ، جن میں سے ایک ضرور کرنا ہوگی۔ آپ نے فرمایا: وہ تین باتیں کیا ہیں؟ اس نے کہا : وہ لوگ آپ کو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ خلافت کا لباس اتار دیں اور کہیں : یہ اب تمہارا معاملہ ہے اس کے لیے جس کو چاہو انتخاب کر لو، یا پھر اپ اپنی جان کا خود قصاص دیں۔ پس اگر ان دو کا آپ انکار کریں تو ہ آپ کو قتل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فرمایا: ان میں سے ایک کیا ضروری ہے ؟ اس نے کہا: ان میں سے ایک بھی ضروری نہیں۔ فرمایا: جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کا معاملہ ان کے سپرد کردوں ، پس میں وہ جامہ نہیں اتاروں گاجو مجھے پہنایا گیا ہے ( کیونکہ مجھے میرے نبی کا حکم ہے ) راوی کا کہنا ہے کہ حضرت حسن نے کہا: قسم بخدا! میں گردن زنی کے لیے پیش کیا جاؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ کا معاملہ ان میں سے کسی کے سپرد کردوں۔ حضرت ابن عون کاقول ہے کہ یہ حضرت عثمان کے کلام کے زیادہ مشابہ ہے ، اور دوسری بات یہ کہ میں اپنی جان کا قصاص خود پیش کروں، قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے سامنے میرے دو ساتھیوں کو سزائیں دی جاتی رہیں، میرا بدن قصاص کے قابل نہیں ہے ، باقی رہی یہ بات کہ تم مجھے قتل کردو گے، قسم بخدا! اگر تم نے مجھے شہید کر دیا تو یاد رکھو ! میرے بعد کبھی بھی ایک دوسرے سے محبت نہ کر سکو گے، نہ تم تمام میرے بعد دشمنوں سے لڑ سکو گے۔ پس اشتر کھڑا ہوا اور چل دیا، پس ہم ٹھہرے رہے، ہم نے اپنے دل میں کہا: شاید لوگ ! تو اتنے میں اچانک ایک آدمی گویا کہ وہ بھیڑیا ہے ، وہ دروازہ سے ظاہر ہوا، اور پھر لوٹ گیا، پھر حضرت محمد بن ابی بکر آئے ، ان کے ساتھ تیرہ آدمی اور تھے ، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر رکے، آپ کی داڑھی شریف سے پکڑا،(قلم لکھنے سے عاجز ہے ، زبان بولنے س) اور کہا جو کہا یہاں تک کہ مجھے آپ کے منہ سے آواز آئی: معاویہ آپ کو فائدہ نہ دے سکیں گے ، ابن عامر تمہیں فائدہ نہ دیں ، تمہارے خطوط کسی کام نہ آئیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے میری داڑھی چھوڑ دو! دوسری بار بھی یہی بات کی۔ راوی کا بیان ہے : میں اسے دیکھ رہا تھا، اس نے اپنی قوم سے بعینہ ایک ادمی بلایا وہ ایک لکڑی لے کر آپ کے طرف آیا یہاں تک کہ اس کو آپ کے سر پر دے مارا۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوا؟ اس نے کہا : پھر آپ پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو شہید کر دیا۔

الْحَسَنِ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 117

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 118

117 - حدثنا سليمان بن الحسن العطار ثنا أبو كامل الجحدري ثنا إسماعيل بن إبراهيم ثنا ابن عون عن محمد بن سيرين Y أن محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة و كعبا ركبا سفينة في البحر فقال محمد : يا كعب أما تجد سفينتنا هذه في التوراة كيف تجري ؟ فقال : لا ولكن أجد فيها رجلا أشقى الفتية من قريش ينزو في الفتنة كما ينزو الحمار لا تكن أنت هو قال ابن سيرين : فزعموا أنه كان هو

حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ محمدبن ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور حضرت کعب سمند ر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے ، پس محمد نے کہا: اے کعب ! کیا تم ہماری اس کشتی کا ذکر تورات میں نہیں پاتے کہ کیسے چلتی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ! لیکن میں تورات میں قریش سے بد بخت ترین آدمی کا ذکر پاتا ہوں جو فتنہ میں پڑھے گا، جس طرح گدھا ، تو آپ وہ نہ بننا۔ ابن سیرین نے کہا : انہوں نے گمان کیا کہ ممکن ہے وہ وہی ہو۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 118

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 119

118 - حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة البغدادي و إسحاق بن داود الصواف التستري قالا : ثنا محمد بن خالد بن خداش ثنا سلم بن قتيبة ثنا مبارك عن الحسن حدثني سياف عثمان رضي الله عنه Y أن رجلا من الأنصار دخل على عثمان فقال : ارجع ابن أخي فلست بقاتلي قال : وكيف علمت ذاك ؟ قال : لأنه أتى بك النبي صلى الله عليه و سلم يوم سابعك فحنكك ودعا لك بالبركة ثم دخل عليه رجل من الأنصار فقال : ارجع ابن أخي فلست بقاتلي قال : بم تدري ذلك ؟ قال : لأنه أتي بك النبي صلى الله عليه و سلم يوم سابعك فحنكك ودعا لك بالبركة قال : ثم دخل عليه محمد بن أبي بكر فقال : أنت قاتلي قال : وما يدريك يا نعثل ؟ قال : لأنه أتي بك النبي صلى الله عليه و سلم يوم سابعك ليحنكك ويدعو لك بالبركة فخريت على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فوثب على صدره وقبض على لحيته فقال : إن تفعل كان يعز على أبيك أن تسوءه قال : فوجأه في نحره بمشاقص كانت في يده

حضرت حسن سے روایت ہے ، مجھے سیاف نے حدیث بیان کی کہ ایک انصاری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے! آپ واپس چلے جائیں! آپ میرے قاتل نہیں ہیں۔ اس نے کہا : آپ کو اس بات کا کیسے علم ہوا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تجھے پیدا ہوئے سات دن ہوئے تھے، تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے گھٹی دی اور تیرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر دوسرا انصاری داخل ہوا تو آپ نے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے ! آپ بھی لوٹ جائیں ، آپ میرے قاتل نہیں ہیں ، اس نے عرض کی: آپ کو کس طریقہ اس کا علم ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لیے کہ تیرے پیدا ہونے کے ساتویں دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے گھٹی دی اور تیرے لیے برکت کی دعا کی۔ راوی کا بیان ہے : پھر محمد بن ابوبکر داخل ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ! تو میرا قاتل ہے ۔ اس نے کہا: اے بوڑھے ! تجھے کیا معلوم ؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لیے کہ تیرے پیدا ہونے کے ساتویں دن تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے گھٹی دے کر برکت کی دعا کریں، پس تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کر دیا۔ راوی کہتا ہے : وہ جھپٹ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو داڑھی شریف سے پکر لیا ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے یہ کام کر دیا تو تیرے باپ پر بڑا گراں ہوگا، تو ان کو تکلیف پہنچائے گا۔راوی کہتا ہے : اس نے آپ کے گلے پر وہ لکڑی ماری جو اس کے ہاتھ میں تھی۔

سَيَّافُ عُثْمَانَ: ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ← أحمد بن محمد بن صدقة البغدادي و إسحاق بن داود الصواف التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 119

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 120

119 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي الأذنى ثنا المسيب بن واضح ثنا عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال Y لما ضرب الرجل يد عثمان قال : إنها لأول يد خطت المفصل

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں : جب اس آدمی نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ضرب لگائی ، کہا : یہ پہلا ہاتھ تھا، جس کا جوڑ جدا ہوا۔

إنها لأول يد خطت المفصل ← لَمَّا ضَرَبَ الرَّجُلُ يَدَ عُثْمَانَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 120

chevron_left Previous
1…91011…1,989
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter