المعجم الکبیر للطبرانی · Book ‹ Chapter · حديث 0
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تمہیں لوگوں کے کام اور ان کی عادات کے متعلق نہ بتاؤں ! وہ آدمی جس کو غصہ جلدی آتا ہے ، اس کا غصہ جلدی چلا جاتا ہے ، اس پر کوئی گناہ نہیں ، اس کو کوئی فائدہ بھی نہیں ، ایک وہ آدمی جسے غصہ دیر سے آئے اور جلدی چلا جائے تو یہ اس کیلئے ثواب ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ، وہ آدمی جس کو غصہ جلدی آئے اور دیر سے جائے تو یہ اس کیلئے گناہ ہے ، اسے کوئی نفع نہیں ۔ وہ آدمی جو پورا کر کے دیتا ہے ، جو اس پر لازم ہے یعنی اپنی ڈیوٹیاں نبھاتا ہے ، لیکن وہ پورا کر کے نہیں لیتا ، جو اس کا حق ہے ۔ پس اس سے نہ اس پر کوئی حرج ہے اور نہ اس کو کوئی فائدہ ہے ۔ وہ آدمی جو دوسروں سے تو حقوق پورے کر کے لیتا ہے ، لیکن اپنے حقوق ادا نہیں کرتا۔ اس کا نفع اس کو ہوتا ہے ، لیکن نقصان کوئی نہیں ہوتا اور وہ آدمی جو دوسروں سے اپنے حقوق پورے کر کے لیتا ہے ، لیکن لوگوں کو ٹالتا رہتا ہے ، جو ان کے حقوق ہیں ۔ اس کا اس پر بوجھ ہے لیکن اسے ( آخرت میں ) نفع کوئی نہیں ہوگا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 0
