المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تا نبے کے ایک بت کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کی پیٹھ کے ساتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘پھر فرمایا: خائب و خاسر ہوا جس نے اللہ کو چھوڑ کر تیری عبادت کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے ‘ان کے ساتھ ایک فرشتہ تھا‘وہ فرشتہ پیچھےہٹا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا ہوا؟ کیوں ہٹ رہے ہو؟ عرض کی: آپ سے تانبے کی بُو آ رہی ہے اور میں تانے کی بُو برداشت نہیں کر سکتا۔
