المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت حبیب بن ابو ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ‘پس آپ کے پاس ایک آدمی آیا ‘اس نے عرض کی: اے ابو عبدالرحمٰن ! آپ مجھے حضرت عثمان کے بارے میں بتائیں! کیا وہ بدر میں حاضر ہوئے؟ فرمایا: نہیں ! اس نے کہا: کیا بیعت رضوان میں حاضر ہوئے؟ فرمایا: نہیں ! اس نے کہا: دو لشکروں کے ملنے کے دن ان لوگوں میں تھے جنہوں نے منہ پھیرا؟ فرمایا: ہاں ! پس وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے عرض کی: یہ آدمی ابھی جائے گا اور لوگوں کو خبر دے گا جو کچھ آپ نے حضرت عثمان کے بارے میں فرمایا ۔ فرمایا: کیا میں نے ایسا کیا ؟ اس نے عرض کی: اس کا اسی طرح گمان ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس آدمی کو واپس بلاؤ! آپ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے تجھ سے کیا کہا؟ اس آدمی نے عرض کی: میں نےآپ سے سوال کیا کہ عثمان غزوہ بدر میں شریک ہوا؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں ! اور میں نے عرض کی کہ کیا وہ بیعت رضوان میں تھے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں! اور میں نے آپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے دولشکروں کے ملنے کے دن منہ پھیرا؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں۔ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: بے شک حضرت عثمان ‘ اللہ اور اس کے رسول کے کام میں روک دیا گیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ بھی نکالا حالانکہ جو دیگر لوگ بدر میں نہیں تھے ان میں سے کسی کا حصہ نہیں نکالا۔ پھر فرمایا: بیعت رضوان کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو مکے بھیجا تا کہ آپ کفار ِمکہ سے قربانی اور مکہ میں داخلے کے بارے بات کریں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت عثمان ‘اللہ اور اس کا رسول کے کام میں ہیں‘ پس میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا اور فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے : ’’ بے شک جو لوگ تم میں سے دولشکروں کے ملنے کے دن پھر گئے ‘شیطان ہی نے ان کو ایک کوتا ہی سے جو اُنہوں نے کی ان کے پاؤں اکھیڑ دیئے اور بے شک اللہ نے ان سے در گزر کیا ‘‘(اس کے بعد آپ نے اس سے فرمایا : ) اب جا کر اپنا کام کر ۔ پس اِس سند میں اس حدیث کے راویوں میں سے کوئی بھی کلیب بن وائل اور حبیب بن ابو ملیکہ کےدرمیان داخل نہیں ہے ۔ ھانی بن قیس مگر عبد الواحد بن زیاد اور اس کو روایت کیا زائدہ اور ایک جماعت نے کلیب بن وائل سے ‘انہوں نے حبیب بن ابو ملیکہ سے ‘انہوں نے ابن عمر اور حبیب بن ابو ملیکہ سے ‘ان کی کنیت ابو ثور حدانی ہے‘ یہ بنو مراد قبیلہ کی ایک شاخ ہے۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter
