المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ کیلئے آئے اُس کو چاہیے کہ وہ غسل کرے۔
Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.
ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ کیلئے آئے اُس کو چاہیے کہ وہ غسل کرے۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی ایک رکعت پالی ‘ اُس نے جمعہ پالیا۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سونے یا چاندی کے برتنوں سے پیا ‘ اُس نے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھری۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس عورت کا شوہر بھی ہو اور وہ مالدار بھی ہو اور حج کرنے کیلئے شوہر سے اجازت نہ لے ‘ تو آپ نے فرمایا: عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر چلے۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان گھومنے والی بکری کی طرح ہے ‘ جب اس طرف آتی ہے تو اس کو سینگ مارتا ہے ‘ جب اُس طرف آتی ہے تو اس کو سینگ مارتی ہے ۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے کپڑا لٹکاتا ہے ‘ اللہ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فروح وریحان پڑھا۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ تشریف لائے ) آپ نے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) تمہارے لیے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بطور نمونہ ہے۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی ‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے عبداللہ ! آپ مجھے کس کی خوشخبری دے رہے ہیں؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بلال قیامت کے دن اپنی سواری پر رہے گا‘ جس کا کجاوا سونے کا ہوگا اور لگام موتی اور یاقوت کی ہو گی‘ اس کے ساتھ جھنڈا ہو گا‘ جتنے موذن ہوں گے اس کے ساتھ ہوں گے ‘ سب جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ جس نے چالیس دن فجر کی اذان دی ہو گی اللہ عزوجل کی رضا کے لیے (وہ بھی)۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مرفوعا ًروایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس طرح میرے لیے عاجزی کرے ‘ آپ نے اپنی ہتھیلی کے باطن کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کیا اور اس کو اس طرح بلند کیا‘ آپ نے اپنی ہتھیلی کے باطن کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کے کچھ لوگ جنت اور کچھ جہنم میں ہوں گے سوائے میری اُمت کے کہ وہ سارے کے سارے جنت میں داخل ہوں گے۔
المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ریشم پہنے اور چاندی کے برتن میں پئے ‘ اُس کا تعلق ہم سے نہیں‘ جو عورت اپنے شوہر سے یا غلام اپنے آقا سے ناراض ہو ‘ اُس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔