المعجم الکبیر للطبرانی · کتاب ‹ باب
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابولؤلؤ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ کا وار کیا ‘ (دوبارہ اس حال میں کہ آپ نماز میں تھے ) پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ انہوں نے لوگوں کے حق میں کوئی ایسا قصور کیا ہے جس کا انہیں علم نہیں ہے۔ پس آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کو بلایا جبکہ آپ ان سے محبت فرمایا کرتے تھے ‘ ان کو قریب کیا اور ان سے عذر کے ساتھ سننے لگے۔ فرمایا: مجھے پسند ہے کہ آپ لوگوں سے معلوم کریں کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نکلے تو لوگوں کے جس گروہ کے پاس سے آپ گزرتے تھے ‘ وہ رو رہے ہوتے تھے۔ پس وہ آپ کی طرف لوٹ کر آئے تو عرض کی: اے امیر المؤمنین ! میں مسلمانوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرا تو انہیں ایسے روتا ہوا پایا جیسے ان کی اولاد میں سے کوئی نوجوان فوت ہو گیا ہے۔ فرمایا: کس نے مجھے شہید کرنے کی کوشش کی؟ عرض کی: حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤ نے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے آپ کے چہرے میں خوشی کے آثار دیکھے۔ آپ نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے کسی کلمہ گو کے قول کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا نہیں کیا لیکن میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ تم کسی کو میرے علاج کیلئے لاؤ مگر تم نے میری بات کو نہ مانا ‘ پھر فرمایا: میرے بھائیوں کو میرے پاس بلاؤ۔ صحابہ نے عرض کی: وہ کون ہیں؟ فرمایا: عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمنٰ بن عوف ‘ سعد بن ابو وقاص ۔ پس ان کی طرف قاصد گیا ‘ پھر میں (عبد اللہ ) نے آپ کا سر اپنی گود میں رکھا۔ پس جب وہ آ گئے تو میں نے عرض کی: وہ آ گئے ہیں۔ فرمایا: ہاں! میں نے مسلمانوں کے معاملے میں غور و فکر کیا ہے ‘ آپ چھ آدمیوں کو میں نے تمام لوگوں کے سرداروں اور قائدین کی مانند پایا ہے ‘ اب یہ معاملہ تمہارے اندر ہی ہے ( تم میں سے کوئی ایک سردار بنے گا ) جب تک تم سید ھے راہ پر ہو تو لوگ سیدھے راہ پر ہیں‘ اگر اختلاف ہوا تو تمہارے بارے میں ہی ہوگا۔ پس جب میں نے (آپ کی زبان سے ) اختلاف کا ذکر سنا تو میں نے گمان کیا کہ ہونے والا ہے کیونکہ ( زندگی میں ) کم ہی میں نے دیکھا کہ آپ نے کوئی بات کہی اور میں نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا‘ پھر خوف نکلا جس سے کمز ور ہو گئے ‘ ان کے درمیان انتہائی رازداری میں بات ہوئی یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کسی ایک کی بیعت کر لیں گے۔ پس میں نے کہا کہ امیر المؤمنین زندہ ہیں‘ دو خلیفے ہوں گے تو ان میں سے ایک دوسرے کو دیکھے گا۔ فرمایا: مجھے اُٹھاؤ ! پس ہم نے آپ کو اُٹھایا تو آپ نے فرمایا: تین دن مشورہ کرو ‘ نماز لوگوں حضرت صہیب پڑھائیں۔ عرض کی: اے امیر المؤمنین! کس سے مشورہ کریں؟ فرمایا: محاجرین و انصار سے اور لشکروں کے یہاں سے جو قبیلے موجود ہیں۔ پھر دودھ منگوایا ‘ اسے پیا تو دودھ کی سفیدی دونوں زخموں سے نکلی ‘ یہ موت کی نشانی تھی ۔ فرمایا: اب گر میرے پاس تمام دنیا بھی ہو تو میں ضرور مطلع کے ھول کے لیے فدیہ کر دوں جبکہ وہ نہیں ہے ‘ الحمد للہ! میں خیر ہی دیکھتا ہوں۔ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی : اگر آپ نے یہ کہہ دیا ہے تو اللہ آپ کو جزائے خیر دے! کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہیں کی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے دین اور مسلمانوں کو طاقت دے۔ جب وہ مکہ میں ڈر کی حالت کے اندر تھے۔ پس جب آپ اسلام لائے تو آپ کا اسلام لانا طاقت بنا اور آپ کے ذریعے اسلام مضبوط ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بھی ۔ آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ کا ہجرت کرنا بھی فتح کی علامت ہوا پھر جتنے غزوات ہوئے تو آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ‘ مشرکین کے ساتھ قتال کے سلسلہ میں ‘ فلاں اور فلاں دن ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے اس حال میں کہ آپ پر راضی تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر خلیفہ رسول کی مدد کی‘ پس جس نے پیٹھ پھیری آپ نے اس کو مثال دی اس کی جو آگے بڑھا یہاں تک کہ لوگ خواہی نخواہی اسلام میں داخل ہوئے‘ پھر خلیفہ بھی اس دنیا سے آپ سے راضی ہو کر تشریف لے گئے‘ پھر آپ والی بنے اس بہتری کے ساتھ جو لوگ والی بنتے ہیں‘ آپ کے ذریعے اللہ نے شہروں کو فتح فرمایا ‘ آپ کے وسیلے سے مال حاصل ہوئے اور دشمن جلاوطن ہوئے‘ آپ کے ذریعے اللہ نے ہر گھر والے پر ان کے دین اور رزق میں وسعت عطا کی ۔ پھر آپ کا خاتمہ شہادت کی سعادت سے ہو رہا ہے‘ پس آپ کو مبارک ہو۔ فرمایا قسم بخدا! بے شک دھوکہ وہی کھاتا ہے جس کو لوگ دھوکہ دیں ‘ پھر فرمایا: اے عبداللہ ! کیا آپ قیامت کے دن میری گواہی دیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں! فرمایا: اے اللہ ! تیری حمد ہے ‘ اے عبداللہ بن عمر! میرے رخسار زمین پر لگا دے۔ پس میں نے آپ کو اپنی ران سے ہٹا کر اپنی پنڈلی کا سہارا دیا‘ پھر فرمایا: میرے رخسار زمین پر لگنے دے پس آپ کی ٹھوڑی اور رخساروں کو چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ آپ زمین پر جا لگے (اللہ کی بارگاہ میں اپنے آپ سے مخاطب ہو کر ) عرض کی : اے عمر ! تجھے اور تیری ماں کو افسوس! اگر اللہ نے تیری بخشش نہ کی۔ پھر آپ کی روح قبض کر لی گئی ‘ اللہ آپ پر رحم فرمائے‘ پس جب آپ کا وصال ہو گیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف لوگوں نے پیغام بھیجا۔ فرمایا: میں تمہاری طرف نہ آؤں گا اگر تم نے وہ کام نہ کیا جو تمہیں مہاجرین ‘ انصار اور لشکروں کے خاندانوں سے مشورہ کرنے کا حکم ملا ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا: جب آپ کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت کا عمل ذکر کیا گیا اور اپنے رب سے ڈرنے کا۔ فرمایا: ہاں! اسی طرح مؤمن احسان اور ڈر کی کیفیات کو جمع کرتا ہے اور منافق بُرائی اور دھو کے کو اکٹھا کرتا ہے۔ قسم بخدا ! گزرے ہوؤں میں نہیں پایا میں نے اور نہ باقی رہنے والوں میں ایسا بندہ جس میں احسان کی کیفیت بڑھنے کے ساتھ خوف کی کیفیت بھی زیادہ ہوئی حضرت عمر سے بڑھ کر۔ اور جو گزر گئے یا باقی ہیں جس آدمی کی برائی زیادہ ہوگی تو دھو کہ زیادہ ہوگا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter
