المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 10607.3
قال معاوية : فما تقول في علي بن أبي طالب ؟ قال : رحم الله أبا الحسن كان والله علم الهدى وكهف التقى ومحل الحجا وطود النهى ونور السرى في ظلم الدجى وداعية إلى الحجة العظمى عالما بما في الصحف الأولى وقائما بالتأويل والذكرى متعلقا بأسباب الهدى وتاركا للجور والأذى وحائدا عن طرقات الردى وخير من آمن واتقى وسيد من تقمص وارتدى وأفضل من حج وسعى وأسمح من عدل وسى وأخطب أهل الدنيا إلا الأنبياء والنبي المصطفى وصاحب القبلتين فهل يوازيه موحد وزوج خير النساء وأبو السبطين لم ترعيني مثله ولا ترى حتى القيامة واللقاء فمن لعنه فعليه لعنة الله والعباد إلى يوم القيامة
حضرت معاویہ نے کہا : حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ فرمایا: ابو الحسن پر اللہ رحم فرمائے! قسم بخدا! وہ تو ہدایت کی علامت تھے ‘متقی لوگوں کی پناہ گاہ ‘عقل کا محل ‘ذہین و فطین ‘اندھیروں میں چلنے والوں کا نور ‘بڑی دلیل کی طرف بلانے والے ‘پہلی کتابوں کے بھی عالم ‘تفسیر اور نصیحت کی باتوں کو جاننے والے ‘ہدایت کے اسباب سے متعلق ‘ظلم اور تکلیف دینے سے دُور ہلاکت کے راستوں کو چھوڑنے والے ‘ایمان لانے والے اور متقی لوگوں میں بہتر ‘ان لوگوں کے سردار جنہوں نے قمیص کو پہنا اور بدلا ‘حج و عمرہ کرنے والوں سے افضل ‘عادلوں سے بہتر اور انبیاء سابقین اور نبی مصطفیٰ ‘صاحب قبلتین کے علاوہ اہلِ دنیا سے بڑے خطیب ‘کیا کوئی مؤحد ان کے برابر ہو سکتا ہے ‘خیر النساء کے شوہر ‘سبطین (امامین حسن و حسین ) کے باپ ‘میری آنکھ نے ان کی مثل نہیں دیکھا اور قیامت اور ملاقات کے دن تک نہ دیکھ سکیں گی ‘جو ان پر لعنت بھیجے اُس پر اللہ اور اس کے بندوں کی قیامت تک لعنت ہو۔
طرقات الردى ← الأذى وحائدا ← قائما بالتأويل والذكرى متعلقا بأسباب الهدى وتاركا للجور ← داعية إلى الحجة العظمى عالما بما في الصحف الأولى ← نور السرى في ظلم الدجى ← محل الحجا وطود النهى ← كهف التقى ← الله علم الهدى ← رحم الله أبا الحسن كان ← معاوية فما تقول في علي بن أبي طالب
Hadith 10607.3
