Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8031

ثم قال لا يحل لامرأة مسلمة أن تحج إلا مع زوجها أو ذي محرم

پھر فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ حج کرے‘ سوائے اپنے زوج یا محرم کے ساتھ۔

لا يحل لامرأة مسلمة أن تحج إلا مع زوجها أو ذي محرم ← ثُمَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8031

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8050

ثم قال : إن بني إسرائيل تفرقت إحدى وسبعين فرقة أو قال اثنتين وسبعين فرقة وإن هذه الأمة ستزيد عليهم فرقة كلها في النار إلا السواد الأعظم قلت : يا أبا أمامة ألا تراهم ما يعملون ؟ قال : عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم إن تطيعوه تهتدوا

پھر فرماتے ہیں: بیشک بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹے یا بہتّر فرمایا اور یہ امت ان پر ایک فرقہ زیادہ ہو گی‘ سواد اعظم کے سوا سب جہنمی ہوں گے۔ میں نے عرض کی : اے ابو امامہ! کیا آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ کیا عمل کریں گے؟ فرمایا: ان کے اعمال کی ذمہ داری ان پر ہے اور تمہارے اوپر تمہارے اعمال کا حساب ہے‘ اگرتم اطاعت گزار ہو تو ہدایت یافتہ ہو۔

ثُمَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8050

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8066

ثم قال : اختلفت اليهود على إحدى وسبعين فرقة سبعين من النار وواحدة في الجنة واختلفت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة إحدى وسبعون فرقة في النار وواحدة في الجنة وتختلف هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقة اثنتان وسبعون في النار وواحدة في الجنة فقلنا : انعتهم لنا قال : السواد الأعظم

پھر فرمایا: یہودیوں کے اکہتر فرقے بنے‘ ان میں سے ستر دوزخ میں اور ایک جنت میں‘ نصاریٰ کے بہتّر فرقے بنے جن میں سے ایک جنت میں اور اکہتر دوزخ میں جائیں گے اور اس امت کے تہتر فرقے ہوں گے جن میں سے بہتّر دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا۔ ہم نے عرض کی: ہمیں اس کی نشانی بتائیں! فرمایا: سواد اعظم (سب جماعتوں سے بڑی جماعت )۔

ثُمَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8066

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8087

فقلنا : اشتهينا أن تدعو لنا فقال : اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح شأننا كله قال : فإننا اشتهينا أن تزيدنا فقال : أوليس قد جمعن الخير ؟

پس ہم نے عرض کی: ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں‘ آپ نے یوں دعا کی: اے اللہ! ہماری مغفرت فرما! ہم پر رحم فرما! ہم سے راضی ہو! ہم سے قبول فرما! ہمیں جنت میں داخل فرما! دوزخ سے نجات دے اور ہمارے کاموں کی اصلاح فرما! فرماتے ہیں: ہماری خواہش تھی کہ آپ ہمیں اور دعا دیں۔ فرمایا: ان کلمات نے ساری بھلائیاں جمع کر لی ہیں۔

أوليس قد جمعن الخير ← فإننا اشتهينا أن تزيدنا

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8087

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8161

ثم يستقبل الناس بوجهه وكان يعجبه الرؤيا فيقول : هل رأى أحد منكم شيئا قال ابن زمل : فقلت : أنا يا نبي الله قال خيرا تلقاه وشرا توفاه وخيرا لهنا وشرا على أعدائنا والحمد لله رب العالمين أقصص روياك فقلت : رأيت جيمع الناس على طريق رحب سهل لأحب والناس على الجادة منطلقين فبينا هم كذلك إذا اشفى ذلك الطريق على مرج لم تر عيناني مثله يرف رفيفا ويقطر نداه فيه من أنواع الكلأ وكأني بالرعلة الأولى حتى أشفوا على المرج كبروا ثم ركبوا رواحلهم في الطريق فنهم المرتع ومنهم الآخذ الضعث ومضوا على ذلك قال : ثم قدم معظم الناس فلما أشفوا على المرج كبروا فقالوا : خير المنزل فكأني أنظر إليهم يميلون يمينا وشمالا فلما رأيت ذلك لزمت الطريق حتى آتى أقصى المرج فإذا أنا بك يا رسول الله على منبر فيه سبع درجات وأنت في أعلاها درجة وإذا عن يمينك رجل آدم ششل أفتى إذا هو تكلم يسمو فيفرع الرجال طولا وإذا عن يسارك رجل تار ربعة أحمر كثير خيلان الوجه كأنما حمم شعره بالماء إذا هو تكلم أصغيتم له إكراما وإذا أمامك شيخ أشبه الناس بك خلقا ووجها كلكم تؤمونه تريدونه وإذا أمام ذلك ناقة عجفاء شارف وإذا أنت يا رسول الله كأنك تتقيها قال : فانتفع لون رسول الله صلى الله عليه و سلم ساعة ثم سري عنه فقال : أما ما رأيت من الطريق السهل الرحب اللاحب فذلك ما حملتم عليه الهدى وأنتم عليه وأما المرج الذي رأيت فالدنيا وعصارة عيشها مضيت أنا وأصحابي لم نتعلق بها شيئا ولم نردها ولم تردنا ثم جاءت الرعلة الثانية بعدنا وهم أكثر منا ضعافا فمنهم المرتع ومنهم الآخذ الضغث ونحوه على ذلك ثم جاء عظم الناس فمالوا في المرج يمينا وشمالا فأنا لله وإنا إليه راجعون أما أنت فمضيت على طريقة صالحة فلم تزل عليها حتى تلقاني وأما المنبر الذي رأيت فيه سبع درجات وأنا في أعلى درجة فالدنيا سبعة آلاف سنة وأنا في آخرها ألفا وأما الرجل الذي رأيت على يميني الآدم الششل فذلك موسى عليه السلام إذا هو تكلم يعلو الرجال بفضل صلاح الله إياه والذي رأيت عن يساري التار الر بعة الكبير خيلان الوجه فكأنما حمم شعره بالماء فذاك عيسى بن مريم نكرمه لإكرام الله إياه وأما الشيخ الذي رأيت أشبه الناس بي خلقا ووجها فذلك أبونا إبراهيم عليه السلام كلنا نؤمه ونقتدي به وأما الناقة التي رأيت ورأيتني أتقيها فهي الساعة علينا تقوم لا نبي بعدي ولا أمة بعد أمتي قال : فما سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رؤيا بعدها إلا أن يجيء الرجل فيحدثه بها متبرعا

پھر لوگوں کی طرف چہرہ مبارک کرتے ‘ خوابآ پ کو بہت خوش لگتے تھے ‘ فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ابن زمل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں نے دیکھا ہے۔فرمایا: تو بھلائی سے ملے اور برائی سے بچ جائے ‘ بھلائی ہمارا حصہ ہے اور برائی کا وبال ہمارے دشمنوں پر ہے ‘ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‘ اپنا خواب بیان کیجئے! میں نے عرض کی: میں نے دیکھا کہ تمام لوگ ایک کھلے ‘ نرم راستے پر ہیں اور کچھ لوگ پختہ راستے پہ چل رہے ہیں ‘ وہ لوگ اسی حال پر ہیں کہ اچانک وہ راستہ رات کے آخری حصے میں ایک کھلی چراگاہ پر پہنچ گیا‘ اس کی مثل میری آنکھوں نے کوئی چیز نہ دیکھی تھی ‘ پرندوں کے پروں کی آواز آ رہی تھی ‘ اس میں شبنم گر رہی تھی، قسم قسم کی گھاس تھی ‘ گویا میں ہراول دستہ یعنی پیش رو جماعت میں تھا یہاں تک کہ سارے اس چراگاہ پر پہنچ گئے ‘ انہوں نے تکبیر کہی اور اپنی سواریوں کو راستے پر لگایا ‘ ان میں سے کچھ چرنے والے کچھ لینے والے ‘ مٹھا بنانے والے تھے ‘ اسی حال میں کہ وہ اس پر سے گزر گئے ۔ کہتے ہیں: پھر بڑے بڑے لوگ آئے ‘ جب چراگاہ پر پہنچے تو اللہ اکبر کہا ‘ اور کہا کہ بہترین مقام ہے ‘ گویا میں ان سب کو دیکھ رہا ہوں ‘ کہ کوئی دائیں جا رہا ہے کوئی بائیں ۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے بھی راستہ پکڑ لیا ‘ حتی ٰکہ میں چراگاہ کے آخر تک آیا۔ اچانک میں آپ کے ساتھ ہوں ‘ اے اللہ کے رسول! ایک منبر پر جس کی سات سیٹرھیاں ہیں اور آپ سب سے اوپر والی سیٹرھی پر ہیں ‘ آپ کی دائیں جانب ایک آدمی گندم گوں ‘ سنجیدہ ‘ بلند بینی والے تھے ‘ اس نے گفتگو کی‘ پس لوگ فارغ ہوئے جاتے ہیں لمبائی میں ‘ آپ کی بائیں جانب بھی ایک آدمی ہے بھرا جسم ‘ درمیانہ قد ‘ سرخ رنگ ‘ بارعب ‘ گویا اس کے ہاں پانی سے دھو کر چمٹا دیئے گئے ہیں ‘ وہ کلام کرتا ہے اور اس کے اکرام میں تم سب غور سے سنتے ہو ‘ آپ کے سامنے ایک بزرگ ہے تمام لوگوں سے زیادہ چہرے اور شکل کے لحاظ سے آپ کی طرح ہے ‘ تم سب لوگ اسی کا ارادہ کرتے ہو اور اسے چاہتے ہو۔ اس کے سامنے ایک کمزور سی اونٹنی ہے اور اے اللہ کے رسول! گویا آپ اس سے بچتے ہیں ۔ راوی کا بیان ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ ایک گھڑی میں چمک اٹھا‘ پھر اس سے سرگوشی کی (یعنی پوشیدہ طور پر بتایا) ‘ فرمایا: وہ جو نرم کھیلا اور واضح راستہ تو نے دیکھا ‘ وہ وہی ہدایت کا راستہ ہے جس پر تم کو ڈالا گیا ہے اور تم اسی پر ہو۔ بہرحال چراگاہ ‘ جو تو نے دیکھی ‘ وہ دنیا ہے اور اس کی عیش کا نتیجہ ‘ میں اور میرے صحابہ ( جلدی ) اس سے گزر گئے ‘ اس سے کوئی سروکار نہیں رکھا‘ نہ اترے اور نہ ارادہ کیا۔ پھر دوسرا قافلہ ہمارے بعد آیا ‘ وہ ہم سے زیادہ کئی گنا تھے ‘ پس ان میں سے چرنے والے ‘ مٹھی بھر بھر کر لینے والے اور اس جیسے ( بہر حال ) پھر لوگوں میں سے بڑے آئے ‘ پس وہ چراگاہ میں دائیں بائیں جھکے : اناللہ وانا الیہ راجعون! بہر حال تو نیک راستے پر چلا‘ پس اس ( چراگاہ) پر نہیں اترا حتی ٰکہ مجھے سے آ کر ملا ‘ لیکن وہ منبر جو تو نے دیکھا اس میں سات سیٹرھیاں تھیں اور میں سب سے اوپر والی پر تھا ‘ جو آ دمی تو نے میری دائیں طرف دیکھا وہ حضرت موسی علیہ السلام تھے ‘ وہ بلند آواز سے لوگوں پر گفتگو کرتے تھے‘ اللہ کے عطا کردہ فضل سے ‘ اور جو آدمی تو نے میری بائیں طرف دیکھا بھاری جسم ‘ درمیانہ قد پانی کے ساتھ گویا ان کے بالوں کو گرم کیا گیا ہے ‘ وہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام تھے ‘ اللہ نے ان کو عزت دی اس لیے ہم ان کی عزت کر رہے تھے ‘ بہر حال وہ بزرگ جو تو نے شکل و چہرے کے لحاظ سے میرے مشابہ دیکھے تو وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ‘ ہم سب ان کو اپنا امام بناتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں اور وہ اونٹنی جو تو نے دیکھی اور مجھے اس سے بچتے ہوئے دیکھا ‘ وہ ہم پر آنے والی قیامت کی گھڑی تھی کیونکہ میرے بعد نبی کوئی نہیں اور تمہارے بعد امت کوئی نہیں۔ راوی کا بیان ہے: اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خوابوں کے بارے میں سوال نہ کیا مگر کوئی آدمی خود آ کر رضا کارانہ طور پر سناتا ۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8161

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 1237.1

قلت : يا رسول الله طالت عزوبتي ونأيت عن دار قومي قال : ( يا بشير ألا تحمد الذي أخذ بناصيتك من بين ربيعة قوم ويرون لولاهم انكفت الأرض بمن عليها )

حضرت بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میری عمر لمبی ہو گئی ہے ' اپنی قوم کے گھروں سے دور ہوں۔ آپ نے فرمایا: اے بشیر ! اس ذات کی حمد کیوں نہیں کرتا جس نے تیری پیشانی پکڑ رکھی ہے ' ربیعہ کی قوم سے جس کا خیال ہے کہ اگر وہ زمین پر نہ ہوتے تو زمیں پر کوئی نہ ہوتا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1237.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 3694.1

Not Found

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3694.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 4257.1

Not Found

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4257.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 4270.1

Not Found

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4270.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 4364.1

Not Found

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4364.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 9958.1

ثم إن عبد الله كان يقوم بالهاجرة حين ترتفع الشمس فيصلي أربع ركعات ويقرأ فيهن بسورة من القرآن طوال وقصار ثم لا يلبث إلا يسيرا حتى يصلي صلاة الظهر فيطيل القيام في الركعتين الأوليين يقرأ فيهما بسورتين ب ( آلم تنزيل ) السجدة ومثلها من المثاني فإذا صلى الظهر ركع بعدها ركعتين ثم يمكث حتى إذا تصوبت الشمس وعليه نهار طويل صلى صلاة العصر ويقرأ في الركعتين الأوليين بسورتين من المثاني أو المفصل وهما أقصر مما قرأ به في صلاة الظهر فإذا قضى صلاة العصر لم يصل بعدها حتى تغرب الشمس فإذا رآها قد تولت صلى صلاة المغرب التي تسمونها العشاء ويقرأ [ فيهما ] بسورتين من قصار المفصل ( والليل إذا يغشى ) و ( سبح اسم ربك الأعلى ) ونحوا منها من قصار المفصل ثم يركع بعدها ركعتين وكان يقسم عليها شيئا لا يقسمه على شيء من الصلوات بالله الذي لا إله إلا هو أن هذه الساعة لميقات هذه الصلاة ويقول تصديقها ( أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا ) وهي التي يسمون صلاة الصبح وعندها يجتمع الحرسان كان يعز عليه أن يسمع متكلما تلك الساعة إلا بذكر الله وقراءة القرآن ثم يمكث بعد حتى يصلي العشاء التي تسمون العتمة ويقرأ فيها بخواتم آل عمران { إن في خلق السماوات والأرض } إلى خاتمتها وبخواتيم سورة الفرقان { تبارك الذي جعل في السماء بروجا } إلى خاتمتها في ترسل وحسن صوت بالقرآن وكان يقول : إن حسن الصوت بالقرآن زينة له فإن لم يقرأ فيها بخواتيم هاتين قرأ نحوهما من المثاني أو المفصل فإذا قضى صلاة العشاء ركع بعدها ركعتين وكان لا يصلي بعد شيء من الصلاة المكتوبة إلا ركعتين ثم صلاة الجمعة فإنما كان يصلي بعدها أربع ركعات حتى إذا كان من آخر الليل قام فأوتر ما قدر الله من الصلاة إما تسعا وإما سبعا أو فوق ذلك حتى إذا كان حين ينشق الفجر ورأى ا لأفق وعليه من الليل ظلمة قام فصلى الصبح فقرأ فيهما بسورتين طويلتين بالرعد ومثلها من المثاني حتى يتهم أن يضيء الصبح وكان يكبر في كل شيء من الصلاة حتى يقوم لها وكان حين يرفع رأسه فيقول : سمع الله لمن حمده ثم يستوي قائما ثم يحمد ربه ويسبحه وهو قائم [ ثم ] يكبر للسجدة حتى يخر ساجدا ثم يكبر حتى يرفع رأسه ثم يستوي قاعدا ويحمد ربه ويسبحه ثم يكبر للسجدة الثانية ثم يكبر حين يرفع منها رأسه ثم يكبر ثم يقوم من القعدة فإذا صلى صلاته سلم مرتين من غير أن يلتفت أو يشير بيده ثم يعمد إلى حاجته إن كان عن يمينه أو عن شماله وكان إذا قام إلى الصلاة خفض فيها صوته وبدنه وكان عامة قوله وهو قائم أن يسبح وكان تسبيحه فيها سبحانك لا إله إلا أنت لا يفتر من ذلك

9800- حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ گرمی دو پہر کے وقت کھڑے ہوتے ‘جب سورج بلند ہوتا‘چار رکعت ادا کرتے اور ان میں طوال ِمفصل اور قصار ِمفصل سے پڑھتے تھے پھر تھوڑی دیر ٹھہرتے حتیٰ کہ ظہر کی نماز پڑھتے‘پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتے ‘ان دورکعتوں میں دوسورتیں ‘الم تنزیل اور مثانی میں سے اس کی مثل سورت ۔ پس جب ظہر پڑھ لیتے تو اس کے بعد دو رکعت ادا فرماتے پھر ٹھہرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا ‘اس پر لمبا دن ہوتا ‘عصر کی نماز پڑھتے ‘اس کی پہلی دو رکعتوں میں مثانی یا مفصل میں سے دوسورتیں پڑھتے اور وہ دونوں ظہر کی نماز میں پڑھی ہوئی سورتوں سے مختصر ہوتیں۔ جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو اس کے بعد مغرب تک کوئی نماز نہ پڑھ تے تھے جب ملاحظہ فرماتے کہ سورج غروب ہو گیا ہے تو مغرب کی نماز ادا فرماتے ‘جس کو تم عشاء (اول) کہا کرتے اور اس کی دو رکعتوں میں قصار ِمفصل میں سے دو سورتیں پڑھتے : (۱) والیل اذا یغشی (۲) سبح اسم ربک الاعلی یا قصار ِمفصل میں سے اس جیسی ‘پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کر تے ‘اس یر کسی شی کی قسم کھاتے جو دوسری نمازوں میں سے کسی نماز پر نہیں کھاتے تھے ‘اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘بے شک یہی گھڑی اس نماز کا وقت ہے ‘اس کی تصدیق میں فرماتے : ’’اقم الصلوة لدلوك الى آخرہ“ یہ وہ نماز ہے جس کولوگ صبح کی نماز کہا کرتے تھے اور اس وقت میں دونوں نگران فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں ( رات و دن والے ) اس پر یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ اس گھڑی میں اللہ کے ذکر اور قرأت ِقرآن کے علاوہ کوئی اور بات کی جائے‘ پھر اس کے بعد ٹھہرتے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھتے جس کو تم عتمہ کہتے ہو۔ اس میں سورۂ آل عمران کی آخری آیات پڑھتے :’’ان فی خلق السموات والارض‘‘ اس کے آخر تک اور سورۂ فرقان کی آخری آيات: ’’تبارك الى جعل في السماء بروجاً‘‘اس کے آخر تک تلاوت آہستہ آہستہ اور خوبصورت آواز کے ساتھ کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے: بے شک آواز کی خوبصورتی قرآن کی زینت ہے۔ پس اگر اس میں ان دو سورتوں کی آخری آیات تلاوت نہ کرتے تو ان جیسی مثانی میں سے یا مفصل میں سے پڑھتے ‘پس جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو اس کے بعد دو رکعت ادا کر تے اور آپ فرض نماز کے بعد دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے۔ پھر نماز ِجمعہ ‘اس کے بعد چار رکعت ادا فرمایا کرتے تھے حتی ٰکہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو اُٹھ کر وتر ادا کر تے نماز میں سے‘ جو اللہ نے مقدر میں لکھی ہوتی تھی ۔ نو رکعت‘ سات رکعت یا اس پر کچھ زیادہ ۔ یہاں تک کہ جب پوہ پھوٹتی تو آپ آسمان کے کنارے کو دیکھتے‘ اس پر رات کی سیاہی ہوتی‘ کھڑے ہوتے اور صبح کی نماز پڑھتے ‘ان دو میں دو لمبی سورتیں پڑھتے ‘سورہ رعد اور مثانی میں سے اس کی مثل یہاں تک کہ گمان کیا جا تا کہ صبح روشن ہو جائے گی‘ نماز کی ہرشی میں تکبیر کہا کرتے تھے حتیٰ کہ اس کیلئے کھڑے ہوتے اور اس وقت جب سر اُٹھاتے۔ پس کہتے سمع اللہ لمن حمدہ! پھر سیدھے کھڑے ہوتے پھر اپنے رب کی حمد اور تسبیح کرتے اس حال میں کہ کھڑے ہوتے پھر سجدہ کیلئے تکبیر کہتے یہاں تک کہ سجدہ کرتے پھر تکبیر کہتے ‘جب سجدہ سے سر اُٹھاتے پھر تکبیر کہتے جب سر اُٹھاتے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے‘ حمد کرتے اور تسبیح کرتے‘ پھر دوسرے سجدہ کیلئے تکبیر کہتے ‘پھر قعدہ سے اُٹھتے ‘پس جب نماز پڑھ لیتے تو دو مرتبہ سلام پھیرتے بغیر التفات کیے یا بغیر ہاتھ کا اشارہ کیے‘ پھر اپنا کام کرنے کا ارادہ کرتے دائیں طرف ہوتا یا بائیں طرف ۔ جب آپ نماز کی طرف کھڑے ہوتے تو اس میں اپنی آواز بھی آہستہ کرتے اور اپنے جسم کو بھی جھکاتے ۔اکثر آپ کی زبان پر تسبیح ہوتی اس حال میں کہ آپ کھڑے ہوتے اور اس میں آپ کی تسبیح ’’سبحانك لا اله الا انت‘‘ ہوتی تھی‘ اس سے کبھی سستی نہیں کرتے تھے۔

يَمِينِهِ أَوْ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9958.1

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه

وإن النبي صلى الله عليه و سلم تعجل من العباس صدقة عامين في عام

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دو سالوں کی زکوٰۃ‘ ایک ہی سال میں جلدی وصول کر لی۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter

chevron_left Previous
1…151617…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter