Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6482

وسألته عن اللقطة ؟ فقال : عرفها ثم أوثق وكاءها وصدارها فإن جاء طالبها فأدها إليه وإلا فشأنك بها

میں نے آپ سے گم شدہ شی کے متعلق پوچھا‘ آپ نے فرمایا: ایک سال اس کا اعلان کرو‘ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دیدو ورنہ خود رکھ لو۔

اللقطة ← وَسَأَلْتُهُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6482

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6581

قال : يارسول الله أخبرنا عن أعمالنا كأنما خلقنا الساعة شيئا ثبت به الكتاب وجرت به المقادير أو شيء نستأنفه ؟ قال : لا بل ثبت به الكتاب وجرت به المقادير فقال : يارسول الله ففيم العمل ؟ قال : اعملوا فكل ميسر لما خلق له

انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے اعمال کے بارے میں بتائیں‘ گویا ہم اس (گھڑی پیدا ہوئے ہیں‘ کیا وہ ایسی شی ہے جس کے ساتھ کتاب مضبوط ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ تقدیر کا ؟ قلم چل چکا ہے؟ یا ایسی شی ہے جس کو ہم نے نئے سرے سے کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! بلکہ ایسی شی ہے جس کے ساتھ کتاب پختہ اور تقدیر کا قلم چل چکا ہے‘ انہوں نے عرض کی : پھر عمل کس لیے ؟ فرمایا عمل کرو۔ پس ہر ایک کیلئے وہی کچھ آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6581

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6582

فقال سراقة : حدثنا يارسول الله عن ديننا كأننا خلقنا الآن أفي شيء جفت به الأقلام وجرت به المقادير أو فيما يستأنف قال : بل فيما جفت به الأقلام وجرت به المقادير فقال سراقة : ففيم العمل يارسول الله ؟ قال : اعملوا فكل عامل ميسر ثم قرأ { فأما من أعطى واتقى } { وصدق بالحسنى } { فسنيسره لليسرى } { وأما من بخل واستغنى } { وكذب بالحسنى } { فسنيسره للعسرى }

پس حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے دین کے بارے میں ہمیں بتائیں! گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں‘ کیا ایسی چیز میں عمل کرتا ہے جس کے ساتھ قلمیں خشک ہو گئی ہیں اور تقدیر جاری ہو گئی ہے یا نئے سرے سے ہم کام کریں گے؟ فرمایا: بلکہ اسی میں جس میں قلم خشک اور تقدیر جاری ہو چکی ہے۔ پس حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے ہے؟ فرمایا: پس ہر ایک کیلئے اسی چیز کو آسان بنایا گیا ہے‘ جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے‘ پھر یہ آیت پڑھی: ’’ فاما من اعطٰی واتقی الٰی آخرہٖ‘‘ ۔

يارسول الله ← سراقةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6582

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6617

ثم تذكرت شيئا أسأل عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فما ذكرت له شيئا إلا قد قلت : يا رسول الله الضالة تغشى حياضنا قد ملأتها لإبلي هل لي من أجر أن أسقيها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم في كل ذات كبد حرى أجر فانصرفت فسقت إلى رسول الله صدقتي

پھر میں نے ایک چیز کا ذکر کیا جس کے بارے میں‘ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا‘ پس جو چیز میں نے ذکر کی وہ یہ تھی کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! تم شدہ جانور ہمارے حوضوں پر آ جائے‘ جن کو ہم نے اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہے‘ کیا میرے لیے اجر ہو گا کہ میں اس کو پلاؤں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! ہر گرم جگر والی چیز میں اجر ہے‘ پس میں لوٹا تو میں صدقہ کے اونٹ ہانک کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6617

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6704

وقال : يرحم الله المتسحرين

اور آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل سحری کرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔

يرحم الله المتسحرين

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6704

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6764

وكان النبي صلى الله عليه و سلم يعرض غلمان الأنصار في كل عام فمن بلغ منهم بعثه فعرضهم ذات عام فمر به غلام فبعثه في البعث وعرض عليه سمرة من بعده فرده فقال سمرة : يا رسول الله أجزت غلاما ورددتني ولو صارعني لصرعته قال : فدونك فصارعه قال : فصرعته فأجازني في البعث

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر سال انصار کے بیٹے پیش کیے جاتے‘ جو ان میں سے بالغ ہو جاتا اس کو آپ جنگ کے لیے بھیجتے‘ آپ پر بچے پیش کیے گئے تو آپ نے جنگ کے لیے بھیجا‘ اس کے بعد حضرت سمرہ پیش کیے گئے تو آپ نے واپس کر دیا۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ! آپ نے بچے کو اجازت دی ہے اور مجھے واپس کر دیا‘ اگر آپ میری کشتی کروا دیں تو میں گرالوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے! آپ کشتی کروائیں۔ حضرت سمرہ فرماتے ہیں: میں نے گرا لیا تو مجھے جہاد پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

سَمُرَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6764

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 6962

وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا حم دعا بقربة من ماء فأفرغها على قرنه فاغتسل

اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بخار ہوتا تھا تو آپ پانی منگواتے‘ اپنے جسم پر ڈالتے اور غسل کرتے تھے۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6962

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 7086

وبإسناده عن سمرة قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى إذا دعي الرجل على الطعام أن يدعو معه أحدا إلا أن يأمره أهل الطعام

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع کرتے تھے کہ جب کسی آدمی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اپنے ساتھ کسی دوسرے کو لے آئے‘ ہاں اگر جس نے دعوت دی‘ وہ اجازت دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

سَمُرَةَ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7086

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 7278

وحمل النبي صلى الله عليه و سلم عليا على بغلته البيضاء التي كان أهداها له دحية الكلبي فانطلق عباس بأبي سفيان قد أردفه فلما سار عباس بعث النبي صلى الله عليه و سلم في أثره فقال : أدركوا عباسا فردوه علي وحدثهم بالذي خاف عليه فأدركه الرسول فكره عباس الرجوع وقال : أيرهب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرجع أبا سفيان راغبا في قلة الناس فيكفر بعد إسلامه ؟ فقال احبسه فحبسه فقال أبو سفيان أغدرا يا بني هاشم ؟ فقال عباس : إنا لسنا نغدر ولكن لي إليك بعض الحاجة قال : وما هي فأقضيها لك ؟ فقال : يعادها حين يقدم عليك خالد بن الوليد و الزبير بن العوام فوقف عباس بالمضيق دون الأراك من منى وقد وعى أبا سفيان عنه حديثه ثم بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم عبور الخيل بعضها على أثر بعض وقسم رسول الله صلى الله عليه و سلم الخيل شطرين فبعث الزبير وردفه خالدا بالجيش من أسلم و غفار وقضاعة فقال أبو سفيان : رسول الله هذا يا عباس ؟ قال : لا ولكن خالد بن الوليد وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سعد بن عبادة بين يديه في كتيبة من الأنصار فقال : اليوم يوم الملحمة اليوم تستحل الحرمة ثم دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم في كتيبة الإيمان من المهاجرين والأنصار فلما رأى أبو سفيان وجوها كثيرة لا يعرفها قال : يا رسول الله أكثرت إذا [ أو ] اختر هذه الوجوه على قومك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنت فعلت ذلك وقومك إن هؤلاء صدقوني إذ كذبتموني ونصروني إذ أخرجتوني ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ الأقرع بن حابس و عباس بن مرداس و عينية بن بدر الفزاري فلما أبصرهم حول النبي صلى الله عليه و سلم قال : من هؤلاء يا عباس ؟ قال : هذه كتيبة النبي صلى الله عليه و سلم ومع هذه الموت الأحمر هؤلاء المهاجرون والأنصار قال : امض يا عباس فلم أر كاليوم جنودا قط ولا جماعة فسار الزبير بالناس حتى وقف بالحجون واندفع خالد حتى دخل من أسفل مكة فلقيته أوباش بني بكر فقاتلوهم فهزمهم الله وقتلوا بالحزورة حتى دخلوا الدور وارتفع طائفة منهم على الخيل على الخندمة واتبعهم المسلمون فدخل النبي صلى الله عليه و سلم في أخريات الناس ونادى مناد : من أغلق عليه داره وكف يده فإنه آمن ونادى أبو سفيان بمكة : أسلموا تسلموا وكفهم الله عز و جل عن عباس وأقبلت هند بنت عتبة فأخذت بلحية أبي سفيان ثم نادت : يا غالب اقتلوا هذا الشيخ الأحمق قال : فأرسلي لحيتي فأقسم لك لئن أنت لم تسلمي ليضربن عنقك ويلك جاءنا بالحق فادخلي أريكتك أحسبه قال واسكتي

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی سفید اوٹنی پر سوار کیا جو حضرت دحیہ کلبی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بطور ہدیہ پیش کی تھی۔ حضرت عباس‘ حضرت ابو سفیان کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لے چلے۔ پس جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا‘ فرمایا: حضرت عباس سے مل کر انہیں میرے پاس واپس لے آؤ اور صحابہ کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بات کی جس کا اس پر خوف تھا۔ پس قاصد نے ان کو پالیا۔ پس حضرت عباس نے واپس آنا مناسب نہ سمجھا اور کہا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا ڈر ہے کہ ابو سفیان کم لوگ دکھ کر اسلام لانے کے بعد کفر کی طرف پھر جائے گا‘ اس لیے واپس بلانا چاہتے ہیں؟ کہا: اسے روکو۔ پس انہوں نے روکا تو ابو سفیان نے کہا: اے بنو ہاشم ! کیا دھوکہ ہے؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم دھوکہ کرنے والے نہیں ہیں لیکن مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ اس نے کہا: وہ کیا ہے؟ جو میں کر دوں؟ تو انہوں نے کہا: اسے دہرایا جائے گا جب آپ پر حضرت خالد بن ولید اور حضرت زبیر بن عوام آئیں گے۔ پس حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ منٰی کی جھاڑیوں کے نیچے تنگ جگہ پر رُک گئے اور ابو سفیان نے ان سے ان کی بات کو یاد کیا‘ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسرے کے آگے پیچھے گھوڑوں والے بھیجے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں کو دو حصوں میں تقسیم فرما دیا‘ پہلے حضرت زبیر کو اور ان کے پیچھے حضرت خالد کولشکر دے کر بھیجا جو بنو اسلم‘ بنو غفار اور بنو قضاعہ والوں پر مشتمل تھا۔ پس ابو سفیان نے کہا: اللہ کے رسول یہ ہیں؟ اے عباس! انہوں نے کہا: نہیں! بلکہ یہ خالد بن ولید ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے سامنے انصاریوں کے ایک لشکر میں بھیجا۔ پس انہوں نے کہا: آج جنگ کا دن ہے‘ آج کے دن حرام چیز یا عزت حلال کی جائے گی‘ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود داخل ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین وانصار میں سے ایمان والوں کا ایک مختصر سا لشکر تھا۔ پس جب حضرت ابو سفیان نے بہت سارے چہرے دیکھے تو ان کو پہچان نہ سکا۔ کہا: اے اللہ کے رسول ! اب آپ کثیر ہو گئے یا آپ نے ان چہروں کو اپنی قوم کے خلاف لڑنے کیلئے انتخاب فرمایا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تیرا اور قوم کا کیا کرایا ہے‘ بے شک ان لوگوں نے میری تصدیق کی جب تم لوگوں نے میری تکذیب کی۔ انہوں نے میری مدد کی‘ جب تم نے مجھے نکال دیا۔ اس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت اقرع بن حابس‘ عباس بن مرداس اور عیینہ بن بدر فزاری تھے۔ پس جب اس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد دیکھا تو کہا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حفاظتی دستہ ہے اور اس کے ساتھ سرخ موت ہے۔ یہ مہاجرین اور انصار ہیں۔اس نے کہا: اے عباس! چلو! آج کی طرح میں نے کبھی کوئی لشکر نہیں دیکھا اور نہ کوئی جماعت دیکھی ہے۔ پس حضرت زبیر لوگوں کو لے کر چلے یہاں تک کہ حجون کے مقام پر آ کر ٹھہرے۔ حضرت خالد چل کر مکہ کی نچلی طرف سے داخل ہو۔ پس بنو بکر قبیلہ کے اوباشوں سے ان کی مڈھ بھیٹر ہوئی۔ پس انہوں نے ان سے قتال کیا‘ پس اللہ نے ان اوباشوں کو شکست دی۔حزورہ کے مقام پرقتل کر دیئے گئے حتٰی کہ وہ گھروں میں داخل ہوئے‘ ان میں سے ایک گروہ گھوڑوں پر سوار ہوکر خندمہ پر چڑھا‘ مسلمان ان کے پیچھے گئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے آخر میں داخل ہوئے‘ ایک منادی نے نداء دی: جو اپنے اوپر دروازہ بند کر لے اور ہاتھ روک لے تو اسے امان ہے۔ اور حضرت ابو سفیان نے مکہ میں نداء دی: اسلام لے آؤ‘ محفوظ رہو گے۔ اللہ نے ان کو حضرت عباس سے روک لیا اور ہند بنت عتبہ آگے بڑھی‘ اس نے ابو سفیان کو داڑھی سے پکڑ لیا پھر آواز دی: اے غالب (اکثریت) اس بے وقوف جاہل بوڑھے کوقتل کر دو۔ اس نے کہا: میری داڑھی چھوڑ دے! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو نے اسلام قبول نہ کیا تو تیری گردن اتار دی جائے گی‘ تیرے لیے ہلاکت ہو‘ آپ ہمارے پاس حق لے کر آئے ہیں‘ پس تو اپنے پلنگ پر چلی جا‘ میرا گمان ہے ابو سفیان نے کہا: خاموش ہو جا!

أدركوا عباسا فردوه علي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7278

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 7317

وسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما رجل تزوج امرأة فنوى أن لا يعطيها من صداقها شيئا مات يوم يموت وهو زان وأيما رجل اشترى من رجل بيعا فنوى أن لا يعطيه من ثمنه شيئا مات يوم يموت هو خائن والخائن في النار

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے کسی عورت کو حق مہر سے کوئی شی نہ دینے کی نیت کی تو وہ اس دن مر گیا وہ زانی ہو گا‘ جوکوئی کسی آدمی سے بیع کرے اور اسے دینے کی نیت نہ ہو تو وہ اس دن مر گیا تو وہ خائن ہو گا‘ خائن جہنم میں ہو گا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7317

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 7334

قال : فكان إذا حدث بهذا الحديث حدث بهذا الحديث الآخر قال : كان ملك من الملوك وكان لذلك الملك كاهن يتكهن له فقال ذلك الكاهن : انظروا لي غلاما فطنا أو قال لقنا أعلمه علمي هذا فإني أخاف أن أموت فينقطع منكم هذا العلم ولا يكون فيكم من يعلمه فنظروا له غلاما على ما وصف وأمروه أن يحضر ذلك الكاهن وأن يختلف إليه قال وكان على طريق الغلام راهب في صومعة قال معمر وأحسب أن أصحاب الصوامع كانوا يومئذ مسلمين فجعل الغلام يسأل ذلك الراهب كلما مر به عن دينه حتى أخبر فقال : إنما أعبد الله وجعل الغلام يمكث عند الراهب ويبطئ على الكاهن فأرسل الكاهن إلى أهل الغلام أنه لا يكاد يحضرني فأخبر الغلام الراهب بذلك فقال له الراهب : إذا قال لك الكاهن : أين كنت ؟ فقل عند أهلي وإذا قال لك أهلك : أين كنت ؟ فقل عند الكاهن فبينما الغلام على ذلك إذا مر بجماعة من الناس كثيرة قد حبستهم دابة فقال بعضهم : إن تلك الدابة كانت الأسد فأخذ الغلام حجرا فقال : اللهم إن كان ما يقول الراهب حقا فأسألك أن أقتل هذه الدابة وإن كان ما يقول الكاهن حقا أن لا أقتلها ثم رماها فقتل الدابة فقال الناس : من قتلها ؟ فقالوا الغلام : ففزع الناس إليه قالوا : قد علم هذا الغلام علما لم يعلمه أحد فسمع به أعمى فجاءه فقال له الأعمى : إن أنت رددت علي بصري فإن لك كذا وكذا فقال له الغلام : لا أريد منك هذا ولكن أرأيت إن رجع إليك بصرك أتؤمن بالذي رده عليك ؟ قال : نعم فدعا الله عز و جل فرد عليه بصره فآمن الأعمى فبلغ الملك أمرهم فبعث إليهم فأتي بهم فقال : لأقتلن كل واحد منكم قتلة لا أقلتها صاحبها فأمر بالراهب وبالرجل الذي كان أعمى فوضع المنشار على مفرق أحدهما فقتل وقتل الآخر بقتلة أخرى ثم أمر بالغلام فقال : انطلقوا به إلى جبل كذا وكذا فألقوه من رأسه فلما انطلقوا به إلى ذلك الجبل وانتهوا إلى المكان الذي أرادوا جعلوا يتهافتون من الجبل ويتردون منه حتى لم يبق إلا الغلام ثم رجع الغلام فأمر به الملك فقال : انطلقوا به إلى البحر فألقوه فيه فانطلقوا به إلى البحر فغرق الله الذين كانوا معه وأنجاه الله عز و جل فقال الغلام إنك لن تقتلني حتى تصلبني ثم ترميني وتقول إذا رميتني : بسم الله رب هذا الغلام فأمر به فصلب ثم قال بسم الله رب الغلام فوضع الغلام على صدغه ثم مات فقال الناس : لقد علم هذا الغلام علما ما علمه أحد فإنا نؤمن برب هذا الغلام فقيل للملك : أجزعت أن خالفك ثلاثة ؟ فهذا الناس كلهم قد خالفوك فخد أخدودا ألقى فيها الحطب والنار ثم جمع الناس ثم قال : من رجع إلى دينه تركناه ومن لم يرجع ألقيناه في هذه النار فجعل يلقيهم في تلك الأخدود فذلك قوله عز و جل { قتل أصحاب الأخدود * النار ذات الوقود } حتى بلغ { العزيز الحميد } فذكر أن الغلام أخرج في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه واضع يده على صدغه كما وضعها حين قتل ؟

حضرت صہیب فرماتے ہیں: پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث ( اوپر والی ) ارشادفرمائی تھی تو ساتھ دوسری یہ حدیث ( نیچے والی ) بھی بیان کی تھی : بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا‘ اس بادشاہ کا ایک جادوگر ( کاہن ) تھا جو اس کے کہنے پر جادو کیا کرتا تھا۔ پس اس کاہن نے کہا: میرے لیے ایک ذہین وفطین بچہ دیکھو‘ جس میں اپنا یہ علم سکھاؤں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میں (اب ) مر جاؤں گا (اگر میں کسی کو سکھائے بغیر مر گیا) تو یہ علم تم سے منقطع (جدا) ہو جائے گا اور تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی نہ ہو گا جو اس کو جاننے والا ہو‘ پس انہوں نے اس کے بتائے اوصاف کے مطابق بچہ تلاش کیا اور اس لڑکے کو حکم دیا کہ وہ اس کاہن کے پاس آ جایا کرے۔ راوی کا بیان ہے : اس لڑکے کے راستے پر ایک راہن کا گرجا تھا۔ حضرت معمر فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ اس وقت کے گرجوں والے پکے مسلمان تھے۔ لڑکا اس راہب سے (بھی) سیکھنے (سوال کرنے) لگا اس کا دین‘ جب بھی وہ اس کے پاس سے گزرتا یہاں تک کہ اس راہب نے لڑکے کو اپنا دین بتا دیا۔ کہا: میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ اس لڑکے نے راہب کے پاس ( کچھ دیر) ٹھہرنا شروع کر دیا اور کاہن کے پاس دیر سے جانے لگا۔ پس کاہن نے لڑکے کے گھر والوں کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ میرے پاس پابندی سے حاضر نہیں ہوتا۔ پس لڑکے نے راہب کو یہ بات بتا دی تو راہب نے اس سے کہا: جب کاہن آپ سے کہے: کہاں تھا؟ تو اسے کہہ دے: گھر والوں کے پاس تھا اور جب تیرے گھر والے مجھے کہیں : کہاں تھا؟ تو کہہ دیا کہ کاہن کے پاس تھا۔ لڑکا اسی حال پر تھا کہ ایک دن وہ لوگوں کے ایسے جم غفیر کے پاس سے گزرا جن کو ایک خطرناک جانور نے روک رکھا تھا۔ پس ان میں سے بعض نے کہا کہ جانور‘ شیر تھا۔ پس لڑکے نے پتھر اٹھا کر کہا: اے اللہ! جو کچھ راہب کہتا ہے اگر وہ سچ اور حق ہے تو عرض کرتا ہوں کہ اس جانور کو (اس پتھر سے) مار دے اور اگر کاہن کا قول سچ ہے تو اسے نہ مارنا۔ پھر اس نے پتھر مارا تو جانور کو قتل کر دیا‘ لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ کس نے اس کو قتل کیا؟ پس دوسرے لوگوں نے بتایا: اس لڑکے نے قتل کیا ہے۔ پس لوگ گھبرا کر اس کی طرف آئے اور کہا: اس لڑکے نے وہ علم حاصل کر لیا ہے‘ جو کسی نے نہیں پڑھا پس ایک اندھے نے اس کے بارے سنا تو وہ اس کے پاس آیا تو اندھے نے اس سے کہا: اگر میری بینائی لوٹا دے تو تیرے لیے فلاں فلاں چیز ہے۔تو اس لڑکے نے کہا: مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن تجھے بینائی مل جائے تو اس ذات پر ایمان لائے گا جس نے مجھے بینائی دی؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس لڑکے نے اللہ عزوجل سے دعا کی‘ پس اللہ نے اس کی آنکھیں لوٹا دیں‘ پس نابینا ایمان لایا‘ اس کی بات بادشاہ تک پہنچی‘ اس نے آدمی بھیجا ان کی طرف‘ ان کو لایا گیا۔ بادشاہ نے کہا: میں تم میں سے ہر ایک کوقتل کر دوں گا ایسے جیسے آج تک کسی کو قتل نہیں کیا۔ پس اس نے راہب اور اندھے کوقتل کرنے کا حکم دیا۔ پس ان میں سے ایک کے سر پر آری رکھی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کیا۔ پھر اس نے لڑکے کے حوالے سے حکم دیا کہ اس کو پہاڑ پر لے جاؤ۔ پس اس کو سر کے بل پھینک دو۔ پس جب وہ اسے اس پہاڑ کی طرف لے گئے اور اس جگہ تک پہنچے جہاں کا انہوں نے ارادہ کیا تھا تو وہ پہاڑ سے گرے اور ہلاک ہونے لگے یہاں تک کہ (سارے ہلاک ہو گئے) صرف وہ لڑکا باقی رہا۔ پھر وہ لڑکا واپس لوٹ آیا‘ پھر بادشاہ نے اس کے حوالے سے حکم دیا‘ اسے سمندر میں لے جا کر غرق کر دو۔ پھر وہ اس کو سمندر کی طرف لے گئے‘ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ والوں کو غرق کر دیا اور اللہ نے اس لڑکے کو نجات دی۔ پس اس لڑکے نے کہا: تم مجھے ہرگز قتل نہ کر سکو گے حتٰی کہ مجھے سولی چڑھاؤ‘ پھر مجھے تیر مارتے وقت یہ کہو: اللہ کے نام سے شروع جو اس لڑکے کا رب ہے۔ پس بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو سولی دے دی جائے‘ پھر کہا: اللہ کے نام سے شروع جو لڑکے کا رب ہے۔ پس لڑکے نے اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھا‘ پھر فوت ہوا۔ پس لوگوں نے کہا تحقیق اس لڑکے کے پاس ایسا علم تھا جو کسی کے پاس نہیں۔ پس ہم تو اسی لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ پس بادشاہ سے کہا گیا: تو تین آدمیوں کی مخالفت سے عاجز آ گیا تھا ؟ پس (اب تو ) یہ سارے کے سارے لوگ تیرے مخالف بنے ہوئے ہیں۔ پس اس نے خندقیں کھدوائیں‘ ان میں لکڑی ڈال کر آگ جلوائی‘ پھر لوگوں کو جمع کیا‘ پھر کہا: جو اس کے دین کی طرف واپس آ جائے ہم اسے چھوڑ دیں گے اور جو نہ لوٹے گا اسے ہم اس آگ میں پھینک دیں گے۔ پس وہ لوگوں کو ان خندقوں میں ڈالنے لگا۔ پس یہی اللہ کا فرمان بتا رہا ہے : ”خندقوں والے شہید کر دیئے گئے جو آگ والی اور ایندھن والی تھیں‘ یہاں تک العزيز الحميد‘‘۔ پس ذکر کیا گیا کہ وہ لڑکا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں (کسی کھدائی کے دوران ) نکالا گیا اس حال میں کہ اسی طرح اس نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا‘ جس طرح اس نے شہید ہوتے وقت اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7334

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 7357

فقام عرفطة بن نهيك التميمي فقال : يا رسول الله إني وأهل بيتي مرزوقون من هذا الصيد ولنا فيه قسم وبركة وهو مشغلة عن ذكر الله وعن الصلاة في جماعة وبنا إليه حاجة افتحله أم تحرمه ؟ فقال : أحله لأن الله عز و جل قد أحله نعم العمل والله أولى بالعذر قد كانت لله قبلي رسل كلهم يصطاد أو يطلب الصيد ويكفيك من الصلاة في جماعة إذا غبت عنها في طلب الرزق حبك الجماعة وأهلها وحبك ذكر الله وأهله وابتغ على نفسك وعيالك حلالا فإن ذلك جهاد في سبيل الله وأعلم أن عون الله في صالح التجارة

حضرت عرفطہ بن نہیک تمیمی کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اور میرے گھر والوں کو اس شکار کے ذریعے رزق دیا جاتا ہے‘ لیکن میں ذکر اللہ اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ جاتا ہوں‘ لیکن یہ ہماری ضرورت ہے‘ کیا یہ ہمارے لیے حلال ہے یا حرام؟ پس آپ نے ارشادفرمایا: میں اس کو حلال کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا ہے‘ یہ بہت اچھا کام ہے اور بہتر ہے کہ اللہ سے عذر کر لیا جائے‘ مجھ سے پہلے تمام کے تمام اللہ کے رسول شکار کرتے تھے۔ یا ( فرمایا : ) شکار طلب کرتے تھے‘ جب تو رزق تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے تو نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے حوالے سے تیری طرف سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی شدید خواہش ہی کافی ہے اور اللہ کے ذکر اور ذکر کرنے والوں کی محبت کافی ہے‘ اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کیلئے حلال رزق طلب کر کیونکہ یہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد ہے اور جان لے کر نیک تجارت کرنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے۔

فقام عرفطة بن نهيك التميمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7357

chevron_left Previous
1…91011…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter