Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14671

986 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا علي بن الجعد ( ح ) و حدثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا عمرو بن مرزوق قالا أنا شعبة عن خالد الحذاء عن يزيد بن عبد الله عن مطرف بن عبد الله عن عياض بن حمار Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من وجد ضالة فليشهد شاهدين ذوي عدل و لا يكتم فان لم يجد صاحبه فهو مال الله يؤتيه من يشاء )

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو گم شدہ شی ملے ‘اسے چاہیے کہ وہ دو گواہ بنائے جو عادل ہوں‘ وہ چھپائے نہ ‘اگر مالک نہ آئےتو وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے دے۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← و، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Hadith 14671

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14672

987 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن عياض بن حمار الجاشعي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ان الله أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا و انه قال : كل مال نحلته عبادي فهو لهم حلال و اني خلقت عبادي حنفاء كلهم فأتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم و حرمت عليهم ما أحللت لهم و امرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا و ان الله نظر الى أهل الأرض فمقتهم عربهم و عجمهم الا بقايا من أهل الكتاب و ان الله أمرني أن أغزو قريشا فقلت يا رب انهم اذا يثلغوا رأسي حتى يدعوه خبزة فقال : انما بعثتك لأبتليك و أبتلي بك و قد أنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء نقرؤه في المنام و اليقظة فاعزهم يعزك الله و أنفق ينفق عليك و ابعث جيشا نمدك بخمسة أمثالهم و قاتل بمن أطاعك من عصاك أهل الجنة ثلاثة امام متسلط و رجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى و مسلم و رجل غني عفيف متصدق وأهل النار خمسة الضعيف الذي لا زبر له الذين هم فيكم تبع لا يبتغون بذلك أهلا و لا مالا و رجل ان أصبح أصبح يخادعك عن أهلك و مالك و رجل لا يخفي له طمع و ان دق الا ذهب به و النظير الفاحش قال و ذكر البخل و الكذب )

حضرت عیاض بن مجاشعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں آج کے اس دن وہ چیز سکھاؤں جو تم نہیں جانتے‘ اس میں سے جس کا اس نے مجھے علم دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو دیا وہ ان کیلئے حلال ہے ‘بے شک میں نے اپنے تمام بندوں کو سیدھی راہ پر چلنے والا پیدا فرمایا ‘لیکن شیطان ان کے پاس آئے اور انہوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا ‘ان پر حرام کیں وہ چیز یں جو ان کیلئے حلال تھیں ‘ان کو میرے ساتھ شرک کا حکم دیا جس کے ساتھ میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو ان پر ناراض ہوا خواہ عرب تھے یا عجم سوائے چند اہل کتاب کے۔ بے شک اللہ تعالی ٰنے مجھے حکم دیا کہ میں قریش سے لڑائی کر کے انہیں سیدھی راہ پر لاؤں۔ میں نے عرض کی : اے میرے رب! وہ تو میرا سر کچل دیں گے حتی ٰ کہ وہ اس کو روٹی کے ٹکڑے کی طرح کر چھوڑیں گے۔ فرمایا: میں نے آپ کو صرف اس لیے مبعوث کیا تا کہ آپ سے امتحان کروں اور آپ کے ذریعے دوسروں کی آزمائش کروں ۔ میں نے آپ پر کتاب نازل کی جس کو پانی نہیں دھو سکتا‘ پس تم ان سے میدان سجاؤ اللہ تعالی ٰتمہاری امداد کرے گا ‘خرچ کرتے رہئے اللہ تعالی ٰتمہیں نفقہ عطا فرمائےگا‘ لشکر بھیجئے!ہم ان سے پانچ گنا کے ساتھ آپ کی امداد کر یں گے جو آپ کے مطیع ہوئے ان کے ذریعے نافرمانوں سے جہاد کیجئے ‘جنتی تین قسم کے لوگ ہیں: انصاف کرنے والا حکمران ‘رحم کرنے والا ہر مسلمان اور قریبی رشتہ دار کیلئے نرم دل آدمی اور پاکدامن صدقہ کرنے والا مالدار آ دمی ۔ دوزخی بھی پانچ قسم کے ہیں: ایسا کمزور آدمی جس کے پاس کوئی طاقت نہ ہو ‘وہ لوگ جو تمہارے اندر موجود ہیں وہ پیروی کرنے والے ہیں نہ تو اس کے بدلے اہل چاہتے ہیں اور نہ مال ‘وہ آدمی جو صبح کرتے ہی تجھے دھوکہ دینے والا ہوتا ہے تیرے اہل و مال کے حوالے سے ‘وہ آدمی جس کی لا لچ مخفی نہیں ہے اگر باریک ہے مگر وہ اسے لے جاتا ہے ‘فحش کام کرنے والا ۔ راوی کا بیان ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل اور جھوٹ کا بھی ذکر کیا۔

عياض بن حمار الجاشعي ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 14672

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14673

989 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا علي بن الجعد ( ح ) و حدثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا عمرو بن مرزوق قالا أنا شعبة عن خالد الحذاء عن يزيد بن عبد الله عن مطرف عن عياض بن حمار Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من وجد ضالة فليشهد شاهدين ذوي عدل و لا يكتم فان لم يجد صاحبه فهو مال الله يؤتيه من يشاء )

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو گم شدہ شی ملے ‘اسے چا ہیے کہ وہ دو گواہ بنائے جو عادل ہوں‘ وہ چھپائےنہ‘اگر مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے دے۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← و، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Hadith 14673

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14674

990 - حدثنا محمد بن اسحاق بن راهويه حدثني أبي ثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد الحذاء عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن مطرف عن عياض بن حمار Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من أصاب لقطة فليشهد ذا عدل ثم لا يكتم ولا يغيب و ليعرفها سنة فان جاء صاحبها والا فهي مال الله يؤتيه من يشاء )

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو راہ پڑی کوئی قیمتی چیز ملے تو اسے چاہیے کہ ایک عادل گواہ بنا لے پھر اسے چھپائے نہیں اور غائب نہ کرے‘ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہے‘ پس اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Hadith 14674

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14675

991 - حدثنا محمد بن علي بن شعيب السمسار ثنا خالد بن خداش ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي العلاء عن عياض بن حمار قال Y سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن اللقطة فقال : ( عرفها سنة فان وجدت صاحبها والا فهي مال الله يؤتيه من يشاء ) فلم يذكر أيوب في حديثه مطرفا

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے سے ملنے والی چیز کے بارے دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا اعلان کر۔ اگر اس کا مالک آ جاۓ تو ٹھیک ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ راوی حدیث حضرت ایوب نے اپنی سند سے مطرف راوی کا ذکر نہیں کیا۔

اللقطة ← سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ

Hadith 14675

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14676

992 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي و أبو خليفة و محمد بن يحيى بن المنذر القزاز قالوا ثنا حفص بن عمر الحوضي ثنا همام عن قتادة حدثني العلاء بن زياد و جابر بن يزيد أخو مطرف و حدثني رجلان آخران نسي همام أسماءهما أن مطرفا حدثه عن عياض بن حمار حدثه أنه Y سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في خطبته : ( ان الله عز و جل أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا ان كل مال نحلته عبدي حلال و اني خلقت عبادي حنفاء كلهم و أنتابتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم و حرمت عليهم ما احللت لهم و أمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا و ان الله عز و جل اطلع الى أهل الأرض فمقتهم عربهم و عجمهم غير بقايا من أهل الكتاب فقال يا محمد اني بعثتك لأبتليك و أبتلي بك و أنزلت كتابا لا يغسله الماء تقرؤه يقظا و نائما وان الله أوحى الي أن أغزو قريشا فقلت يا رب إذا سلغوا رأسي فيدعوه خبزة قال استخرجهم كما استخرجوك و اغزهم فسنعزك و أنفق ينفق عليك و ابعث جيشا نبعث خمسة أمثالهم و قاتل بمن أطاعك من عصاك قال و قال أصحاب الجنة ثلاثة ذو سلطان مقسط موفق و رجل رحيم ورقيق القلب بكل ذي قربى و مسلم و رجل عفيف فقير متصدق و قال أصحاب النار خمسة رجل لا يخفى له طمع و ان ذر الا جانبه و رجل لا يمسي و لا يصبح الا و هو يخادعك عن أهلك و مالك و الضعيف لا زبر له الذين هم فيكم تبع لا يتبعون أهلا و لا مالا ) فقال رجل يا أبا عبد الله أمن الموالي هم أم من العرب ؟ قال : ( هو التابعة يكون للرجل فيصب من حرمته سفاحا غير نكاح و الشظير الفحاش ) قال : و ذكر الكذب و البخل و اللفظ لأبي مسلم

حضرت عیاض بن عمار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالی ٰنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ چیز سکھاؤں جس سے تم جاہل ہو‘ اس میں سے جو اس نے مجھے سکھایا ہے آج کے اس دن میں۔ بے شک ہر وہ مال جو میں اپنے بندے کو عطا کروں وہ حلال ہے ‘بے شک میں نے اپنے تمام بندوں کو سیدھی راہ چلنے والا بنایا ہے ‘شیطانوں نے ان سے ملاقات کی ‘ان کو اپنے سچے دین سے پھیر دیا‘ ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کیلئے حلال کی تھیں اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کوشریک بنائیں جن کے حوالے سے کوئی دلیل بھی نہیں ہے‘جو میں نے نازل کی ہو ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف خصوصی چھات ماری تو ان کے عرب وعجم پر ناراض ہوا سوائے چند اہلِ کتاب کے۔ پس اس نے فرمایا:اے حضرت محمد!بے شک میں نے تجھے مبعوث کیا تا کہ تجھے آزمائش میں ڈالوں اور تیرے واسطے سے ( دوسرے لوگوں کو )آزماؤں ۔ آپ پر ایک کتاب اُتاری جس کو پانی نہیں دھوسکتا ہے ‘تم اسے سوتے جاگتے ۔ پڑھو گے‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ میں لڑ بھڑ کر قریشیوں کو سیدھے راستے پر لگاؤں ۔ میں نے عرض کی : اے میرے رب! پھر تو وہ میرا سر کچل دیں گے‘ پس وہ اسے روٹی کے ٹکڑے کی طرح کر چھوڑیں گے۔ فرمایا: جس طرح وہ تجھے شہر سے نکالیں ( جب آپ کا بس چلے ) ان کو نکال دینا ‘ان سے جنگ کرنا تو ہم آپ کی مدد کریں گے ‘میری راہ میں خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا‘لشکر بھیجنا‘ ہم اس سے پانچ گنا لشکر (امداد کو ) بھیجیں گے‘ جو آپ کی اطاعت کر یں ان کو ساتھ لے کر نافرمانوں سے مقابلہ کرنا اور فرمایا: جنتی تین قسم کے ہیں: انصاف کرنے والا ‘توفیق دیا گیا بادشاہ مہربان ‘ہر قریبی رشتہ دار اور مسلمان سے نرم دلی سے پیش آنے والا آدمی ‘پاکدامن غریب صدقہ کرنے والا آ دمی ۔ فرمایا: دوزخ پانچ قسم کے ہیں: وہ آدمی جس کا طمع مخفی نہ ہو ‘وہ آدمی جوصبح و شام آپ کو آپ کے اہل اور مال کے حوالے سے دھو کہ دینے والا ہو ‘وہ کمزور آدمی جسے کوئی طاقت حاصل نہ ہو ‘وہ لوگ جو تمہارے اندر موجود ہیں تابع ہیں ‘اہل و مال کے پیچھے نہیں پڑتے ۔ پس آدمی نے کہا: اے ابوعبداللہ! کیا وہ موالی میں سے ہیں یا عرب سے؟ فرمایا: وہ قوم جو آدمی کی پیروی کرنے والی ہو ‘پس وہ بغیر نکاح کے اس آدمی کی عزت سے زنا کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ اور’’شنظیر‘‘ کا معنی انتہائی درجے کا فاحش ہے ۔ راوی کا بیان ہے : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر کیا ‘اور یہ الفاظ ابومسلم کے ہیں ۔

العلاء بن زياد و جابر بن يزيد أخو مطرف و ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ

Hadith 14676

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14677

993 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني هدبة بن خالد ثنا همام بن يحيى حدثني قتادة حدثني العلاء بن زياد و يزيد بن عبد الله أخي مطرف و عقبة و رجل آخر أن مطرفا حدثهم عن عياض بن حمار Y أنه شهد خطبة النبي صلى الله عليه و سلم قال : فسمعته يقول : ( ان الله عز و جل أمرني أن أعلمكم ما جهلتم ) فذكر نحوه

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں حاضر تھے ‘فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ چیز سکھاؤں جس سے تم جاہل ہو۔اس کے بعد اس جیسی حدیث ذکر کی۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 14677

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14678

994 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن قتادة عن مطرف عن عياض بن حمار Y عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

ایک اور سند سے حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 14678

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14679

995 - حدثنا ابراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي العلاء مطرف عن عياض بن حمار Y عن النبي صلى الله عليه و سلم خطب فقال في خطبته : ( ان الله أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني في يومي هذا ان كل مال نحلته عبادي حلال و اني خلقت عبادي حنفاء كلهم و انهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم و حرمت عليهم ما احللت لهم و أمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا ثم ان الله عز و جل نظر الى أهل الأرض فمقتهم عربهم و عجمهم الا بقايا من أهل الكتاب وقال انما بعتتك لأبتليك و أبتلي بك و أنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء تقرؤه نائما و يقظانا وان الله أمرني أن آتي قريشا فقلت يا رب اذا يثلغوا رأسي فيدعوه خبزة فقال استخرجهم كما استخرجوك و اغزهم نغزك و أنفق فسينفق عليك و ابعث جيشا أبعث معه خمسة مثله ) و ذكر الحديث

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: بے شک اللہ تعالی ٰنے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں سکھاؤں جس سے تم جاہل ہو ‘اس میں سے جو اس نے مجھے میرے آج کے دن میں سکھایا ہے ‘بے شک ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطافرمایا حلال ہے اور میں نے اپنے بندوں کو سیدھی راہ پر چلنے والا بنایا‘ بے شک ان کے پاس شیطان آئے اُنہوں نے میرے بندوں کو ان کے دین سے پھیر دیا‘ ان پر وہ چیزیں حرام کروا دیں جو میں نے حلال کی تھیں۔ ان کو کہا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کی میں نے دلیل اُتاری ہی نہیں‘ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف دیکھا تو ان کے عرب و عجم پر ناراض ہوا سوائے اہلِ کتاب میں سے باقی رہ جانے والوں کے۔اورفرمایا: بے شک میں نے آپ کو مبعوث فرمایا تا کہ آپ کا امتحان کروں اور آپ کے ذریعےدوسروں کا امتحان کروں ۔ آپ پر ایک کتاب نازل کروں جسے پانی نہ دھو سکے‘ تم اسے سوتے جاگتے پڑھو ‘بے شک اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریشیوں کے پاس آؤں۔ میں نے عرض کی وہ تو میرا سر کچل کر روٹی کے ٹکڑے کی طرح بنا دیں گے۔ فرمایا: آپ کو اجازت دوں گا کہ جس طرح وہ آپ کو شہر سے نکالیں‘ آپ بھی ان کو شہر سے نکال دینا ‘آپ ان سے جہاد کر نا ہم آپ کی مدد کر یں گے‘ آپ خرچ کیے رکھنا آپ کو دیا جائے گا ‘تم لشکر بھیجنا ہم اس کے ساتھ (فرشتوں کا لشکر )اس سے پانچ گنا بھیجیں گے‘ اور مکمل حدیث ذکر کی۔

في خطبته ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← أبي العلاء مطرف ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 14679

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14680

996 - حدثنا محمد بن اسحاق بن راهويه ثنا أبي ثنا روح بن عبادة ثنا عوف ( ح ) و حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن عوف ( ح ) قال أسلم و حدثنا تميم بن المنتصر ثنا اسحاق الأزرق عن عوف ( ح ) و حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن بشار بن بندار ثنا محمد بن جعفر ثنا عوف بن أبي جميلة عن حكيم الأثرم أن الحسن حدثهم عن مطرف بن عبد الله بن الشخير ثنا عياض بن حمار قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في خطبة خطبها : ( ان الله عز و جل أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا ألا ان كل مال نحلته عبادي فهوحلال لهم و اني خلقت عبادي حنفاء كلهم و ان الشياطين أتتهم فاجتالتهم عن دينهم و حرمت عليهم الذي احللت لهم و أمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا و ان الله نظر الى اهل الأرض من قبل أن يبعثني فمقتهم كلهم عربهم و عجمهم الا بقايا من أهل الكتاب و ان الله قال : انما بعثتك لأبتليك و أبتلي بك و أنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء تقرؤه نائما و يقظانا وان الله أوحى الي أن أغزو قريشا فقلت يا رب اذا يثلغوا رأسي فيذروه خبزة فقال : اخرجهم كما استخرجوك و اغزهم فسنغزك و ابعث جيشا نبعث خمسة أمثاله و أنفق ينفق عليك و قاتل بمن أطاعك من عصاك و قال أهل الجنة ثلاثة امام مقسط و رجل رحيم رقيق القلب بكل ذي قربى و مسلم و رجل غني عفيف متصدق وأهل النار خمسة الضعيف لا زبر له و الذين هم فيكم تبع لا يبغون أهلا و لا مالا و رجل اذا أصبح يخادعك عن أهلك و مالك و رجل لا يخفي له طمع و ان دق الا ذهب به و الشنظير الفحاش ) و ذكر الكذب و البخل

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالی ٰنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ چیز سکھاؤں جس سے تم جاہل ہو ‘اس میں سے جو اس نے مجھے سکھایا ہے آج کے اس دن میں ۔ بے شک ہر وہ مال جو میں اپنے بندے کو عطا کروں وہ حلال ہے ‘بے شک میں نے اپنے تمام بندوں کو سیدھی راہ چلنے والا بنایا ہے ‘شیطانوں نے ان سے ملاقات کی ‘ان کو اپنے سچے دین سے پھیر دیا ‘ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کیلئے حلال کی تھیں اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کوشریک بنائیں جن کے حوالے سے کوئی دلیل بھی نہیں ہے ‘جو میں نے نازل کی ہو۔ بے شک اللہ تعالی ٰنے زمین والوں کی طرف خصوصی چھات ماری تو ان کے عرب و عجم پر ناراض ہوا سوائے چند اہلِ کتاب کے ۔ پس اس نے فرمایا: اے حضرت محمد! بے شک میں نے تجھے مبعوث کیا تاکہ تجھے آزمائش میں ڈالوں اور تیرے واسطے سے( دوسرے لوگوں کو) آزماؤں ۔ آپ پر ایک کتاب اُتاری جس کو پانی نہیں دھوسکتا ہے‘تم اسے سوتے جاگتے پڑھو گے‘بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ میں لڑ بھڑ کر قریشیوں کوسیدھے راستے پر لگاؤں ۔ میں نے عرض کی : اے میرے رب! پھر تو وہ میرا سر کچل دیں گے ‘پس وہ اسے روٹی کے ٹکڑے کی طرح کر چھوڑیں گے۔ فرمایا: جس طرح وہ تجھے شہر سے نکالیں (جب آپ کا بس چلے ) ان کو نکال دینا ‘ان سے جنگ کرنا تو ہم آپ کی مدد کریں گے‘ میری راہ میں خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائےگا‘لشکر بھیجنا‘ ہم اس سے پانچ گنالشکر(امداد کو)بھیجیں گے‘جو آپ کی اطاعت کریں ان کو ساتھ لے کر نافرمانوں سے مقابلہ کرنا اور فرمایا: جنتی تین قسم کے ہیں:انصاف کرنے والا‘توفیق دیا گیا بادشاہ مہربان ‘ہر قریبی رشتہ دار اور مسلمان سے نرم دلی سے پیش آنے والا آدمی‘ پاکدامن غریب صدقہ کرنے والا آدمی ۔ فرمایا: دوزخ پانچ قسم کے ہیں: وہ آدمی جس کا طمع مخفی نہ ہو ‘وہ آدمی جوصبح و شام آپ کو آپ کے اہل اور مال کے حوالے سے دھوکہ دینے والا ہو ‘وہ کمزور آ دی جسے کوئی طاقت حاصل نہ ہو ‘وہ لوگ جو تمہارے اندر موجود ہیں تابع ہیں ‘اہل و مال کے پیچھے نہیں پڑتے ۔ پس آدمی نے کہا: اے ابوعبداللہ ! کیا وہ موالی میں سے ہیں یا عرب سے؟ فرمایا: وہ قوم جو آدمی کی پیروی کرنے والی ہو ‘پس وہ بغیر نکاح کے اس آدمی کی عزت سے زنا کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ اور’’ شنظیر ‘‘کا معنی انتہائی درجے کا فاحش ہے۔ راوی کا بیان ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر کیا۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← حكيم الأثرم أن الحسن ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ بُنْدَارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ← و، ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← أسلم و ← عَوْفٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ ← و، ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Hadith 14680

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14681

997 - حدثنا ابراهيم بن متوية الأصبهاني ثنا جعفر بن محمد المدائني ثنا زياد بن عبد الله البكائي عن محمد بن اسحاق عن ثور بن يزيد عن يحيى بن جابر عن عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن عياض بن حمار المجاشعي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوما : ( ألا أحدثكم ما حدثني الله عز و جل به في الكتاب ان الله عز و جل خلق آدم و بنيه حنفاء مسلمين فأعطاهم المال حلالا لا حرام فيه و عبدوا الطواغت و أمرني أن أتبهم فأبين لهم الذي جبلهم عليه فخاطبت ربي أن أتيتهم ثلغت قريش رأسي كما تثلغ الخبزة فقال لي امض أمضك و أنفق أنفق عليك و قاتل من عصاك بمن أطاعك فاني سأعطي مع كل جيش تبعثه عشرة أمثاله من الملائكة و نافخ في صدور عدوك الرعب و نعطيك كتابا لا يمحوه الماء اذكر به نائما و يقظانا فابصروني و قريشا هذه فانهم دموا وجهي و سلبوني أهلي و أنا مبادئهم فان أغلبهم يأتوا ما دعوتهم اليه طائعين أو كارهين و أن يعلبوني فاني كنت على شيء أدعوكم اليه )

حضرت عیاض بن حمار مجاشعی سے مروی ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے سامنے وہ کچھ نہ بیان کروں جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کتاب میں بیان فرمایا ہے! بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور آپ کی اولاد کو پیدا فرمایا ‘سیدھی راہ پر چلنے والے ‘سر جھکانے والے ‘پس ان کو حلال مال دیا جن میں حرام کی ملاوٹ نہ تھی جبکہ انہوں نے طاغوت کی پرستش کی ‘اللہ نے مجھے ان کے پاس آنے کا حکم فرمایا۔ پس میں ان کے لیے وہ چیز بیان کرتا ہوں جس فطرت ِسلیمہ پر انہیں پیدا کیا گیا۔ میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کی : اگر میں ان کے پاس آیا (اور تیرا پیغام سنایا تو )قریش میرا سر پیش دیں گے جیسے روٹی کا ٹکڑا نہیں دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی ٰنے مجھ سے فرمایا: (ان کے پاس جانے کیلئے ) آپ چلیں‘میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ (میری راہ میں خرچ کریں ) میں بھی آپ پر خرچ کروں گا‘جولوگ آپ کی پیروی کریں ان کو ساتھ لے کر نافرمانی کرنے والوں سے مقاتلہ کریں ‘بے شک میں آپ کو ہر لشکر کے ساتھ جو آپ بھیجیں گے اس سے دس گنا فرشتے بھیجوں گا۔ آپ کے دشمنوں کے دلوں میں آپ کا رُعب پھونک دوں گا ‘میں آپ کو ایسی کتاب دوں گا جسے پانی نہیں مٹا سکے گا‘ میں آپ کو سوتے جاگتے وہ یاد دلاؤں گا ‘پس آپ مجھ پر اور قریش پر بصیرت کی نگاہ ڈالیں‘ یہ ہیں قریش جنہوں نے میرا چہرہ خون آلود کیا ‘میرے اہل کو قید کیا ‘اب میں بھی ان سے شروعات کرتا ہوں ‘پس اگر میں ان پر غالب آ گیا تو وہ آئیں گے اس کی طرف اطاعت کرتے ہوئےجس کی طرف میں بلاؤں گا‘یاناپسندیدگی سے اور اگر وہ مجھ پر غالب آئے تو میں ایک ایسی بات پر ہوں جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَائِنِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 14681

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14682

998 - حدثنا ابراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا العباس بن الوليد النرسي ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة عن مطر الوراق عن الحسن أن عياض بن حمار Y جاء بناقة و راحلة الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأهداها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قدها فقادها فناداه نبي الله صلى الله عليه و سلم : يا عياض بن حمار أسلمت ؟ ) فقال : لا قال : ( دونك ناقتك فان حرم علينا زبد المشركين )

حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی کو اور کجاوہ لائے‘پس اسے ہدیہ کیا‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ کر آگے چلو‘ پس انہوں نے قیادت کی‘پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نداء دی: اے عیاض بن حمار! کیا تُو نے اسلام قبول کیا ہے؟ عرض کی نہیں ! فرمایا: اپنی اونٹنی پکڑ لے کیونکہ اللہ نے ہم پر مشرکین کا تحفہ حرام کیا ہے ۔

الْحَسَنِ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 14682

chevron_left Previous
1…82838485
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter