Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14659

974 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ( ح ) و حدثنا يوسف القاضي ثنا سليمان بن حرب قالا ثنا حماد بن زيد ثنا أيوب عن عبد الله بن أبي مليكة قال : سمعت عقبة بن الحارث وحدثني صاحب لي وأنا لحديث صاحبي حافظ قال Y تزوجت أم يحيى بنت أبي اهاب فدخلت علينا امرأة سوداء فزعمت أنها أرضعتهما جميعا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فأعرض عني فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فأعرض عني فذكرت ذلك له فأعرض عني فقلت أنها كاذبة فقال : ( و ما يدريك أنها كاذبة ؟ و قد قالت ما قالت دعها عنك )

حضرت عبداللہ بن ابوملیکہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عقبہ بن حارث سے سنا اور یہ حدیث مجھے میرے ایک دوست نے بیان کی ہے اور مجھے اپنے دوست کی حدیث اچھی طرح یاد ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اُم یحیی ٰبنت ابواهاب سے نکاح کیا۔ پس ایک کالے رنگ کی عورت ہمارے پاس آئی‘ پس اس کا گمان تھا کہ اس نے ان دونوں (میاں بیوی )کو دودھ پلایا ہے۔ پس میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: پس آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا۔ میں نے دوبارہ ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سے منہ پھیر لیا۔ پس میں نے عرض کی : وہ عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ فرمایا: مجھے کیا معلوم کہ وہ جھوٹی ہے جبکہ اس نے کہا ہے جو کہا ہے ( گواہی دی ہے ) اسے چھوڑ دے۔

تزوجت أم يحيى بنت أبي اهاب فدخلت علينا امرأة سوداء فزعمت ← لحديث صاحبي حافظ ← صَاحِبٌ لِي ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← و، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 14659

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14660

975 - حدثنا يوسف القاضي ثنا عبد الواحد بن غياث ثنا حماد بن سلمة أنا أيوب عن عبد الله بن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال ابن مليكة Y و حدثني من هو أوثق مني أنه كانت تحته أم يحيى فجاءت أمة سوداء فقالت اني قد أرضعتكما فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله ان امرأة سوداء زعمت أنها قد أرضعتني و امرأتي و هي كاذبة فأعرض عنه ثم أعاد عليه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( فدعها اذا )

حضرت ابن ابوملیکہ فرماتے ہیں: مجھے یہ حد یث اس آدمی نے سنائی ہے جو مجھ سے زیادہ ثقہ راوی ہے کہ اُم یحییٰ ان کی بیوی تھی تو ایک کالے رنگ کی عورت آئی ۔اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بے شک ایک کالےرنگ کی عورت کا گمان ہے کہ اس نے مجھے اور میری بیوی کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا انہوں نے دوبارہ وہی بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تُو اسے چھوڑ دے۔

من هو أوثق مني أنه كانت تحته أم يحيى فجاءت أمة سوداء ← ابن مليكة و ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Hadith 14660

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14661

976 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا علي بن المديني ثنا سفيان عن اسماعيل بن أمية و أيوب بن موسى عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : اني تزوجت بنت أبي اهاب فجاءت امرأة سوداء زعمت أنها أرضعتنا فأعرض عني فأتيته عن الجانب الآخر فاعرض عني فاستقبلته فقلت يا رسول الله انها سوداء فجعلت أصغر من شأنها فقال : ( كيف و قد قيل ؟ )

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: میں نے ابواھاب کی بیٹی سے شادی کی ہے‘ ایک سیاہ عورت آئی ۔ اس نے خیال کیا ہے کہ اُس نے ہم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ آپ نے مجھ سے اعراض کیا ‘میں دوسری جانب سے آیا میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! وہ کالی ہے ‘پس میں اسے حقیر ثابت کر رہا تھا۔ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیسے نکاح ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اسماعيل بن أمية و أيوب بن موسى ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 14661

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14662

977 - حدثنا جعفر بن محمد بن حرب العباداني ثنا سليمان بن حرب ( ح ) و حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا عفان بن مسلم قالا ثنا وهب عن أيوب عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y أتي بالنعيمان أو ابن النعيمان و هو سكران فشق على رسول الله صلى الله عليه و سلم مشقة شديدة فأمر من كان في البيت أن يضربوه فضربوه بالنعال و الجريد قال عقبة : فكنت فيمن ضربه

حضرت عقبہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں نعیمان یا این نعیمان کو نشہ کی حالت میں لایا گیا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بڑا سخت دشوار گز را‘ آپ نے حکم دیا: جس گھر میں ہو اُس کو مارڈ اس کو جوتے اور لکڑی مارو۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان میں موجود تھا جن لوگوں نے مارا۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← وَھْبٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← و، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ،

Hadith 14662

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14663

978 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا عبد الوهاب الثقفي ثنا أيوب عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y أتي بالنعيمان أو ابن النعيمان رسول الله صلى الله عليه و سلم شاربا فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان في البيت أن يضربوه فكنت فيمن ضربه فضربناه بالنعال و الجريد

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو نشہ کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ‘آپ نے حکم دیا: جو گھر میں ہے اُس کو مارو۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان میں موجود تھا جن لوگوں نے مارا ‘پس ہم نے جوتوں اور چھڑیوں سے مارا۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Hadith 14663

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف و أمه خزاعية و كنيته أبو سروعة ما أسند عقبة · حديث 14664

979 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن عبد الله الأسدي حدثني عمر بن سعيد بن أبي حسين ( ح ) و حدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا علي بن بحر ثنا عيسى بن يونس ثنا عمر بن سعيد بن أبي حسين حدثني عبد الله بن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y صليت وراء النبي صلى الله عليه و سلم العصر بالمدينة فسلم ثم قام سريعا يتخطى رقاب الناس الى بعض حجر نسائه ففزع الناس من سرعته فخرج عليهم فرأى أن قد عجبوا من سرعته فقال : ( ذكرت شيئا من تبر عندي فكرهت أن يحبسني فأمرت بقمعه )

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازِ عصر ادا کی ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا‘ پھر جلدی کرتے ہوئے کھڑے ہوئے ‘لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ۔ ہوئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرے میں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلدی سے لوگ گھبرا گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلدی سے متعجب ہوئے ہیں۔فرمایا :میرے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا تھا‘وہ مجھے یاد آیا‘ پس میں نے اسے اپنے پاس رکھنے کو ناپسند کیا‘ اس کے بعد آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← و، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 14664

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن مالك الليثي · حديث 14665

980 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ( ح ) و حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبة بن خالد ( ح ) و حدثنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقري ( ح ) و حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا القعنبي ( ح ) و حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى قالوا ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال Y أتاني أبو العالية أنا و صاحب لي فقال هلما و أنتما أشب مني و أوعى للحديث مني فانطلق بنا حتى أتى بنا الى بشر بن عاصم الليثي فقال : حدث هذين حديثك فقال بشر حدثنا عقبة بن مالك و كان من رهطه فقال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية فاغارت على قوم فشذ رجل من القوم فتبعه رجل من أهل السرية معه السيف شاهره فقال الشاذ من القوم : اني مسلم فلم ينظر فيما قال قال : فضربه فقتله فنما الحديث الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال فيه قولا شديدا فبلغ القاتل قال : فبينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب اذ قال القائل و الله يا رسول الله ما قال الذي قاله الا تعوذا من القتل فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم و عمن قبله من الناس و أخذ في خطبته ثم قال الثانية : و الله ما قال هذي قال الا تعوذا من القتل فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم و عمن قبله من الناس و أخذ في خطبته ثم لم يصبر ان قال الثالثة : والله ما قال الذي قال الا تعوذا من القتل فأقبل عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم تعرف المساءة في وجهه ثم قال : ( ان الله أبي علي فيمن قتل مؤمنا ) قالها ثلاثا

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالعالیہ میرے پاس آئے اور ایک میرا دوست بھی آیا ‘کہا: آؤ! تم دونوں مجھ سے زیادہ جوان ہو اور حدیث کو زیادہ یاد کرنے والے ‘پس وہ ہمیں لے کر گئے یہاں تک کہ ہمیں بشر بن عاصم لیثی کے پاس لائے اور کہا: ان دونوں کے سامنے اپنی حدیث بیان کرو۔ پس حضرت بشر نے فرمایا: حضرت عقبہ بن مالک نے ہمارے سامنے حدیث بیان کی اور ان کا تعلق اسی گروہ سے تھا۔ فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ‘پس انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا ‘پس قوم سے ایک آدمی الگ ہو گیا تو لشکر والوں میں سے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا ‘اس کے پاس تلوار تھی جو اس نے اس ونت رکھی تھی ‘قوم سے جدا ہونے والے آدمی نے کہا: میں مسلمان ہوں ۔ پس صحابی نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی ۔ راوی کا بیان ہے : پس اے قتل کر دیا۔ پس یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے سخت بات کی۔ پس یہ بات قاتل تک بھی پہنچ گئی۔ راوی کہتا ہے اسی دوران کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشادفرمارہے تھے جب قاتل نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مقتول نے جو بات بھی کی ہے اس نے اپنی جان بچانے کیلئے کی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اور ان لوگوں سے بھی جنہوں نے اس کی بات کو قبول کیا اور اسی طرح خطبہ دینے لگے ۔ اس نے دوسری بار کہا :قسم بخدا! اس نے جو بات کی قتل سے بچنے کیلئے کی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور جن لوگوں نے اس کی بات کو قبول کیا‘ اعراض کر لیا اور اپنے خطبہ میں مشغول ہو گئے‘ پھر اس آدمی سے صبر نہ ہوسکا ‘اس نے تیسری بار کہا :قسم بخدا! اس نے جو بات کی قتل سے بچنے کیلئے کی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ غصہ آپ کے چہرے سے عیاں تھا‘ پھر فرمایا: اللہ نے مجھ پر انکار کیا ہے جو مؤمن کوقتل کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار کی۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ ← و، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← و، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← و، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Hadith 14665

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن مالك الليثي · حديث 14666

981 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن يونس بن عبيد عن حميد بن هلال قال Y جمع بيني و بين بشر بن عاصم رجل فحدثني عن عقبة بن مالك أن جيشا لرسول الله صلى الله عليه و سلم غشوا أهل ماء صبحا فثار رجل من الماء فحمل عليه رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اني مسلم فقتله فلما قدموا على النبي صلى الله عليه و سلم أخبر بذلك فقام خطيبا فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : ( أما بعد فما بال المسلم يقتل المسلم و هو يقول اني مسلم ) فقال يا رسول الله قالها تعوذا فقال هكذا و حول وجهه عنه فقال : ( ان الله أبى علي فيمن قتل مسلما ) قالها ثلاثا

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ مجھے اور بشر بن عاصم کو ایک صاحب نے اکٹھا کیا اور میرے سامنے حدیثیں بیان کرنے لگا جو اس نے حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی تھی کہ (ایک بار ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک لشکر نے پانی والوں کو صبح صبح گھیر لیا ‘پس پانی سے ایک آدمی اُٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس آدمی نے کہا: میں مسلمان ہوں ‘اس کے باوجود صحابی نے اسے قتل کر دیا۔ پس جب وہ سارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو اس بات کی خبر دی ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہوئے ‘اللہ کی حمد بیان کی اور ثناء کی‘ پھر فرمایا: حمد وثناء کے بعد مسلمان کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ مسلمان کو قتل کرتا ہے اور کہتا ہے : میں مسلمان ہوں ۔ پس اس آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس نے جان بچانے کیلئے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا‘ فرمایا: اللہ تعالی ٰنے اس بات سے انکار فرمایا ہے اس آدمی کے حق میں جس نے مسلمان کو قتل کیا۔ آپ نے یہ بات تین بار کی ۔

عقبة بن مالك ← جمع بيني و بين بشر بن عاصم رجل ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Hadith 14666

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة بن مالك الليثي · حديث 14667

982 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا عبد العزيز عن يحيى المدني ثنا سليمان بن بلال عن محمد بن أبي حميد عن حميدة بنت عبادة الأنصارية عن أختها عن عقبة بن مالك قال Y قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فخطب على المنبر في رمضان فقال : ( قد قمت على هذا المنبر و أنا أعلم ليلة القدر فالتمسوها في العشر الأواخر في ليلة الوتر )

حضرت عقبہ بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘مجھے لیلۃ القدر کے متعلق پتا ہے‘ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

عقبة بن مالك ← أختها ← حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّةِ ← محمد بن أبي حميد ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يحيى المدني ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Hadith 14667

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عقبة أبو عبد الرحمن · حديث 14668

983 - حدثنا محمد بن يحيى بن منده الأصبهاني ثنا أبو مروان العثماني ثنا نافع بن صيفي و كان قد بلغ مائة و اثنتي عشرة سنة عن عبد الرحمن بن عقبة عن أبيه عقبة و كان أصابه سهم مع النبي صلى الله عليه و سلم قال Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا يدخل النار مسلم رآني و لا رأى من رآني و لا رأى من رأى رآني ) ثلاثا

حضرت عبدالرحمٰن بن عقبہ اپنے والد عقبہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ ملا تھا ‘فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان نے مجھے دیکھا اور جس نے مجھے دیکھنے والے کو دیکھا اور میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والے کو دیکھا ‘وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔

عبد الرَّحْمَن بن عقبَة ← نافع بن صيفي و كان قد بلغ مائة و اثنتي عشرة سنة ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 14668

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14669

984 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام عن أبي عبيدة معمر بن المثنى قال Y عياض بن حمار بن عرفجة بن ناحية بن سفيان بن مجاشع

حضرت معمر بن مثنی فرماتے ہیں کہ حضرت عیاض بن حمار بن عرفجہ بن ناجیہ بن سفیان بن مجاشع ۔

عياض بن حمار بن عرفجة بن ناحية بن سفيان بن مجاشع ← أبي عبيدة معمر بن المثنى ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Hadith 14669

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عياض عياض بن حمار المجاشعي سكن البصرة نسبته · حديث 14670

985 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة أنا خالد الحذاء عن أبي العلاء عن مطرف بن عبد الله عن عياض بن حمار Y أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن اللقطة فقال : ( تعرف و لا تغيب و لا تكتم فان جاء صاحبها و الا فمال الله يؤتيه من يشاء )

حضرت عیاض بن حمار فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ شی کے متعلق پوچھا گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعلان کرو ‘غائب نہ کرو نہ چھپاؤ ‘اگر اس کا مالک آئےتو ٹھیک ہے‘ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے دے۔

اللقطة ← عياض بن حمار أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 14670

chevron_left Previous
1…8182838485
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter