المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن الفغواء الخزاعى · حديث 13759
73 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أحمد بن محمد بن أيوب صاحب المغازي ثنا ابراهيم بن سعد عن أبي اسحاق عن عيسى بن معمر عن عبد الله بن عمرو بن الفغواء الخزاعى عن أبيه قال Y دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم و قد أراد أن يبعثني بمال الى أبي سفيان يقسمه في قريش بمكة بعد الفتح فقال : ( التمس صاحبا ) فجاءني عمرو بن أمية الضمري فقال : بلغني أنك تريد الخروج و تلتمس صاحبا و أنا صاحبك و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( اذا وجدت صاحبا فائذني ) فأذنته فقال : ( من ؟ ) فقلت عمرو بن أمية الضمري فقال : ( اذا هبط بلاد قومه فاحذروه فانه قد قال القائل أخوك البكري فلا تأمنه ) فخرجنا [ حتى ] جئت الأبواء قال أني أريد حاجة الى قومي فتلبث لي قلت راشدا فلما ولى ذكرت قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فشددت على بعيري ثم خرجت أوضعه حتى اذا كنت بالعصافير اذا هو يعارضني في رهط قال و أوضعت فسمعته فلما رآني قد فته انصرفوا و جاءني فقال كانت لي حاجة الى قومي قلت أجل و مضينا حتى قدمنا مكة فدفعت المال الى أبي سفيان
حضرت عبداللہ بن عمرو بن فغواء خزاعی اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارادہ فرمایا کہ مجھے مال دے کر حضرت ابوسفیان کی طرف بھیجیں تا کہ فتح مکہ کے بعد ‘وہ مکہ میں قریش کے درمیان تقسیم کر دیں۔ فرمایا: ساتھی تلاش کر ۔ پس عمرو بن امیہ ضمری میرے پاس آیا۔ کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تُو جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھی تلاش کر رہا ہے ‘میں تیرا ساتھی ہوں۔ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تُو ساتھی تلاش کر لے تو مجھے آگاہ کرنا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا۔ فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کی: عمرو بن امیہ ضمری۔ فرمایا: جب اس کی قوم کے علاقے میں جانا تو احتیاط سے کام لینا کیونکہ ایک کہنے والے نے کہا تھا: تُو اپنے اس بھائی (راستے کا بھائی) سے امن میں نہیں ہے جس کا تعلق بنو بکر قبیلے سے ہو۔ پس ہم نکل کر مقام ابواء پر آئے (یعنی اس کی قوم کے قریب) ‘تو اس نے کہا: مجھے اپنی قوم میں تھوڑا سا کام ہے ‘پس میری خاطر ٹھہر جا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے پس جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات یاد آئی ‘پس میں نے اپنے اونٹ پر جھل باندھی‘پھر میں اپنی اونٹنی کو تیز کرتے ہوئے نکلاحتی ٰکہ جب میں عصا فیر کے مقام پر تھا تو وہ ایک گروہ کی شکل میں میرے سامنے آیا۔ فرماتے ہیں: میں نے سواری تیز کر لی۔ پس میں نے اس کی آواز کو سنا‘پس جب اس نے خیال کیا کہ میں اسے پکڑائی نہیں دوں گا تو اس کے قبیلے والے واپس چلے گئے اور وہ میرے پاس آیا۔ کہنے لگا: مجھے اپنی قوم کے ساتھ مزدوری کا کام تھا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ اور ہم دونوں چل کر مکے آئے اور میں نے مال ابوسفیان کے حوالے کر دیا۔
أَبِيهِ ← عبد الله بن عمرو بن الفغواء الخزاعي ← عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13759
