Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن ميمون الأودي عن أبي مسعود · حديث 14395

709 - حدثنا محمد بن الحسين ين مكرم ثنا أبو حاتم السجستاني ثنا أبو جابر ثنا الحسن بن أبي جعفر عن محمد بن جحادة عن عبد الرحمن بن ثروان عن عمرو بن ميمون عن أبي مسعود البدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن في ليلة ؟ ) قالوا يا رسول الله و هل نستطيع ثلث القرآن ؟ قال : ( أيعجز أحدكم ب { قل هو الله أحد } )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی مغلوب ہے ہر رات تہائی قرآن پڑھنے سے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قل ھواللہ احد ہے ۔

أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو جَابِرٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ ← محمد بن الحسين ين مكرم

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14395

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عامر الشعبي عن أبي مسعود · حديث 14396

710 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن عامر الشعبي عن عقبة بن عمرو أبي مسعود قال Y وعدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في أصل العقبة يوم الضحى و نحن سبعون رجلا قال عقبة : اني لأصغرهم سنا فأتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( أوجزوا في الخطبة فاني أخاف عليكم كفار قريش ) فقلنا يا رسول الله سلنا لربك و سلنا لنفسك و سلنا لأصحابك و أخبرنا ما لنا من الثواب على الله عز و جل و عليك فقال : ( أما الذي أسأل لربي أن تؤمنوا به و لا تشركوا به شيئا و أما الذي أسأل لنفسي فاني أسألكم أن تطيعوني أهدكم سبيل الرشاد و أسألكم لي و لأصحابي أن تواسونا في ذات أيديكم و ان تمنعونا مما منعتم منه أنفسكم فاذا فعلتم ذلك فلكم على الله الجنة و علي ) قال : فمددنا أيدينا فبايعناه

حضرت عقبہ بن عمر وابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہم سے وعدہ فرمایا ‘ اس حال میں کہ ہم ستر آدمی تھے ۔حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ان سب سے چھوٹا تھا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ‘ فرمایا: خطبہ میں اختصار کیا کرو کیونکہ مجھے تم پر کفار قریش کا خوف ہے۔ پس ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے اور اپنے لیے اپنے رب سے سوال کریں اور اپنے صحابہ کیلئے بھی ۔ ہمیں خبر دیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ فرمایا: جس چیز کا اپنے رب سے میں سوال کرتا ہوں ‘ یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور جس چیز کا اپنے لیے سوال کرتا ہوں ‘ پس میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ تم میری اطاعت کرو ‘ اللہ تمہیں سیدھی راہ دکھائے گا اور اپنے صحابہ کیلئے یہ کہ تم ایک دوسرے سے غمگساری کرو اور تم ہماری حفاظت کرو ‘ اس چیز سے جس سے تم اپنی حفاظت کرتے ہو۔ پس جب تم نے یہ کام کر لیا تو اللہ پرحق ہے کہ وہ تمہیں جنت دے اور مجھ پر بھی حق ہے کہ میں تمہیں جنت دلواؤں ۔فرمایا: میری امداد کرو۔ پس ہم نے آپ سے بیعت کی۔

عقبة بن عمرو أبي مسعود ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← مجالد ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14396

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14397

711 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال : كنا مع عمر بن عبد العزيز فأخر صلاة العصر فقال له عروة حدثني بشير بن أبي مسعود الأنصاري Y أن المغيرة بن شعبة أخر الصلاة مرة يعني العصر فقال له أبو مسعود : أما و الله يا مغيرة لقد علمت أن جبريل عليه السلام أنزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى الناس معه ثم نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى الناس معه حتى عد خمس صلوات فقال له عمر انظر ما تقول يا عروة و ان جبريل هو سن وقت الصلاة فقال له عروة : كذلك حدثني بشير بن أبي مسعود قال : فما زال عمر يعلم وقت الصلاة بعلامة حتى فارق الدنيا

حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ تھے ‘ پس انہوں نے عصر کی نماز پڑھنے میں دیر کی ۔حضرت عروہ نے ان سے کہا: مجھے حضرت بشیر بن ابومسعود انصاری نے حدیث بیان کی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار نماز میں دیر کی یعنی عصر کی نماز میں ‘ تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بخدا! اے مغیرہ! آپ کو معلوم ہے کہ حضرت جبریل اترے اور نماز پڑھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی ‘ پھر حضرت جبریل اترے اور نماز پڑھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ نے آپ کی معیت میں نماز پڑھی یہاں تک کہ پانچ نمازیں گنیں ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عروہ! ذرا غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو ‘ بے شک حضرت جبریل علیہ السلام کے نماز کے وقت کا طریقہ قائم کیا۔ حضرت عروہ نے کہا: اس طرح حضرت بشیر بن ابومسعود نے مجھے حدیث بیان کی ‘ فرمایا: پس حضرت عمر ہمیشہ نماز کا وقت علامت سے پہچانتے رہے یہاں تک کہ دنیا سے جدا ہو گئے ۔

بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← لَهُ عُرْوَةُ: ← كنا مع عمر بن عبد العزيز فأخر صلاة العصر ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14397

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14398

712 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج حدثني ابن شهاب أنه سمع عمر بن عبد العزيز يسأل عروة Y مسى المغيرة بصلاة العصر و هو على الكوفة فدخل عليه أبو مسعود الأنصاري فقال ما هذا يا مغيرة أم و الله لقد علمت لقد نزل جبريل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى الناس خمس صلوات يقوله : ثم قال : هكذا أمرت فقال عمر لعروة : اعلم ما تقوله فان جبريل هو الذي أقام وقت الصلاة قال عروة : كذلك كان بشير بن أبي مسعود يحدث عن أبيه

حضرت ابن جریج سے مروی ہے کہ حضرت این شہاب نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو حضرت عروہ بن زبیر سے سوال کرتے ہوئے سنا ‘ حضرت عروہ نے فرمایا : حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز کی ادائیگی میں شام کر دی جبکہ وہ کوفہ میں تھے ‘ پس ان کے پاس حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ داخل ہوئے ‘ کہا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ لیکن قسم بخدا! آپ کو معلوم ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اتر کر نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ‘ اس کے بعد لوگوں نے نماز پڑھی ‘ یعنی پانچ نمازیں ۔ پھر فرمایا: اسی طرح مجھے حکم دیا گیا ‘ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عروہ سے فرمایا: جان لو! تم کیا کہہ رہے ہو کیونکہ حضرت جبریل علیہ السلام ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے نماز کے وقت کو قائم کیا۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں: حضرت بشر بن ابومسعود اپنے والد سے اسی طرح بیان کیا کرتے تھے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14398

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14399

713 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي قال : قرأت على مالك بن أنس ( ح ) و حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك ( ح ) و حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن ابن شهاب Y أن عمر بن عبد العزيز أخر الصلاة يوما فدخل عليه عروة بن الزبير فأخبره أن المغيرة بن شعبة أخر الصلاة يوما و هو بالكوفة فدخل عليه أبو مسعود الأنصاري فقال : يا مغيرة أليس علمت أن جبريل عليه السلام نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : بهذا أمرت فقال عمر لعروة : اعلم ما تحدث يا عروة أو أن جبريل هو أقام لرسول الله صلى الله عليه و سلم وقت الصلاة فقال عروة : كذلك كان بشير بن أبي مسعود يحدث عن أبيه

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن ( عصر کی ) نماز دیر سے ادا کروائی ‘ پس ان کے پاس حضرت عروہ بن زبیر آئے تو انہوں نے خبر دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک دن نماز دیر سے ادا کی ‘ ان کے پاس حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ آئے ‘ کہا: اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمر ( بن عبدالعزیز) نے حضرت عروہ سے کہا: کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نماز کا وقت مقرر کیا؟ تو حضرت عروہ نے کہا: حضرت بشیر بن ابومسعود اپنے والد گرامی سے اسی طرح حدیث بیان کرتے تھے ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← و، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← و، ← على مالك بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14399

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14400

714 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ( ح ) و حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا القعنبي ( ح ) و حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قالوا ثنا سفيان ثنا الزهري قال Y أخر عمر بن عبد العزيز الصلاة يوما فقال له عروة بن الزبير : ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( نزل جبريل عليه السلام فأمني فصليت معه ثم نزل فأمني فصليت معه ثم نزل فأمني فصليت معه ) حتى عد الصلوات الخمس فقال له عمر بن عبد العزيز : اتق الله يا عروة فانظر ما تقول قال عروة : أخبرنيه بشير بن أبي مسعود عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و اللفظ للحميدي

حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن نماز (عصر کی ) دیر سے ادا کی تو حضرت عروہ بن زبیر نے ان سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام نے اتر کر مجھے امامت کروائی ‘ میں نے ان کی معیت میں نماز ادا کی ‘ پھر وہ اترے انہوں نے مجھے امامت کروائی‘ میں نے نا کے ساتھ نماز ادا کی ‘ پھر وہ اترے تو انہوں نے مجھے امامت کروائی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی حتی کہ پانچ نمازوں کو گنا ۔ پس حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: اے عروہ! اللہ سے ڈرو! تم کیا کہ رہے ہو ‘ ذرا دھیان کرو۔ حضرت عروہ نے کہا: مجھے حضرت بشیر بن ابومسعود نے خبر دی ہے ‘ انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ اور یہ الفاظ حدیث حضرت حمیدی کے ہیں۔

أخر عمر بن عبد العزيز الصلاة يوما فقال له عروة بن الزبير ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← و، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14400

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14401

715 - حدثنا بكر بن سهل ثنا شعيب بن يحيى النجيبي ثنا الليث بن سعد ( ح ) و حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا أبو صالح عبد الله بن صالح حدثني الليث عن ابن شهاب عن عروة قال : سمعت بشير بن أبي مسعود الأنصاري يقول سمعت أبا مسعود يقول Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( نزل جبريل عليه السلام فأمني فصليت معه ثم صليت معه فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ) فحسب بأصابعه خمس صلوات

حضرت بشیر بن ابومسعود انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے مجھے امامت کروائی ‘ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ اپنی انگلیوں کے ساتھ پانچ نمازیں شمار کیں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ← و، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شعيب بن يحيى النجيبي ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14401

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14402

716 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا أبو صالح عبد الله بن صالح ( ح ) و حدثنا عبد الرحمن بن معاوية العتبي ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أسامة بن زيد عن ابن شهاب Y أنهم كانوا على كراسي عمر بن عبد العزيز و معهم عروة بن الزبير فدعاه المؤذن لصلاة العصر فأمني قبل أن نصليها فلما رجعوا قال عروة بن الزبير : هل شعرت أن جبريل عليه السلام نزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره بوقت الصلاة فقال عمر : ما تقول يا عبد الله ؟ فقال عروة عند ذلك : أخبرني بشيربن أبي مسعود الأنصاري عن أبي مسعود أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( نزل علي جبريل عليه السلام فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ) فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الهاجرة حين تزيغ الشمس و ربما أخرها في شدة الحر و العصر و الشمس بيضاء مرتفعة بسير الرجل حتى ينصرف منها الى ذي الحليفة ستة أميال قبل غروب الشمس و يصلي المغرب اذا وجبت الشمس و يصلي العشاء اذا اسود الأفق و يصلي الصبح بغلس ثم صلاها يوما فأسفر بها ثم لم يعد الى الأسفار حتى قبضه الله و اللفظ لأبي صالح

حضرت ابن شہاب (زہری) سے مروی ہے کہ وہ سارے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے تختوں پر بیٹھے تھے ‘ ان کے ساتھ حضرت عروہ بن زبیر بھی تھے ‘ پس مؤذن نے ان کو عصر کی نماز کی دعوت دی (یعنی نماز کیلئے بلایا)‘ پس انہوں نے مجھے امامت کروائی اس سے پہلے کہ ہم نماز ادا کریں‘ پس جب وہ واپس لوٹے تو حضرت عروہ بن زبیر نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نماز ادا فرمائی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز کی خبر دی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! تم کیا کہہ رہے ہو؟ پس حضرت عروہ نے اس وقت کہا: مجھے بشیر بن ابومسعود انصاری نے بتایا ‘ انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مجھ پر حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے ‘ میں نے ان کے ساتھ مل کر نماز ادا کی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘ پس میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کود یکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرتے جب سورج ڈھل جاتا اور کبھی سخت گرمی میں مؤخر کرتے تھے ‘ عصر پڑھتے تھے جب ابھی سورج سفید اور بلند ہوتا تھا (بعد میں اتنا وقت ہوتا ) کہ آدمی ذوالحلیفہ تک چھ میل چل کر جاتا اور سورج غروب ہونے سے پہلے واپس بھی آ جاتا تھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب ادا کرتے جب سورج اچھی طرح غروب ہو جاتا ‘ عشاء کی نماز ادا کرتے جب آسمان کے کناروں پر سیاہی چھا جاتی اور صبح کی نماز اندھیرے میں ہی ادا کر لیتے تھے ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز خوب روشن کر کے پڑھی پھر وصال فرمانے تک روشن کرنے کی طرف نہیں لوٹے ۔حدیث کے یہ الفاظ حضرت ابوصالح کے ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ ← و، ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14402

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14403

717 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا يوسف بن عدي ثنا رشدين بن سعد عن قرة بن عبد الرحمن و عقيل و يونس عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير أخبره عن بشير بن أبي مسعود عن أبيه أبي مسعود أنه قال للمغيرة بن شعبة و أمسى بصلاة العصر Y أما و الله لقد علمت يا مغيرة أن جبريل عليه السلام نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : هكذا أمرت

حضرت ابومسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہا جبکہ انہوں نے عصر کی نماز ادا کرنے میں شام کر دی ‘ بہر حال قسم بخدا! اے مغیرہ بن شعبہ! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے نماز ادا کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ‘ پھر انہوں نے نماز ادا کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ‘ پھر فرمایا: اسی طرح مجھے حکم دیا گیا۔

أبيه أبي مسعود ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← قرة بن عبد الرحمن و عقيل و يونس ← رشدين بن سعد ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14403

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بشير بن أبي مسعود عن أبيه · حديث 14404

718 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن يونس ثنا أيوب بن عتبة ثنا أبو بكر بن حزم Y ان عروة بن الزبير كان يحدث عمر بن عبد العزيز و هو يومئذ أمير المدينة في زمان الحجاج و الوليد بن عبد الملك فكان ذلك زمان يؤخرون فيه الصلاة فحدث عروة عمر قال : حدثني أبو مسعود الأنصاري أو بشير بن أبي مسعود كلاهما قد صحب النبي صلى الله عليه و سلم : ان جبريل عليه السلام جاء الى النبي صلى الله عليه و سلم حين زالت الشمس فقال : يا محمد صل الظهر فقام فصلى ثم أتاه جبريل عليه السلام حين كان ظل كل شيء مثله فقال : يا محمد صل العصر فقام فصلى ثم أتاه حين غربت الشمس فقال : يا محمد صل المغرب فقام فصلى ثم أتاه حين غاب الشفق الأحمر فقال : يا محمد قم فصل العشاء فقام فصلى ثم أتاه حين انشق الفجر فقال : يا محمد صل الصبح فقام فصلى ثم أتاه الغد و ظل كل شيء مثله فقال : يا محمد قم فصل الظهر فقام فصلى الظهر ثم أتاه حين كان ظل كل شيء مثليه فقال : يا محمد صل العصر فقام فصلى ثم أتاه حين غربت الشمس وقت واحد فقال : يا محمد صل المغرب فصلى ثم أتاه حين ذهب ساعة من الليل فقال يا محمد قم فصل ثم أتاه حين أسفر فقال : يا محمد صل الصبح فقام فصلى ثم قال ما بين هذين وقت

حضرت ابوبکر بن حزم حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عمر بن عبد لاعز یز کو حدیث سنائی تھی جن دنوں حجاج اور ولید بن عبدالملک کے زمانے میں وہ مدینہ کے امیر ( گورنر ) تھے ‘ یہ وہ زمانہ تھا جس میں امراء نماز کو مؤخر کیا کرتے تھے ۔ پس حضرت عروہ نے حضرت عمر ( بن عبدالعزیز ) سے حدیث بیان کی ‘ فرمایا: مجھے حضرت ابومسعود اور حضرت بشیر بن ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی ( دونوں صحابی رسول ہیں ) کہ حضرت جبریل علیہ السلام ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب سورج ڈھل چکا تھا‘ کہا: اے محمد ! ظہر کی نماز ادا کیجئے ! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام آئے جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا‘ کہا: اے محمد ! عصر کی نماز ادا کیجئے! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔ پھر اس وقت آئے جب سورج اچھی طرح غروب ہو چکا تھا‘ کہا: اے محمد! مغرب کی نماز ادا کیجئے! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر آئے جب شفق احمر غائب ہو چکی تھی‘ کہا: اے محمد! اٹھئے اور عشاء کی نماز ادا فرمائیے! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز ادا فرمائی‘ پھر آئے جب پو پھوٹ چکی تھی ‘ کہا: اے محمد ! صبح کی نماز ادا کریں‘ پس آپ نے اٹھ کر صبح کی نماز ادا کی ۔ پھر دوسرے دن آئے جب ہر چیز کا سایہ اس کی ایک مثل ہو چکا تھا‘ کہا: اے محمد ! اٹھ کر ظہر کی نماز ادا فرمائیں! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ظہر ادا کی۔ پھر آئے جب ہر چیز کا سایہ دومثل ہو چکا تھا‘ کہا: اے محمد ! اٹھئے اور عصر کی نماز ادا کیجئے ! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عصر کی نماز ادا کی ۔ پھر آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا پہلے دن والے وقت میں ‘ کہا: اے محمد ! اٹھئے اور مغرب کی نماز ادا کیجئے! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر اس وقت آئے جب رات کی ایک گھڑی گزر چکی تھی‘ کہا: اے محمد ! اٹھ کر نماز ادا کریں! (پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عشاء کی نماز ادا کی)۔ پھر آئے جب خوب روشنی ہو چکی تھی‘ کہا: اے محمد ! صبح کی نماز ادا کریں ‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی ‘ پھر کہا: ان دونوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔

أبو بكر بن حزم ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14404

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن أبي مسعود · حديث 14405

719 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا محمد بن سليمان بن أبي رجاء العباداني ثنا أبو معشر عن عيسى بن أسيد عن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن أبي مسعود قال Y اني لبين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الحج و ان زبد ناقته ليقع على ظهري فسمعته يقول : ( أدوا الى كل ذي حق حقه و الولد للفراش و للعاهر الحجر و من تولى غير مواليه أو ادعى الى غير أبيه فعليه لعنة الله و الملائكة و الناس أجمعين لا يقبل منه صرف و لا عدل )

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حج کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تھا‘ آپ کی اونٹنی کی رال میری پشت پر گر رہی تھی‘ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ہرحق والے کو اس کا حق دو اور بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں ‘ جس نے اپنے آقا کو بدلا یا اپنا نسب بدلا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘ اس کے فرض اور نفل قبول نہیں کیے جائیں گے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ← عِيسَى بْنِ أُسَيْدٍ، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14405

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبي مسعود · حديث 14406

720 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن القاسم بن الحارث عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن أبي مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لقريش : ( لا يزال هذا الأمر فيكم و أنتم ولاته ما لم تحدثوا فاذا فعلتم ذلك سلط الله عليكم شرار خلقه فالتحوكم كما يلتحى القضيب )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے متعلق فرمایا: یہ دین تم میں ہمیشہ رہے گا ‘ یہ معاملہ تم میں رہے گا جب تک تم بدعت ( یعنی ایسا کام جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو ) نہ ایجاد کرو ‘ جب تم ایسا کرو گے تو اللہ تم پر اپنی بدترین مخلوق کو مسلط کرے گا ‘ وہ تمہاری کھال چھیل ڈالیں گے ‘ جیسے ڈالی کا پوست چھیلا جاتا ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ الْحَارِثِ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14406

chevron_left Previous
1…596061…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter