المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن خارجة الأسعدي و يقال خارجة بن عمرو و الصواب عمرو بن خارجة حليف أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف · حديث 13747
61 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا خالد بن خداش ( ح ) و حدثنا أبو خليفة ثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي قالا ثنا أبو عوانة عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن عمرو بن خارجة قال Y خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو على ناقته الجدعاء و أنا آخذ بجرانها و هي تقصع بجرتها فقال : ( ان الله قد أعطى كل ذي حق حقه لا وصية لوارث و الولد للفراش و للعاهر الحجر و من ادعى الى غير أبيه أو انتمى الى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله و الملائكة و الناس أجمعين لا يقبل منه صرف و لا عدل )
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جدعاء اونٹنی پر تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی گردن کا اگلا حصہ پکڑے تھا ‘وہ جگالی کر رہی تھی‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر حق والے کو حق دے دیا ‘وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ‘بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کیلئے پتھر ہیں‘ جس نے اپنا نسب بدلا یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی بے رغبتی کے طور پر تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘اس کے فرض اور نفل قبول نہیں کیے جائیں گے۔
عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← و، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13747
