المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عطية بن سعد السعدي من بني جشم بن سعد · حديث 14131
445 - حدثنا معاذ بن المثنى و محمد بن أحمد بن البراء قالا ثنا علي بن المديني حدثنا هشام بن يوسف عن النعمان بن الزبير عن أبيه عن عروة بن محمد بن عطية السعدي عن أبيه عن جده عطية Y أنه كان ممن كلم النبي صلى الله عليه و سلم يوم سبي هوزان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم عشيرتك و أصلك و كل المرضعين و قال : و لهذا اليوم اختبأناك و هن أمهاتك و أخواتك و خالاتك فكم رسول الله صلى الله عليه و سلم أصحابه فرد لهم سبيهم الا رجلين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( اذهبوا فخيروهما ) فقال أحدهما اني أتركه و قال الآخر لا أتركه فلما أدبر قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( احسن سهمه ) فكان يمر بالجارية البكر و الغلام فيدعه حتى مر بعجوز فقال : فاني آخذ هذه فانها أم حي و يستفدونها مني بما قدروا عليه فكبز عطية و قال : خذها يا رسول الله ما فوها ببارد و لا ثديها بناهد و لا وافدها بواجد عجوز يا رسول الله براء سبية ما لها أحد فلما رآها لا يعرض لها أحد تركها
حضرت عطیہ سے مروی ہے کہ وہ ان سعادت مند لوگوں میں سے ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کلام کرنے کا شرف حاصل ہوا جس دن بنو ہوازن کو قیدی بنا کر لایا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے قریبی رشتہ دار ‘ تیری اصل اور دودھ پینے والوں میں سے ہر ایک ۔ اور فرمایا: اسی دن کیلئے ہم نے تجھے چھپا کر رکھا اور وہ تیری مائیں ‘ بہنیں اور خالائیں ہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے کلام فرمایا ‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قیدی سوائے دو آدمیوں کے واپس کر دیئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ! پس ان دونوں کو اختیار دو۔ پس ان دو میں سے ایک نے کہا: بے شک میں اسے چھوڑتا ہوں اور دوسرے نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ پس جب اس نے پیٹھ پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے حصے کو اچھا کیا۔ پس وہ ایک کنواری لونڈی اور غلام کے پاس سے گزرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتا حتی ٰکہ ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا تو کہا: میں اس کو لینے والا ہوں کیونکہ یہ قبیلے کی ماں ہے ‘ اور لوگ میری طرف سے اس سے فائدہ حاصل کریں گے ‘ جس پر وہ قادر ہوں گے۔ پس حضرت عطیہ نے نعرہ تکبیر لگایا اور عرض کی:اے اللہ کے رسول! اس کو لے لو نہ تو اس کا منہ ٹھنڈا ہے اور نہ ہی اس کے پستان نمایاں ہیں اور نہ ہی کوئی اس کی طرف آنے والا ہے۔ یہ بوڑھی ہے ‘ اے اللہ کے رسول! بے زار ہے ‘ میری ہے ‘ اس کا کوئی نہیں ہے ‘ پس جب کوئی اس کو دیکھے گا تو اسے چھوڑ دے گا۔ تعرض نہیں کرے گا۔
جده عطية ← أَبِيهِ ← عروة بن محمد بن عطية السعدى ← أَبِيهِ ← النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← معاذ بن المثنى و محمد بن أحمد بن البراء
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14131
