Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ كثير بن مرة عن عتبة بن عبد · حديث 13987

301 - حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرق ثنا عبد الوهاب بن الضحاك ثنا اسماعيل بن عياش عن ضمضم بن زرعة عن شريح بن عبيد عن كثير بن مرة عن عتبة بن عبد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ارني سيفك ) فسله فنظر اليه فاذا فيه دقة و ضعف فقال : ( لا تضرب بهذا و لكن اطعن له طعنا )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی تلوار دکھائیں (میں نے نیام سمیت پیش کر دی) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیام سے نکالا اور اس کی طرف دیکھا‘ پس اس میں باریکی اور دہرا پن دیکھا ‘ فرمایا: اس کے ساتھ مت مارنا بلکہ اس کے ساتھ نیزہ زنی کرنا۔

عتبة بن عبد ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13987

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ كثير بن مرة عن عتبة بن عبد · حديث 13988

302 - حدثنا يحيى بن صالح ثنا محمد بن عبد العزيز الرملي ثنا اسماعيل بن عياش عن ضمضم بن زرعة عن شريح بن عبيد عن كثير بن مرة عن عتبة بن عبد و أبي امامة قالا Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ان الأمير اذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امیر آدمی (حکمران ) لوگوں میں جب شک تلاش کرے ‘ ان کو تباہ کرے گا۔

عتبة بن عبد و أبي امامة ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13988

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ خالد بن معدانى عن عتبة بن عبد · حديث 13989

303 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني سويد بن سعيد ثنا بقية بن الوليد عن بحير بن سعد عن خالد بن معذان عن عتبة بن عبد قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لو أن رجلا يجر على وجهه من يوم ولد الى أن يموت هرما في مرضاة الله لحقره يوم القيامة )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اپنے چہرے کو اللہ کی رضا کیلئے گھسیٹے تو اس کو قیامت کے دن حقیر جانا جائے گا۔

عتبة بن عبد ← خالد بن معذان ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13989

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ خالد بن معدانى عن عتبة بن عبد · حديث 13990

304 - حدثنا عبد الوهاب بن نجدة ثنا أبي ثنا بقية بن الوليد عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان عن عتبة بن عبد Y أن رجلا قال يا رسول الله العن أهل اليمن فانهم شديد بأسهم كثير عددهم حصينة حصونهم قال : ( لا ) و لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الأعجمين فارس و الروم و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اذا مر بكم أهل اليمن يسوقون نساءهم و يحملون أبناءهم على عواتقهم فانهم مني و أنا منهم )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یمنیوں پر لعنت کریں کیونکہ ان کی طاقت زیادہ سخت ‘ تعداد بہت زیادہ اور ان کے قلعے مضبوط ہیں ۔ فرمایا: نہیں! اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے عجمیوں پر لعنت فرمائی ‘ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یمن والے تمہارے پاس سے گزرتے ہیں تو ان کی بیویاں ان کے آگے ہوتی ہیں اور وہ اپنی اولاد کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔

عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ رَجُلًا ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13990

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الله بن ناسج الحضرمي عن عتبة بن عبد · حديث 13991

305 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا هاشم بن سعيد أبو أحمد الطالقاني أنا الحسن بن أيوب الحضرمي ثنا عبد الله بن ناسج الحضرمي عن عتبة بن عبد السلمي Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لأصحابه : ( قوموا فقاتلوا ) فرمي رجل بسهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم ( أوجب هذا )

حضرت عتبہ بن عبداسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اٹھو! لڑو! ایک آدمی کی طرف تیر پھینکا گیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ← هاشم بن سعيد أبو أحمد الطالقاني ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13991

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الله بن ناسج الحضرمي عن عتبة بن عبد · حديث 13992

306 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا عصام بن خالد الحمصي ثنا الحسن بن أيوب الحضرمي ثنا عبد الله بن ناسج حدثني عتبة بن عبد قال Y أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أصحابه بالقتال فرمي رجل من أصحابه بسهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أوجب هذا ) و قالوا حين أمرهم بالقتال اذا يا رسول الله لا نقول كما قالت بنوا اسرائيل لموسى { اذهب أنت و ربك فقاتلا } الى آخر الآية و لكنا نقول اذهب أنت و ربك فقاتلا انا معكما من المقاتلين

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو قتال کا حکم دیا‘ پس ایک آدمی کی طرف تیر پھینکا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے (اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی اور جب صحابہ کرام کو جہاد کا حکم ہوا تو انہوں نے اس وقت عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نہیں کہیں گے اس طرح جس طرح بنواسرائیل نے موسی ٰعلیہ السلام کو کہا تھا: تو اور تیرا رب جائے ( اور جا کر ) جہاد کرے ( ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) بلکہ ہم تو کہتے ہیں: آپ اور آپ کا رب جائے اور جہاد کرے ‘ بے شک ہم بھی آپ دونوں کے ساتھ جہاد کرنے والے ہیں ۔

عتبة بن عبد ← عبد الله بن ناسج ← الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ← عصام بن خالد الحمصي ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13992

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ لقمان بن عامر الأوصابي عن عتبة بن عبد · حديث 13993

307 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ( ح ) و حدثنا محمد بن يزيد بن عبد الصمد الدمشقي ثنا هشام بن عمار ( ح ) و حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني الهيثم بن خارجة و الحكم بن موسى و داود بن رشيد قالوا ثنا اسماعيل بن عياش عن عقيل بن مدرك السلمي عن لقمان بن عامر الأوصابي عن عتبة بن عبد السلمي قال Y استكسيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكساني خيشتين فلقد رأيتني البسهما و انا من اكسى أصحابي

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لباس مانگا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو موٹے کپڑے پہنائے ‘ پس میں نے پانے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں ان دونوں کو پہننے والا ہوں جبکہ میں اپنے دوستوں میں سب سے زیادہ کپڑے پہنے والا تھا۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْأَوْصَابِيِّ، ← عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ السُّلَمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الهيثم بن خارجة و الحكم بن موسى و داود بن رشيد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← و، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ، ← و، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13993

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عباس بن مدرك عن عتبة بن عبد · حديث 13994

308 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و عبدان بن أحمد قالا ثنا هشام بن عمار ثنا اسماعيل بن عياش ثنا صفوان بن عمرو عن عقيل بن مدرك عن عتبة بن عبد Y أنه لما بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له : ( ما اسمك ؟ ) قال نشبه قال : ( أنت عتبة بن عبد )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ عرض کی: نشبہ ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا نام عتبہ بن عبد ہے۔

عتبة بن عبد ← عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و عبدان بن أحمد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13994

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ شرجيل بن شفعة عن عتبة بن عبد · حديث 13995

309 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحسن بن موسى الأشيب ثنا حريز بن عثمان ( ح ) و حدثنا ابراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم ( ح ) و حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن عبد الله بن نمير ثنا اسحاق بن سليمان قالوا ثنا حريز بن عثمان عن شرجيل بن شفعة قال : لقيني عتبة بن عبد السلمي قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( ما من مسلم يتوفى له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث الا تلقوه من أبواب الجنة الثمانية من أيها شاء دخل )

حضرت شرحبیل بن شفعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے ‘ فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے ‘ وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لقيني عتبة بن عبد السلمي ← شرجيل بن شفعة ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← و، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ، ← و، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13995

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو المثنى المليكى عن عتبة بن عبد · حديث 13996

310 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا صفوان بن عمرو حدثني أبو المثنى المليكي عن عتبة بن عبد صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y ( القتلى ثلاثة رجل مؤمن يجاهد بماله و نفسه في سبيل الله حتى اذا لقي العدو فقاتلهم حتى قتل قال ذلك الشهيد المفتخر في خيمة الله تحت عرشه لا يفضلون الا بفضل درجة النبوة و رجل مؤمن قرف على نفسه من الذنوب و الخطايا فأكثر جاهد بنفسه و ماله في سبيل الله حتى اذا لقي العدو قاتلهم حتى يقتل فتلك مصمصة تحت ذنوبه و خطاياه ان السيف محاء للخطايا و ادخل من أي أبواب الجنة شاء فان لها ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب و بعضها أفضل من بعض و رجل منافق جاهد بنفسه و ماله في سبيل الله حتى اذا لقي العدو قاتلهم حتى يقتل قال ذلك في النار ان السيف لا يمحو النفاق )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قتل تین طرح کے ہیں: (۱) وہ مؤمن مرد جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یہاں تک کہ جب اللہ کے دشمنوں سے ملے تو وہ ان کو خوب قتل کرے حتیٰ کہ خود شہید ہو جائے ۔فرمایا: یہ وہ شہید ہے جس پر عرش کے نیچے اللہ کے خیمہ میں فخر کیا جاتا ہے ‘ اس کے اوپر صرف نبوت کا درجہ ہے۔ (۲) وہ مؤمن آدمی جس نے اپنی جان پر گناہوں اور خطاؤں کا بوجھ ڈال لیا اور ان کی کثرت کی ‘ اس نے اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ جب وہ دشمن سے ملا تو اس نے ان کو قتل کیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا ‘ یہ مصمصہ ہے اپنی خطاؤں اور گناہوں کے نیچے ‘ بے شک تلوار نے اس کی خطاؤں کو مٹا دیا ‘ اسے داخل کیا جائے گا جنت کے جس دروازے سے وہ چاہے گا کیونکہ اس کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات ‘ بعض بعض سے افضل ہیں۔ (۳) منافق آدمی جس نے اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ جب اس کی دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو اس نے ان کوقتل کیاحتی ٰکہ وہ خود قتل ہوا۔ فرمایا: یہ جہنم میں ہے کیونکہ تلوار ‘ نفاق کو نہیں مٹاتی ہے۔

عتبة بن عبد صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبو المثنى المليكي ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13996

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو المثنى المليكى عن عتبة بن عبد · حديث 13997

311 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن عبد الرحمن بن سهم الأنطاكي ثنا عبد الله بن المبارك و عيسى بن يونس عن صفوان بن عمرو عن أبي المثنى المليكي عن عتبة بن عبد السلمي و كان من أصحاب الرسول صلى الله عليه و سلم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( القتلى ثلاثة رجال مؤمن يجاهد بماله و نفسه في سبيل الله حتى اذا لقي العدو فقاتلهم حتى قتل قال ذلك الشهيد المفتخر في خيمة الله تحت عرشه لا يفضلون الا بفضل درجة النبوة و رجل مؤمن قرف على نفسه من الذنوب و الخطايا فأكثر جاهد بنفسه و ماله في سبيل الله حتى اذا لقي العدو قاتلهم حتى يقتل فتلك مصمصة تحت ذنوبه و خطاياه ان السيف محاء للخطايا و ادخل من أي أبواب الجنة شاء فان لها ثمانية أبواب بعضهاأفضل من بعض و لجهنم سبعة أبواب و رجل منافق جاهد بنفسه و ماله في سبيل الله حتى اذا لقي العدو قاتلهم حتى يقتل فذلك في النار ان السيف لا يمحو النفاق )

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبل تین طرح کے ہیں: (۱) وہ مؤمن مرد جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یہاں تک کہ جب اللہ کے دشمنوں سے ملے تو وہ ان کو خوب قتل کرے حتی ٰکہ خودشہید ہو جائے ۔فرمایا: یہ وہ شہید ہے جس پر عرش کے نیچے اللہ کے خیمہ میں فخر کیا جاتا ہے اس کے اوپر صرف نبوت کا درجہ ہے۔ (۲) وہ مؤمن آدمی جس نے اپنی جان پر گناہوں اور خطاؤں کا بوجھ ڈال لیا اور ان کی کثرت کی ‘ اس نے اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ جب وہ دشمن سے ملا تو اس نے ان کو قتل کیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا‘ یہ مصمصہ ہے اپنی خطاؤں اور گناہوں کے نیچے ‘ بے شک تلوار نے اس کی خطاؤں کو مٹا دیا ‘ اسے داخل کیا جائے گا جنت کے جس دروازے سے وہ چاہے گا کیونکہ اس کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات ‘ بعض بعض سے افضل ہیں ۔ (۳) منافق آدمی جس نے اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ جب اس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تو اس نے ان کوقتل کیا حتی ٰکہ وہ خود قتل ہوا۔ فرمایا : یہ جہنم میں ہے کیونکہ تلوار ‘ نفاق کو نہیں مٹاتی ہے ۔

أبي المثنى المليكي ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبد الله بن المبارك و عيسى بن يونس ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13997

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عامر بن زيد البكالي عن عتبة بن عبد · حديث 13998

312 - حدثنا أحمد بن خليد الحلبي ثنا أبو توبة الربيع بن نافع ثنا معاوية بن سلام عن زيد بن سلام أنه سمع أبا سلام يقول حدثني عامر بن زيد البكاني أنه سمع عتبة بن عبد السلمي يقول Y جاء اعرابي الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما حوضك هذا الذي تحدث عنه ؟ فقال ( كما بين البيضاء الى بصري يمدني الله فيه بكراع لا يدري انسان ممن خلق الله طرفاه ) فكبر عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال : أما الحوض فيرد عليه فقراء المهاجرين الذين يقاتلون في سبيل الله فأرجو أن يرين الله الكراع فأشرب منه و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ان ربي وعدني أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا بغير حساب ثم يحثي لي ربي بكفيه ثلاث حثيات ) فكبر عمر و قال ان السبعين الأول يشفعهم الله في آبائهم و عشائرهم و أرجو أن يحملني الله في احد الحثيات الأواخر فقال الاعرابي يا رسول الله فيها فاكهة ؟ قال : ( نعم و فيها شجرة تدعى طوبى هي تطابق الفردوس ) فقال أي شجر أرضنا تشبه ؟ فقال : ( ليس تشبه شيئا من شجر أرضك و لكن أتيت الشام ؟ ) فقال : لا يا رسول الله قال : ( فانها تشبه شجرة بالشام تدعى الجوزة تنبت على ساق واحد ثم ينتشر أعلاها ) قال فما عظم أصلها ؟ قال : ( لو ارتحلت جذعة من ابل أهلك لم يدر بأصلها حتى تنكسر ترقوتها هرما ) قال فيها عنب ؟ قال ( نعم ) قال فما عظم العنقود منها ؟ قال ( مسيرة شهر للغراب الا يقع و لا ينثني و لا يفتر ) قال و ما عظم الحبة منه قال : ( هل ذبح أبوك شيئا من غنمه عظيما ؟ ) قال نعم قال : ( فسلخ اهابها فأعطاه أمك فقال ادبغي هذا ثم افري لنا منه دلوا نروي به ماشيتنا ؟ ) قال نعم قال : ( فانه كذلك ) قال : فان ذلك يسعني و يسع أهل بيتي قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( و عامة عشيرتك )

حضرت عامر بن بکالی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک اعرابی آیا ‘ اس نے عرض کی: آپ کے اس حوض کی حقیقت کیا جس کے بارے آپ بیان کرتے رہتے ہیں؟ فرمایا: ایسے ہے جیسے بیضاء سے بصری ٰکے درمیان تک ہے ‘ اللہ تعالی ٰاس کو پھیلائے گا کئی ہاتھ ‘ نہیں جانتا کوئی انسان ان میں سے جو مخلوقات اللہ نے پیدا کی ہیں ‘ ان میں سے کوئی انسان نہیں جانے گا ‘ اس کے دونوں کنارے۔ پس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا ‘ فرمایا: جہاں تک تعلق ہے حوض کا تو وہاں میرے پاس ان مہاجرین کے فقراء آئیں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ‘ مجھے امید ہے کہ میں اس سے پیوں گا۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا ‘ پھر ہزار میں سے ہر ایک ستر ہزار کی سفارش کرے گا۔ میرا رب میرے لئے اپنے ہاتھوں سے تین مٹھی بھرے گا۔ پس حضرت عمر نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور عرض کی : بے شک پہلے ستر (ہزار ) کی سفارش ‘ اللہ تعالی ٰان کے آباء اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں قبول کرے گا ‘ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ٰمجھے آخری مٹھیوں میں سے ایک میں کر دے گا ۔ پس اعرابی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا اس میں کھجوریں ہوں گی؟ فرمایا: ہاں! اور اس میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبی ٰہے ‘ یہ ایک درخت فردوس کے برابر ہے ۔فرمایا: ہماری زمین کا کون سا درخت اس کے مشابہ ہے؟ عرض کی : تمہاری زمین سے کوئی درخت اس کے مشابہ نہیں ہے لیکن البتہ شام میں اگر تم آؤ؟ کہا نہیں! اے اللہ کے رسول ! فرمایا: شام میں ایک درخت ہے جو اس کے مشابہ ہے اس کا نام جوزہ ہے وہ ایک ہی پنڈلی (تنے ) پر کھڑا ہوتا ہے پھر اس کا اوپر والا فرمایا: اگر پانچ سالہ اونٹ سفر شروع کرے تو اس کی جڑ کونہ جان سکے حتی ٰکہ بوڑھا ہو کر اس کی گردن ٹوٹ جائے ۔ عرض کی : اس میں انگور ہیں؟ فرمایا: ہاں ! عرض کی : اس کے انگور کی موٹائی کتنی ہے؟ فرمایا: ابقع کو ا ایک ماہ چلے ( تو اس کے برابر ہے ) نہ تھکے اور نہ ڈھیلا پڑے۔عرض کی : اس کے دانے کی موٹائی ؟ فرمایا: کیا کبھی تیرے باپ نے اپنی بکریوں میں سے کسی کو ذبح کیا ؟ عرض کی : ہاں! فرمایا: اس کی کھال اتار کر تیری ماں کو دی ؟ عرض کی : اس نے اس کو رنگ دیا ‘ پھر ہمارے لیے اس میں سے ڈول بنا دیا جس کے ساتھ ہم اپنے چو پاؤں کو پلاتے ہیں ۔ فرمایا: بس اسی طرح ہے۔ عرض کی: کیا اس میں میری اور میرے گھر والوں کی جگہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے قریبی رشتہ داروں سے زیادہ تعداد کی گنجائش ہے۔

زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13998

chevron_left Previous
1…252627…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter