Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13963

277 - حدثنا أبو مسلم ثنا أبو النعمان عارم ثنا جرير ثنا حميد بن هلال حدثني خالد بن عمير قال Y غزونا مع عتبة بن غزوان ففتحنا الابلة فاذا سفيقة جوز فقلنا ما رأينا حجارة نكسر فنأكل

حضرت خالد بن عمیر فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کیا ‘ ہم نے ابلہ فتح کیا ‘ ہم نے وہاں اخروٹ دیکھا ‘ ہم نے کہا: توڑنے کے لیے ہمیں پتھر نہیں مل رہا تھا کہ ہم اسے (توڑ کر ) کھا ئیں ۔

خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ← أَبُو مُسْلِمٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13963

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13964

278 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا فطر بن خليفة عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي نصر عن عتبة بن غزوان السلمي و كان عمر بعثه أميرا على البصرة و كان بدريا فقام فخطب فقال Y ان الدنيا قد اذنت بصرم و لم يبق منها الاصبابة كصبابة الاناء يصبها صاحبها و ان من ورائكم دارا فانتقلوا اليه بخير ما بحضرتكم و لله لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و قد تسلقت أفواهنا من أكل الشجر مامنا رجل اليوم الا و هو أمير على مصر من الأمصار و لقد رأيتني و سعد بن مالك ابتدرنا بردة فأخذت نصفها و أخذ سعد نصفها و لقد بلغني أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة أربعين سنة و ليأتين عليه يوم و هو كظيظ وانه لم يكن نبوة الا نسخت حتى يكون ملكا و اني أعوذ بالله أن أكون في نفسي عظيما و في نفس الناس صغيرا و ستجربون الأمر بعدي

حضرت ابونصر سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان السلمی سے مروی ہے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بصرہ پر امیر بنایا ‘ آپ بدری تھے ‘ کھڑے ہو کر خطبہ دیا‘ فرمایا: بے شک دنیا ختم ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے ‘ بس اس میں سے تلچھٹ باقی رہ گئی ہے ‘ جس طرح برتن کی تہہ میں تلچھٹ ہوتی ہے ‘ جس کو اس کا مالک انڈیلتا ہے: بے شک تمہارے پیچھے ایک گھر ہے ‘ پس تم اس کی طرف منتقل ہونا ‘ اس سے بہتر کے ساتھ جو تمہارے پاس اب موجود ہے۔ تحقیق میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو سات میں سے ساتواں دیکھا ‘ درختوں کے چھلکے (یاپتے) کھانے کی وجہ سے ہمارے منہ چھل گئے ۔ آج کے دن ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا حکمران ہے۔ میں نے دیکھا کہ میں نے اور حضرت سعد بن مالک نے چادر لینے میں جلدی کی ۔ پس میں نے اس کا نصف لیا اور آدھی حضرت سعد نے لے لی ۔ مجھے یہ روایت بھی پہنچی ہے کہ جنت ( کے دروازوں) کے کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس سال کی مسافت ہے ‘ اس پر ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ تنگ ہوگی ‘ ہر نبوت منسوخ ہو کر بادشاہت میں بدلنے والی ہے ۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے تیئں بڑا اور لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوں اور عنقریب تم حکمرانوں کا میرے بعد تجربہ کرو گے۔

أَبِي نَصْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← فِطْرِ بن خليفة ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13964

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13965

279 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو بكر كريب ثنا يحيى بن آدم عن أبي بكر بن عياش عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي نصر قال : خطبنا عتبة بن غزوان فقال Y لقد كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم سابع سبعة ما لنا طعام الا لحاء الشجر

حضرت ابونصر فرماتے ہیں: حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا ‘ فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا ‘ میں ساتواں تھا ‘ ہمارے پاس سوائے درخت کے چھلکا کے کوئی کھانا نہیں تھا۔

خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ← أَبِي نَصْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أبو بكر كريب ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13965

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13966

280 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ( ح ) و حدثنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقري ( ح ) و حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا شيبان بن فروخ قالوا ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن خالد بن عمير العدوي قال Y خطبنا عتبة بن غزوان فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أما بعد فان الدنيا قد أذنت بصرم وولت حذاه و انما بقي منها صبابة كصبابة الاناء يصبها صاحبها و انكم متنقلون منها الى دار لا زوال لها فانتقلوا بخير ما بحضرتكم فانه قد ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفير جهنم فيهوي بها سبعين عاما ما يدرك قعرها فوالله ليملان أفعجبتم ؟ فلقد ذكر لنا أن مصراعين من مصاريع الجنة بينهما مسيرة أربعين سنة ليأتين عليه يوم و هو كظيظ الزحام و لقد رأيتني و اني لسابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لنا من طعام الا ورق الشجر حتى قرحت اشداقنا و اني التقطت بردة فشققتها بيني و بين سعد بن أبي وقاص فارس الاسلام فائتزرت بنصفها و ما أصبح منا اليوم واحد حي الا أصبح أمير مصر من الأمصار و اني أعوذ بالله أن أكون في نفسي عظيما و عند الله صغيرا و انها لم تبق نبوة قط الا تناسخت حتى تكون عاقبتها ملكا ستجرون أو تبلون الأمراء بعدنا

حضرت خالد بن عمیر عدوی فرماتے ہیں: حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا‘ پس اللہ تعالی ٰکی حمد وثناء کی پھر فرمایا: اس ( حمد وثناء ) کے بعد کیونکہ دنیا ختم ہونے کے قریب ہے ‘ وہ جلد ختم ہو جائے گی (اور اس کے چاہنے والوں کو کچھ نہ ملے گا ) پس اس کی تلچھٹ باقی رہ گئی ہے جیسے برتن کی تہہ میں تلچھٹ رہ جاتی ہے جس کو اس کا مالک انڈیل دیتا ہے ‘ بے شک تم ضرور یہاں سے ایک ایسے گھر میں منتقل ہونے والے ہو جس کو زوال نہیں‘ پس تمہیں چاہیے کہ تم اس سے بہتر کے ساتھ منتقل ہو ‘ جو اب تمہارے پاس ہے کیونکہ ہمارے سامنے ذکر کیا گیا کہ ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے ‘ پس وہ ستر سال سفر کرتا رہے تو بھی جہنم کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گا ‘ قسم بخدا! اسے ضرور بھرا جائے گا ‘ کیا تم متعجب ہو! تحقیق ہمارے سامنے ذکر ہوا کہ جنت کے کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے ‘ اس پر ایک دن آئے گا جب وہ بھیڑ کی وجہ سے تنگ ہو گا ‘ تحقیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ‘ میں سات میں سے ساتواں تھا ‘ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کوئی کھانا نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں‘ مجھے ایک چادر ملی جس کو میں نے اپنے اور حضرت سعد بن ابو وقاص ‘ اسلام کے شاہسوار کے درمیان تقسیم کیا۔ اس میں سے آدھی کے ساتھ میں نے ازار بنائی اور آج ہم میں سے ہر ایک جو زندہ ہے وہ کسی نہ کسی شہر پر حکمران ہے‘ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ سے کہ میں اپنے دل میں بڑا ہوں اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہوں ‘ ہر نبوت‘ بادشاہت میں بدل جائے گی انجام کے وقت ‘ عنقریب ہمارے بعد تم حکمرانوں کا تجربہ کرو گے یا مبتلا کیے جاؤ گے۔

خطبنا عتبة بن غزوان فحمد الله و أثنى عليه ثم ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← و، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← و، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13966

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13967

281 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ثنا قرة بن خالد عن خالد بن عمير ( ح ) و حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) و حدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا وكيع عن قرة بن خالد عن خالد بن عمير العدوي قال وكيع قال أبو نعامة سمعت من خالد بن عمير قال خطبنا عتبة بن غزوان فقال Y ان الدنيا قد أذنت بصرم وولت حذاء و لم يبق منها الا صبابة كصبابة الاناء و انكم في دار تنتقلون عنها فانتقلوا بخير ما بحضرتكم و لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لنا طعام نأكله الا ورق الشجر حتى فرحت أشداقنا قال قرة : و لقد وجدت بردة و قال أبو نعامة : التقطت بردة فشققتها نصفين فلبست نصفا و أعطيت سعدا نصفا و ليس من أولئك السبعة اليوم أحد الا على مصر من الأمصار و ليجربن الأمراء بعدي و انه و الله ما كانت نبوة قط الا تناسخت حتى تكون ملكا و جبرية و لقد ذكر لي قال قرة : ان الحجر و قال أبو النعامة : ان الصحيفة تقذف بها من شفير جهنم فتهوي الى قرارها قال قرة : سبعين خريفا و قال أبو نعامة : سبعين خريفا و ليملأن و ما بين المصراعين من أبواب الجنة مسيرة أربعين يوما و ليأتين على أبواب الجنة يوم ليس فيها باب الا و هو كظيظ و اني أعوذ بالله أن أكون في نفسي كبيرا و عند الله صغيرا

حضرت خالد بن عمیر عددی فرماتے ہیں: حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا ‘ پس اللہ تعالی ٰکی حمد وثناء کی پھر فرمایا: اس ( حمد وثناء) کے بعد کیونکہ دنیا ختم ہونے کے قریب ہے ‘ وہ جلد ختم ہو جائے گی ( اور اس کے چاہنے والوں کو کچھ نہ ملے گا ) پس اس کی تلچھٹ باقی رہ گئی ہے جیسے برتن کی تہہ میں تلچھٹ رہ جاتی ہے جس کو اس کا مالک انڈیل دیتا ہے ‘ بے شک تم ضرور یہاں سے ایک ایسے گھر میں منتقل ہونے والے ہو جس کو زوال نہیں‘ پس تمہیں چاہیے کہ تم اس سے بہتر کے ساتھ منتقل ہو ‘ جو اب تمہارے پاس ہے کیونکہ ہمارے سامنے ذکر کیا گیا کہ ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے ‘ پس وہ ستر سال سفر کرتا رہے تو بھی جہنم کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گا ‘ قسم بخدا! اسے ضرور بھرا جائے گا ‘ کیا تم متعجب ہو!تحقیق ہمارے سامنے ذکر ہوا کہ جنت کے کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے ‘ اس پر ایک دن آئے گا جب وہ بھیڑکی وجہ سے تنگ ہو گا ‘ تحقیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ‘ میں سات میں سے ساتواں تھا ‘ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کوئی کھانا نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں‘ مجھے ایک چادر ملی جس کو میں نے اپنے اور حضرت سعد بن ابو وقاص ‘ اسلام کے شاہسوار کے درمیان تقسیم کیا۔ اس میں سے آدھی کے ساتھ میں نے ازار بنائی اور آج ہم میں سے ہر ایک جو زندہ ہے وہ کسی نہ کسی شہر پر حکمران ہے ‘ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ سے کہ میں اپنے دل میں بڑا ہوں اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہوں ‘ ہر نبوت ‘ بادشاہت میں بدل جائے گی انجام کے وقت ‘ عنقریب ہمارے بعد تم حکمرانوں کا تجربہ کرو گے یا مبتلا کیے جاؤ گے۔ میرے سامنے ذکر ہوا کہ حضرت قرہ نے کہا: پتھر ۔ اور ابونعامہ نے کہا:صحیفہ کو جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے گا ‘ پس وہ اپنے ٹھکانے پر اترے گا۔ حضرت قرہ نے کہا: سات خریف (ایک خریف ‘ اسی ہزار سال کا ہے ) اسے ضرور بھرا جائے گا ‘ جنت کے دروازوں میں سے دو کواڑوں کا درمیانی فاصلہ چالیس دن کا ہے ‘ جنت کے دروازوں پر ایک دن ضرور آئے گا کہ ان میں سے ہر دروازہ ( بھیڑ کی وجہ سے ) تنگ معلوم ہوگا ‘ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہوں۔

خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ← مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أبو نعامة ← وَكِيعٌ، ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← و، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← و، ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13967

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13968

282 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا ازهر بن جميل ثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي ثنا أيوب السختياني عن حميد بن هلال عن خالد بن عمير عن عتبة بن غزوان Y فذكر الحديث

حضرت عتبہ بن غزوان سے مروی ہے ‘ پس انہوں نے یہ حدیث ذکر کی۔

عتبة بن غزوان فذكر الحديث ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13968

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13969

283 - حدثنا ادريس بن جعفر العطار ثنا يزيد بن هارون ثنا أبو نعامة العدوي عن خالد بن عمير و شويس بن كيسان قالا Y خطب عتبة بن غزوان فذكر الحديث

حضرت خالد بن عمیر اور حضرت شویس بن کیسان فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور یہ حدیث بیان کی ۔

خطب عتبة بن غزوان فذكر الحديث ← خالد بن عمير و شويس بن كيسان ← أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13969

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13970

284 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سهل بن بكار ثنا يزيد بن ابراهيم عن الحسن عن عتبة بن غزوان Y عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13970

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13971

285 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبو عبيدة بن فضيل بن عياض ( ح ) و حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمد بن منصور الجواز قالا ثنا أبو سعيد مولى بني هاشم ثنا شعبة عن أبي اسحاق عن قيس بن أبي حازم عن عتبة بن غزوان قال Y لقد رأيتنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم سابع سبعة ما لنا من طعام الا ورق الحبلة حتى إن أحدا ليضع كما تضع الشاة

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ‘ میں نے اپنے آپ کو سات میں سے ساتواں پایا ‘ ہمارے پاس سوائے حبلہ درخت کے پتوں کے کوئی کھانا نہ تھا یہاں تک کہ کوئی ایک ایسے گرتا جیسے بکری گرتی ہے۔

عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← و، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13971

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13972

286 - حدثنا محمد بن يحيى بن منده الأصبهاني ثنا عباد بن يعقوب الأسدي ثنا عمرو بن ثابت عن يونس بن خباب قال : سمعت أبا الخليل يحدث عن مجاهد حدثني ابن الشخير قال Y قدم علينا عتبة بن غزوان السلمي فخطبنا و هو بالبصرة فقال : ان الدنيا قد أذنت بصرم وولت حذاء و لم يبق منها الا صبابة كصبابة الاناء و انكم في دار تنتقلون عنها فانتقلوا بخير ما بحضرتكم و لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و قد قرحت أفواهنا من اكل الأشجار

حضرت ابن شخیر فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان السلمی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے پس انہوں نے ہمیں خطبہ دیا اس حال میں کہ وہ بصرہ میں تھے ‘ فرمایا: دنیا کا خاتمہ قریب ہے ‘ یہ جلدی پیٹھ پھیر جائے گی ‘ اس کی صرف تلچھٹ باقی رہ گئی ہے جیسے برتن کی تلچھٹ ہوتی ہے جس کو اس کے مالک نے انڈیلا ہو ‘ خبر دار!تم منتقل ہونے والے ہو تو پھر اس سے بہتر کی طرف منتقل ہونا‘ جس کے پاس تم موجود ہو‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی معیت میں اپنے آپ کو سات میں سے ساتواں پایا جبکہ درخت کھانے کے سبب ہمارے منہ چھل گئے تھے ( زخمی ہو گئے ) ۔

قدم علينا عتبة بن غزوان السلمي فخطبنا و هو بالبصرة ← ابْنِ الشِّخِّيرِ ← مُجَاهِدٍ ← أبا الخليل ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← عمرو بن ثابت ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13972

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13973

287 - حدثنا أبو عبيدة عبد الوارث بن ابراهيم العسكري ثنا محمد بن جامع العطار ثنا محمد بن عثمان القرشي ثنا أبو نعامة العدوي عن خالد بن عمير عن عتبة بن غزوان قال Y كنا نشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم القتال فاذا زالت الشمس قال لنا احملوا فحملنا

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے حاضر ہوئے ‘ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہمیں فرماتے : حملہ کرو! ہم حملہ کرتے تھے۔

عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، ← محمد بن جامع العطار ← أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13973

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبة بن غزوان · حديث 13974

288 - حدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا عبد الرحمن بن عمرو بن فضلة ثنا عمر بن الفضل السلمي ثنا غزوان عن أبيه قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار )

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے ‘ اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے۔

مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← غَزْوَانَ ← عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ السُّلَمِيُّ، ← عبد الرحمن بن عمرو بن فضلة ← محمد بن زكريا الغلابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13974

chevron_left Previous
1…232425…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter