Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي بن عميرة الكندي · حديث 13951

265 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا جرير بن حازم ثنا عدي بن عدي ثنا رجاء بن حيوه و العرس بن عميرة عن أبي عدي قال Y كان بين امرئ القيس و بين أحد خصومه فاختصما الى النبي صلى الله عليه و سلم فسأل الحضرمي البينة فلم يكن له بينة فقضى على امرئ القيس باليمين فقال الحضرمي يا رسول الله ان أمكنته من اليمين ذهبت و الله أرضي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من حلف على يمين كاذبا لقي الله و هو عليه غضبان ) قال رجاء بن حيوه فتلا رسول الله صلى الله عليه و سلم { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } الآية قال امرؤ القيس فماذا لي أن تركتها يا رسول الله ؟ قال : ( الجنة ) قال فاني أشهد أني تركتها

حضرت ابوعدی فرماتے ہیں کہ امرء القیس اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا‘ پس وہ دونوں اس کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آئے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے گواہ مانگا تو اس کے پاس گواہ نہیں تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم کے ساتھ ‘ امرء القیس کے خلاف فیصلہ کر دیا ‘ پس حضری نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اگر آپ نے اسے قسم کا اختیار دیا تو قسم بخدا! میری زمین چلی گئی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پہ ناراض ہوگا۔ حضرت رجاء بن حیوہ نے کہا: پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’ ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمناقليلا ‘‘ (آل عمران: ۷۷) حضرت امرء القیس کہنے لگے:۔ پس اگر میں اس زمین کو چھوڑ دوں ( باوجود یکہ وہ میری ہے ) تو اے اللہ کے رسول! میرے لیے کیا ہو گا۔ فرمایا: جنت ہو گی۔عرض کی: بے شک میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ چھوڑ دی۔

أَبِیْ عَدِیِّ ← رجاء بن حيوة و العرس بن عميرة ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13951

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ و ابنه عدي له صحبة · حديث 13952

266 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا اسماعيل بن أبي اويس ثنا سليمان بن بلال ( ح ) و حدثنا عبدان بن أحمد ثنا جعفر بن مسافر ثنا عبد الله بن نافع عن محمد بن جعفر كلاهما عن يحيى بن سعيد عن أبي الزبير عن عدي بن عدي الكندي أنه أخبرهم قال Y جاء رجلان الى رسول الله صلى الله عليه و سلم يختصمان في أرض فقال أحدهما هي أرضي و قال الآخر حرثتها و قصبتها فاحلف رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي بيده الأرض

حضرت عدی بن عدی الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمین کے متعلق جھگڑا لے کر آئے ‘ ان میں سے ایک نے عرض کی : میری زمین ہے دوسرے نے عرض کی : میری زمین ہے ‘ میں نے اس میں ہل چلا یا اس کو کاٹا ( کھیتی باڑی کی ) اور میں آباد کرتا ہوں‘ جس کے قبضہ میں زمین تھی ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قسم لی ۔

عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← و، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13952

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ و ابنه عدي له صحبة · حديث 13953

267 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا اسماعيل بن أبي اويس ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن أبي الزبير عن عدي بن عدي الكندي Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من حلف على مال امرئ مسلم لقي الله و هو عليه غضبان ) قيل فمن تركه يا رسول الله قال ( فله الجنة )

حضرت عدی بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان آدمی کا مال لینے کے لیے قسم اٹھائی ‘ وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! جو چھوڑ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا. اس کے لیے جنت ہے۔

عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13953

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي بن بداء سكن الكوفة · حديث 13954

268 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا صالح بن عبد الله الترمذي ثنا يحيى بن زكريا عن أبي زائدة حدثني محمد بن أبي القاسم عن عبد الملك بن سعيد بن جبير عن أبيه عن أبي عباس قال Y خرج رجل من بني سهم مع تميم الداري و عدي بن بدا فمات السهمي فلما قدموا تركته فقدوا جام من فضة مخوصا بذهب فاحلفهما رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم وجد فقالوا شريناه من عدي بن تميم فقام رجلان من أولياء السهمي فحلفا بالله لشهادتنا احق من شهادتهما و ا ن الجام لصاحبكم و فيهم انزلت { يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم }

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی حضرت تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا ‘ پس سہمی پر موت آ گئی‘ پس جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر واپس آئے تو اس کے گھر والوں نے دیکھا تو چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا ‘ وہ نہ پایا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم لی (انہوں نے قسم دے دی) لیکن بعد میں وہ پایا گیا ( بازار میں )۔ پس ان لوگوں نے کہا: ہم نے عدی بن تمیم سے خریدا ہے۔ سہمی کے قریبی تشتہ داروں میں سے دو آدمیوں نے کھڑے ہو کر قسم دی کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے بہتر ہے ‘ بے شک پیالہ تمہارے دوست کیلئے ہونا چاہیے ‘ انہیں لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ’’ یا ایها الذین آمنوا شهادة بينكم ‘‘ (المائدہ:۱۰۶)۔

أَبي عباس. ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، ← أَبِي زَائِدَةَ، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← صَالِحُ بْنُ عَبْد اللَّه التِّرْمِذِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13954

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي الجذامى · حديث 13955

269 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي و خلف بن عمرو العكبري قالا ثنا سعيد بن منصور ثنا حفص بن ميسرة عن عبد الرحمن بن حرملة عن عدي الجذامي Y أنه لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره فقال يا رسول الله كانت لي امرأتان فاقتتلتا فرميت إحداهما فقتلتها فقال : ( اعقلها و لا ترثها ) فكأني أنظر الى رسول الله صلى الله عليه و سلم على ناقة حمراء جدعاء و هو يقول : ( يا أيها الناس تعلموا فانما الأيدي ثلاثة فيد الله العليا و يد المعطي الوسطى و يد المعطى السفلى فتعففوا و لو بحزم الحطب ألا هل بلغت ؟ ألا هل بلغت ؟ )

حضرت عدی الجذامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے سفر میں تھے ‘ عرض کی : یارسول اللہ ! میری دو بیویاں تھیں‘ دونوں لڑ پڑیں‘ پس میں نے ان دونوں میں سے ایک کو تیر مارا تو وہ مر گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دیت ادا کر اور تو اس کا وارث نہیں بن سکتا۔ ( راوی کا بیان ہے : ) گویا میں ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں‘ آپ سرخ رنگ کی خوبصورت اونٹنی پر سوار ہیں اور فرما رہے ہیں : اے لوگو! ہاتھ تین ہیں ‘ سب سے بلند اللہ کا ہاتھ ہے (جیسے اس کی شان کے لائق ہے ) دینے والے کا ہاتھ درمیان والا ہے اور جس کو دیا جائے سب سے نیچے اس کا ہاتھ ہے ‘ پس دوزخ سے بچو اگرچہ لکڑیوں کے ایک گٹھے کے بدلے ‘ خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا‘ کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن علي الصائغ المكي و خلف بن عمرو العكبري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13955

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي الجذامى · حديث 13956

270 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني عبد الأعلى بن حماد النرسي ثنا وهيب حدثني عبد الرحمن بن حرملة حدثني رجل عن جذام عن رجل منهم يقال له عدي Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت عدی رضی اللہ عنہ ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← رجل منهم يقال له عدي ← جذام ← رَجُلٌ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13956

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي الجذامى · حديث 13957

271 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن محمد بن يحيى عن عبد الرحمن بن حرملة أنه سمع رجلا من جذام يحدث عن رجل منهم يقال له عدي Y أنه رمى امرأة له بحجر فماتت فتتبع رسول الله صلى الله عليه و سلم بتبوك فقص عليه أمره فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( تعقلها و لا ترثها )

حضرت عبدالرحمٰن بن حرملہ سے مروی ہے کہ میں نے بنو جذام قبیلے کے ایک آدمی کے بارے اسی قبیلے کے ایک دوسرے آدمی کو ایک بات بیان کرتے ہوئے سنا ‘ جس کے متعلق بات تھی اس کا نام عدی تھا ‘ اس نے پانی ایک عورت کو پتھر مارا تو وہ مرگئی‘ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا معاملہ رکھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے فرمایا: اس کی دیت ادا کر اور یہ اس کی وراثت کا حقدار نہیں۔

رَجُلًا مِنْ جُذَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13957

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي بن زيد · حديث 13958

272 - حدثنا محمد بن يونس الصفري و أحمد بن عمرو البزاز قالا ثنا عبدة بن عبد الله الصفار ثنا زيد بن الحباب حدثني سليمان بن كنانة مولى عثمان بن عفان حدثني عبد الله بن أبي سفيان عن عدي بن زيد قال Y حمى رسول الله صلى الله عليه و سلم كل ناحية من المدينة بريدا لا يحبط شجرة و لا يعضد الا عصا يساق بها

حضرت عدی بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی ہر گلی میں حفاظت کیلئے ایک آدمی مقرر کیا کہ کوئی درخت یا گھاس نہ کاٹے سوائے جانور چرانے کے ڈنڈا کے۔

عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ ← عبد الله بن أبي سفيان ← سُلَيْمَانُ بْنُ کِنَانَةَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَارُ ← محمد بن يونس الصفري و أحمد بن عمرو البزاز

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13958

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عدي بن ربيعة بن سواءة بن جشم الجشمي · حديث 13959

273 - حدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوية المنقري ( ح ) و حدثنا أبو أمية سلم بن غصام الثقفي الأصبهاني ثنا العباس بن الفرح الرياشي ثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوية المنقري حدثني أبي الفضل بن عبد الملك عن أبيه عبد الملك بن أبي سوية عن أبي سوية عن أبيه خليفة بن عبدة بن جرول قال Y سألت محمد بن عدي بن ربيعة بن سواءة بن جثم كيف سماك أبوك محمد في الجاهلية ؟ قال اما أني قد سألت أبي عما سألتني عنه فقال : خرجت رابع أربعة من بني تميم انا أحدهم و سفيان بن مجاشع بن دارم و أسامة بن مالك بن جندب بن العنبر و يزيد بن ربيعة بن كنابية بن حرقوص بن مازن يزيد بن حنيفة بن غسان بالشام فلما قدمنا الشام نزلنا على غدير عليه شجرات لديراني يعني صاحب صومعة فقلنا لو اغتسلنا من هذا الماء وادهنا و لبسنا ثيابنا ثم أتينا صاحبنا فاشرف علينا الديراني فقال ان هذه لغة ماهي لغة أهل البلد فقلنا نعم نحن قوم من مضر قال من أي مضر ؟ قلنا من خندق قال : اما أنه سيبعث منكم وشيكا نبي فسارعوا وخذوا بحظكم منه ترشدوا فانه خاتم النبيين فقلنا ما اسمه ؟ فقال محمد فلما انصرفنا من عند ابن جفنة ولد لكل واحد منا غلام فسماه محمد قال العلاء قال قيس بن عاصم للنبي صلى الله عليه و سلم : تدري من أول من علم بك من العرب قبل أن تبعث ؟ قال : ( لا ) قال بنو تميم و قص عليه هذه القصة

خلیفہ بن عبده بن جرول فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ربیعہ بن سواۃ بن جشم سے پوچھا: تمہارے والد نے زمانہ جاہلیت میں تمہارا نام محمد کیسے رکھا؟ اس نے جواب دیا: بہر حال یہی سوال جو تو نے مجھ سے پوچھا ہے ‘ میں نے اپنے والد سے پوچھا‘ پس انہوں نے کہا: میں بنو تمیم کے چار آدمیوں کے قافلے میں چوتھا تھا ‘ میں نکلا ‘ ان میں سے ایک میں تھا سفیان بن مجاشع بن دارم ‘ اسامہ بن مالک بن جندب بن عنبر ‘ یزید بن ربیعہ بن کنابیہ بن حرقوص بن مازن اور یزید بن جفنہ بن مالک بن غسان تھے ‘ پس جب ہم شام میں آئے تو ہم ایک کنویں پرا ترے جس پر دیرانی کے درخت تھے یعنی گرجے والے کے ۔ پس ہم نے کہا: کاش! ہم اس پانی سے نہا لیتے‘ تیل لگاتے اور کپڑے بدلتے پھر ہم اپنے ساتھی کے پاس آتے تو گرجے والے نے ہمیں دیکھ لیا۔ اس نے کہا: یہ بولی یعنی زبان ‘ اس علاقے والوں کی زبان نہیں ہے۔ ہم نے جواب دیا: ہاں ! ہم بنومضر قبیلے کے لوگ ہیں ۔اس نے کہا: مضر کی کس شاخ سے؟ ہم نے کہا: خندف سے ۔ اس نے کہا: بہر حال عنقریب تم میں سے ایک نبی جلدی مبعوث ہو گا ‘ پس تم جلدی کرنا ( اس کی طرف جانے میں ) اور اس سے اپنا حصہ حاصل کرنا ‘ ہدایت پا جاؤ گے کیونکہ وہ خاتم النبیین ہیں ۔ ہم نے کہا: ان کا نام کیا ہوگا ؟ اس نے کہا: اس کا نام محمد ہوگا ۔ پس جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے لوٹے تو ہم میں سے ہر ایک کا ایک ایک بیٹا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا ۔ حضرت علاء فرماتے ہیں : حضرت قیس بن عاصم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کیا آپ اس پہلے آدمی کو جانتے ہیں جس نے آپ کو بعثت سے قبل سب سے پہلے جانا؟ فرمایا: نہیں ! حضرت تمیم فرماتے ہیں: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ قصہ بیان کیا۔

أبيه خليفة بن عبدة بن جرول ← أَبِي سَوِيَّةَ، ← أبيه عبد الملك بن أبي سوية ← أَبِي الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← العباس بن الفرح الرياشي ← أبو أمية سلم بن غصام الثقفي الأصبهاني ← و، ← الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← محمد بن زكريا الغلابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13959

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عتبة عتبة بن غزوان السلمي بدري نسبه و أخباره و ذكر وفاته · حديث 13960

274 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي حدثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير في تسمية من شهد بدرا Y عتبة بن غزوان بن جابر بن وهب بن قبيصة بن مالك بن الحارث بن مازن بن منصور بن عكرمة بن حصه بن قيس بن غيلان بن مطر حليف نوفل بن عبد مناف

حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان بن جابر بن وہب بن قبیصہ بن مالک بن حارث بن مازن بن منصور بن عکرمہ بن حصہ بن قیس بن غیلان بن مطر ‘ نوفل بن عبد مناف کے حلیف ‘ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13960

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عتبة عتبة بن غزوان السلمي بدري نسبه و أخباره و ذكر وفاته · حديث 13961

275 - حدثنا أحمد بن عبد الملك بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام ثنا أبو عبيدة معمر بن المثنى قال Y عتبة بن غزوان يكنى أبا عبد الله و قد قبل أبو غزوان و كان طويلا جميلا مات سنة سبع عشرة و هو متوجه الى البصرة في مرته الثانية و دفن في بعض المياه و هو ابن خمس و خمسين سنة حليف بني نوفل بن عبد مناف

حضرت ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزان کی کنیت ابوعبداللہ ہے ‘ ایک قول ہے: آپ کو ابوغروان کہا جاتا ہے ‘ آپ بہت لمبے اور خوبصورت تھے ‘ آپ کا وصال سترہ ہجری کو ہوا ‘ آپ دوسری مرتبہ بصرہ جا رہے تھے ‘ وہاں بعض میاہ میں دفن ہوئے ‘ آپ کی عمر پچپن سال تھی‘ آپ بنی نوفل بن عبد مناۃ کے حلیف تھے۔

أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← أحمد بن عبد الملك بن عبد الرحيم البرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13961

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عتبة عتبة بن غزوان السلمي بدري نسبه و أخباره و ذكر وفاته · حديث 13962

276 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح ثنا يحيى بن بكير قال Y توفي عتبة بن غزوان سنة سبع عشرة بطريق البصرة عاملا لعمر بن الخطاب و سنه سبع و خمسون سنة و قد قيل مات سنة عشرين و هو الذي مصر البصرة و اختط بها المنازل و بنى مسجدها وهو الذي افتتح الابلية و كانت ولايته البصرة ستة أشهر ولاه اياها عمر بن الخطاب

حضرت یحیی ٰبن بکیر فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا وصال سترہ ہجری کو ہوا‘ بصرہ کے راستے میں ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عامل مقرر کیا تھا ‘ آپ کی عمر ستاون سال تھی‘ بعض نے کہا: بیس ہجری کو فوت ہوئے ‘ آپ نے بصرہ شہر آباد کیا ‘ اس کے مکانات کے نقشے بنائے اور مسجد بنائی ‘ آپ نے ابلیہ کو فتح کیا تھا‘ آپ بصرہ میں چھ ماہ امیر رہے ‘ آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عامل مقر ر کیا تھا۔

يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13962

chevron_left Previous
1…222324…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter