Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13915

229 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن ابراهيم ثنا شعبة عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم الطائي عن عدي بن حاتم Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليتركها و ليأت الذي هو خير )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کام پر قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کام کرنے میں بہتری دیکھے تو اسے چھوڑ دے وہ بہتر کام کرے (اور اپنی قسم کا کفارہ دے)۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13915

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13916

230 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة عن عدي بن حاتم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليكفرها و ليأت الذي هو خير )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کام پر قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کرنے میں بہتر دیکھی تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور کام وہ کرے جو بہتر ہے ۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13916

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13917

231 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا موسى الأنصاري ثنا سباط بن محمد عن الشيباني عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة عن عدي بن حاتم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کام پر قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کرنے میں بہتر دیکھی تو وہ بہتر کام کرے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← سباط بن محمد ← مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13917

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13918

232 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) و حدثنا أبو حصين القاضي ثنا يحيى الحماني قالا ثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة عن عدي بن حاتم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من حلف فرأى غيرها خيرا منها فليدع يمينه و ليأت الذي هو خير و ليكفر عن يمينه )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کام پر قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کرنے میں بہتری دیکھی تو اپنی قسم کو چھوڑے اور وہ بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يحيى الحماني ← أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي ← و، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13918

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13919

233 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة قال Y جاء سائل الى عدي بن حاتم يسأل نفقة في ثمن خادم فقال ليس عندي ما أعطيك الا درعي و مغفرى فأكتب ألى أهلي أن يعطوكهما فلم يرض فغضب عدي فقال و الله لا أعطيك شيئا ثم أر الرجل رضي فقال لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من حلف على يمين رأى ما هو أتقى لله فليأته و لكن ما حنث في يمين )

حضرت تمیم بن طرفہ فرماتے ہیں کہ ایک سائل حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تاکہ ایک خادم کی قیمت میں کچھ خرچ کا سوال کرے ‘ میرے پاس تجھے دینے کو اور تو کچھ نہیں سوائے میری زرہ کے ‘ میں اپنے گھر والوں کی طرف لکھ دیتا ہوں کہ وہ تجھے دے دیں۔ پس وہ سائل راضی نہ ہوا‘ پس حضرت عدی رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا ‘ فرمایا : قسم بخدا! میں تجھے کوئی چیز نہ دوں گا۔ پھر وہ آدمی راضی ہو گیا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جس نے کوئی قسم اٹھائی پھر اس سے زیادہ تقوی ٰوالا کام دیکھا تو وہی کرے لیکن وہ کام نہ کرے جس کی اس نے قسم اٹھائی ہے۔

جاء سائل الى عدي بن حاتم يسأل نفقة في ثمن خادم ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13919

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13920

234 - حدثنا ابن أبي مريم ثنا الفريابي ( ح ) و حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو حذيفة قالا ثنا سفيان عن عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة عن عدي بن حاتم قال Y جاء رجلان الى النبي صلى الله عليه و سلم فخطبا فقال أحدهما : من يطع الله و رسوله فقد رشد و من يعصهما فقد غوى فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( قم فبئس الخطيب أنت )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ‘ آپ نے ان کو نصیحت کی ‘ ان میں سے ایک نے کہا: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ‘ وہ کامیاب ہو گیا ‘ جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ گمراہ ہو گا ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ ‘ تو برا خطیب ہے۔

جاء رجلان الى النبي صلى الله عليه و سلم فخطبا ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عبد العزيز رفيع ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← و، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13920

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد العزيز رفيع عن تميم بن طرفة · حديث 13921

235 - حدثنا أبو حصين القاضي ثنا يحيى الحماني ثنا قيس بن الربيع عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة عن عدي بن حاتم قال Y تشهد رجل عند النبي صلى الله عليه و سلم قال : من يطع الله و رسوله فقد رشد و من يعصهما فقد غوى فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( اسكت فبئس الخطيب أنت ) كره له قوله و من يعصهما

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ‘ وہ کامیاب ہوا اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ گمراہ ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش ہو جا ‘ تو کتنا برا خطیب ہے ( راوی کا بیان ہے : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قول: ’’ ومن يعصهما “ کوناپسند کیا۔ (نوٹ : مترجم کہتا ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کو اس نے ایک ہی ضمیر میں اکٹھا کر دیا)

من يطع الله و رسوله فقد رشد و من يعصهما فقد غوى ← تشهد رجل عند النبي صلى الله عليه و سلم ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يحيى الحماني ← أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13921

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عباد بن حبيش عن عدي بن حاتم · حديث 13922

236 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا قيس بن الربيع عن سماك بن حرب حدثني عباد بن حبيش عن عدي بن حاتم الطائي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو جالس في المسجد فقال القوم : هذا عدي بن حاتم و كنت نصرانيا و جئت بغير أمان و لا كتاب فلما دفعت اليه أخذ بيدي و قد كان قبل ذلك قال : ( اني لأرجو أن يجعل الله يده في يدي فقام بي فلقيته امرأة و صبي معها فقالا ان لنا اليك حاجة فقام معها حتى قضى حاجتها ثم أخذ بيدي حتى أتى داره فألقيت له وسادة فجلس عليها و جلست بين يديه فحمد الله و أثنى عليه ثم قال ( لم يغرك الا أن يقال الا الله فهل تعلم من اله الا الله ؟ ) ثم تكلم ساعة ثم قال : ( اما يغرك أو يضرك الا أن يقال لله أكبر فهل تعلم شيئا أكبر من الله ؟ ) قلت لا قال : ( ان اليهود مغضوب عليهم و ان النصارى ضلال ) قلت فاني حنيف مسلم فرأيت وجهه ينبسط فرحا ثم أمرني فنزلت على رجل من الأنصار فجعلت آتيه طرفي النهار فبينا أنا عنده عشية اذ أتاه قوم في ثياب من صوف من هذه النمار فصلى ثم قام فحث عليهم ثم قال : ( بصاع أو بنصف صاع أو نصيفه و لو ببعض قبضة يقي أحدكم وجهه حر جهنم أو النار و لو بشق تمرة فان أحدكم لاقى الله فقائل له ما أقول لكم ألم أجعل لك سمعا و بصرا ؟ فيقول بلى فيقول ألم أجعل لك مالا وولادا ؟ فيقول بلى فيقول أين ما قدمت لنفسك فينظر أمامه و خلفه و عن يمينه و عن شماله فلا يجد شيئا يقي به وجهه فوقي أحدكم وجهه للنار و لو بشق تمرة فان لم يجد فبكلمة طيبة فاني لا أخاف عليكم الفاقة فان الله عز و جل ناصركم و معطيكم حتى تسير الظعينة فيما بين يثرب و الحيرة و أكثر ما يخاف على مطيتها السرق فجعلت أقول في نفسي فأين لصوص طيء ؟

حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس حال میں کہ آپ مسجد میں بیٹھے تھے ‘ قوم نے تعارف کروایا کہ یہ عدی بن حاتم ہے جبکہ میں عیسائی مذہب پر تھا‘ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو نہ میرے پاس کوئی اور نہ کوئی امان نامہ تھا (جس میں پناہ دی گئی ہو ) ۔ پس جب میں نے اپنا آپ ان کے حوالے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے فرما چکے تھے: مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ٰعدی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا ۔ پس ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی جس کے ساتھ ایک بچہ تھا ‘ ان دونوں نے کہا: ہمیں آپ سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے ساتھ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اس کا کام کر دیا ‘ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ایک سرہانہ رکھا گیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد وثناء کی ۔ پھر فرمایا: تجھے دھوکہ نہ دیا مگر کہا جائے : الا اللہ! پس کیا تم اللہ کے سوا کوئی معبود جانتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر کلام کی ۔۔ پھر فرمایا: کیا نہیں دھو کہ دیتی یا نقصان دیتی مگر کہا جائے : اللہ اکبر! پس کیا تم اللہ سے بڑا کسی کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کی نہیں! فرمایا: بے شک یہود پر اللہ کا غضب ہے اور عیسائی گمراہ ہیں ۔ میں نے عرض کی: میں حق کی طرف مائل ہونے والا ‘ سرتسلیم خم کرنے والا ہوں۔ پس میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل اٹھا‘ پھر مجھے حکم دیا تو میں ایک انصاری کا مہمان بنا‘ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح اور شام آتا تھا ‘ اسی دوران کہ میں آپ کے پاس تھا ‘ عشاء کا وقت تھا جب آپ کی خدمت میں ایک گروہ آیا ‘ چیتے کے بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےنماز پڑھی ‘ کھڑے ہو کر ان کو صدقہ کرنے پر ابھارا پھر فرمایا: ایک صاع لاسکو ‘ آدھا صاع یا اس سے بھی کم یا ایک مٹھی کا ایک حصہ لاؤ جو تم میں سے کسی کو جہنم کی گرمی سے بچائے ‘ اپنے چہرے کو اگرچہ ایک کھجور کے ایک حصے کے ساتھ ہی کیونکہ تم اللہ سے ملاقات کرو گے اور وہ تم سے وہی بات کرے گا جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ‘ کیا میں نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہ بنائی تھیں۔ بندہ عرض کرے گا: کیوں نہیں! اللہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال اور اولاد نہ دیا تھا؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں! اللہ فرمائے گا: کہاں ہے وہ جو تو نے اپنی ذات کیلئے آگے بھیجا؟ پس بندہ اپنے آگے پیچھے ‘ دائیں اور بائیں دیکھے گا تو کوئی ایسی چیز نہیں پائے گا جس کے ذریعے وہ اپنے چہرے کو بچائے ۔ پس تمہیں چاہیے کہ اپنے چہرے کو آگ سے بچاؤ اگرچہ کھجور کے ایک جز کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ‘ پس اگر نہ پائے تو پاکیزہ کلمہ کے ساتھ ‘ مجھے تمہارے اوپر فاقہ کا خوف نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی ٰتمہا را مددگار اور تمہیں عطا کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایک قافلہ چلے گا یثرب اور حیرہ کے درمیان (اور اسے کوئی خوف نہ ہو گا)۔ پس میں نے اپنے دل میں کہنا شروع کر دیا: پس کہاں جائیں گے ‘ بنوطی قبیلے کے چور۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13922

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عباد بن حبيش عن عدي بن حاتم · حديث 13923

237 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) و حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا يحيى بن معين قالا ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن سماك بن حرب قال سمعت عباد بن حبيش يقول سمعت عدي بن حاتم قال Y جاءت خيل رسول الله صلى الله عليه و سلم أو رسل رسول الله صلى الله عليه و سلم بعقرب فأخذوا عمتي و ناسا فلما أتوا بهم النبي صلى الله عليه و سلم صفوا له فقالت يا رسول الله نأى الوافد و انقطع الولد و أنا عجوز كبير و ما بي من خدمة فمن علي من الله عز و جل عليك قال : ( و من وافدك ؟ ) قالت عدي بن حاتم قال : ( أي الذي فر من الله و رسوله ) قالت فمن علي فلما رجع و رجل الى جنبه ترى أنه علي فقال سليه حملانا قالت فسألته فأمر بأتان فقلت لقد فعلت فعلة ما كان أبوك يفعلها فقالت ائته راغبا أو راهبا فقد أتاه فلان فأصاب منه و أتاه فلان فأصاب منه فأتيته فاذا عنده امرأة و صبيان أو صبي فذكر قربهم من النبي صلى الله عليه و سلم فعرفت أنه ليس ملك كسرى و قيصر فقال : ( يا عدي ما أفرك ؟ أن يقال لا اله الا الله فهل من اله الا الله ؟ ما أفرك ؟ ان يقال الله أكبر فهل من شيء أكبر من الله ؟ فأسلمت فرأيت وجهه استبشر و قال : ( ان المغضوب عليهم اليهود و ان الضالين النصارى ) ثم جاءه ناس فسألوه فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : ( أما بعد فلكم أيها الناس ان ترضخوا من الفضل ارتضخ امرؤ بصاع ببعض صاع بقبضة ) قال شعبة و أكثر علمي أنه قال ( بتمرة بشق تمرة ان أحدكم لاقي الله فقائل ألم أجعلك سميعا بصيرا ؟ ألم أجعل لك مالا وولدا ؟ فماذا قدمت ؟ فينظر بين يديه و من خلفه و عن يمينه و عن شماله فلا يجد شيئا فلا يتقي النار الا بوجهه فاتقوا النار و لو بشق تمرة فان لم تجدوا فبكلمة طيبة اني لا أخشى عليكم الفاقة لينصرنكم الله و ليعطينكم أو ليفتحن لكم حتى تسير الظعينة بين الحيرة و يثرب أخوف ما تخافون على ظعينتها السرق )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑوں کے قافلے یا (کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد عقرب کے مقام پر آئے ‘ پس انہوں نے میری پھوپھی اور کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا‘ پس جب وہ ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کی صفیں بنا دیں۔ میری پھوپھی نے عرض کی : اے اللہ یک رسول! وافد دور ہو گیا ‘ بیٹا جدا ہو گیا اور میں زیادہ بوڑھی عورت ہوں جبکہ میری خدمت کرنے والا کوئی نہیں‘ پس آپ میرے اوپر احسان فرمائیں ‘ اللہ آپ پر احسان فرمائے گا۔ فرمایا: تیرا وافد کون ہے؟ عرض کی : عدی بن حاتم ۔ فرمایا: یعنی وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا ہوا ہے ۔ پھر عرض کی: آپ مجھ پر رحم فرمائیں! پس جب وہ واپس لوٹے اور ایک آدمی ان کے پہلو میں تھا ‘ میری پھوپھی نے دیکھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سواری کا سوال کر! کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے مجھے ایک گدھی عطا فرمائی۔ میں نے عرض کی : آپ نے وہ کام کیا ہے جو آپ کے والد گرامی کیا کرتے تھے ۔ پس اس عورت نے کہا: اس خواہی نخو اہئی ضرور لے آؤ۔ پس فلاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ‘ اس نے درست نتیجہ پایا ‘ فلاں آیا تو اس نے بھی صحیح نتیجہ پایا۔ اس کے بعد میں آیا تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اور کچھ بچے یا ایک بچہ تھا‘ پس ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے کا ذکر ہوا تو میں پہچان گیا کہ یہ کسری ٰو قیصر کے بادشاہ کی طرح نہیں ہے ۔ فرمایا: اے عدی! کون سی چیز تجھے یہ کہنے سے دور کرتی ہے: لا الہ الا اللہ ‘ اللہ اکبر! کیو کوئی چیز اللہ سے بڑی ہے؟ پس میں مسلمان ہو گیا ‘ میں نے دیکھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اور فرمایا: بے شک جن پر اللہ کا غصب ہے وہ یہودی ہیں اور جو گمراہ ہیں وہ عیسائی ہیں‘ پھر کچھ لوگ آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا: حمد وثناء کے بعد ‘ اے لوگو! تمہارے لیے حق ہے کہ مال میں سے کچھ عطیہ کرو۔ ایک آدمی ایک صاع اور صاع کا کچھ حصہ لایا۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک کھجور یا کھجور کا کچھ حصہ۔ بے شک تم اپنے رب سے ملو گے۔ پس وہ کہے گا: کیا میں نے تجھے سننے اور دیکھنے والا نہ بنایا تھا ‘ کیا میں نے تیرے لیے مال اور اولاد نہ بنائی تھی‘ تو نے آگے کیا کچھ بھیجا؟ پس وہ آدمی اپنے سامنے پیچھے ‘ دائیں اور بائیں دیکھے گا تو کوئی چیز نہ پائے گا ‘ تو وہ آگ سے صرف اس کی رضا ہی سے بچ سکے گا۔ پس آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک جز سے ہی ہو ‘ پس اگر تم نہ پاؤ تو پاکیزہ کلمہ سے ۔ مجھے تم پر فاقہ کا کوئی خوف نہیں ‘ اللہ تعالی ٰضرور تمہاری مدد کرے گا ضرور تمہیں عطا کرے گا ‘ یہاں تک کہ تمہارے لیے ( مال کے ) دروازے کھول دے گا یہاں تک کہ حیرہ اور یثرب کے درمیان ایک قافلہ چلے گا جسے اپنی سواری پر چوری چکاری کا کوئی خوف نہ ہوگا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ ← و، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13923

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الملك بن عمير عن عدي بن حاتم · حديث 13924

238 - حدثنا عبد الله بن ناجية ثنا الربيع بن ثعلب ثنا أبو اسماعيل المؤدب عن عبد الملك بن عمير عن عدي بن حاتم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ليأتين على الناس زمان تسير الظعينة من مكة الى الحيرة لا يأخذ أحد بخطام راحتها و ليأتين على الناس زمان يمشي الرجل بملئ كفه ذهبا يتصدق به لا يقبل منه )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک عورت مکہ سے حیرہ کی طرف آئے گی کوئی اس کی سواری کی لگام نہیں پکڑے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی اپنی ہتھیلی سونے کی بھر کر نکلے گا صدقہ دینے کے لیے لیکن کوئی بھی اس صدقہ کو لینے والانہیں ملے گا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13924

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الملك بن عمير عن عدي بن حاتم · حديث 13925

239 - حدثنا أبو محمد الكشي ثنا سهل بن بكار ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن غير واحد ان عدي بن حاتم حدثهم أن Y رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لا يأتي عليكم الا قليل حتى تسير الظعينة من مكة الى الحيرة لا يأخذ أحد بخطام راحتها و ليأتين على الناس زمان يمشي الرجل بملئ كفه ذهبا فلا يجد من يقبله و ما منكم من أحد الا سيعرض على الله عز و جل ليس بينه و بينه ترجمان فمن استطاع أن يتقي النار و لو بشق تمرة فليفعل )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک عورت مکہ سے حیرہ کی طرف آئے گی‘ کوئی اس کی سواری کی لگام نہیں پکڑے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی اپنی ہتھیلی سونے کی بھر کر نکلے گا صدقہ دینے کے لیے لیکن کوئی بھی اس صدقہ کو لینے والا نہیں ملے گا ‘ تم میں سے ہر کسی سے اللہ خود گفتگو فرمائے گا ‘ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا ‘ جو تم میں سے جہنم سے بچنے کی طاقت رکھے تو وہ بچے ‘ اگرچہ کھجور کا کچھ حصہ دے کر ہی ہو۔

غير واحد ان عدي بن حاتم ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أبو محمد الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13925

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ قيس بن المنذر عن عدي بن حاتم · حديث 13926

240 - حدثنا أبو زرعة الدمشقي عبد الرحمن بن عمرو و حفص بن الصباح الرقي قالا ثنا عمر بن حفص بن غياث ثنا أبي عن عثمان بن قيس الكندي عن أبيه عن عدي بن حاتم قال Y قلنا يا رسول الله لا نسألك عن طاعة من أتقى و أصلح ولكن من فعل و فعل يذكر الشر فقال : ( اتقوا لله و اسمعوا و أطيعوا )

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم آپ سے ایسے آدمی کی اطاعت کے متعلق نہیں پوچھ رہے ‘ جو بچا اور اس نے اصلاح کی بلکہ جس نے وہ کام کیا اور وہ کیا ‘ شرکا ذکر کرتا ہے۔ فرمایا: تم اللہ سے ڈرو ‘ سنو اور اطاعت کرو۔

قُلْنَا ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← أبو زرعة الدمشقي عبد الرحمن بن عمرو و حفص بن الصباح الرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13926

chevron_left Previous
1…192021…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter