Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن سلمة الضمري · حديث 13807

121 - حدثنا بهذه النسبة حدثنا أحمد بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام عن زياد البكائي عن محمد بن اسحاق بن يسار Y

ہمیں ان کا نسب بتایا احمد بن عبدالرحیم البرقی نے ‘اُنہیں عبدالملک بن ہشام نے ‘انہیں زیاد البکائی نے ‘اُنہیں محمد بن اسحاق بن یسار نے بتایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، ← زِيَادٌ الْبَکَّائِيُّ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← بهذه النسبة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13807

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير العبدى أبو الأشعث · حديث 13808

122 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أشعث بن عمير العبدي عن أبيه قال Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس فلما أرادوا الانصراف قالوا قد حفظتم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم كل شيء سمعتموه فسلوه عن النبيذ فاتوه فقالوا يا رسول الله انا بارض و خمة لا يصلحنا فيها الا الشراب قال : ( و ما شرابكم ؟ ) قال [ وا ] النبيذ قال : ( و في أي تشربونه ؟ ) قالوا في النقير فقال : ( لا تشربوا في النقير ) فقالوا و الله لا يصالحنا قومنا على هذا فرجعوا فسألوه فقال لهم مثل ذلك ثم عادوا فقال : ( لا تشربوا في النقير فيضرب الرجل منكم ضربة لا يزال منها أعرج الى يوم القيامة ) فضحكوا فقال ( و أي شيء تضحكون ؟ ) قالوا يا رسول الله و الذي بعثك بالحق لقد شربنا في نقير لنا فقام بعضنا الى [ بعض ] فضرب هذا ضربة أعرج منها الى يوم القيامة

حضرت اشعث بن عمیر عبدی ‘اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قیس کے وفد کے ساتھ آیا‘ پس جب انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو کہا: ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرشی یاد کر لی ہے جو سنی ہے۔ پس تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے بارے پوچھو‘ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ‘عرض کی: اپنے اللہ کے رسول ! ہم زمین میں رہتے ہیں‘ اس میں مشیروں کو بڑا فائدہ دیتا ہے۔ فرمایا: تمہارا مشروب کیا ہے؟ عرض کی : نبیذ ( جوس ‘نچوڑ ) ۔ فرمایا: تم کس برتن میں پیتے ہو؟ عرض کی: چوبیں برتن میں۔ فرمایا: چوبیں برتن میں مت پیو۔ انہوں نے آپس میں کہا: اس پر تو ہماری قوم راضی نہ ہوگی۔ پس وہ دوبارہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہلے کی مثل جواب دیا ‘کچھ دیر بعد پھر وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوبیں برتن میں مت پیو‘ ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی آدمی ایسی ضرب لگائے کہ وہ ہمیشہ کیلئے قیامت تک لنگڑا ہو جائے۔ پس انہیں ہنسی آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس وجہ سے ہنستے ہو؟ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! یقیناً ہم نے چوبیں برتن میں نبیذ پیا‘ہم میں سے بعض اُٹھکر دوسرے بعض کی طرف گئے ‘ان میں سے ایک نے ضرب لگائی اس سے قیامت تک لنگڑا ہو گیا۔

أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13808

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير أبو أبى بكر · حديث 13809

123 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي و محمد بن يحيى بن منده الأصبهاني قالا ثنا أبو حفص بن علي ثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن أبي بكر بن عمير عن أبيه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ان الله تعالى وعدني أن يدخل من أمتي ثلا ثمائة ألف الجنة ) فقال عمير يا نبي الله زدنا فقال عمر حسبك يا عمير فقال مالنا و لك يا ابن الخطاب و ما عليك ان يدخلنا الله الجنة فقال عمر ان الله جل و عز ان شاء ادخل الناس الجنة بحفنة أو بحثية واحدة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( صدق عمر )

حضرت ابوبکر بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا کہ تین ہزار میری اُمت کے لوگ جنت میں (بغیر حساب )کے داخل کرنے کا۔ عمیر نے عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لیے اضافہ فرما ئیں ! حضرت بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمیر ! بس کافی ہے! حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے ابن خطاب ! آپ کو اور ہم کو کیا ہے کہ ہم جنت میں داخل ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عز وجل اگر چاہے تو سارے لوگوں کو ایک مٹھی میں جنت میں داخل کر دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔

أَبِيهِ ← أَبي بكر بن عمير ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو حَفْصِ بْنُ عَلِيٍّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13809

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن أمية · حديث 13810

124 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا عبد الله بن يزيد المقري عن سعيد بن أبي أيوب أن يزيد بن أبي حبيب حدثنا أن السلم بن يزيد و يزيد بن اسحاق حدثناه عن عمير بن أمية Y أنه كانت له أخت و كان اذا خرج الى النبي صلى الله عليه و سلم آذته فيه و شتمت النبي صلى الله عليه و سلم و كانت مشركة فاشتمل لها يوما على السيف ثم أتاها فوضعه عليها فقتلها فقام بنوها فصاحوا و قالوا قد علمنا من قتلها افتقتل أمنا و هؤلاء قوم لهم آباء و أمهات مشركون فلما خاف عمير أن يقتلوا غير قاتلها ذهب [ الى ] النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : ( اقتلت أختك ؟ ) قال نعم قال : ( ولم ؟ ) قال انها كانت تؤذيني فيك فارسل النبي صلى الله عليه و سلم الى بنيها فسألهم فسموا غير قاتلها فأخبرهم النبي صلى الله عليه و سلم به واهدر دمها قالوا سمعا و طاعة

حضرت عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی بہن تھی‘ اس کی عادت تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلتے تو آپ کو تکلیف دیتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی ‘وہ مشرکہ تھی‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے تلوار لہرائی ‘پھر وہ آئی تو اس پر تلوار رکھی اور اُس کو قتل کر دیا ‘اس کے بچے کھڑے ہوئے رونے لگے ‘اُنہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہے کہ کس نے ہماری ماں کو قتل کیا ہے ‘یہ لوگ بھی تو ہیں کہ ان کی ماں اور باپ مشرک ہیں۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا کہ کوئی قتل نہ کرے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: تُو نے اپنی بہن کو قتل کیا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ عرض کی: وہ آپ کو تکلیف دیتی تھی‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچوں کی طرف پیغام بھیجا ‘ان سے پوچھا ‘اُنہوں نے ان کے علاوہ اور قاتلوں کا نام لیا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا اور اس کا خون ضائع قرار دیا ‘ان کے بچوں نے عرض کی : ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13810

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13811

125 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ( ح ) و حدثنا أبو مسلم الكشمي ثنا القعنبي قالا ثنا حاتم بن اسماعيل عن يزيد بن أبي عبيد قال Y سمعت عميرا مولى آبي اللحم قال امرني مولاي ان أقدد لحما فجاءني مسكين فاطعمته منه فعلم فضربني فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فدعاه فقال : ( لم ضربته ؟ ) قال يطعم طعاما من غير أن آمره قال : ( الأجر بينكما )

حضرت ابواللحم غفاری کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ‘ابواللحم کا نام عبداللہ بن عبد بن مالک بن عبد اللہ بن عفان ہے‘ ابو اللحم شاعر ہے ‘عمیر فتح خیبر میں شریک ہوئے تھے ‘ان کا نام ابواللحم اسی لیے رکھا تھا کہ یہ گوشت کھانے سے اپنے آپ کو منع کرتا تھا۔ حضرت یزید بن ابوعبید فرماتے ہیں کہ میں نے ابواللحم کے غلام حضرت عمیر سے سنا ‘فرمایا کہ میرے آقا نے مجھے گوشت بنانے کا حکم دیا‘ میرے پاس ایک مسکین آیا ‘میں نے اس کو کھلا دیا ‘اس کے مالک کو معلوم ہوا تو اُس نے مجھے مارا ‘میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا ‘آپ نے مالک کو بلوایا ‘آپ نے فرمایا: اس کو کیوں مارا ہے؟ اُس نے عرض کی: میں نے اگر مارا ہے تو اس لیے کہ اس نے میرے حکم کے بغیر کھانا کھلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ثواب دونوں کے درمیان برابر ہے۔

أَمَرَنِي مَوْلَايَ ← عُمَيْرًا مَوْلَی آبِي اللَّحْمِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أبو مسلم الكشمي ← و، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13811

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13812

126 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ثنا ابن لهيعة ثنا محمد بن زيد عن مهاجر بن قنفذ عن عمير مولى آبي اللحم قال Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم على أحجار الزيت يستسقي رافعا بطن كفيه

حضرت ابو الحسم کے غلام عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ لی تم کو زیتون کے پتھروں (یا احجار زیت کے مقام )پر دیکھا‘ آپ نے بارش کی دعا کرنے کی خاطر اپنی ہتھیلیوں کے پیٹ اُٹھائے ہوئے تھے۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13812

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13813

127 - حدثنا معاذ بن النثنى ثنا مسدد ثنا بشر بن الفضل عن عبد الرحمن بن اسحاق عن أبيه اسحاق بن الحارث عن عمه اسحاق بن عبد الله و عن أبي بكر بن زيد عن عمير مولى آبي اللحم قال Y أقبلت مع سادتي الى المدينة نريد الهجرة حتى اذا دنونا من المدينة تركوني في ظهورهم و رحلوا فأصابني مجاعة شديدة فمر بي بعض من خرج من المدينة فقال انك لو دخلت بعض حوائط المدينة أصبت من ثمرها قال عمير فدخلت حائطا من حوائط المدينة فقطعت قنوين من نخله فجاءني صاحب الحائط فخرج بي حتى أتى بي النبي صلى الله عليه و سلم فسألني عن أمري فاخبرته فقال لي : ( أيهما أفضل ؟ ) فاشرت الى أحدهما فأمرني فأخذته و أمر صاحب الحائط فأخذ الآخر و خلى سبيلي

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے سرداروں کے ساتھ مدینے آیا ‘ہم ہجرت کا ارادہ کرنے والے تھے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو انہوں نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا اور انہوں نے کوچ کیا ‘مجھے سخت بھوک لگی‘ پس مدینہ سے باہر آنے والے بعض لوگ میرے پاس سے گزرے تو کہا: اگر تُو مدینہ کے کسی کھجوروں کے باغ میں چلا جائے تو تجھے اس کے پھل میسر آجائیں گے۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوا۔ میں نے ایک کھجور سے پکی کھجوروں کے دو گچھے لیے تو میرے پاس باغ کا مالک آ گیا اور مجھے لے کر نکلایہاں تک کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرا کام پوچھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ پس آپ نے مجھے فرمایا: ان دونوں میں سے کون سا اچھا ہے؟ میں نے ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا: لے لو! تو میں نے اسے لے لیا اور باغ کے مالک کو حکم دیا تو دوسرا اس نے لے لیا اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← أبي بكر بن زيد ← عمه اسحاق بن عبد الله و ← أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُسَدَّدٌ ← معاذ بن النثنى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13813

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13814

128 - حدثنا ابراهيم بن متوية الأصبهاني ثنا عقبة بن مكرم ثنا ربعي بن ابراهيم عن عبد الرحمن بن اسحاق حدثني أبي عن عمه و عن أبي بكر بن زيد أنهما سمعا عميرا مولى آبي اللحم يقول Y أقبلت مع سادتي نريد الهجرة حتى دنونا من المدينة فذكر نحوه

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آقا کے ساتھ ہجرت کر کے نکلا‘ ہم جب مدینہ کے قریب ہوئے‘ اس کے بعد اوپر والی حدیث ذکر کی۔

أقبلت مع سادتي نريد الهجرة حتى دنونا من المدينة فذكر نحوه ← أبي بكر بن زيد أنهما سمعا عميرا مولى آبي اللحم ← عمه و ← أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13814

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13815

129 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن عبد الرحمن بن اسحاق عن أبيه عن عمه و عن رجل من قريش يقال له أبو بكر بن زيد عن عمير مولى آبي اللحم قال Y أقبلت مع سادتي نريد الهجرة حتى دنونا من المدينة فذكرمثله

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آقا کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کے ارادہ سے آیا ‘اس کے بعد اوپر والی حدیث کی مثل حدیث ذکر کی ۔

أقبلت مع سادتي نريد الهجرة حتى دنونا من المدينة فذكرمثله ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← رجل من قريش يقال له أبو بكر بن زيد ← عمه و ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13815

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13816

130 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ( ح ) و حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا أبي قالا ثنا ابن لهيعة ثنا محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفد عن عمير مولى آبي اللحم قال Y كنت أرعى بذات الجيش فأصابتني خصاصة فذكرت ذلك لبعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فدلني على حائط لبعض الأنصار فاقتطعت منه أقنا فاخذوني فذهبوا بي الى النبي صلى الله عليه و سلم فاخبرته بحاجتي فأعطاني قنوا واحدا ورد سائره الى أهله

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ذات جیش میں بکریاں چرا رہا تھا‘ مجھے بھوک لگی تو میں نے اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے کیا ‘مجھے کسی انصار کے باغ کے متعلق بتایا گیا‘میں نے اس سے ایک خوشہ توڑا تو باغ کے مالک نے مجھے پکڑا اور لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘میں نے اپنی حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوشہ مجھے دیا اور دوسرا اس باغ کے مالک کو دے دیا۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفد ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← و، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13816

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13817

131 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ثنا هشام بن سعد عن محمد بن زيد عن عمير مولى آبي اللحم قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر و انا عبد مملوك فقلت أعطني فأعطاني سيفا و قال : ( تقلد به ) فأخذته فتقلدته فوقع في الأرض ثم أعطاني من خرثى المشاع

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر کے دن آیا ‘میں مملوک غلام تھا‘میں نے عرض کی: مجھے دیں! آپ نے مجھے تلوار عطا کی اور آپ نے اس کو مٹکا دیا‘میں نے پکڑی اور لٹکائی‘ پس وہ زمین میں جالگی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سامان میں سے بچی کچھی چیزیں عطا فرمائیں۔

تقلد به فأخذته فتقلدته فوقع في الأرض ثم أعطاني من خرثى المشاع ← عبد مملوك فقلت أعطني فأعطاني سيفا و ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر و ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13817

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير المزني لم يخرج عمير مولى أبي اللحم الغفاري · حديث 13818

132 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ثنا ابن لهيعة ثنا محمد بن زيد بن مهاجر بن قنفذ عن عمير مولى آبي اللحم قال Y غزوت مع سيدي خيبر و شهدت فتحها فسألت النبي صلى الله عليه و سلم أن يقسم لي فأعطاني خرثى المتاع و لم يقسم لي

حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے سردار کی معیت میں خیبر کا جہاد کیا اور میں نے اس کی فتح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ میرے لیے تقسیم کریں؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھر یلو سامان عطا کر دیا اور (اس کےعلاوہ) میرے لیے کوئی تقسیم نہ کی۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بن مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13818

chevron_left Previous
1…101112…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter