Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن سعد الأنصاري أخبار عمير بن سعد · حديث 13795

109 - حدثنا محمد بن الروبال الادمي الشيرازي ثنا محمد بن حكيم الشيرازي ثنا محمد بن حكيم الرازي ثنا عبد الملك بن هارون بن عنترة حدثني أبي عن جدي عن عمير بن سعد قال Y بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه عمير بن سعد عاملا على حمص فمكث حولا لا يأتيه خبر فقال عمر لكاتبه اكتب الى عمير : فوالله ما أراه الا قد خاننا فاذا جاءك كتابي هذا فأقبل و أقبل بما جبيت من المسلمين حين تنظر في كتابي هذا قال : فأخذ عمير جرابه فجعل فيه زاده و قصعته و علق أدواته و أخذ عنزته ثم أقبل يمشي من حمص حتى دخل الى المدينة قال : فقدم و قد شحب لونه و اغبر وجهه و طالت شعرته فدخل على عمر فقال : ( السلام عليك يا أمير المؤمنين و رحمة الله فقال عمر : ما شأنك ؟ فقال عمير ما ترى شأني ألست تراني صحيح البدن طاهر الدم معي الدنيا أجرها بقرنها قال : و ما معك ؟ فظن عمر أنه قد جاء بمال فقال معي جرابي اجعل فيه زادي و قصعتي آكل و اغتسل فيها رأسي و ثيابي و أدواتي أحمل فيها وضوئي و شرابي و عنزتي أتوكأ عليها و اجاهد بها عدوا ان عرضني فوالله ما الدنيا الا تبع لمتاعي فقال عمر : فجئت تمشي ؟ قال نعم قال عمر أما كان لك أحد يتبرع لك بداية تركبها قال ما فعلوا و ما سألتهم ذلك قال : بئس المسلمون خرجت من عندهم فقال له عمير اتق الله يا عمر فقد نهاك عن الغيبة رأيتهم يصلون صلاة الغداة قال : فأين نصيبك و أي شيء صنعت ؟ فقال و ما سؤالك يا أمير المؤمنين ؟ فقال عمر سبحان الله فقال عمير أما اني لولا أني أخشى ان أغمك ما أخبرتك بعثتني حتى أتيت البلد فجمعت صلحاء أهلها فوليتهم جباية فيئهم حتى اذا جمعوا منهم وضعته مواضعه و لونالك منه شيء لأتيتك به قال : فما جئتنا بشيء ؟ قال لا قال : اجدوا لعميرا عهدا قال ان ذلك لشيء لا عملت لك و لا لأحد بعدك و الله ما سلمت بل أسلم و لو قلت لنصراني أي أخزاك الله فهذا ما عرضني له يا عمر و ان أشقى أيامي يوم حلفت معك يا عمر فاستأذنه فاذن له فرجع الى منزله قال و بينه و بين المدينة أميال فقال عمر حين انصرف عمير ما أراه الا خاننا فبعث رجلا يقال له الحارث و أعطاه مائة دينار فقال له : انطلق حتى تنزل به كأنك ضيف فان رأيت أثر شيء فأقبل و ان رأيت حالا شديدة فادفع اليه هذه المائة دينارا فانطلق الحارث فاذا هو بعمير جالس يغلي قميصه الى جنب الحائط فسلم عليه الرجل فقال له عمير انزل رحمك الله فنزل ثم سأله فقال من أين جئت ؟ قال من المدينة قال كيف تركت أمير المؤمنين ؟ قال صالحا قال كيف تركت المسلمين ؟ قال صالحين [ قال كيف تركت أمير المؤمنين ؟ قال صالحا قال أليس يقيم الحدود ؟ قال بلى ضرب ابنا له أتى فاشة فمات من ضربه فقال عمير : اللهم اعن عمر فاني لا أعلمه الا شديدا حبه لك قال فنزل ثلاثة أيام و ليس لهم الا قرصة من شعير كانوا يخصونه بها و يطوون حتى أتاهم الجهد فقال له عمير يا هذا انك قد أجعتنا فان رأيت أن تتحول عنا فافعل قال : فأخرج الدنانير فدفعها اليه فقال بعث بها اليك أمير المؤمنين فاستعن بها قال فصاح فقال لا حاجة لي فيها ردها فقالت له امرأته ان احتجت البها والا فضعها مواضعها فقال عمير و الله مالي شيء اجعلها فيه فشقت امرأته أسفل درعها فأعطته خرقة فجعلها فيها ثم خرج فقسمها على أبناء الشهداء و الفقراء ثم رجع و الرسول يظن أنه يعطيه منها شيئا فقال له عمير اقرئ مني لأمير المؤمنين السلام فرجع الحارث الى عمر فقال ما رأيت ؟ فقال رأيت يا أمير المؤمنين حالا شديدة قال فما صنع بالدنانير ؟ قال : لا أدري قال : و كتب اليه عمر : اذا جاءك كتابي هذا فلا تضعه من يدك حتى تقبل فأقبل الى عمر حتى دخل عليه فقال له عمر : ما صنعت بالدنانير قال صنعت ما صنعت فما سؤالك عنها ؟ قال أنشد عليك لتخبرني ما صنعت به ؟ قال قدمتها لنفسي قال رحمك الله فأمر بوسق من طعام و ثوبين فقال أما الطعام فلا حاجة لي فيه قد تركت في المنزل صاعين من شعير الى أن آكل ذلك قد جاء الله بالرزق و لم ياخذ الطعام و أما الثوبان فقال ان امرأة فلان عارية فأخذهما و رجع الى منزله فلم يلبث أن هلك رحمه الله فبلغ عمر ذلك فشق عليه و ترحم عليه فخرج يمشي و معه المشاؤون الى بقيع الغرقد فقال لأصحابه ليتمن كل رجل منكم أمنية فقال رجل وددت يا أمير المؤمنين أن عندي مالا فأنفق في سبيل الله و قال آخر وددت أن لي قوة فامتح بدلو من زمزم لحجاج بيت الله فقال عمر وددت أن لي رجلا مثل عمير استعين به في أعمال المسلمين

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص پر امیر بنا کر بھیجا تو وہ پورا ایک سال ٹھہرے‘ ان کی طرف سے کوئی خبر نہ آئی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کا تب سے فرمایا: حضرت عمیر کی طرف خط لکھو ‘قسم بخدا! میرا خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے: (خط میں لکھا: ) پس جب میرا یہ خط تیرے پاس آئے تو آ جا اور وہ بھی لے آ جو تُو نے مسلمانوں سے وصول کیا ہے ‘جب تُو میرے اس خط میں نظر کرے‘‘۔ راوی کا بیان ہے: پس حضرت عمیر نے اپنا تھیلا پکڑ کر اس میں اپنا زاد ِراہ اور پیالہ ڈالا ‘چیزیں لٹکا ئیں اور اپنا نیزہ پکڑا پھر حمص سے چلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے۔ راوی کا بیان ہے : وہ اس حال میں آئے کہ ان کا رنگ اُڑا ہوا تھا ‘چہرے پر گرد پڑی ہوئی تھی اور ان کے بال لمبے ہو چکے تھے۔ پس وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘عرض کی: السلام علیک یا امیر المؤمنین ورحمۃ اللہ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ میرے معاملے کو کیا دیکھتے ہیں‘ کیا آپ مجھے دیکھ نہیں رہے ہیں کہ میرا بدن تندرست ہے ‘خون صاف (پاک) ہے ‘میرے ساتھ دنیا ہے جس کو میں سینگوں سے پکڑ کر کھینچتا ہوں۔ فرمایا: تیرے ساتھ کیا ہے؟ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ وہ مال لائے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ میری تھیلی ہے ‘اس میں اپنا زادِ راہ اور پیالہ رکھتا ہوں ‘کھاتا ہوں اور اس میں اپنا سر اور کپڑے دھوتا ہوں اور اپنی چیزیں اُٹھاتا ہوں میرا لوٹا‘ میرا پانی اور میرا نیزہ اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ذریعے دشمن سے جہاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھ سے مقابلہ کرنے، پس قسم بخدا! دنیا صرف میرے سامان کی تابع ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ پیدل چل کر آئے ہیں ؟ عرض کی: جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن کیا تیرے لیے کوئی آدمی نہ تھا جورضا کارانہ طور پر تجھے اپنی سواری دیتا اور تُو اس پر سوار ہوتا ؟ عرض کی : انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ میں نے ان سے سوال کیا۔ فرمایا: کتنے بُرے مسلمان ہیں جن کے پاس سے تُو آیا ہے۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کی : اے عمر! اللہ سے ڈرو! یقینا ً اللہ نے آپ کو غیبت سے منع فرمایا ہے ‘میں نے ان کو صبح کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ فرمایا: تیرا حصہ کہاں ہے اور کون سا کام تُو نے سرانجام دیا ہے؟ عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ کے سوال کا معنی کیا ہے؟ ( میں نہیں سمجھا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ ! حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: بہر حال اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ (میرے نہ بتانے سے ) آپ کو غم ہوگا تو میں کبھی نہ بتاتا ‘آپ نے مجھے بھیجا یہاں تک کہ میں اس علاقے میں گیا ‘میں نے صالح لوگوں کو اکٹھا کیا‘ پس میں نے ان کے مال ِفئی کا ان کو والی بنا دیا یہاں تک کہ جب وہ ان سے اکٹھا کر لیتے تو میں اسے اس کی جگہوں پر خرچ کر دیتا اور اگر ان سے کوئی شی (باقی) پاتا تو آج آپ کے پاس لے آتا۔ فرمایا: آپ ہمارے پاس کیا چیز لائے ہیں ؟ عرض کی : کوئی چیز نہیں۔ فرمایا: عمیر سے وعدہ لو۔ عرض کی: یہ ایک ایسا کام ہے جو نہ میں نے آپ کیلئے کیا ہے اور نہ آپ کے بعد کسی کیلئے کروں گا‘ قسم بخدا! میں محفوظ نہیں ہوں بلکہ میں (شاید) اسلام نہیں لایا‘اگر میں کسی نصرانی سے کہوں: ارے! اللہ تجھے رسوا کرے! تو یہ اس کیلئے مناسب نہیں‘ اے عمر! بے شک میری زندگی کے دنوں میں سے بدبختی کا دن وہی تھا جب میں نے آپ کے ساتھ حلف اُٹھایا ‘اے عمر! ( راوی کا بیان ہے: ) پس انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کر لی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ اپنے گھر لوٹ گئے۔ راوی کہتا ہے: ان کا گھر مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر تھا۔ جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ عمیر نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ایک حارث نامی آدمی بھیجا اور اسے سو دینار دیئے۔ اس سے فرمایا: جاؤ اور ان کے پاس مہمان بن کر رہو ‘پس اگر کسی چیز کا اثر دیکھو تو آ جاؤ اور اگر ان کی حالت سخت تنگ دیکھو تو یہ سو دینار اس کو دے دو۔ پس حارث گئے ‘اچانک حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ایک باغ کے پہلو میں اپنی قمیص سے جوئیں نکال رہے تھے۔ پس اُس نے سلام کیا تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے (سلام کا جواب دے کر )کہا: اُتر آؤ اللہ تم پر رحم کرے! پس وہ اُترے ‘پھر ان سے پوچھا: کہاں سے آئے؟ انہوں نے جواب دیا: مدینہ منورہ سے۔ کہا: تم نے حضرت امیر المؤمنین کو کس حال میں چھوڑا؟ کہا: اچھی حالت میں ہیں۔ کہا: تم نے مسلمانوں کو کس حال میں چھوڑا؟ کہا: اچھے ہیں۔ کہا: تُو نے امیر المؤمنین کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ جواب دیا: اچھے ہیں ۔ کہا: کیا وہ حدود قائم نہیں کرتے ہیں؟ جواب دیا: کیوں نہیں ( کرتے ہیں) ‘انہوں نے اپنے بیٹے کو (حد میں )مارا جن سے فحش کام ہو گیا تھا‘ پس وہ ان کی مار سےفوت ہو گیا۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدوفرما ! جہاں تک مجھے معلوم ہےوہ تیرے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے: وہ تین دن رہے۔ بس ان کا کھانا جَو کی ٹکیہ ہوتی تھی جس کو وہ خاص کرتے تھے اور لپیٹ دیتے یہاں تک کہ وہ تھک گئے۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے بھائی ! تُو نے تو ہمیں بھوکا کر دیا ہے ‘پس اگر تیرا واپس جانے کا خیال ہے تو ایسا کر۔ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دینار نکالے اور انہیں دیئے ۔ کہا: حضرت امیر المؤمنین نے آپ کی طرف بھیجے ہیں‘ان سے مدد طلب کر (کے اپنی بھوک دور کریں)۔ راوی کا بیان ہے: وہ چیخے اور فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ان کو واپس لے جا۔ ان سے ان کی بیوی نے کہا: اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے تو ٹھیک ورنہ حقداروں کو دے دینا۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا! میں کسی ایسی شی کا مالک نہیں ہوں جس میں ان کے رکھوں۔ پس ان کی بیوی نے اپنی اوڑھنی کو نیچے سے پھاڑ کر کپڑے کا ایک ٹکڑا انہیں دیا اور انہوں نے وہ دینار اس میں رکھ دیئے۔ پھر نکلے‘ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کو شہیدوں اور فقیروں کے بیٹوں پر تقسیم کر دیا ‘پھر واپس تشریف لائے اس حال میں کہ قاصد گمان کر رہا تھا کہ ان میں سے کچھ اس کو عطا کریں گے۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میری طرف سے امیر المؤمنین کو سلام کہنا۔ پس حضرت حارث ‘حضرت عمر کی طرف واپس آگئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ نے کیا دیکھا؟ جواب دیا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان کو سخت تنگی کی حالت میں دیکھا۔ فرمایا: انہوں نے دیناروں کو کیا کیا ؟ عرض کی: مجھے معلوم نہیں۔ راوی کا بیان ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا: جب آپ کے پاس میرا یہ خط آئے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مت رکھتا یہاں تک کہ (میری طرف) چلے آنا۔ پس وہ چل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: دیناروں کے ساتھ آپ نے کیا کیا؟ عرض کی: میں نے کیا جو کیا ‘ان کے بارے آپ کو کیا سوال؟ فرمایا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں! مجھے بتا دیں کہ آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ عرض کی میں نے اپنی جان ( اور آخرت کی بہتری )کیلئے آگے بھیج دیئے۔ فرمایا: اللہ تیرے اوپر رحم کرے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک وسق کھانا اور دو کپڑے لانے کا حکم دیا۔ عرض کی بہر حال کھانے کی تو مجھے بالکل ضرورت نہیں ہے ‘میں اپنے گھر میں (کھانا بہت ) چھوڑ آیا ہوں ‘دو صاع (۹ کلو) جَو یہاں تک کہ میں ( جا کر ) ان کو کھاؤں گا۔ لہذا کھانا نہ لیا اور جہاں تک بات ہے کپڑوں کی تو کہا: فلاں آدمی کی بیوی کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔ پس ان دونوں کو لے لیا اور اپنے گھر لوٹ گئے۔ پس زیادہ وقت نہیں ٹھہرے کہ آپ کا وصال ہو گیا ‘اللہ ان پر رحم کرے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو ان پر بہت گراں ہوئی اور انہوں نے رحم کی دعا کی۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نکل کر چلے اور آپ کے ساتھ چلنے والے اور بھی تھے‘ جنت البقیع کی طرف آئے اور اپنے دوستوں سے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی کی جو خواہش و آرزو ہے ‘اس کا اظہار کرے۔ پس ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میری خواہش ہے کہ میرے پاس مال ہو اور میں اللہ کی رضا کیلئے فلاں فلاں آدمی کو آزاد کروں۔ دوسرے نے کہا: اے امیر المؤمنین! میری پسند یہ ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اللہ کی راہ میں خرچ کروں۔ ایک اور نے کہا: میری آرزو ہے کہ میرے پاس طاقت ہو اور میں بیت اللہ کا حج کرنے والوں کو زمزم نکال نکال کر دیتا رہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس حضرت عمیر جیسا ایک آدمی ہو ‘جس سے مسلمانوں کے کاموں میں مددلوں۔

عمير بن سعد ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ الرَّازِيُّ، ← محمد بن حكيم الشيرازي ← محمد بن الروبال الادمي الشيرازي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13795

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن سعد الأنصاري أخبار عمير بن سعد · حديث 13796

110 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل السراج ثنا علي بن الجعد ثنا شعبة عن يزيد بن خمير سمع عبد الله بن يزيد أو زيد يحدث عن جبير بن نفير Y أن عمر بن الخطاب كتب الى عمير بن سعد الأنصاري و هو على حمص ينهى الناس أن يصلوا ركعتين بعد العصر فقال أبو الدرداء : أما أنا فلا أدعها فمن شاء الخضع فليخضع

حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد انصاری کی طرف خط لکھا‘ جس وقت آپ حمص میں گورنر تھے کہ لوگوں کو نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے منع کریں۔ حضرت ابو درداء نے فرمایا: میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا ‘جو عاجزی کرنا چاہے وہ عاجزی کرے۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عبد الله بن يزيد أو زيد ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13796

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عمير بن سعد · حديث 13797

111 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو ربيعة فهد بن عوف ( ح ) و حدثنا داود بن محمد بن صالج المروزي ثنا ابراهيم بن الحجاج السامي قالا ثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن أبي طلحة الخولاني قال Y دخلنا على عمير بن سعد في مصرف أهل فلسطين فذكرت عنده العدوى فقال سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا عدوى و لا طيرة و لا هامة )

حضرت ابوطلحہ خولانی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے‘ فلسطین کے رہنے والے مقام مصرف پر ‘آپ کے پاس بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر کیا گیا‘حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا نہ بیماری متعدی ہوتی ہے نہ فال ہے نہ ھامہ ہے۔

لا عدوى و لا طيرة و لا هامة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← دخلنا على عمير بن سعد في مصرف أهل فلسطين فذكرت عنده العدوى ← أبي طلحة الخولاني ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← داود بن محمد بن صالج المروزي ← و، ← أَبُو رَبِيعَةَ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13797

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن عامر أبو داود المازني بدرى · حديث 13798

112 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من بني مازن بن النجار ثم من بني خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن عمير و يكنى أبا داود بن عامر بن مالك بن خنساء بن مبذول

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی مازن بن نجار اور بنی خنساء بن منذ ول بن عمرو بن غنم بن مازن عمیر سے جو بدر میں شریک ہوئے ‘اُن کا نام عمیر اور کنیت ابو داؤد بن عامر بن مالک بن خنساء بن مبذول ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13798

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند أبو داود المازني · حديث 13799

113 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و الحسين بن اسحاق التستري قالا ثنا أبو بكر الأمين محمد بن أبي غياث ثنا يعقوب بن محمد الزهري ثنا أحمد بن موسى أبو غزية الأنصاري عن اسحاق بن سعيد بن جبير عن جعفر بن حمزة بن أبي داود المازني عن أبيه عن أبي داود المازني و كان من أهل بدر قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل مسجد ذي الخليفة فصلى فيه أربع ركعات ثم أهل في المسجد فسمعه الذين كانوا في المسجد فقالوا أهل من المسجد فاهل حين ركب راحلته فقال الذي عند المسجد أهل حين استوت به راحلته ثم لما استوى على البيداء أهل فسمعه الذين على البيداء فقالوا أهل من البيداء و صدقوا كلهم

حضرت جعفر بن حمزہ بن ابو داؤد مازنی اپنے والد سے ‘وہ ابو داؤد مازنی سے کہ حضرت ابوداؤد بدری ہیں‘وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ‘ذی الحلیفہ کی مسجد میں داخل ہوئے‘آپ نے وہاں چار رکعتیں پڑھیں‘آپ نے مسجد میں تلبیہ پڑھا ‘جو لوگ مسجد میں تھے اُنہوں نے سنا اُنہوں نے کہا: آپ نے مسجد سے تلبیہ پڑھنا شروع فرمایا‘ لیکن آپ نے سواری پر سوار ہوتے وقت تلبیہ پڑھا۔ پس جو مسجد کے پاس تھے ‘اُنہوں نے کہا: آپ نے سواری پر سیدھے بیٹھ کر تلبیہ پڑھا ‘جب بیداء کے مقام پر پہنچے تو لوگوں نے کہا: آپ نے بیداء کے مقام سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا اور ( راوی کا بیان ہے :) سب سے سچ کہا۔

أبي داود المازني و كان من أهل بدر ← أَبِيهِ ← جعفر بن حمزة بن أبي داود المازني ← اسحاق بن سعيد بن جبير ← أحمد بن موسى أبو غزية الأنصاري ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أبو بكر الأمين محمد بن أبي غياث ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و الحسين بن إسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13799

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن أبي وقاص الزهري أخو سعد من المهاجرين الاولين أستشهد يوم بدر · حديث 13800

114 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من استشهد يوم بدر من المسلمين من قريش ثم من بني زهرة عمير بن أبي وقاص

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے قریش اور بنی زھرہ سے جو بدر میں شہید کیے گئے تھے ‘اُن کے ناموں میں سے ایک نام عمیر بن ابو و قاص کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13800

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن أبي وقاص الزهري أخو سعد من المهاجرين الاولين أستشهد يوم بدر · حديث 13801

115 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحاق Y في تسمية من استشهد يوم بدر من المسلمين ثم من قريش ثم من بني زهرة بن كلاب عمير بن أبي وقاص بن أهيب بن عبد مناف بن زهرة

محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے قریش اور بنی زھرہ بن کلاب سے جو بدر میں شہید کیے گئے اُن کے ناموں میں سے ایک نام عمیر بن ابو و قاص بن اهیب بن عبد مناف بن زھرہ کا بھی ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13801

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن أبي وقاص الزهري أخو سعد من المهاجرين الاولين أستشهد يوم بدر · حديث 13802

116 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني [ ثنا محمد بن اسحاق المسيسي ] ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمة من استشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من المسلمين ثم من قريش ثم من بني زهرة عمير بن أبي وقاص

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ قریش اور بنی زھرہ میں سے جو بدر میں شہید ہوئے ‘اُن کے ناموں میں سے ایک نام عمیر بن ابو و قاص کا بھی ہے۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← محمد بن اسحاق المسيسي ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13802

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن وهب الجمحى · حديث 13803

117 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيمة عن أبي الأسود عن عروة قال Y و لما رجع المشركون الى مكة من بدر و قد قتل الله تعالى من قتلهم منهم أقبل عمير بن وهب حتى جاء الى صفوان بن أمية في الحجر فقال صفوان قبح الله العيش بعد قتلى بدر فقال عمير أجل و الله ما في العيش خير بعد و لولا دين علي لا أجد له قضاء و عيالي ورائي لا أجد لهم شيئا لدخلت على محمد فلقتله أن ملأت عيني منه فان لي عندهم علة أقول قدمت على ابني هذا الأسير ففرح صفوان بقوله فقال : علي دينك و عيالك أسوة عيالي في التفقه أن يسعني شيء و نعجز عنهم فحمله صفوان و جهزه بسيف صفوان فصقل وسم و قال عمير لصفوان أكتمني ليالي فاقبل عمير حتى قدم المدينة فنزل باب المسجد و عقل راحلته و أخذ السيف لرسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر اليه عمر بن الخطاب و هو في نفر من الأنصار يتحدثون عن وقعة بدر و يشكرون نعمة الله فلما رأى عمر عمير بن وهب معه السيف فزع منه فقال : عندكم الكلب هذا عدو الله الذي حرش بيننا و حزرنا للقوم فقام عمر فدخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذا عمير بن وهب قد دخل المسجد معه السلاح و هو الفاجر الغادر يا رسول الله لا تأمنه قال : ( أدخله علي ) فدخل عمر و عمير و أمر أصحابه أن يدخلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يحترسوا من عمير اذا دخل عليهم فاقبل عمر بن الخطاب و عمير بن وهب فدخلا على رسول الله صلى الله عليه و سلم و مع عمر سيفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر : ( تأخر عنه ) فلما دنا منه حياه عمير أنعم صباحا و هي تحية أهل الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أكرمنا الله عز و جل عن تحيتك و جعل تحيتنا السلام و هي تحية أهل الجنة فقال عمير ان عهدك بها لحديث قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد بدلنا لله خيرا منها فما أقدمك يا عمير ؟ ) قال قدمت في أسيري عندكم فقاربوني في اسيري فانكم العشيرة و الأهل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما بال السيف في رقبتك ؟ ) فقال عمير قبحها الله من سيوف فهل أغنت عنا من شيء أنا نسيت و هو في رقبتي حين نزلت و لعمري ان لي غيرة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( أصدقني ما أقدمك ؟ ) قال ما قدمت الا في أسيري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما شرطت لصفوان بن أمية الجمحي في الحجر ؟ ) ففزع عمير و قال ما ذا اشترطت له ؟ قال : ( تحملت له بقتلي على أن يعول بنيك و يقضي دينك و الله حائل بينك و بين ذلك ) فقال عمير أشهد أنك رسول الله و أشهد أنه لا اله الا الله كنا يا رسول الله نكذبك بالوحي و بما يأتيك من السماء و ان هذا الحديث لذي كان بيني و بين صفوان في الحجر كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يطلع عليه أحد غيري و غيره ثم أخبرك الله به فآمنت بالله و رسوله و الحمد لله الذي ساقني هذا المقام ففرح المسلمون حين هداه الله و قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لخنزير كان أحب الي منه حين اطلع و لهو اليوم أحب الي من بعض بني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اجلس نواسك ) و قال : ( علموا أخاكم القرآن ) و اطلق له اسيره و قال يا رسول الله قد كنت جاهدا ما استطعت على أطفاء نور الله فالحمد لله الذي ساقني هذا المساق فلتأذن لي فالحق بقريش فادعوهم الى الاسلام لعل الله يهديهم و يستنقذهم من الهلكة فاذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فلحق بمكة و جعل صفوان يقول لقريش في مجالسهم ابشروا بفتح ينسيكم وقعة بدر و جعل يسأل كل راكب قدم من المدينة هل كان بها من حدث ؟ و كان يرجو ما قال عمير بن وهب حتى قدم عليه رجل من أهل المدينة فسأل صفوان عنه فقال قد أسلم فلقيه المشركون فقالوا قد صبأ و قال صفوان ان علي أن لا أنفعه بنفقة أبدا و لا أكلمه من رأس كلمة أبدا و قدم عليهم عمير و دعاهم الى الاسلام و نصح لهم فأسلم بشر كثير

حضرت عروہ فرماتے ہیں: اور جب مشرکین مکہ کی طرف لوٹے ‘ان میں سے قتل ہو گئے تھے جو ہو گئے تھے ‘عمیر بن وہب جمعی آیا یہاں تک کہ مقام ِحجر میں صفوان بن امیہ کے پاس بیٹھا‘کہا: زندگی اللہ نے بدمزہ کر دی بدر کے مقتولوں کے بعد (اب جینے کا مزہ نہیں ) اس نے مزید کہا: ہاں ! قسم بخدا! ان کے بعد زندگی میں بھلائی نہیں ہے‘ اگر میرے اوپر قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی صورت نہیں پاتا ہوں اور میں عیالدار ہوں‘اُن کیلئے کچھ نہیں پاتا۔ میں سوار ہو کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتا اور اُن کو قتل کر دیتا اگر میں اُن کو دیکھتا کیونکہ میرے پاس اُن کیلئے ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے میں اُن سے بات کر سکتا ہوں۔ میں کہتا کہ میں اپنے قیدی بیٹے کو چھڑانے آیا ہوں۔ اُس کی بات سن کر صفوان بہت خوش ہوا اور کہا: میرے اوپر رہا تیرا قرض اور تیرے اہل و عیال ‘یعنی خرچہ وغیرہ میں برابر ہے ‘اس سے مجھے کوئی عاجز نہیں کر سکتی۔ پس صفوان نے اُس کو سواری دی اور ساز و سامان بھی تیار کیا‘ اُس نے حکم دیا عمیر کی تلوار کو صیقل کرنے اور زہر میں بجھانے کا۔ اور عمیر نے صفوان سے کہا: چند دن میرے معاملہ کو چھپائے رکھنا۔ پس عمیر چل پڑا حتیٰ کہ مدینہ پہنچا وہ مسجد نبوی شریف کے دروازہ پر اُترا ‘اپنی سواری کو باندھا ‘اپنی تلوار کو پکڑا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ پس حضرت عمر بن خطاب نے اُس کو دیکھ لیا جبکہ وہ انصاریوں کے ایک گروہ میں تھے ‘جو واقعہ بدر کے حوالہ سے گفتگو کر رہے تھے اور اس میں اللہ کی نعمت کا تذکرہ کر رہے تھے ‘پس جب حضرت عمر نے اُسے تلوار سمیت دیکھا تو گھبرائے اور فرمایا: یہ کتا‘ یہ اللہ کا دشمن ہے جس نے بدر کے دن ہماری قوم میں پھوٹ ڈالی اور قوم کیلئے ہمیں تیوری چڑھائی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ عرض کی کہ یہ عمیر بن وہب گلے میں تلوار لٹکا کر مسجد میں داخل ہونے والا ہے وہ دھوکہ باز اور فاجر ہے‘ اے اللہ کے نبی! اس سے امن نہیں سمجھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مسجد میں داخل ہونے دو۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد سے نکل کر حضرات صحابہ سے کہا کہ سب مسجد میں آ جاؤ ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمیر سے اُن کی چوکیداری کرو ‘جب وہ اُن کے پاس آئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور عمیر بھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ‘عمیر کے پاس تلوار بھی تھی‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تھوڑی دیر آپ پیچھے ہو جائیں۔ پس جب عمیر آپ سے قریب ہوا تو اُس نے کہا: ’’انعم صباحًا‘‘ یہ زمانہ جاہلیت کا سلام تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہمیں تیرے سلام سے زیادہ عزت دی ہے اور یہ سلام وہ بنایا ہے جو جنتیوں کا سلام ہے اور وہ ہے: السلام! پس عمیر بولا: پس اس کے بدلہ تیرا زمانہ نیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بدلہ میں ہمیں بہتر عطا کیا اے عمیر ! تیرے آنے کا مقصد کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اپنے قیدیوں کے سلسلہ میں آیا ہوں ‘بے شک تم ہمارے قریبی اور اہل یہود (گھروالے)۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری گردن میں یہ تلوار کیسی ہے؟ عمیر نے کہا: تلواروں میں اللہ اُس کا بُرا کرے! کیا اس نے ہمیں کوئی نفع دیا ہے ‘نہیں ! یہ مجھے اپنے گلے میں ہی بھول گئی (اُتار کر رکھنی یاد نہ رہی )‘جب میں (بدر سے جا کر مکہ میں) اُترا ‘مجھے میری عمر کی قسم ! یہ میری غیرت کی نشانی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: مجھے سچ سچ بتا کہ تجھے کون سی چیز یہاں لائی ہے؟ اُس نے کہا کہ اپنے قیدیوں کے حوالہ سے آیا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شرط کیا ہے ( مجھے بتانا ) جو تُو نے صفوان بن امیہ سے باندھی ہے‘ حجر کے مقام پر ۔ (آپ کی یہ بات سن کر ) عمیر گھبرا گیا: میں نے اُس سے کون سی شرط باندھی ہے (یعنی کوئی نہیں باندھی ‘اگر باندھی ہے تو آپ بتا دیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو نے مقتولوں کے بدلے اُسے اس بات پر تیار کیا کہ وہ تیری اولاد کی ذمہ داری اُٹھائے اور تیرا قرض ادا کرئے حالانکہ تیرے اور اس بات کے درمیان اللہ ہے۔ عمیر نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آنے والی وحی کو جھٹلایا کرتے تھے اور جو آپ کے پاس آسمانوں سے آتا تھا۔ بے شک یہ بات تو میرے اور صفوان کے درمیان حجر کے مقام پر ہوئی تھی اور کوئی نہیں جانتا ‘بے شک یہ بات اللہ کے رسول نے بتا دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کر دیا‘پس میں اللہ اور اُس کے رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور شکر ہے اُس اللہ کا جس نے مجھے اس رستے پر چلا دیا۔ پس مسلمان اس کے ساتھ بہت خوش ہوئے ‘جب اللہ نے اُسے ہدایت بخشی۔ عمر نے کہا ہے کہ قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! خنزیر میرے نزدیک عمیر سے زیادہ پسند تھا‘ جب یہ سامنے آیا اور اب یہ مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیارا ہو گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمیر! بیٹھ جاؤ! ہم تجھ سےغمگساری کرتے ہیں۔ صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کو قر آں کی تعلیم دو اور اس کے قیدیوں کو چھوڑ دو۔ عمیر نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جب تک میری طاقت تھی‘میں نے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی ‘اب اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ راستہ چلایا اور مجھے ہدایت دی مجھے اجازت دیں ‘میں قریش سے جاملوں اور اُنہیں اللہ اور اسلام کی دعوت دوں‘ شاید اللہ اُن کو ہدایت دے اور ہلاکت سے بچالے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ہدایت دے اور ہلاکت سے بچالے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اجازت دے دی ‘وہ مکہ والوں سے جا کر ملے جبکہ اُدھر صفوان بن اُمیہ نے قریش کی محفلوں میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ تمہیں ایسی فتح کی خوشخبری ہو جو تمہیں بدر بھلا دے گی اور ہر آنے والے سوار سے سوال کرنے لگا جو بھی مدینہ سے آتا ‘کیا وہاں کوئی حادثہ ہوا ہے اور اُسے اُمید تھی اس بات کی جو اُس نے کہی ‘یہاں تک کہ مدینہ سے ایک آدمی اُن کے پاس آیا تو صفوان بن امیہ نے اُس سے عمیر کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ وہ تو مسلمان ہو گیا ہے اور اُس نے تمام مشرکین پر لعنت بھیج دی ہے۔ ان سب لوگوں نے کہا کہ وہ بے دین ہو گیا ہے اور صفوان نے کہا کہ بے شک اللہ کے لیے مجھ پر یہ بات لازم ہوئی کہ میں اُسے کسی قسم کے خرچی کے ذریعے نفع نہ دوں گا اور میں اپنے سر سے اُس کے ساتھ ہمیشہ کلام بھی نہیں کروں گا‘ اُن کے پاس حضرت عمیر بھی آگئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا اور اُن کو بہت زیادہ نصیحت کی اور بہت سارے لوگ مسلمان ہو گئے۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابن لهيمة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13803

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن وهب الجمحى · حديث 13804

118 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحاق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير قال Y جلس عمير بن وهب الجمحي مع صفوان بن أمية بعد مصاب أهل بدر من قريش في الحجر بيسير و كان ممن يؤذي رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحابه و يلقون منه عنتا اذ هم بمكة و كان ابنه وهب بن عمير في أساري أصحاب بدر قال : فذكروا أصحاب القليب بمصائبهم فقال صفوان و الله ان في العيش بعدهم و قال عمير بن وهب : صدقت و الله و لولا دين علي ليس عندي قضاءه و عيال أخشى عليهم الضيعة بعدي لركبت الى محمد حتى أقتله فان لي فيهم علة ابني عندهم أسير في أيديهم فاغتنمها صفوان بقوله فقال : علي دينك و عيالك مع عيالي أسوتهم ما بقوا لا يسعهم شيء نعجز عنهم قال عمير اكتم علي شأني و شأنك قال أفعل قال : ثم أمر عمير بسيفه فشحذ وسم ثم انطلق الى المدينة فبينا عمر بن الخطاب بالمدينة في نفر من المسلمين يتذاكرون يوم بدر و ما أكرمهم الله به و ما أراهم من عدوهم اذ نظر الى عمير بن وهب قد أناخ بباب المسجد متوشح السيف فقال : هذا الكلب عدو الله ما جاء الا لشرهذا الذي حرش بيننا و حزرنا للقوم يوم بدر فقام عمر فدخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذا عمير بن وهب قد دخل المسجد معه السلاح و هو الفاجر الغادر يا رسول الله لا تأمنه قال : ( أدخله علي ) فدخل عمر و عمير و أمر أصحابه أن يدخلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يحترسوا من عمير اذا دخل عليهم فاقبل عمر بن الخطاب و عمير بن وهب فدخلا على رسول الله صلى الله عليه و سلم و مع عمر سيفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر : ( تأخر عنه ) فلما دنا منه حياه عمير أنعم صباحا و هي تحية أهل الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أكرمنا الله عز و جل عن تحيتك و جعل تحيتنا السلام و هي تحية أهل الجنة فقال عمير ان عهدك بها لحديث قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد بدلنا لله خيرا منها فما أقدمك يا عمير ؟ ) قال قدمت في أسيري عندكم فقاربوني في اسيري فانكم العشيرة و الأهل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما بال السيف في رقبتك ؟ ) فقال عمير قبحها الله من سيوف فهل أغنت عنا من شيء أنا نسيت و هو في رقبتي حين نزلت و لعمري ان لي غيره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( أصدقني ما أقدمك ؟ ) قال ما قدمت الا في أسيري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما شرطت لصفوان بن أمية الجمحي في الحجر ؟ ) ففزع عمير و قال ما ذا اشترطت له ؟ قال : ( تحملت له بقتلي على أن يعول بينك و يقضي دينك و الله حائل بينك و بين ذلك ) فقال عمير أشهد أنك رسول الله و أشهد أنه لا اله الا الله كنا يا رسول الله نكذبك بالوحي و بما يأتيك من السماء و ان هذا الحديث لذي كان بيني و بين صفوان في الحجر كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يطلع عليه أحد غيري و غيره ثم أخبرك الله به فآمنت بالله و رسوله و الحمد لله الذي ساقني هذا المقام ففرح المسلمون حين هداه الله و قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لخنزير كان أحب الي منه حين اطلع و لهو اليوم أحب الي من بعض بني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اجلس نواسك ) و قال : ( علموا أخاكم القرآن ) و اطلق له اسيره و قال يا رسول الله قد كنت جاهدا ما استطعت على أطفاء نور الله فالحمد لله الذي ساقني هذا المساق فلتأذن لي فالحق بقريش فادعوهم الى الاسلام لعل الله يهديهم و يستنقذهم من الهلكة فاذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فلحق بمكة و جعل صفوان يقول لقريش في مجالسهم ابشروا بفتح ينسيكم وقعة بدر و جعل يسأل كل راكب قدم من المدينة هل كان بها من حدث ؟ و كان يرجو ما قال عمير بن وهب حتى قدم عليه رجل من أهل المدينة فسأل صفوان عنه فقال قد أسلم فلقيه المشركون فقالوا قد صبأ و قال صفوان ان علي أن لا أنفعه بنفع أبدا و لا أكلمه من رأس كلمة أبدا فلما قدم عمير مكة أقام بها يدعو الى الاسلام و يؤذي من يخالفه اذى شديدا فأسلم على يديه ناس كثير

حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں: عمیر بن وہب جمحی‘ صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر کے مقام پر تھوڑی دیر بیٹھا ‘بعد اس کے کہ بدر والے قریشیوں مصیبت پہنچ چکی تھی اور اس کا تعلق بھی ان لوگوں سے تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو تکلیفیں پہنچایا کرتا تھا اور ان پر سختی کرتا تھا‘جب وہ مکہ میں تھے اور اس کا بیٹا وہب بن عمیر ‘بدر والوں کے قیدیوں میں تھا۔ راوی کا بیان ہے انہوں نے کنویں والوں کی مصیبت کا ذکر کیا ۔ صفوان نے کہا قسم بخدا! ان کے بعد زندگی میں کچھ لطف نہیں رہا۔ عمیر نے کہا: تو نے سچ کہا ‘قسم بخدا! اگر میرے اوپر قرض نہ ہوتا‘جس کو ادا کرنے کیلئے میرے پاس کچھ نہیں اور اہل و عیال نہ ہوتے جن پر اپنے بعد مجھے نقصان کا ڈر ہے تو میں سوار ہو کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتا یہاں تک کہ ان کو قتل کرتا‘ کیونکہ میرے پاس ان کیلئے ایک بہانہ ہے ‘میرا بیٹا ان کے پاس قیدی ہے ان کے ہاتھوں میں ۔ پس صفوان نے اسے موقعہ غنیمت شمار کیا اور کہا: تیرا قرض میرے ذمے ہو گیا‘ تیری طرف سے میں ادا کروں گا۔ تیرے اہل وعیال ‘میرے اہل وعیال کے ساتھ مل کر کھائیں گے جب تک وہ زندہ ہیں‘ان کا خرچہ (میں کروں گا )کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں جو مجھے یہ کام سرانجام دینے سے عاجز کر سکے۔ عمیر نے کہا: میرا اور اپنا معاملہ ابھی (لوگوں سے ) چھپا کر رکھنا۔ اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔ راوی کا بیان ہے : پھر عمیر نے اپنی تلوار کو تیز کرنے اور اسے زہر میں بجھانے کا حکم دیا ‘اسے تیز کیا گیا اور اسے زہر میں بجھایا گیا‘پھر وہ مدینہ کی طرف چلا۔ پس اسی دوران حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ایک گروہ میں موجود تھے جو بدر کے دن کے حوالے سے مذاکرہ کر رہے تھے اور اللہ نے جو ان کو عزت دی اور جو دشمن کے حوالے سے بات ان کے سامنے آئی ‘جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ اچانک عمیر بن وہب پر پڑی تو اس نے مسجد ’’نبوی شریف کے دروازے پر اپنی سواری کو بٹھایا ‘تلوار لٹکائے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: یہ کتا ‘یہ اللہ کا دشمن بدر کے دن جس نے ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور اپنی قوم کی وجہ سے ہم پر تیوری چڑھائی۔ یہ عمیر بن وہب کسی شرارت کیلئے ہی آیا ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب آیا ہے ‘گلے میں تلوار ڈالے ہوئے ہیں۔ فرمایا: اسے لے آؤ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے یہاں تک کہ اس کی تلوار کی نیام سے پکڑ جو اس کے گلے میں تھی اور اس کو وہیں روک لیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ والے انصاری صحابہ سے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچو اور ان کے پاس (قریب ہو کر )بیٹھ جاؤ اور اس کتے سے ان کی حفاظت کرو کیونکہ اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پھر اس کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ حضرت عمر اس کی تلوار کو نیام سے پکڑے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر ! اسے چھوڑ دو ‘اے عمیر ! تُو میرے قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہوا ‘اس نے سلام کرتے ہوئے کہا: ’’انعموا صباحًا‘‘ زمانہ جاہلیت میں یہ ان لوگوں کا آپس میں سلام ہوا کرتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت دی ہے ایسے سلام کے ساتھ جو تیرے سلام سے بہتر ہے ‘اے عمیر ! السلام ‘جنتوں کا سلام ہے۔ اس نے جواب دیا: اے محمد ! تیرا زمانہ نیا ہے۔ فرمایا: تجھے کون سی چیز لائی ہے؟ اس نے کہا: میں اس قیدی کی خاطر آیا ہوں جو تمہارے ہاتھوں (قبضے) میں ہے‘پس تم اس سے احسان کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے گلے میں تلوار کیسی ہے؟ اس نے کہا: اللہ اس کا بُرا کرے‘ یہ کوئی تلواروں میں سے تلوار ہے اور تلواروں نے ہمیں ( بدر کے دن) فائدہ کیا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ سچ بول (پورا پورا تول ) وہ چیز کیا ہے جو تجھے لائی ہے؟ اس نے کہا: پس میں صرف اسی کام کیلئے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو حجر کے مقام پر صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھا ‘اس کے بعد تم دونوں نے کنویں والے قریشیوں کا ذکر کیا۔ تُو نے کہا: اگر میرے اوپر قرض نہ ہوتا۔ اور میرے اہل وعیال نہ ہوتے تو میں ضرور نکلتا یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیتا۔ پس صفوان نے تیرے لیے تیرق قرض اور تیرے اہل وعیال کا ذمہ اُٹھایا اس شرط پر کہ تُو مجھے شہید کرے گا اور (اس وقت) تیرے اور اس بات کے درمیان صرف اللہ تھا۔ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘اے اللہ کے رسول ! ہم پر اُترنے والی وحی کو جھٹلایا کرتے تھے ‘ساتھ وہ باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے ہمارے پاس لایا کرتے تھے اور جو آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ‘یہ ایک ایسا معاملہ و کام ہے جہاں میں اور صفوان صرف دو ہی فرد حاضر تھے ‘میں یقین کرتاہوں کہ آپ کو اس بات پر اللہ نے آگاہ فرمایا ہے ‘پس اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے ہدایت کی راہ دکھائی‘ اسلام کی طرف اور مجھے اس راستے پر چلایا۔ پھر اس نے سچی (یا حق کی )گواہی دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کو دین سمجھاؤ (اے میرے صحابہ!) اس کو قرآن پڑھاؤ اوراس کے قیدی کو آزاد کر دو۔ پھر اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں نے بھر پور کوشش کی کہ اللہ کا نور بجھ جائے اور ہر وہ آدمی جو اللہ کے دین پر ہے اسے سخت تکلیفیں دیں ‘اب مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں۔ میں مکہ جا کر مکہ والوں کو اللہ اور اسلام کی طرف بلاؤں‘ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا کر دے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ آگئے۔ ادھر صفوان کی حالت یہ تھی کہ عمیر بن وہب جب ( مکہ سے) نکلا تو اس نے قریش سے کہا: تمہیں بشارت ہو کہ ایک ایسے واقعہ کی جس کی خبر ابھی تمہارے پاس آنے والی ہے ‘جو تمہیں واقعہ بدر بھلا دے گا۔ صفوان (مدینے سے آنے والے ) قافلوں سے اس (عمیر) کے بارے سوال کرتا تھا یہاں تک کہ ایک سوار آیاجس نے اسے اس (عمیر) کے اسلام لانے کی خبر دی۔ پس اس نے قسم اُٹھائی کہ وہ کبھی بھی اس سے بات نہیں کرے گا اور اسے کوئی نفع نہیں پہنچائے گا۔ پس جب حضرت عمیر مکہ آئے تو وہیں مقیم ہو گئے ۔ اسلام کی طرف دعوت دینے لگے اور آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین کو سخت تکلیف ہونے لگی‘ پس ان کے ہاتھ پر بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے۔

مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13804

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن وهب الجمحى · حديث 13805

119 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن اسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب قال Y و لما رجع المشركون الى مكة و قد قتل الله عز و جل من قتل منهم أقبل عمير بن وهب الجمحي حتى جلس الى صفوان بن أمية في الحجر فقال قبح الله العيش بعد قتلى بدر قال أجل و الله ما في العيش خير بعدهم و لولا دين علي لا أجد له قضاء و عيالي ورائي لا أجد لهم شيئا لرحلت الى محمد فلقتله أن ملأت عيني منه فان لي عندهم علة أقول قدمت على ابني هذا الأسير ففرح صفوان بقوله فقال : علي دينك و عيالك أسوة عيالي في التفقه أن يسعني شيء و نعجز عنهم فحمله صفوان و جهزه بسيف صفوان فصقل وسم و قال عمير لصفوان أكتمني ليالي فاقبل عمير حتى قدم المدينة فنزل باب المسجد و عقل راحلته و أخذ السيف لرسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر اليه عمر بن الخطاب و هو في نفر من الأنصار يتحدثون عن وقعة بدر و يشكرون نعمة الله فلما رأى عمر عمير بن وهب معه السيف فزع منه فقال : عندكم الكلب هذا عدو الله الذي حرش بيننا و حزرنا للقوم فقام عمر فدخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذا عمير بن وهب قد دخل المسجد معه السلاح و هو الفاجر الغادر يا رسول الله لا تأمنه قال : ( أدخله علي ) فدخل عمر و عمير و أمر أصحابه أن يدخلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يحترسوا من عمير اذا دخل عليهم فاقبل عمر بن الخطاب و عمير بن وهب فدخلا على رسول الله صلى الله عليه و سلم و مع عمر سيفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر : ( تأخر عنه ) فلما دنا منه حياه عمير أنعم صباحا و هي تحية أهل الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أكرمنا الله عز و جل عن تحيتك و جعل تحيتنا السلام و هي تحية أهل الجنة فقال عمير ان عهدك بها لحديث قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد بدلنا لله خيرا منها فما أقدمك يا عمير ؟ ) قال قدمت في أسيري عندكم فقاربوني في اسيري فانكم العشيرة و الأهل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما بال السيف في رقبتك ؟ ) فقال عمير قبحها الله من سيوف فهل أغنت عنا من شيء أنا نسيت و هو في رقبتي حين نزلت و لعمري ان لي غيره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( أصدقني ما أقدمك ؟ ) قال ما قدمت الا في أسيري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما شرطت لصفوان بن أمية الجمحي في الحجر ؟ ) ففزع عمير و قال ما ذا اشترطت له ؟ قال : ( تحملت له بقتلي على أن يعول بينك و يقضي دينك و الله حائل بينك و بين ذلك ) فقال عمير أشهد أنك رسول الله و أشهد أنه لا اله الا الله كنا يا رسول الله نكذبك بالوحي و بما يأتيك من السماء و ان هذا الحديث لذي كان بيني و بين صفوان في الحجر كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يطلع عليه أحد غيري و غيره ثم أخبرك الله به فآمنت بالله و رسوله و الحمد لله الذي ساقني هذا المقام ففرح المسلمون حين هداه الله و قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لخنزير كان أحب الي منه حين اطلع و لهو اليوم أحب الي من بعض بني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اجلس نواسك ) و قال : ( علموا أخاكم القرآن ) و اطلق له سيره و قال يا رسول الله قد كنت جاهدا ما استطعت على أطفاء نور الله فالحمد لله الذي ساقني هذا المساق فلتأذن لي فالحق بقريش فادعوهم الى الاسلام لعل الله يهديهم و يستنقذهم من الهلكة فاذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فلحق بمكة و جعل صفوان يقول لقريش في مجالسهم ابشروا بفتح ينسيكم وقعة بدر و جعل يسأل كل راكب قدم من المدينة هل كان بها من حدث ؟ و كان يرجو ما قال عمير بن وهب حتى قدم عليه رجل من أهل المدينة فسأل صفوان عنه فقال قد أسلم فلقيه المشركون فقالوا قد صبأ و قال صفوان ان علي أن لا أنفعه بنفقة أبدا و لا أكلمه من رأس كلمة أبدا و قدم عليهم عمير و دعاهم الى الاسلام و نصحهم جهدهم وأسلم بشر كثير

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: اور جب مشرکین ‘مکہ کی طرف لوٹے تو ان میں سے قتل ہو گئے تھے جو ہو گئے تھے۔ عمیر بن وہب جمعی آیا یہاں تک کہ مقامِ حجر میں صفوان بن امیہ کے پاس بیٹھا ‘کہا: زندگی ‘اللہ نے بدمزہ کردی‘ بدر کے مقتولوں کے بعد اب جینے کا مزہ نہیں ) اس نے مزید کہا: ہاں !قسم بخدا! ان کے بعد زندگی میں بھلائی نہیں ہے ‘اگر میرے اوپر قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی صورت نہیں پاتا ہوں اور میں عیالدار ہوں جن کیلئے کوئی چیز نہیں پاتا ہوں‘تو میں سوار ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتا اور ان کا کام تمام کر دیتا‘ اگر میں ان کو دیکھتا کیونکہ میرے لیے ان کے پاس ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے میں بات ان سے کر سکتا ہوں۔ میں کہتا: میں اپنے ان قیدی بچوں کو چھڑانے آیا ہوں‘ اس کی بات سن کر صفوان خوش ہوا اور کہا: میرے اوپر رہا تیرا قرض اور تیرے اہل و عیال‘ یعنی خرچہ میں میرے عیال کی تکلیف برابر ہوگی‘ کوئی چیز مجھے اس سے عاجز نہیں کرسکتی ۔پس صفوان نے اس کو سواری دی ساز و سامان بھی کیا‘ اس نے عمیر کی تلوارکو صیقل کرنے اور اسے زہر میں بجھانے کا حکم دیا۔ اور عمیر نے صفوان سے کہا: چند دن میرے معاملے کو چھیائے ر کھنا۔ پس عمیر چل پڑا حتیٰ کہ مدینے پہنچا‘ پس وہ مسجد نبوی شریف دروازے پر (اپنی سواری سے) اُتر ا اپنی سواری کو باندھا اپنی تلوار پکڑا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ پس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ نے ان کو دیکھ لیا جبکہ وہ انصاریوں کے ایک گروہ میں تھے جو واقعہ بدر کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے اور اس میں اللہ کی نعمت کا تذکرہ کر رہے تھے۔ پس جب حضرت رضی عنہ اسے تلوار سمیت دیکھا تو گھبرائے اور فرمایا: یہ کتا‘اللہ کا دشمن ہے ‘جس نے بدر کے دن ہمارے درمیان پھوٹ ڈالی اور قوم کیلئے ہمیں تیوری چڑھائی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ‘عرض کی: یہ عمیر بن وہب مسجد میں تلوار گلے سے لٹکا کر داخل ہونے والا ہے ‘وہ دھوکے باز اور فاجر ہے‘ اے اللہ کے نبی! اس سے امن نہیں سمجھنا چاہیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مسجد میں داخل ہونے دو۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر حضرات صحابہ سے کہا: آؤ سارے مسجد میں آجاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر عمیر سے ان کی چوکیداری کرو ‘جب وہ ان کے پاس آئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور عمیر بھی یہاں تک کہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے۔ عمیر کے پاس تلوار بھی تھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تھوڑی دیر آپ پیچھے ہو جائیں۔ پس جب عمیر آپ سے قریب ہوا تو اس نے کہا: ’’انعموا صباحا ً‘‘یہ زمانہ جاہلیت کا سلام ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے تیرے سلام سے ہمیں زیادہ عزت دی ہے اور ہمارا سلام وہ بنایا ہے جو جنتیوں کا سلام ہے اور وہ ہے: السلام۔ پس عمیر بولا: بے شک اس کے بدلے تیرا وعدہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بہتر بدلہ دیا ہے ‘اے عمیر ! تیرے آنے کا مقصد کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اپنے قیدیوں کے سلسلہ میں آیا ہوں ‘بے شک تم ہمارے قریبی اور اہل (گھر والے) ہو ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری گردن میں یہ تلوار کیسی ہے؟ عمیر نے کہا: تلواروں میں اس کا اللہ بُرا کرے! کیا اس نے ہمیں کوئی نفع دیا ہے ‘نہیں ! یہ مجھے اپنے گلے میں ہی بھول گئی (اتار کر رکھی یاد ہی نہ رہی )‘جب میں (بدر سے جا کر مکہ میں) اترا۔ مجھے میری عمر کی قسم ! یہ میری غیرت کی نشانی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سچ سچ بتا! کون سی چیز تجھے لائی ہے؟ اس نے کہا: پس اپنے قیدی کے حوالے سے آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شرط کیا ہے (ذرا بتانا ) ‘جو تُو نے صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر کے مقام پر باندھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ) عمیر گھبرا گیا اور کہا: میں نے اس سے کون سی شرط باندھی ہے؟ (یعنی کوئی شرط نہیں باندھی ہے ‘اگر باندھی ہے تو وہ آپ ہی بتا دیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو نےمقتولوں کے بدلے اسے اس بات پر تیار کیا کہ وہ تیری اولاد کی ذمہ داری اُٹھائے اور تیرا قرض ادا کرے حالانکہ تیرے اور اس بات کے درمیان اللہ ہے۔ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں‘ اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کے پاس آنے والی وحی کو جھٹلایا کرتے تھے اور جو آپ کے پاس آسمانوں سے آتا تھا‘بے ک یہ بات تو صرف میرے اور صفوان کے درمیان حجر کے مقام پر ہوئی تھی‘ جس طرح اللہ کے رسول نے بتادی ہے ‘میرے اور اس کے علاوہ اس بات کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے آگاہ کر دیا ‘پس میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس رستے پہ چلا ہے۔ پس مسلمان اس کے ساتھ بہت خوش ہوئے ‘جب اللہ نے اسے ہدایت بخشی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! خنزیر میرے نزدیک عمیر سے زیادہ پسند تھا‘جب یہ سامنے آیا اور اب یہ مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیارا ہو گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمیر! بیٹھ جاؤ! ہم تجھ سے غمگساری کرتے ہیں۔ اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کو قرآن کی تعلیم دو اور اس کے قیدیوں کو چھوڑ دو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! جہاں تک میری طاقت تھی میں نے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی لیکن (اب) اللہ کا شکر ہے‘ جس نے مجھے یہ راستہ چلایا اور مجھے ہدایت دی ‘مجھےاجازت دیں کہ میں قریش سے جاملوں اور انہیں اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں کہ شاید اللہ انہیں ہدایت دے اور ان کو ہلاکت سے بچا لے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ والوں سے جا کر ملے جبکہ (اُدھر ) صفوان بن امیہ نے قریش کی مجلسوں میں کہنا شروع کر دیا کہ تمہیں ایک ایسی فتح کی خوشخبری ہو جو تم کو لوگوں کو بدر کا واقعہ بھلا دے گی اور ہر آنے والے سوار سے سوال کرنے لگا جو بھی مدینہ سے آتا: کیا وہاں کوئی حادثہ ہوا ہے؟ اور اسے اُمید تھی اس بات کی جو اس نے کہی۔ یہاں تک کہ مدینہ سے ایک آدمی ان کے پاس آیا تو صفوان بن امیہ نے اس (عمیر) کے بارے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ وہ تو مسلمان ہو گیا ہے اور اس نے تمام مشرکین پر لعنت بھیج دی ہے۔ ان سب لوگوں نے کہا: وہ بے دین ہو گیا ہے ‘اور صفوان نے کہا: بے شک اللہ کیلئے مجھ پر یہ بات لازم ہوئی کہ اب میں اسے کسی قسم کے خرچہ کے ذریعے نفع نہ دوں گا اور میں اپنے سر سے اس کے ساتھ ہمیشہ کلام بھی نہیں کروں گا۔ ان کے پاس حضرت عمیر بھی آگئے آپ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا اور ان کو بہت زیادہ نصیحت کی اور بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13805

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن وهب الجمحى · حديث 13806

120 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن سهل بن عسكر ثنا عبد الرزاق أنا جعفر بن سليمان عن ابي عمران الجوني لا أعلمه الا عن أنس بن مالك قال Y كان وهب بن عمير شهد أحدا كافرا فاصابته جراحة فكان في القتلى فمر به رجل من الأنصار فعرفه فوضع سيفه في بطنه حتى خرج من ظهره ثم تركه فلما دخل الليل و أصابه البرد لحق بمكة فبرأ فاجتمع هو و صفوان بن أمية في الحجر فقال وهب لولا عيالي و دين علي لأحببت أن أكون أنا الذي أقتل محمدا فقال له صفوان فكيف تصنع ؟ فقال أنا رجل جواد لا الحق آتيه فاغتره ثم اضربه بالسيف فالحق بالخيل و لا يلحقني أحد فقال له صفوان فعيالك مع عيالي و دينك علي فخرج يشحذ سيفه و سمه ثم خرج الى المدينة لا يريد الا قتل النبي صلى الله عليه و سلم فلما قدم المدينة رآه عمر بن الخطاب فهاله ذلك و شق عليه فقال لأصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : اني رأيت وهبا فرابني قدومه و هو رجل غادر فاطيفوا نبيكم فاطاف المسلمون بالنبي صلى الله عليه و سلم فجاء وهب فوقف على النبي صلى الله عليه و سلم فقال أنعم صباحا يا محمد قال : ( قد بدلنا لله خيرا منها ) قال عهدي بك تحدث بها و أنت معجب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما أقدمك ؟ ) قال جئت أفدي اساراكم قال : ( ما بال السيف ؟ ) قال اما انا قد حملناها يوم بدر فلم نفلح و لم ننجح قال : ( فماشيء قلت لصفوان بن أمية الجمحي في الحجر لولا عيالي و دين علي لكنت أنا الذي أقتل محمدا بنفسي ) فأخبره النبي صلى الله عليه و سلم خبره فقا ل وهب هاه كيف قلت ؟ فأعاد عليه قال وهب قد كنت تخبرنا خبر أهل الأرض فنكذبك فاراك تخبر خبر أهل السماء أشهد أن لا اله الا الله و أنك رسول الله قال يا رسول الله اعطني عمامتك فأعطاه النبي صلى الله عليه و سلم عمامته ثم خرج الى مكة فقال عمر : لقد قدم و انه لأبغض الي من الخنزير ثم رجب و هو أحب الي من بعض ولدي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:وہب بن عمیر اُحد میں حاضر ہوا اس حال میں کہ وہ کا فر تھا ‘پس اس کو زخم لگا ‘( بظاہر ) وہ مقتولوں میں تھا‘ پس اس کے پاس سے ایک انصاری گزرا ‘اُس نے اسے پہچان لیا‘اس نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر پیٹھ سے پار کر دی اور پھر اسے چھوڑ دیا‘پس جب رات ہوئی اور اسے سردی لگی تو وہ مکہ جا پہنچا۔ پس اس کا زخم (اللہ کی قدرت سے ) ٹھیک ہو گیا۔ پس وہ اور صفوان‘ حجر کے مقام پر اکٹھے ہوئے۔ وہب نے کہا: اگر میرے اہل وعیال نہ ہوتے اور مجھ پر قرض نہ ہوتا تو مجھے پسند تھا کہ میں ہی وہ آدمی ہوتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرتا۔ پس صفوان نے اسے کہا: پس تُو کیسے یہ کام کرتا ؟ اس نے کہا: میں ایک سخی آدمی ہوں ‘پیچھے رہنے والا نہیں ہوں‘میں ان کے پاس جا کر ان کو دھوکہ دے کر اپنی تلوار مارتا۔ پس گھوڑوں (کے قافلہ ) سے مل جاتا اور پیچھے سے کوئی مجھے نہیں مل سکتا۔ پس صفوان نے اس سے کہا: پس تیرے اہل وعیال میرے اہل وعیال کے ساتھ ہوئے اور تیرا قرض میرے ذمہ ہوا ‘پس وہ اپنی تلوار تیز کرنے اور زہر میں بجھانے کیلئے نکلا (اس نے تلوار کو خوب تیز کیا اور زہر آلود کیا )۔ پھر وہ مدینہ کی طرف نکلا ‘ارادہ صرف یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرے گا۔ پس جب وہ مدینہ پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا‘ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی اہانت کی اور (اس کا آنا )ان پر گراں گزرا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے کہا: بے شک میں نے وہب کو دیکھا ہے ‘اس کا آنا مجھے شک میں ڈالتا ہے کہ وہ ایک فریبی آدمی ہے ‘پس تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ہو جاؤ ۔ پس سارے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ہو گئے‘ پس وہب آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر یوں سلام کے الفاظ کہے:’’ انعم صباحًا یا محمد “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بہتر کلمات عطا فرمائے ہیں۔ اس نے کہا: آپ کے ساتھ میرا وعدہ ہے جس کی تجدید کرنی ہے‘ آپ تعجب کر رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا چیز لائی ہے؟ اس نے کہا: میں تمہارے (ہاتھوں میں )قیدیوں کا فدیہ دینے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار کیسی ہے؟ اس نے جواب دیا: بہر حال ہم نے بدر کے دن تلواریں حمائل کیں لیکن ہم کامیاب نہ ہوئے اور نہ نجات پائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا بات تھی جو تُو نے حجر کے مقام پر صفوان سے کہی ؟ اگر میرے کہی؟ اہل وعیال اور میرا قرض میرے سر نہ ہوتا تو میں ہی وہ آدمی ہوتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرتا ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی ساری خبر بتادی۔ پس وہب کی زبان سے صرف ’’ھاه‘‘ کا کلمہ نکلا ( اور مزید کہا: ) آپ نے (یہ بات )کیسے کہہ دی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوبارہ بات بتا دی تو وہب نے کہا: آپ ہمیں زمین والوں کی خبریں بتایا کرتے تھے تو ہم آپ کو جھٹلاتے تھے‘ میرا خیال ہے کہ آپ ہمیں آسمان والوں کی خبریں دے رہے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنا عمامہ عطا فرمائیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنا عمامہ دے دیا ‘پھر وہ مکہ کی طرف نکلا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: یقیناً یہ آیا تھا تو میرے نزدیک خنزیر سے زیادہ نفرت کے لائق تھا اور پھر لوٹا تو حال یہ ہے کہ مجھے میری اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابي عمران الجوني لا أعلمه الا ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13806

chevron_left Previous
1…91011…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter