المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمير بن سعد الأنصاري أخبار عمير بن سعد · حديث 13795
109 - حدثنا محمد بن الروبال الادمي الشيرازي ثنا محمد بن حكيم الشيرازي ثنا محمد بن حكيم الرازي ثنا عبد الملك بن هارون بن عنترة حدثني أبي عن جدي عن عمير بن سعد قال Y بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه عمير بن سعد عاملا على حمص فمكث حولا لا يأتيه خبر فقال عمر لكاتبه اكتب الى عمير : فوالله ما أراه الا قد خاننا فاذا جاءك كتابي هذا فأقبل و أقبل بما جبيت من المسلمين حين تنظر في كتابي هذا قال : فأخذ عمير جرابه فجعل فيه زاده و قصعته و علق أدواته و أخذ عنزته ثم أقبل يمشي من حمص حتى دخل الى المدينة قال : فقدم و قد شحب لونه و اغبر وجهه و طالت شعرته فدخل على عمر فقال : ( السلام عليك يا أمير المؤمنين و رحمة الله فقال عمر : ما شأنك ؟ فقال عمير ما ترى شأني ألست تراني صحيح البدن طاهر الدم معي الدنيا أجرها بقرنها قال : و ما معك ؟ فظن عمر أنه قد جاء بمال فقال معي جرابي اجعل فيه زادي و قصعتي آكل و اغتسل فيها رأسي و ثيابي و أدواتي أحمل فيها وضوئي و شرابي و عنزتي أتوكأ عليها و اجاهد بها عدوا ان عرضني فوالله ما الدنيا الا تبع لمتاعي فقال عمر : فجئت تمشي ؟ قال نعم قال عمر أما كان لك أحد يتبرع لك بداية تركبها قال ما فعلوا و ما سألتهم ذلك قال : بئس المسلمون خرجت من عندهم فقال له عمير اتق الله يا عمر فقد نهاك عن الغيبة رأيتهم يصلون صلاة الغداة قال : فأين نصيبك و أي شيء صنعت ؟ فقال و ما سؤالك يا أمير المؤمنين ؟ فقال عمر سبحان الله فقال عمير أما اني لولا أني أخشى ان أغمك ما أخبرتك بعثتني حتى أتيت البلد فجمعت صلحاء أهلها فوليتهم جباية فيئهم حتى اذا جمعوا منهم وضعته مواضعه و لونالك منه شيء لأتيتك به قال : فما جئتنا بشيء ؟ قال لا قال : اجدوا لعميرا عهدا قال ان ذلك لشيء لا عملت لك و لا لأحد بعدك و الله ما سلمت بل أسلم و لو قلت لنصراني أي أخزاك الله فهذا ما عرضني له يا عمر و ان أشقى أيامي يوم حلفت معك يا عمر فاستأذنه فاذن له فرجع الى منزله قال و بينه و بين المدينة أميال فقال عمر حين انصرف عمير ما أراه الا خاننا فبعث رجلا يقال له الحارث و أعطاه مائة دينار فقال له : انطلق حتى تنزل به كأنك ضيف فان رأيت أثر شيء فأقبل و ان رأيت حالا شديدة فادفع اليه هذه المائة دينارا فانطلق الحارث فاذا هو بعمير جالس يغلي قميصه الى جنب الحائط فسلم عليه الرجل فقال له عمير انزل رحمك الله فنزل ثم سأله فقال من أين جئت ؟ قال من المدينة قال كيف تركت أمير المؤمنين ؟ قال صالحا قال كيف تركت المسلمين ؟ قال صالحين [ قال كيف تركت أمير المؤمنين ؟ قال صالحا قال أليس يقيم الحدود ؟ قال بلى ضرب ابنا له أتى فاشة فمات من ضربه فقال عمير : اللهم اعن عمر فاني لا أعلمه الا شديدا حبه لك قال فنزل ثلاثة أيام و ليس لهم الا قرصة من شعير كانوا يخصونه بها و يطوون حتى أتاهم الجهد فقال له عمير يا هذا انك قد أجعتنا فان رأيت أن تتحول عنا فافعل قال : فأخرج الدنانير فدفعها اليه فقال بعث بها اليك أمير المؤمنين فاستعن بها قال فصاح فقال لا حاجة لي فيها ردها فقالت له امرأته ان احتجت البها والا فضعها مواضعها فقال عمير و الله مالي شيء اجعلها فيه فشقت امرأته أسفل درعها فأعطته خرقة فجعلها فيها ثم خرج فقسمها على أبناء الشهداء و الفقراء ثم رجع و الرسول يظن أنه يعطيه منها شيئا فقال له عمير اقرئ مني لأمير المؤمنين السلام فرجع الحارث الى عمر فقال ما رأيت ؟ فقال رأيت يا أمير المؤمنين حالا شديدة قال فما صنع بالدنانير ؟ قال : لا أدري قال : و كتب اليه عمر : اذا جاءك كتابي هذا فلا تضعه من يدك حتى تقبل فأقبل الى عمر حتى دخل عليه فقال له عمر : ما صنعت بالدنانير قال صنعت ما صنعت فما سؤالك عنها ؟ قال أنشد عليك لتخبرني ما صنعت به ؟ قال قدمتها لنفسي قال رحمك الله فأمر بوسق من طعام و ثوبين فقال أما الطعام فلا حاجة لي فيه قد تركت في المنزل صاعين من شعير الى أن آكل ذلك قد جاء الله بالرزق و لم ياخذ الطعام و أما الثوبان فقال ان امرأة فلان عارية فأخذهما و رجع الى منزله فلم يلبث أن هلك رحمه الله فبلغ عمر ذلك فشق عليه و ترحم عليه فخرج يمشي و معه المشاؤون الى بقيع الغرقد فقال لأصحابه ليتمن كل رجل منكم أمنية فقال رجل وددت يا أمير المؤمنين أن عندي مالا فأنفق في سبيل الله و قال آخر وددت أن لي قوة فامتح بدلو من زمزم لحجاج بيت الله فقال عمر وددت أن لي رجلا مثل عمير استعين به في أعمال المسلمين
حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص پر امیر بنا کر بھیجا تو وہ پورا ایک سال ٹھہرے‘ ان کی طرف سے کوئی خبر نہ آئی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کا تب سے فرمایا: حضرت عمیر کی طرف خط لکھو ‘قسم بخدا! میرا خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے: (خط میں لکھا: ) پس جب میرا یہ خط تیرے پاس آئے تو آ جا اور وہ بھی لے آ جو تُو نے مسلمانوں سے وصول کیا ہے ‘جب تُو میرے اس خط میں نظر کرے‘‘۔ راوی کا بیان ہے: پس حضرت عمیر نے اپنا تھیلا پکڑ کر اس میں اپنا زاد ِراہ اور پیالہ ڈالا ‘چیزیں لٹکا ئیں اور اپنا نیزہ پکڑا پھر حمص سے چلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے۔ راوی کا بیان ہے : وہ اس حال میں آئے کہ ان کا رنگ اُڑا ہوا تھا ‘چہرے پر گرد پڑی ہوئی تھی اور ان کے بال لمبے ہو چکے تھے۔ پس وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘عرض کی: السلام علیک یا امیر المؤمنین ورحمۃ اللہ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ میرے معاملے کو کیا دیکھتے ہیں‘ کیا آپ مجھے دیکھ نہیں رہے ہیں کہ میرا بدن تندرست ہے ‘خون صاف (پاک) ہے ‘میرے ساتھ دنیا ہے جس کو میں سینگوں سے پکڑ کر کھینچتا ہوں۔ فرمایا: تیرے ساتھ کیا ہے؟ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ وہ مال لائے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ میری تھیلی ہے ‘اس میں اپنا زادِ راہ اور پیالہ رکھتا ہوں ‘کھاتا ہوں اور اس میں اپنا سر اور کپڑے دھوتا ہوں اور اپنی چیزیں اُٹھاتا ہوں میرا لوٹا‘ میرا پانی اور میرا نیزہ اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ذریعے دشمن سے جہاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھ سے مقابلہ کرنے، پس قسم بخدا! دنیا صرف میرے سامان کی تابع ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ پیدل چل کر آئے ہیں ؟ عرض کی: جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن کیا تیرے لیے کوئی آدمی نہ تھا جورضا کارانہ طور پر تجھے اپنی سواری دیتا اور تُو اس پر سوار ہوتا ؟ عرض کی : انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ میں نے ان سے سوال کیا۔ فرمایا: کتنے بُرے مسلمان ہیں جن کے پاس سے تُو آیا ہے۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کی : اے عمر! اللہ سے ڈرو! یقینا ً اللہ نے آپ کو غیبت سے منع فرمایا ہے ‘میں نے ان کو صبح کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ فرمایا: تیرا حصہ کہاں ہے اور کون سا کام تُو نے سرانجام دیا ہے؟ عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ کے سوال کا معنی کیا ہے؟ ( میں نہیں سمجھا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ ! حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: بہر حال اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ (میرے نہ بتانے سے ) آپ کو غم ہوگا تو میں کبھی نہ بتاتا ‘آپ نے مجھے بھیجا یہاں تک کہ میں اس علاقے میں گیا ‘میں نے صالح لوگوں کو اکٹھا کیا‘ پس میں نے ان کے مال ِفئی کا ان کو والی بنا دیا یہاں تک کہ جب وہ ان سے اکٹھا کر لیتے تو میں اسے اس کی جگہوں پر خرچ کر دیتا اور اگر ان سے کوئی شی (باقی) پاتا تو آج آپ کے پاس لے آتا۔ فرمایا: آپ ہمارے پاس کیا چیز لائے ہیں ؟ عرض کی : کوئی چیز نہیں۔ فرمایا: عمیر سے وعدہ لو۔ عرض کی: یہ ایک ایسا کام ہے جو نہ میں نے آپ کیلئے کیا ہے اور نہ آپ کے بعد کسی کیلئے کروں گا‘ قسم بخدا! میں محفوظ نہیں ہوں بلکہ میں (شاید) اسلام نہیں لایا‘اگر میں کسی نصرانی سے کہوں: ارے! اللہ تجھے رسوا کرے! تو یہ اس کیلئے مناسب نہیں‘ اے عمر! بے شک میری زندگی کے دنوں میں سے بدبختی کا دن وہی تھا جب میں نے آپ کے ساتھ حلف اُٹھایا ‘اے عمر! ( راوی کا بیان ہے: ) پس انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کر لی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ اپنے گھر لوٹ گئے۔ راوی کہتا ہے: ان کا گھر مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر تھا۔ جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ عمیر نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ایک حارث نامی آدمی بھیجا اور اسے سو دینار دیئے۔ اس سے فرمایا: جاؤ اور ان کے پاس مہمان بن کر رہو ‘پس اگر کسی چیز کا اثر دیکھو تو آ جاؤ اور اگر ان کی حالت سخت تنگ دیکھو تو یہ سو دینار اس کو دے دو۔ پس حارث گئے ‘اچانک حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ایک باغ کے پہلو میں اپنی قمیص سے جوئیں نکال رہے تھے۔ پس اُس نے سلام کیا تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے (سلام کا جواب دے کر )کہا: اُتر آؤ اللہ تم پر رحم کرے! پس وہ اُترے ‘پھر ان سے پوچھا: کہاں سے آئے؟ انہوں نے جواب دیا: مدینہ منورہ سے۔ کہا: تم نے حضرت امیر المؤمنین کو کس حال میں چھوڑا؟ کہا: اچھی حالت میں ہیں۔ کہا: تم نے مسلمانوں کو کس حال میں چھوڑا؟ کہا: اچھے ہیں۔ کہا: تُو نے امیر المؤمنین کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ جواب دیا: اچھے ہیں ۔ کہا: کیا وہ حدود قائم نہیں کرتے ہیں؟ جواب دیا: کیوں نہیں ( کرتے ہیں) ‘انہوں نے اپنے بیٹے کو (حد میں )مارا جن سے فحش کام ہو گیا تھا‘ پس وہ ان کی مار سےفوت ہو گیا۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدوفرما ! جہاں تک مجھے معلوم ہےوہ تیرے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے: وہ تین دن رہے۔ بس ان کا کھانا جَو کی ٹکیہ ہوتی تھی جس کو وہ خاص کرتے تھے اور لپیٹ دیتے یہاں تک کہ وہ تھک گئے۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے بھائی ! تُو نے تو ہمیں بھوکا کر دیا ہے ‘پس اگر تیرا واپس جانے کا خیال ہے تو ایسا کر۔ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دینار نکالے اور انہیں دیئے ۔ کہا: حضرت امیر المؤمنین نے آپ کی طرف بھیجے ہیں‘ان سے مدد طلب کر (کے اپنی بھوک دور کریں)۔ راوی کا بیان ہے: وہ چیخے اور فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ان کو واپس لے جا۔ ان سے ان کی بیوی نے کہا: اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے تو ٹھیک ورنہ حقداروں کو دے دینا۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا! میں کسی ایسی شی کا مالک نہیں ہوں جس میں ان کے رکھوں۔ پس ان کی بیوی نے اپنی اوڑھنی کو نیچے سے پھاڑ کر کپڑے کا ایک ٹکڑا انہیں دیا اور انہوں نے وہ دینار اس میں رکھ دیئے۔ پھر نکلے‘ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کو شہیدوں اور فقیروں کے بیٹوں پر تقسیم کر دیا ‘پھر واپس تشریف لائے اس حال میں کہ قاصد گمان کر رہا تھا کہ ان میں سے کچھ اس کو عطا کریں گے۔ پس حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میری طرف سے امیر المؤمنین کو سلام کہنا۔ پس حضرت حارث ‘حضرت عمر کی طرف واپس آگئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ نے کیا دیکھا؟ جواب دیا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان کو سخت تنگی کی حالت میں دیکھا۔ فرمایا: انہوں نے دیناروں کو کیا کیا ؟ عرض کی: مجھے معلوم نہیں۔ راوی کا بیان ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا: جب آپ کے پاس میرا یہ خط آئے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مت رکھتا یہاں تک کہ (میری طرف) چلے آنا۔ پس وہ چل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: دیناروں کے ساتھ آپ نے کیا کیا؟ عرض کی: میں نے کیا جو کیا ‘ان کے بارے آپ کو کیا سوال؟ فرمایا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں! مجھے بتا دیں کہ آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ عرض کی میں نے اپنی جان ( اور آخرت کی بہتری )کیلئے آگے بھیج دیئے۔ فرمایا: اللہ تیرے اوپر رحم کرے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک وسق کھانا اور دو کپڑے لانے کا حکم دیا۔ عرض کی بہر حال کھانے کی تو مجھے بالکل ضرورت نہیں ہے ‘میں اپنے گھر میں (کھانا بہت ) چھوڑ آیا ہوں ‘دو صاع (۹ کلو) جَو یہاں تک کہ میں ( جا کر ) ان کو کھاؤں گا۔ لہذا کھانا نہ لیا اور جہاں تک بات ہے کپڑوں کی تو کہا: فلاں آدمی کی بیوی کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔ پس ان دونوں کو لے لیا اور اپنے گھر لوٹ گئے۔ پس زیادہ وقت نہیں ٹھہرے کہ آپ کا وصال ہو گیا ‘اللہ ان پر رحم کرے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو ان پر بہت گراں ہوئی اور انہوں نے رحم کی دعا کی۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نکل کر چلے اور آپ کے ساتھ چلنے والے اور بھی تھے‘ جنت البقیع کی طرف آئے اور اپنے دوستوں سے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی کی جو خواہش و آرزو ہے ‘اس کا اظہار کرے۔ پس ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میری خواہش ہے کہ میرے پاس مال ہو اور میں اللہ کی رضا کیلئے فلاں فلاں آدمی کو آزاد کروں۔ دوسرے نے کہا: اے امیر المؤمنین! میری پسند یہ ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اللہ کی راہ میں خرچ کروں۔ ایک اور نے کہا: میری آرزو ہے کہ میرے پاس طاقت ہو اور میں بیت اللہ کا حج کرنے والوں کو زمزم نکال نکال کر دیتا رہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس حضرت عمیر جیسا ایک آدمی ہو ‘جس سے مسلمانوں کے کاموں میں مددلوں۔
عمير بن سعد ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ الرَّازِيُّ، ← محمد بن حكيم الشيرازي ← محمد بن الروبال الادمي الشيرازي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13795
