Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو الأنصاري ثم العجلاني · حديث 13687

1 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ( ح ) و حدثنا أحمد بن محمد بن نافع الطحان و اسماعيل الحسن الخفاف المصريان قالا حدثنا أحمد بن صالح قالا ثنا ابن أبي فديك حدثني عبد الله بن نافع عن أبيه أن عبد الله بن عمرو العجلاني حدث عبد الله بن عمر عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يستقبل شيئ من القبلتين في الغائط و البول

حضرت عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رخ ہونے سے منع فرمایا۔

أَبِيهِ ← أبيه أن عبد الله بن عمرو العجلاني حدث عبد الله بن عمر ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أحمد بن محمد بن نافع الطحان و اسماعيل الحسن الخفاف المصريان ← و، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13687

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13688

2 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف بن زيد بن ملحة المزني عن أبيه عن جده Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان قاعدا معهم فدخل بيته و قال : ( ادخلوا علي و لا يدخلن علي الا قرشي ) فتسللت فدخلت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا معشر قريش هل بينكم أحد ليس منكم ؟ ) قالوا نخبرك يا رسول الله بآبائنا أنت و أمهاتنا معنا ابن الأخت و المولى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( حليف القوم منهم و مولى القوم منهم و ابن أخت القوم منهم يا معشر قريش انكم الولاة بعدي لهذا الأمر فلا تموتن الا و أنتم مؤمنون و اعتصموا بحبل الله جميعا و لا تفرقوا و لا تكونوا كالذين تفرقوا و اختلفوا من بعد ما جاءهم البينات و ما امروا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنيفا و تقيموا الصلاة و تؤتوا الزكاة و ذلك دين القيمة يا معشر قريش احفظوني في أصحابي و أبنائهم وأبناء أبنائهم رحم الله الأنصار و أبناء الأنصار )

حضرت کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف بن زید بن ملحہ مزنی اپنے والد سے ‘وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو (اُٹھ کر) اپنے گھر میں گئے اور فرمایا: میرے پاس آ جاؤ اور صرف قریشی آئیں۔ پس میں بھی کھسک کر داخل ہو گیا‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی تمہارا غیر تو نہیں ہے؟ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایک بھانجا اور ایک غلام ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا حلیف ‘قوم سے ہی ہوتا ہے اور اس کا غلام اور اس کا بھانجا بھی قوم کا فرد ہوتا ہے‘ اے قریش کے گروہ! میرے بعد اس ذمہ داری کے تم والی ہو ‘مرنا تو مومن ہی مرنا‘ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو آیات آجانے کے بعد گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور اختلاف کا شکار ہوئے ‘حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کیلئے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں ‘اس حال میں کہ اس کا دین سیدھا اور پاک ہے ‘تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو‘ یہی مضبوط دین ہے ‘اے گروہ قریش! میرے صحابہ کی حفاظت کرنا‘ ان کے بیٹوں کی اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں کی حفاظت کرنا‘ انصار اور انصار کے بیٹوں پر اللہ رحم کرے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف بن زيد بن ملحة المزني ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13688

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13689

3 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا اسماعيل بن أبي أويس ثنا كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده قال Y كنا قعودا حول رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسجده بالمدينة فجاءه جبريل عليه السلام بالوحي فتغشى رداءه فمكث طويلا حتى سري عنه و كشف رداءه فاذا هو تعرق عرقا شديدا و اذا هو قابض على شيء فقال : ( ايكم يعرف ما يخرج من النخل ؟ ) فقال الأنصار نحن يا رسول الله بأبينا أنت و أمنا ليس شيء يخرج من النخل الا نحن نعرفه نحن أصحاب نخل ثم فتح يده فاذا فيها نوى فقال : ( ما هذا ؟ ) فقالوا : هذا يا رسول الله نوى قال : ( نوى أي شيء ؟ ) قالوا نوى سنة قال ( صدقتم جاءكم جبريل عليه السلام يتعاهد دينكم لتسلكن سنن من قبلكم حذو النعل بالنعل و لتأخذن بمثل أخذهم ان شبرا فتشبرا و ان ذراعا فذراعا و ان باعا فباعا حتى لو دخلوا في حجر ضب دخلت فيه الا أن بني اسرائيل افترقت على موسى سبعين فرقة كلها ضالة الا فرقة واحدة الاسلام و جماعتهم ثم انها افترقت على عيسى بن مريم على احدى و سبعين فرقة كلها ضالة الا واحدة الاسلام و جماعتهم ثم انكم تكونون على اثنتين و سبعين فرقة كلها في النار الا واحدة الاسلام و جماعتهم )

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد گرامی سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ہم مسجد کے اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آئے‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لپیٹ لی ‘پس کا فر دیر اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ ان سے سرگوشی کی اور چادر کو ہٹایا تو اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت پسینہ آ چکا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شی کو پکڑے ہوئے تھے ۔ فرمایا: تم میں سے کون ہے جو پہچانتا ہو‘ جو کھجور سے نکلتا ہے؟ انصار نے عرض کی: اے اللہ کے رسول !ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! کھجور سے جوکچھ بھی نکلتا ہے ‘ہم وہ کچھ جانتے ہیں‘ ہم کھجوروں والے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی کھولی تو اس میں گٹھلی تھی۔ فرمایا: کس چیز کی گٹھلی ہے؟ عرض کی : سنہ کھجور کی گٹھلی ہے۔ فرمایا: تم نے سچ کہا ‘تمہارے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے تھے ‘وہ تمہارے دین کی حفاظت کی وصیت کر رہے تھے ‘تم ضرور اپنے پہلوں کے طریقے اپناؤ گے جیسے نعل کے ساتھ نعل برابر ہوتا ہے اور ضرور ان کے لینے کی طرح ہو گے‘ اگر بالشت تو بالشت ‘اگر گز تو گز اور اگر دونوں ہاتھوں کا درمیانی فاصلہ تو دونوں ہاتھوں کا درمیانی فاصلہ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے مگر یہ کہ بنو اسرائیل‘حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے ستّر فرقوں میں بٹ گئے جو ایک فرقہ کے علاوہ سارے دوزخی ہیں‘ وہ اسلام اور اس کی جماعت ہے‘پھر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے اکہتّر فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور ایک کے علاوہ سارے کے سارے دوزخ میں ہیں اور وہ اسلام اور ان کی جماعت ہے ‘پھر تم بہتّر فرقوں میں بٹو گے اور ایک کے علاوہ سارے کے سارے دوزخ میں ہوں گے اور وہ اسلام اور اسلام کی جماعت ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13690

4 - حدثنا محمد بن علي الصائغ ثنا القعنبي ثنا كثير بن عبد الله ( ح ) و حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( من أحيى مواتا من الأرض في غير حق مسلم فهو له و ليس لعرق ظالم حق )

حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غیر آباد زمین کو آباد کیا‘ تو وہ اس کی ہے ‘شرط یہ ہے کہ مسلمان کا حق نہ ہو ‘ظالم کی اصل (یا نسل) کے لیے اس میں کوئی حق نہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← و، ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13690

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13691

5 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا عبيد بن يعيش ثنا يحيى بن آدم ثنا يزيد بن عبد العزيز عن كثير بن عبد الله المزني عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( من أحيى أرضا ميتة فهي له و ليس لعرق ظالم حق )

حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غیر آباد زمین کو آباد کیا ‘وہ اس کی ملکیت ہوگئی‘ ظالم کے لیے اس میں کوئی حق نہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13691

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13692

6 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( البئر جبار و العجماء جرحها جبار و المعدن جبار و في الركاز الخمس )

حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں میں گرنے والے اور بے زبان جانور جس کو مارے ‘اس کی دیت نہیں ہے ‘دفن شدہ خزانے میں خمس ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13692

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13693

7 - حدثنا علي بن المبارك ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y ( في يوم الجمعة ساعة من نهار لا يسأل فيها عبد شيئا الا أعطي سؤله ) فقيل أية ساعة هي يا رسول الله ؟ قال : ( حين تقام الشمس الى انصراف منها )

حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن میں ایک ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس وقت کسی شی کا سوال کیا جائے تو وہ قبول ہوتا ہے۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون سا وقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے ڈھلنے تک۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13693

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13694

8 - حدثنا علي بن المبارك ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف عن أبيه عن جده Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يكبر في العيدين في الركعة الأولى سبع تكبيرات و في الركعة الثانية خمس تكبيرات قبل القراءة

حضرت کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ‘قرأت شروع کرنے سے پہلے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13694

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13695

9 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا القعنبي ثنا كثير بن عبد الله المزني و حدثنا علي بن المبارك الصنعي حدثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا يذهب الدنيا حتى تكون رابطة من المسلمين ببولان يا علي ) يعني علي بن أبي طالب قال لبيك يا رسول الله قال : ( انكم ستقاتلون بني الأصفر و يقاتلهم من بعدكم المؤمنين ثم يخرج اليهم روقة المسلمين أهل الحجاز الذين يجاهدون في سبيل الله لا يأخذهم في الله لومة لائم حتى يفتح الله عليهم قسطنطينية و رومية بالتسبيح و التكبير فيهدم الله حصنها فيصيبوا مالا عظيما لم يصيبوا مثله قط حتى أنهم يقسمون بالترسة ثم يصرخ صارخ يا أهل الاسلام قد خرج المسيح الدجال في بلادكم فينقبض الناس عن المال فمنهم الآخذ و منهم التارك و الآخذ نادم و التارك نادم ثم يقولون من هذا الصارخ ؟ و لا يعلمون من هو فيقولون ابعثوا طليعة الى لد فان يكن المسيح قد خرج فسيأتيكم بعلمه فيأتون فيبصرون فلا يرون شيئا و يرون الناس ساكتين فيقولون ما صرخ الصارخ الا الينا فاعتزموا ثم ارشدوا فنخرج بأجمعنا الى لد فان يكن بها المسيح الدجال نقاتله حتى يحكم الله بيننا و بينه و هو خير الحاكمين و أن يكن الأخرى فانها بلادكم و عشائركم و عساكركم رجعتم اليها )

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد گرامی سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کی طرف سے بولان (دو کثیر الا ولا دقوموں) کے ساتھ رابطہ ہوتا‘اے علی !یعنی حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں فرمایا: بے شک تم بنو اصفر کے ساتھ مقابلہ کرو گے اور تمہارے بعد آنے والے مؤمن بھی ان سے لڑیں گے پھر مسلمانوں کے سردار ان کی طرف خروج کریں گے‘ یعنی حجازی جو اللہ کی راہ میں ایسا جہاد کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت ان کے آڑے نہیں آتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح فرما دے گا‘ تسبیح و تکبیر کے سبب ‘پس اللہ تعالی ٰان کا قلعہ گرا دے گا۔ پس ان کو اتنا مال ملے گا جتنا کبھی نہیں ملا یہاں تک کہ وہ اسے ڈھال کے ذریعے تقسیم کریں گے (یا قرعہ اندازی کریں گے )۔ پھر ایک چیخنے والا چیخ کر کہے گا: اے اہل اسلام ! تمہارے علاقے میں مسیح دجال نکل آیا ہے‘ پس لوگ مال و متاع کے حوالے سے ناک بھویں چڑھائیں گے (کہ اس کا کیا کریں)‘ ان میں سے بعض تو مال اُٹھانے والے اور بعض چھوڑنے والے ہوں گے ‘مال اپنے ساتھ لینے والے بھی پشیمان ہوں گے اور چھوڑنے والوں کو بھی شرمندگی اُٹھانا پڑے گی۔ پھر بولیں گے : ( تلاش کرو) آواز دینے والا کون ہے؟ لیکن وہ معلوم کرنے میں ناکام ہوں گے کہ وہ کون ہے؟ پس وہ کہیں گے: اب مقام ِلد کی طرف ابتدائی لشکر بھیجو ‘پس اگر مسیح دجال نکل چکا ہوگا تو وہ تمہارے پاس اس کی معلومات لائیں گے۔ پس وہ (لشکر والے )جائیں گے اور پوری طرح دیکھیں گے لیکن کوئی چیز نہ پائیں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ خاموش ہوں گے۔ پس وہ کہیں گے: آواز دینے والے نے صرف ہمیں آواز لگائی ہے۔ پس وہ پختہ عزم کریں گے یا قسم اُٹھا ئیں گے‘ پھر ان کی راہنمائی کی جائے گی ۔ (وہ کہیں گے :) ہم سارے مل کر مقامِ لد کی طرف جاتے ہیں‘ پس اگر وہاں مسیح دجال کا وجود ہوا تو ہم اس سے لڑائی کریں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ اور اگر دوسری صورت حال ہوئی تو یہ تمہارا ہی علاقہ (ملک) ہے‘تمہارے ہی رشتہ دار ہیں اور تمہارے ہی لشکر ہیں‘ ان کی طرف لوٹ آنا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← علي بن المبارك الصنعي ← كثير بن عبد الله المزني و ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13695

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13696

10 - حدثنا علي بن المبارك ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله المزني عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y ( من أحيى سنة من سنتي قد أميتت بعدي فان له مثل أجر من عمل بها من الناس لا ينقص ذلك من أجور الناس شيئا و من ابتدع بدعة لا يرضاها الله و رسوله فان عليه مثل اثم من عمل بها من الناس لا ينقص ذلك من آثام الناس شرا )

حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے میری سنت کو زندہ کیا‘ اس کے ختم ہونے کے بعد تو اُُس کے لیے اتنا ہی ثواب ہوگا جو اس پر عمل کرے گا‘لوگوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی‘جس نے وہ کام ایجاد کیا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں تو اس کے لیے اتنا ہی گناہ ہو گا جو لوگ اس پر عمل کریں گے۔ اُن لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13696

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13697

11 - حدثنا علي بن المبارك ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله المزني عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( ان الدين ليأزر الى الحجاز كما تأزر الحية الى جحرها و ليعقلن الدين من الحجاز معقل الأروية من رأس الجبل ان الدين بدأ غريبا و يرجع غريبا فطوبى للغرباء الذين يصلحون ما أفسد الناس بعدي من سنتي )

حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی اپنے والد گرامی سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین‘ حجاز کی طرف یوں لوٹ کر آئے گا (یعنی ایک بار نکلنے کے بعد ) جیسے سانپ اپنے بل کی طرف لوٹ کر واپس آتا ہے اور ضرور دین ‘حجاز سے سمجھا جائے گا جیسے پہاڑی بکری کو پہاڑ کی چوٹی سے سمجھا جاتا ہے ‘دین کی ابتداء غربت میں ہوئی اور (آخر میں ) غربت کی طرف لوٹ آئے گا‘ پس غریبوں کو مبارک ہو جو اصلاح کریں گے جس کو میرے بعد میری سنت میں سے لوگوں نے بگاڑ دیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13697

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمرو بن عوف بن ملحة المزني · حديث 13698

12 - حدثنا علي بن المبارك ثنا اسماعيل بن أبي أويس حدثني كثير بن عبد الله المزني عن أبيه عن جده قال Y غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم أول غزوة غزاها الأبواء حتى اذا كنا بالروحاء نزل بعرق الظبية فصلى ثم قال : ( هل تدرون مااسم هذا الجبل ؟ ) قالوا الله و رسوله أعلم قال : ( هذا جبل من جبال الجنة اللهم بارك فيه و بارك لأهله فيه و قال : للروحاء : ( هذه سجاسج واد من أودية الجنة لقد صلى في هذا المسجد قبلي سبعون نبيا و لقد مر بها موسى عليه عباءتان قطوانيتان على ناقة ورقاء في سبعين ألف من بني اسرائيل حاجين البيت العتيق و لا تمر الساعة حتى يمر بها عيسى بن مريم عبد الله و رسوله حاجا أو معتمرا أو يجمع الله له ذلك )

حضرت کثیر بن عبداللہ مزنی اپنے والد گرامی سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سب سے پہلے جہاد ابواء کے مقام پر کیا یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرق ظبیہ کے پاس اُترے اور نماز ادا فرمائی۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اس پہاڑ کا نام کیا ہے؟ عرض کی اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : یہ پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک ہے ‘اے اللہ ! اس میں برکت دے اور اس میں رہنے والوں کو برکت دے۔ اور روحاء کے حوالے سے فرمایا: یہ جنت کی وادیوں میں سے ایک وادی کی کشاہ اور نرم زمینیں ہیں‘ تحقیق مجھ سے پہلے اس مسجد (مسجد خیف بر مقام منیٰ ) میں ستّر نبیوں نے نماز ادا کی ہے اور تحقیق اس کے پاس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اس حال میں گزرے کہ ان پر دو قطوانی عبائیں تھیں‘ورقاء اونٹنی پر سوار تھے ‘بیت اللہ کا حج کرنے والے ستّر ہزار بنواسرائیل کے جلو میں اور ایک گھڑی نہیں گزرے گی یہاں تک کہ اس مقام سے حضرت عیسی ٰبن مریم جو اللہ کے بندے اور رسول ہیں، گزریں گے حج کرتے ہوئے یا عمرہ کرتے ہوئے یا اللہ تعالیٰ اس کو ان کے لیے جمع کر دے گا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13698

chevron_left Previous
1234…85
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter