المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ أبو غالب صاحب المحجن واسمه حزور · حديث 8049
8033 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن أبي غالب قال Y لما أتي برؤوس الأزراقة فنصب على درج دمشق جاء أبو أمامة فلما رآهم دمعت عيناه ثم قال : كلاب النار كلاب النار هؤلاء شر قتلى تحت أديم السماء وخير قتلى تحت أديم السماء الذين قتلهم هؤلاء قلت : فما شأنك دمعت عيناك ؟ قال : رحمة لهم إنهم كانوا من أهل الإسلام قال : قلت : أبرأيك قلت : كلاب النار أم شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إني إذا لجريء بل شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ غير مرة لا ثنيتين ولا ثلاث فردد مرارا ثم تلا { يوم تبيض وجوه وتسود وجوه } حتى بلغ { فيها خالدون } وتلا { هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات } حتى بلغ { أولو الألباب } ثم أخذ بيدي فقال : أما إنهم بأرضك كثير فأعاذك الله منهم
حضرت ابوغالب فرماتے ہیں: میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا جبکہ وہ گدھے پر سوار تھے حتٰی کہ ہم جامع دمشق کی سیٹرھیوں تک پہنچے۔ ہم نے دیکھا: وہاں سر رکھے ہوئے تھے۔انہوں نے پوچھا: یہ کن کے سر ہیں؟ انہیں بتایا گیا: یہ خارجیوں کے سر ہیں‘ عراق سے لائے گئے ہیں۔ فرمایا: جہنمی کتے ! تین بار آسمان کے نیچے برے تین مقتول۔ تین بارفر مایا۔ جن کو ان لوگوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہیں۔ تین بار فرمایا۔ مبارک ہو ان کو جنہوں نے ان کو اور ان کو جنہیں انہوں نے قتل کیا۔ تین بارفرمایا۔ پھر روئے‘ میں نے عرض کی : اے ابو امامہ! روئے کیوں؟ فرمایا: ان پر رحم آیا‘ کبھی تو یہ بھی مسلمان تھے۔ پس اسلام سے فارغ ہوئے‘ پھر یہ آیت پڑھی:’’ وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری اور اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں‘ وہ کتاب کی اصل ہیں‘‘ حتٰی کہ آیات سے فارغ ہوئے‘ پھر پڑھا: ’’اور ان جیسے نہ ہونا جو آ پس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں آ چکی تھیں‘‘ حتٰی کہ یہاں تک پہنچے :’’اور وہ اللہ کی رحمت میں ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے‘‘۔ میں نے عرض کی: اے ابو امامہ! کیا ان سے مراد یہی ہیں؟ فرمایا: جی ہاں ! میں نے عرض کی: آپ نے اپنی رائے سے بات کی یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی؟ فرمایا: پھر تو میں جری ہوا۔ تین بارفرمایا۔تحقیق میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دو بار نہیں‘ سات بار سنا۔ پھر اپنی انگلی اپنے کانوں میں رکھی اور فرمایا: ورنہ میں خاموش رہتا۔
أَبِي غَالِبٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8049
