Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ حمزة بن صهيب عن أبيه · حديث 7326

7310 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ( ح ) وحدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا أبو جعفر النفيلي قالا ثنا عبد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن مرة بن صهيب عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال له Y يا صهيب اكتنيت وليس لك ولد وانتميت إلى العرب وأنت رجل من الروم فقال : يا أمير المؤمنين أما قولك اكتنيت وليس لك ولد فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كناني بأبي يحيى وأما قولك انتميت إلى العرب وأنت رجل من الروم فإني رجل من النمربن قاسط سبيت من الموصل بعد أن كنت غلاما قد عرفت أهلي ونسبي

حضرت صہیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: پہلے لوگوں میں سب سے بڑا بد بخت کون تھا؟ عرض کی: یا رسول اللہ ! جس نے اونٹ کی کونچیں کاٹی تھیں‘ آپ نے فرمایا: تم نے سچ کہا ہے ! بعد والوں میں سب سے بڑا بد بخت کون ہے؟ عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے اس کا علم نہیں ہے‘ آپ نے فرمایا: جو تمہیں شہید کرے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق والوں کو فرمایا کرتے: اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ تم میں سے کوئی بد بخت اٹھے اور اس داڑھی کو رنگ دے‘ یعنی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی کو یہاں سے‘ آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آگے والے حصے پر رکھا۔ اور یہ الفاظ حضرت سوید بن سعید کی حدیث کے ہیں اور ان کی حدیث میں حضرت حضرمی نے کہا: اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تالو کی طرف اشارہ کیا۔

أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← مرة بن صهيب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7326

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عثمان بن صهيب عن أبيه · حديث 7327

7311 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ( ح ) وحدثنا القاسم بن عباد الخطامي ثنا سويد بن سعيد قالا ثنا رشدين بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن الهاد عن عثمان بن صهيب عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال يوما لعلي رضي الله عنه : من أشقى الأولين ؟ قال : الذي عقر الناقة يا رسول الله قال : صدقت فمن أشقى الآخرين ؟ قال : لا علم لي يا رسول الله قال : الذي يضربك على هذه وأشار النبي صلى الله عليه و سلم بيده إلى يافوخه فكان علي رضي الله عنه يقول لأهل العراق : أما والله لوددت أنه قد ابتعت أشقاكم فخضب هذه يعني لحيته من هذه ووضع يده على مقدم رأسه واللفظ لحديث سويد بن سعيد وقال الحضرمي في حديثه وأشار بيده إلى يافوخه

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا کہ جب گدھا بولتا ہے تو آپ اللہ سے شیطان مردود کی پناہ مانگیں۔

الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ ← يَوْمًا لِعَلِيٍّ «مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ؟ ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ صُهَيْبٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← رشدين بن سعد ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← وحدثنا القاسم بن عباد الخطامي ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عثمان بن صهيب عن أبيه · حديث 7328

7312 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عاصم بن علي ثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة عن ابن صهيب عن أبيه صهيب قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا نهق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم

حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی اور پھر شراب پیش کی گئی‘ پھر دودھ تو آپ نے دودھ پکڑا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی: آپ نے درست کیا! آپ نے فطرت پرعمل کیا‘ اس کے ذریعے ہر جاندار کو عذاب دیا گیا تھا‘ اگر آپ شراب پکڑتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی اور آپ کی امت اگر پئے گی تو جہنمی ہو گی‘ میں نے دیکھا کہ اس میں جل رہے تھے۔

«إِذَا نَهَقَ الْحِمَارُ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ، صُهَيْبٍ ← ابْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7328

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبيد بن عمير الليثي عن صهيب · حديث 7329

7313 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب أن جعفر بن عبد الله أخبره أنه سمع عبيد بن عمير الليثي يحدث عن صهيب بن سنان قال Y لما عرض على رسول الله صلى الله عليه و سلم الماء ثم الخمر ثم اللبن أخذ اللبن فقال له جبريل : أصبت أخذت الفطرة وبها عذبت كل دابة ولو أخذت الخمر غويت وغوت أمتك وكنت من أهل هذه وأشار إلى الوادي الذي يقال له : وادي جهنم فنظرت فيه فإذا هو يلتهب

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم والے جہنم میں تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے جنت والو! تمہارے لیے اللہ کے ہاں وعدہ ہے‘ اللہ عزوجل اس کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ تو جنت والے کہیں گے: وہ کیا ہے؟ کیا ہمارے میزان کو بھاری نہیں کیا گیا اور ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا گیا اور ہمیں جنت میں داخل کیا اور اس نے ہمیں جہنم سے نکالا‘ اللہ عزوجل اپنا پردہ اٹھائے گا‘ جتنے لوگ اسے دیکھیں گے‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ان کو اللہ کی زیارت کرنے سے زیادہ کوئی شی محبوب نہیں ہو گی‘ جوان کو دی گئی ہو۔

صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ،أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7330

7314 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا أبو أيوب أحمد بن بشر الطيالسي ثنا هدبة بن خالد قالا ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار نادى مناد : يا أهل الجنة إن لكم عند الله موعدا يريد أن ينجزكموه فيقولون : وما هو ؟ ألم يثقل موازيننا ويبيض وجوهنا وأدخلنا الجنة وأخرجنا من النار قال فيكشف الحجاب فينظرون إليه فوالذي نفسي بيده ما أعطاهم شيئا أحب إليهم من النظر إليه

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت : ” نیکی کرنے والوں کے لیے نیکی اور زیادہ ہے‘‘۔ فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے‘ پس اس جیسی حدیث ذکر کی۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← وحدثنا أبو أيوب أحمد بن بشر الطيالسي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7330

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7331

7315 - حدثنا أبو خليفة ثنا محمد بن عبد الله الخزاعي ثنا حماد بن سلمة عن ثابت النباني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قرأ { للذين أحسنوا الحسنى وزيادة } قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة فذكر نحوه

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ نے جو مؤمن کے لیے فیصلہ کیا‘ وہ سارے کا سارا بہتر ہے‘ اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے‘ اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اللہ اس کو ثواب دیتا ہے۔حماد نے اضافہ کیا ہے کہ مسلمان کے لیے جو اللہ نے فیصلہ کیا ہے وہ بہتر ہے۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٌ النباني ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7331

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7332

7316 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا حماد بن سلمة و سليمان بن المغيرة كلاهما عن ثابت البناني عن أبي ليلى عن صهيب Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عجبت من قضاء الله للمسلم كله خير إن إصابته سراء فشكر آجره الله عز و جل إن إصابته ضراء فصبر آجره الله عز و جل زاد فيه حماد وكل قضاء الله عز و جل للمسلم خير

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھی جب سلام پھیرا تو آپ ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے‘ آپ نے فرمایا: تم مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے ہو کہ میں کیوں مسکرایا ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ نے فرمایا: میں اللہ کے فیصلہ پر متعجب ہوا‘ جو اس نے اپنے مسلمان بندہ کے لیے کیا ہے‘ ہر فیصلہ درست کیا ہے‘ ہر فیصلہ میں بھلائی ہے‘ یہ صرف مسلمان بندہ کے لیے ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← صُھَیْبٍ ← أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حماد بن سلمة و سليمان بن المغيرة كلاهما ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7332

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7333

7317 - حدثنا محمد بن أبا الأصبهاني ثنا عمار بن خالد الواسطي ثنا عبد الحكيم بن منصور عن يونس بن عبيد عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب قال Y صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إحدى صلاتي العشاء فلما انصرف أقبل إلينا بوجهه ضاحكا فقال : ألا تسألوني مم ضحكت ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : عجبت من قضاء الله للعبد المسلم إن كل ما قضى الله له خير وليس أحد كل قضاء الله له خير إلا العبد المسلم

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین کے دنوں میں جب بھی فجر کی نماز ادا کرتے تو آپ کے ہونٹ مبارک حرکت کرتے تھے‘ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ کے ہونٹ مبارک نماز فجر کے بعد کسی شی کے ساتھ حرکت کرتے رہتے ہیں‘ حالانکہ پہلے آپ ایسا تو نہیں کرتے تھے‘ آپ نے فرمایا: ہم سے پہلے ایک نبی تھے‘ ان کو اپنی امت کے زیادہ ہونے سے تعجب میں مبتلا کر دیا‘ تو انہوں نے عرض کی: یہ لوگ ہمیشہ نہ رہیں۔ ( میرا گمان ہے کہ انہوں نے کوئی چیز کہی) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : تیری امت کی بھلائی تین چیزوں میں سے ایک میں ہے‘ یا تو میں ان پر موت مسلط کر دوں یا دشمن یا بھوک۔ پس اس نبی علیہ السلام نے یہ تینوں چیزیں اپنی امت پر پیش کیں تو انہوں نے عرض کی : جہاں تک تعلق ہے بھوک کا تو وہ ہم میں طاقت نہیں اور نہ ہی دشمن کی‘ ہم میں طاقت ہے لیکن مدت قبول ہے۔ پس تین دنوں میں ان میں سے ستر ہزار آدمی مر گئے اور آج میں کہتا ہوں: اے اللہ! تیری دی ہوئی توفیق سے ارادہ کرتا‘ حملہ کرتا اور جہاد کرتا ہوں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عبد الحكيم بن منصور ← عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ← محمد بن أبا الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7333

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7335

7319 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا صلى العصر همس والهمس في قول بعضهم يحرك شفتيه كانت كأنه يتكلم بشيء فقيل له : يا نبي الله إنك إذا صليت العصر همست فقال : إن نبيا من الأنبياء كان أعجب بأمته فقال : من يقوم لهؤلاء ؟ فأوحى الله عز و جل إليه أن خيرهم بين أن أنتقم منهم وبين أن أسلط عليهم عدوهم فاختاروا النقمة فسلط عليهم الموت فمات منهم في يوم سبعون ألفا قال : فكان إذا حدث بهذا الحديث حدث بهذا الحديث الآخر قال : كان ملك من الملوك وكان لذلك الملك كاهن يتكهن له فقال ذلك الكاهن : انظروا لي غلاما فطنا أو قال لقنا أعلمه علمي هذا فإني أخاف أن أموت فينقطع منكم هذا العلم ولا يكون فيكم من يعلمه فنظروا له غلاما على ما وصف وأمروه أن يحضر ذلك الكاهن وأن يختلف إليه قال وكان على طريق الغلام راهب في صومعة قال معمر وأحسب أن أصحاب الصوامع كانوا يومئذ مسلمين فجعل الغلام يسأل ذلك الراهب كلما مر به عن دينه حتى أخبر فقال : إنما أعبد الله وجعل الغلام يمكث عند الراهب ويبطئ على الكاهن فأرسل الكاهن إلى أهل الغلام أنه لا يكاد يحضرني فأخبر الغلام الراهب بذلك فقال له الراهب : إذا قال لك الكاهن : أين كنت ؟ فقل عند أهلي وإذا قال لك أهلك : أين كنت ؟ فقل عند الكاهن فبينما الغلام على ذلك إذا مر بجماعة من الناس كثيرة قد حبستهم دابة فقال بعضهم : إن تلك الدابة كانت الأسد فأخذ الغلام حجرا فقال : اللهم إن كان ما يقول الراهب حقا فأسألك أن أقتل هذه الدابة وإن كان ما يقول الكاهن حقا أن لا أقتلها ثم رماها فقتل الدابة فقال الناس : من قتلها ؟ فقالوا الغلام : ففزع الناس إليه قالوا : قد علم هذا الغلام علما لم يعلمه أحد فسمع به أعمى فجاءه فقال له الأعمى : إن أنت رددت علي بصري فإن لك كذا وكذا فقال له الغلام : لا أريد منك هذا ولكن أرأيت إن رجع إليك بصرك أتؤمن بالذي رده عليك ؟ قال : نعم فدعا الله عز و جل فرد عليه بصره فآمن الأعمى فبلغ الملك أمرهم فبعث إليهم فأتي بهم فقال : لأقتلن كل واحد منكم قتلة لا أقلتها صاحبها فأمر بالراهب وبالرجل الذي كان أعمى فوضع المنشار على مفرق أحدهما فقتل وقتل الآخر بقتلة أخرى ثم أمر بالغلام فقال : انطلقوا به إلى جبل كذا وكذا فألقوه من رأسه فلما انطلقوا به إلى ذلك الجبل وانتهوا إلى المكان الذي أرادوا جعلوا يتهافتون من الجبل ويتردون منه حتى لم يبق إلا الغلام ثم رجع الغلام فأمر به الملك فقال : انطلقوا به إلى البحر فألقوه فيه فانطلقوا به إلى البحر فغرق الله الذين كانوا معه وأنجاه الله عز و جل فقال الغلام إنك لن تقتلني حتى تصلبني ثم ترميني وتقول إذا رميتني : بسم الله رب هذا الغلام فأمر به فصلب ثم قال بسم الله رب الغلام فوضع الغلام على صدغه ثم مات فقال الناس : لقد علم هذا الغلام علما ما علمه أحد فإنا نؤمن برب هذا الغلام فقيل للملك : أجزعت أن خالفك ثلاثة ؟ فهذا الناس كلهم قد خالفوك فخد أخدودا ألقى فيها الحطب والنار ثم جمع الناس ثم قال : من رجع إلى دينه تركناه ومن لم يرجع ألقيناه في هذه النار فجعل يلقيهم في تلك الأخدود فذلك قوله عز و جل { قتل أصحاب الأخدود * النار ذات الوقود } حتى بلغ { العزيز الحميد } فذكر أن الغلام أخرج في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه واضع يده على صدغه كما وضعها حين قتل ؟

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ تم لوگوں سے پہلے جو امت گزری‘ اس میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا‘ جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں (موت کا زمانہ قریب آ گیا) مجھے کوئی لڑکا دے دے تاکہ میں اس کو سحر سکھلا دوں۔ بادشاہ نے اس کو ایک لڑکا دے دیا تو اس کو وہ ہر روز جادو سکھلایا کرتا تھا۔ جب بادشاہ کے ہاں سے جادوگر کے ہاں جاتا تو راستے میں ایک راہب رہتا تھا۔ ایک روز یہ لڑکا اس راہب کے پاس گیا اور اس کی باتیں سن کر خوش ہوا اور یہ باتیں اس کو بہت پسند آئیں‘ ہر روز آتے اور جاتے وہ راہب کی خدمت میں بیٹھتا تھا اور جب وہ ساحر کے پاس دیر سے پہنچتا تو ساحر اس کو سزا دیتا کہ تو کہاں بیٹھا رہا‘ جب گھر میں دیر سے آتا تو گھر والے مارتے تھے کہ کہاں بیٹھا رہتا ہے۔لڑکا مذکور نے راہب سے یہ شکوہ کیا کہ میں اس مصیبت میں ہوں۔ راہب نے کہا کہ جب ساحر تجھ پر خفا ہو کر مارنا چاہے تو اس سے کہنا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر والے مارنا چاہیں تو کہنا کہ ساحر نے مجھے روک لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک روز اتفاق سے اس نے راستے میں دیکھا کہ تنظیم ہولناک درندے نے راہ روکی ہوئی ہے اورلوگ راستہ میں چلنے سے معذور ہیں۔طفل مذکور نے کہا: آج میں جان جاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساحر کا معاملہ پسند ہے یا راہب کا معاملہ پسند ہے۔ اس نے ایک پتھر لے کر کہا: الہٰی ! اگر تیرے نزدیک راہب کا معاملہ اس جادوگر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہو تو اس درندہ کوقتل کر دے تاکہ لوگ گزر سکیں۔ پس راہب کے پاس پہنچا اور اس معاملے سے آگاہ کیا تو راہب نے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے! لیکن عنقریب تو امتحان میں ڈالا جائے گا‘ پس اگر تو امتحان میں پڑے تو میرا نہ بتانا۔ پھر یہ لڑکا اندھے کوڑھی وغیرہ کو اچھا کیا کرتا تھا‘ اللہ تعالیٰ اس کی کرامت ظاہر کرنے کے لیے ان کو شفاء دیتا تھا۔ بادشاہ کے قریب بیٹھنے والا اندھا تھا جب اس نے سنا تو بہت سارے ہدیے لے کر اس کے پاس آیا اور درخواست کی کہ مجھے بھی اچھا کر دے‘ یہ سب کچھ تیرے لیے ہے‘ لڑکے نے کہا: میں کسی کو اچھا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ اچھا کرتا ہے‘ پس اگر تو ایمان لائے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفاء دیدے‘ وہ ایمان لایا‘ پس لڑکے کی دعا پر اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھیں روشن کر دیں۔ اس کو عذاب دیتے رہے حتٰی کہ اس نے لڑکے کا پتا بتا دیا‘ پس بادشاہ نے اس کے لیے کہا: میرے سوا تیرا رب ہے! پس اس نے کہا: جی ہاں! میرا اور تیرا ر باللہ ہے‘ پس عذاب دیا گیا حتٰی کہ اس نے ان سب کا پتا بتا دیا‘ کہا: تو اپنے دین سے انکار کر دے‘ پس آری اس کے سر کی مانگ کی جگہ رکھ کر کاٹ دیا گیا اور نابینا کے لیے کہا: اپنے دین سے پھر ! اس نے بھی انکار کر دیا تو اس کے سر پر آری رکھ کر چیر دیا گیا حتٰی کہ زمین میں بھی شق پڑ گئی۔ پس لڑکے کے لیے کہا: اپنے دین سے پھر جا! پس اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اس کو چند آدمیوں کے ساتھ پہاڑ پر بھیجا کہ جب تم چوٹی پر پہنچ جاؤ تو اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر نہیں‘ تو اس کو پہاڑ سے گرا دینا جب یہ لوگ پہاڑ پر چڑھے تو اس نو جوان نے دعا کی : الہٰی ! جس طرح چاہے ان کو مجھ سے کفایت دے۔ پس ایک بار پہاڑ نے ہلا کر ان لوگوں کو زمین پر پٹخ دیا تو نو جوان چلا آیا اور بادشاہ کے پاس حاضر ہوا‘ بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھیوں کو کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بدی سے مجھے کفایت فرمائی۔ بادشاہ نے چند لوگوں کے ساتھ کشتی میں بٹھا دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ جب تم لوگ سمندر کے درمیان میں پہنچو تو اگر یہ نو جوان اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر‘ ور نہ اس کو سمندر میں غرق کر دو۔ وہ لوگ روانہ ہوئے‘ جب سمندر کے درمیان میں پہنچے تو لڑکے نے کہا: الہی! جس طرح تو چاہے ان کو مجھ سے کفایت فرما! پس وہ لوگ غرق ہوئے اور نو جوان واپس آیا۔ پس بادشاہ نے کہا: تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ نے مجھے ان کی بدی سے کفایت فرمائی‘ پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تو مجھے قتل نہیں کر سکتا جب تک تو اس طرح نہ کرے جس طرح میں تجھے بتلاؤں‘ اگر تو نے ایسا کیا جس طرح میں نے کہا تو تو مجھے قتل کر لے گا ورنہ تو مجھے قتل نہ کر پائے گا۔ بادشاہ نے کہا: وہ کیسے؟ لڑکے نے کہا: تو لوگوں کو میدان میں جمع کر‘ پھر مجھے سولی پر لٹکا‘ میرے ترکش میں سے ایک تیر لے اور کمان میں رکھ کر کہہ: اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے! تو نے اگر ایسا کیا تو مجھے مار لے گا۔ بادشاہ مذکورہ نے ایسے ہی کیا اور تیر کمان میں رکھ کر ’’بسم الله رب الغلام “ کہا تو یہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی پر لگا‘ لڑکے نے کنپٹی پر ہاتھ رکھا اور مر گیا۔ پس اس نے کہا: کیا تو نے وہی کچھ دیکھ لیا جس سے تو ڈرتا تھا۔ پس تحقیق تجھ پر مصیبت اتری ہے کہ تمام لوگ ایمان لائے ہیں‘ پس اس نے گلیوں کے درمیان خندقیں کھودنے کا حکم دیا‘ پس کہا: جو اپنے دین سے رجوع کرے گا ( تو ٹھیک ہے) ورنہ اس کو دن خندقوں میں ڈال دو۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7335

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب · حديث 7336

7320 - حدثنا محمد بن محمد التمار البصري ثنا علي بن عثمان اللاحقي ثنا حماد بن سلمة أن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان فيمن كان قبلكم ملك له ساحر فلما كبر الساحر قال للملك : إني قد كبرت فادفع إلي غلاما أعلمه السحر فدفع إليه غلاما وكان يعلمه السحر وكان بين الملك وبين الساحر راهب فسمع الغلام من كلامه فأعجبه نحوه وكلامه فكان إذا أتى الساحر جلس عند الراهب فإذا أتى الساحر ضربه يقول ما حبسك ؟ وإذا رجع إلى أهله قعد عند الراهب فإذا ذهب إلى أهله يقولون : ما يحسبك ؟ فيضربونه فشكا ذلك إلى الراهب وقال : إذا أراد الساحر أن يضربك فقل : حبسني أهلي وإذا أراد أهلك أن يضربوك فقل حبسني الساحر قال : فبينما هو كذلك فأتى يوما على دابة عظيمة قد حبست الناس أن يجوزوها فقال : اليوم أعلم أمر الساحر أحب إلى الله أو أمر الراهب فأخذ حجرا فقال : بسم الله اللهم إن كان أمر الراهب أحب إليك وأفضل فاقتل هذه الدابة فرماها فقتلها وذهب الناس فبلغ الراهب فقال : أي بنى أنت أفضل مني وإنك ستبتلى فإن ابتليت فلا تدل علي وكان الغلام يبرئ الأكمه والأبرص وهذه الأدواء وكان للملك جليس فمعي فسمع أحدا إنما يشفي الله عز و جل فإن آمنت بالله شفاك فآمن به فدعا الله عز و جل فبرأ فأخذ الأعمى فلم يزل يعذبه حتى دله على الغلام فقال له الملك : ألك رب غيري ؟ فقال : نعم ربي وربك الله فلم يزل به حتى دله على الراهب فأخذه بالعذاب فقال : ارجع عن دينك فأبى فأمر بالمنشار فوضع على مفرق رأسه فشقوه وقال للأعمى : ارجع عن دينك فأبى فوضع المنشار في مفرق رأسه حتى وقع شقاه على الأرض فقيل للغلام : ارجع عن دينك فأبى فبعث به في نفر إلى جبل فقال : اصعدوا به جبل كذا وكذا فإذا بلغ ذروته فإن رجع عن دينه وإلا فدهدهوه قال : فذهب به إلى الجبل فلما بلغ ذروته قال : اللهم اكفينهم بما شئت فزحق بهم الجبل فذهبوا أجمعون وجاء الغلام حتى دخل على الملك فقال : ما فعل أصحابك ؟ قال : كفأنيهم الله عز و جل فبعث بهم في نفر في قرقورة فقال : اذهبوا به إلى البحر فإذا توسطتم به البحر فإن رجع وإلا فغرقوه فذهبوا به فلما لججوا به قال : اللهم اكفينهم بما شئت فغرقوا أجمعون وجاء الغلام فقال : ما فعل أصحابك ؟ فقال : كفانيهم الله عز و جل فقال للملك : إنك لست بقاتلي حتى تفعل ما آمرك به فإن أنت فعلت قتلتني قال : وما هو ؟ قال : تجمع الناس في صعيد واحد ثم تأخذ سهما من كنانتك فتقول : بسم الله رب الغلام ثم ترمينيه فإنك إذا فعلت ذلك ستقتلني ففعل فوضع السهم فقال : بسم الله رب الغلام فوقع السهم في صدغه فوضع الغلام يده في موضع السهم فمات الغلام فقال الناس آمنا برب الغلام ثلاثا فقيل له : أرأيت ما كنت تحذر ؟ فقد والله نزل بك قد آمن الناس كلهم فأمر بأفواه السكك فخدت فيها الأخدود فقال : من رجع عن دينه وإلا فأقحموه فيها

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا‘ میں آپ کے پاس آیا تو آپ ایک گروہ میں تشریف فرما تھے‘ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا تو میں نے آپ کی طرف اشارہ کیا‘ آپ نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ سارے؟ میں نے عرض کی : نہیں ! میں خاموش ہو گیا اور اپنی جگہ پر کھڑا رہا‘ جب آپ نے میری طرف دیکھا تو میں نے آپ کی طرف اشارہ کیا‘ آپ نے فرمایا: یہ سارے؟ میں نے عرض کی نہیں! دو مرتبہ عرض کی یا تین مرتبہ‘ میں نے عرض کی: جی ہاں! سارے‘ تھوڑی شی میں نے آپ کے لیے بنائی ہے۔ آپ آئے اور وہ لوگ بھی آئے‘ انہوں نے کھایا اور میرا گمان ہے کہ وہ کھانا اسی طرح باقی بچ رہا۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← حماد بن سلمة أن ثابت البناني ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7336

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ أبو السليل عن صهيب · حديث 7337

7321 - حدثنا محمد بن الحسين بن مكرم ثنا أحمد بن عبد الله لن كردي ( ح ) وحدثنا سهل بن موسى شيران ثنا محمد بن المثنى قالا ثنا سالم بن نوح عن الجريري عن أبي السليل عن صهيب قال Y صنعت لرسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما فأتيته وهو في نفر جالس فقمت حياله فأومأت إليه فأومأ إلي : وهؤلاء ؟ فقلت : لا فسكت فقمت مكاني فلما نظر إلي أومأت إليه فقال : وهؤلاء ؟ فقلت : لا مرتين فعل ذلك أو ثلاثا فقلت : نعم وهؤلاء وإنما كان شيئا يسيرا صنعته له فجاء وجاؤوا معه فأكلوا وأحسبه قال : وفضل منه

حضرت صہیب بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز کی فضیلت اس کے اپنے گھر میں اس کی اس نماز پر ہے جہاں لوگ دیکھیں اس طرح ہے جس طرح فرض نماز کوفضیلت حاصل ہے نفل نماز پر۔

صُھَیْبٍ ← أَبِي السَّلِيلِ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← سَهْلُ بْنُ مُوسَى شَيْرَانُ، ← أحمد بن عبد الله لن كردي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7337

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ 720 - صهيب بن النعمان · حديث 7338

7322 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا أيوب بن محمد الوراق ثنا محمد بن مصعب القرقسائي ثنا قيس بن الربيع عن منصور عن هلال بن يساف عن صهيب بن النعمان قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فضل صلاة الرجل في بيته على صلاته حيث يراه الناس كفضل المكتوبة على النافلة

حضرت عمر بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن صفوان اپنے والد کو دفن کر رہے تھے کہ آپ کے پاس ایک سوار آیا‘ اس نے عرض کی : امیر المؤمنین عثمان بن عفان کو شہید کیا گیا ہے‘ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں ہے کہ دومصیبتوں میں کون سی بڑی ہے‘ میرے والد کی موت بڑی مصیبت ہے یا حضرت عثمان کی شہادت؟

صهيب بن النعمان ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← محمد بن مصعب القرقسائي ← أَيُّوب بن مُحَمَّد الْوراق ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7338

chevron_left Previous
1…456…67
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter