Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن عبيد الله العرزمي عن عبيد الله · حديث 7879

7863 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا محمد بن سلمة عن الفزاري عن بن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذا الدين إقبالا وإدبارا وذكر الحديث

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج رات خواب دکھایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا‘ میں آٹھوں دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلا‘ وہاں میرا ایک امتی کھڑا تھا‘ مجھ پر ایک ایک آدمی پیش کیا گیا‘ وہاں میزان کھڑا کیا گیا‘ ایک پلڑے میں ایک امتی اور دوسرے میں مجھے رکھا گیا‘ میرا وزن تمام امتیوں سے بھاری ہوا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرے میں رکھا تو ان کا وزن ساری امت سے بھاری ہوا‘ پھر ساری امت ایک پلڑے میں اور دوسرے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رکھا گیا تو حضرت عمر کا پلڑا بھاری ہوا پھر میزان کو اٹھا لیا گیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← بن عبيد الله بن زحر ← الْفَزَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7879

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن عبيد الله العرزمي عن عبيد الله · حديث 7880

7864 - حدثنا خير بن عرفة المصري ثنا عروة بن مروان الرقي ثنا محمد بن مسلمة عن محمد بن عبيد الله العرزمي عن بن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أريت البارحة كأني أدخلت الجنة فخرجت من إحدى أبوابها الثمانية فإذا أنا بأمتي قيام فعرضوا علي رجلا رجلا وإذا بميزان منصوب فوضعت أمتي في كفة الميزان ووضعت في الكفة الأخرى فرجحت بهم ثم وضعت أمتي كلهم في الميزان ووضع أبو بكر الصديق رضي الله عنه في الكفة الأخرى فرجح بهم ثم وضع جميع أمتي في كفة الميزان ووضع ابن الخطاب في كفة الميزان فرجح بهم ثم رفع الميزان

معان بن رفاعہ السلامی‘ حضرت علی بن یزید سے روایت کرتے ہیں

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← بن عبيد الله بن زحر ← مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← عروة بن مروان الرقي، ← خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7880

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7881

7865 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة عبد القدوس بن الحجاج ثنا معاذ بن رفاعة ثنا علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة الباهلي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بينما هو يمشي في شدة حر انقطع شسعه فجاء رجل بشسع فوضع نعله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تعلم ما حملت عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم لو تعلم ما حملت عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی میں چل رہے تھے‘ آپ کے نعلین مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا‘ ایک آدمی تسمہ لے کر آیا‘ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین میں رکھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تو جانتا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس چیز پر سوار کیا ہے‘ کاش مجھے علم ہوتا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکس شی پر سوار کیا ہے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7881

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7882

7866 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة عبد القدوس بن الحجاج ثنا معان بن رفاعة ثنا علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة الباهلي قال Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل وهو يقرأ { قل هو الله أحد } فقال : أوجب هذا وجبت له الجنة

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے‘ وہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: اس نے واجب کر لی‘ اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7882

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7883

7867 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب ثنا أبو المغيرة ثنا معان بن رفاعة ثنا علي بن يزيد حدثني القاسم عن أبي أمامة قال Y لما كان حجة الوداع قام النبي صلى الله عليه و سلم وهو يومئذ مردف الفضل بن عباس وهو على جمل فقال : يا أيها الناس خذوا من العلم قبل أن يقبض العلم وقبل أن يرفع العلم وقد كان أنزل الله عز و جل { يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم } الآية فكنا نذكرها كثيرا فتمعنا من مسألته فأتينا أعرابيا فرشوناه بردا فاعتم به حتى رأيت حاشية البرد على حاشية البرد على حاجبه الأيمن ثم قلنا : سل نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله كيف يرفع العلم منا وبين أظهرنا المصاحف قد تعلمنا فيها وعلمناها نساءنا وذرارينا وخدمنا فرفع النبي صلى الله عليه و سلم رأسه وقد علت وجهه حمره من الغضب فقال : أي ثكلتك أمك وهذه اليهود والنصارى بين أظهرهم المصاحف لم يصبحوا يتعلقوا بالحرف مما جاءتهم به أنبياؤهم ألا وإن من ذهاب العلم أن يذهب أهله ثلاث مرات

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب حجۃ الوداع کا موقع تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے‘ اس دن ایک ہی اونٹ پر حضرت فضل بن عباس‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! علم ختم ہونے سے پہلے علم حاصل کر لو اور اس سے پہلے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی :”اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں نہ پوچھو جو اگر تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں‘‘۔ پس ہم اکثر اس کا ذکر کرتے تو یہ آیت ہمیں سوال کرنے سے روکتی۔ پس ہم ایک دیہاتی کے پاس آئے‘ ہم نے اسے ایک چادر دی‘ اس نے دیر لگائی یہاں تک کہ میں نے چادر کا کنارہ اس کے دائیں ابرو پر دیکھا‘ پھر ہم نے اس سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال تو کرو۔ پس اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھالیا جائے گا جبکہ مصاحف ہمارے پاس ہیں‘ ان میں سے ہم نے علم سیکھا ہے اور ہم نے اپنی عورتوں‘ بچوں اور خادموں کو سکھایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اس حال میں کہ غصے کی سرخی چہرے پر چھا چکی تھی۔ فرمایا: ارے تیری ماں تجھے روئے! یہ یہودی و عیسائی ہیں‘ ان کے درمیان بھی تو مصاحف آسمانی ہیں لیکن ایسے ایک حرف سے بھی ان کا تعلق باقی نہیں رہ گیا ہے جو ان کے نبی لے کر آئے تھے۔ خبر دار اعلم اس طرح جائے گا کہ اہل علم باقی نہ رہیں گے‘ تین بار فرمایا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7883

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7884

7868 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب ثنا أبو المغيرة ثنا معان بن رفاعة أخبرني علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في سرية من سراياه فمر برجل بغار فيه شيء من ماء [ فجذبته نفسه أن يقيم في ذلك الغار فيقوت ما فيه من ماء ] ويصيب مما حوله من البقل ويتخلى من الدنيا ثم قال : لو أني أتيت نبي الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فإن أذن لي فعلت وإلا لم أفعل فأتاه فقال : يا نبي الله إني مررت بغار فيه ما يقوتني من الماء والبقل فحدثني نفسي بأن أقيم وأتخلى من الدنيا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إني لم أبعث باليهودية ولا النصرانية ولكني بعثت بالحنفية السمحة والذي نفسي بيده لغداة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها ولمقام أحدكم في الصف خير من صلاته ستين سنة

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید گرمی کے دن میں جنت البقیع کی طرف سے گزرے‘ پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا کرتے تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی جوتیوں کی آوازیں سنیں۔اس سے آپ کے دل کو قرار ہوا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم روک لیے یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے آگے کیا تاکہ آپ کے دل میں تکبر میں سے کوئی شی واقع نہ ہو جائے۔ پس جب جنت البقیع کے پاس سے گزرے تو دو قبر میں دیکھیں جن میں مردوں کو دفن کر دیا گیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے‘ فرمایا: آج کے دن تم نے کس کو یہاں دفن کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! فلاں آدمی کو ( نام لیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور اپنی قبروں میں آزمائش میں ہیں۔صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کس سبب سے؟ فرمایا: ایک چغل خور تھا اور دوسرا پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی تر شاخ پکڑ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا‘ پھر ان دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کے یہ کام کرنے میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا: تاکہ ان دونوں سے عذاب ہلکا ہو جائے۔صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! ان کو کب تک عذاب دیا جاتا رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا غیب ہے جس کو اللہ جانتا ہے (یا اس کے بتانے سے میں جانتا ہوں لیکن تم کو بتانے کی اجازت نہیں )۔ فرمایا: اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہارے دلوں میں حرج واقع ہو جائے گا یا زیادہ باتیں بنانے کا سبب ہو گا تو تم بھی وہ سنتے جو میں سنتا ہوں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7884

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7885

7869 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا معان بن رفاعة ثنا علي بن يزيد قال سمعت القاسم يحدث عن أبي أمامة قال Y مر النبي صلى الله عليه و سلم في يوم شديد الحر نحو بقيع الغرقد فكان الناس يمشون خلفه فلما سمع صوت النعال وقر ذلك نفسه فحبس حتى قدمهم أمامة لئلا يقع في قلبه شيء من الكبر فلما مر ببقيع الغرقد إذا بقبرين قد دفنوا فيهما رجلين فوقف النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من دفنتم ههنا اليوم ؟ قالوا : يا نبي الله فلان قال : إنهما ليعذبان الآن ويفتنان في قبريهما قالوا : يا رسول الله وما ذاك ؟ قال : أما أحدهما فكان يمشي بالنميمة وأما أحدهما فكان لا يتنزه من البول وأخذ جريدة رطبة فشقها ثم جعلها على القبرين قالوا : يا نبي الله ولم فعلت ؟ قال : ليخفف عنهما قالوا : يا نبي الله وحتى يعذبان قال : غيب لا يعلمه إلا الله قال : ولولا تمريجا في قلوبكم أو تزيدكم في الحديث سمعتم ما أسمع

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ آپ نے ہمیں نصیحت کی اور نرم دل کرنے والی گفتگو کی۔ حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے‘ کثرت سے رونے لگے‘ کہنے لگے: کاش! میں مر گیا ہوتا ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : اے سعد! کیا تو نے موت کی تمنا کی ہے؟ یہ بات تین دفعہ کی‘ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تو جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو جو تیری عمر لمبی ہو گی اور تیرے اعمال اچھے ہوں گے‘ تو وہ تیرے لیے بہتر ہو گا‘ اگر تو جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو کتنی بری ہے‘ وہ چیز جس کی طرف تو جلدی کر رہا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7885

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7886

7870 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا معان بن رفاعة ثنا علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y جلسنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا ورققنا فبكى سعد بن أبي وقاص فأكثر البكاء وقال : يا ليتني مت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا سعد أعندي تمن الموت ؟ فردد ذلك ثلاث مرات ثم قال : يا سعد إن تك خلقت للجنة فما طال عمرك وحسن عملك فهو خير لك وإن تكن خلقت للنار فبئست [ التي ] الشيء تتعجل إليه

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیٹھے ہوئے تھے‘ صحابہ کرام نے خیال کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے‘ وہاں سے صحابہ کرام اٹھنے لگے‘ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور بیٹھ گئے‘ آپ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے‘ فرمایا: اے ابو ذر! کیا آج تو نے نماز پڑھی ہے؟ عرض کی: نہیں! آپ نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو! پس جب انہوں نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھ لیں تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ پس کہا: اے ابو ذر! کیا تو نے جنوں اور انسانوں میں سے شیطانوں سے اللہ کی پناہ مانگ لی ہے؟ عرض کی: جی ہاں! عرض کی : کیا انسانوں اور جنوں کے شیطان ایک دوسرے کے دل میں بات ڈالتے ہیں‘ اوٹ پٹانگ باتیں دھوکہ دیتے ہوئے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7886

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ معان بن رفاعة السلامي عن علي بن يزيد · حديث 7887

7871 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب ثنا أبو المغيرة ثنا معان بن رفاعة ثنا علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا وكان يظنون الوحي ينزل عليه فاقصروا عنه حتى جاء أبو ذر فاقتحم فأتاه فجلس إليه فأقبل عليه فقال : يا أبا ذر هل صليت اليوم ؟ قال : لا قال : قم فصل فلما صلى أربع ركعات الضحى أقبل عليه فقال : يا أبا ذر هل تعوذت من شر الشياطين الجن والأنس والجن ؟ قال : يا نبي الله وهل للأنس شياطين ؟ قال نعم { شياطين الإنس والجن يوحي بعضهم إلى بعض زخرف القول غرورا } ثم قال : يا أبا ذر ألا أعلمك كلمة من كنز الجنة ؟ قلت : بلى جعلني الله فداك قال : قل لا حول ولا قوة إلا بالله ثم سكت عني حتى استبطأت كلامه قال قلت : يا نبي الله إنا كنا أهل جاهلية وعبادة أوثان فبعثك الله رحمة للعالمين أرأيت الصلاة ماذا هي ؟ قال : خير موضوع فمن شاء استقل ومن شاء استكثر قال : قلت : يا نبي الله أرأيت الصيام ماذا هو ؟ قال : أضعاف مضعفة وعند الله المزيد قلت : يا نبي الله أي الصدقة أفضل ؟ قال : سر إلى فقير وجهد من مقل قلت : يا نبي الله أي الشهداء أفضل ؟ قال : من سفك دمه وعقر جواده قلت : يا نبي الله أيما آية أنزلت يا نبي الله عليك أعظم ؟ قال : { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } آية الكرسي قلت : يا نبي الله أي الرقاب أفضل ؟ قال : أغلاها ثمنا وأنفسها عند أهلها قلت : يا نبي الله فأي الأنبياء كان أول ؟ قال : آدم قلت : يا نبي الله أو نبي كان آدم ؟ قال : نعم نبي مكلم خلقه الله بيده ونفخ فيه من روحه ثم قال له يا آدم قبلا قلت : يا نبي الله كم وفاء عدة الأنبياء ؟ قال : مئة ألف وأربعة وعشرون ألفا الرسل من ذلك ثلاث مئة وخمسة عشر جما غفيرا

پھر فرمایا: اے ابو ذر! کیا تمہیں جنت کے خزانوں کے متعلق بتاؤں! میں نے عرض کی: کیوں نہیں! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لا حول ولاقوة الا باللہ پڑھ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7887

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد · حديث 7897

7881 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : ما استفاد المسلم فائدة بعد تقوى الله تعالى خيرا له من زوجة صالحة إن أمرها أطاعته وإن نظر إليها سرته وإن أقسم عليها أبرته وإن غاب عنها نصحته في نفسها

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو بن طفیل کو خیبر کی طرف بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم سے امداد لے آئے اور فرمایا: اے عمرو! جا اور اپنی قوم سے ہمارے لیے امداد لے کر آ۔ تو حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے ایسے وقت میں بھیج رہے ہیں جب حالت یہ ہے کہ جنگ اپنے زوروں پہ ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ بات مجھے خوش نہیں کرتی کہ تو اللہ کے رسول کا قاصد ہو؟

النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِکَةِ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7897

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد · حديث 7898

7882 - حدثنا إبراهيم بن دحيم ثنا الوليد بن مسلم ثنا عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث عمرو بن الطفيل إلى خيبر ليستمد له قومه وقال : يا عمرو انطلق فاستمد لنا قومك فقال عمرو : يا رسول الله أرسلتني وقد نشب القتال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما ترضى أن تكون رسول رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلے‘ پس حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے‘ فرمایا: اے کحیلہ ! ( حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی) تجھے کیا ہے! کیوں میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے ہیں؟ کیا عثمان‘ گھر میں موجود نہیں ہیں؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! ( وہ موجود ہیں) لیکن اتنے اتنے عرصے سے وہ میرے بستر پر نہیں سوئے‘ وہ صوم دھر رکھتے ہیں‘ وہ تو افطار کرتے ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کہنا میرے پاس آئے گا۔ پس جب وہ ( گھر میں ) آئے تو ان کی بیوی نے ان سے کہا: ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ کی حاضری دو‘ وہ فرما گئے ہیں )۔ پس حضرت عثمان‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں موجود پایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا بیٹھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منہ موڑ لیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے۔ پھر عرض کی: جی ہاں! مجھے معلوم ہے جو بات میرے حوالے سے آپ کو پہنچی ہے۔ فرمایا: تو ہی وہ ہے جو صوم دھر رکھتا ہے‘ پوری پوری رات قیام کرتا ہے اور اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتا ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: میں یہ سب کچھ بھلائی کی تلاش میں کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے‘ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے‘ تیری بیوی کا تیرے اوپر حق ہے‘ روزے بھی رکھ‘ افطار بھی کر‘ سو بھی اور قیام بھی کر اور اپنی بیوی ( کی خوابگاہ میں اس) کے پاس آ کیونکہ میں روزے بھی رکھتا ہوں‘ افطار بھی کرتا ہوں‘ سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور اپنی بیویوں کے پاس بھی آتا ہوں‘ پس جس نے میری سنت پرعمل کیا‘ وہ ہدایت پا گیا جس نے اسے چھوڑا وہ گمراہ ہو گیا‘ کیونکہ ہر عمل کیلئے ایک تیزی ( چستی‘ پھرتی) ہے اور ہر تیزی کیلئے ایک سستی ( کمزوری‘ ڈھیلا پن ) ہے‘ پس جب سستی کا رخ‘ غفلت کی طرف ہوتو اسی کا نام ہلاکت ہے اور جب غفلت کا رُخ فریضہ کی طرف ہوتو تو فریضہ والے کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ پس اعمال میں سے وہی کر جس کی تو طاقت رکھتا ہے۔ میں تو پاکیزہ اور نرم شریعت دے کر بھیجا گیا ہوں۔ پس اپنے رب کی عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بنا‘ تجھے کیا معلوم تیری عمر کتنی بھی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِکَةِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7898

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد · حديث 7899

7883 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا هشام ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن أبي العاتكة عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فمر ببيت عثمان بن مظعون فقام على باب البيت فقال : مالك يا كحيلة مبتذلة أليس عثمان شاهدا ؟ قالت : بلى وما اضطجع على فراشي منذ كذا وكذا ويصوم الدهر فما يفطر فقال : مريه أن يأتيني فلما جاء قالت له فانطلق إليه فوجده في المسجد فجلس إليه فأعرض عنه فبكى ثم قال : لقد علمت أنه بلغك عني أمر قال : أنت الذي تصوم الدهر وتقوم الليل لا تضع جنبك على فراش ؟ قال عثمان : قد فعلت ذلك ألتمس الخير فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لعينك حظ ولجسدك حظ فصم وأفطر ونم وقم وائت زوجك فإني أنا أصوم وأفطر وأنام وأقوم وآتي النساء فمن أخذ بسنتي فقد اهتدى ومن تركها ضل فإن لكل عمل شرة ولكل شرة فترة فإذا كانت الفترة إلى الغفلة فهي الهلكة وإذا كانت الغفلة إلى الفريضة لا يضر صاحبها شيئا فخذ من العمل بما تطيق وإني أنما بعثت بالحنيفية السمحة فلا تثقل عليك عبادة ربك لا تدري ما طول عمرك

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چکے‘ حضرت ابو بکر‘ عمر‘ زید بن ثابت‘ عبداللہ بن مسعود‘ ابی بن کعب اور عبداللہ بن عباس بھی ساتھ تھے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے۔ پس جب ظاہر ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی آدمی کو کہتے ہوئے سنا : اللہ سب سے بڑا ہے‘ اللہ سب سے بڑا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم رُک گئے اور آپ غور سے سننے لگے۔ پس جب اس نے اللہ اکبر‘ اللہ اکبر کہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے حق کی گواہی دی‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! پس جب اس نے کہا: اشہد ان لا الہ الا اللہ ! فرمایا: یہ آگ سے بری ہو گیا‘ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! تین بار فرمایا‘ پھر فرمایا: یہ کتے والا ہے۔ پس حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما گئے تو اس کو ویسے ہی پایا ( جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا)۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِکَةِ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7899

chevron_left Previous
1…464748…67
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter