المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن ين يزيد عن سليم بن عامر عن أبي أمامة · حديث 7684
7668 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم عن ابن جابر عن سليم بن عامر عن أبي أمامة قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب يوم النحر على راحلته
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جو آدمی سب سے آخر میں جنت کے اندر داخل ہو گا‘ وہ آدمی ہو گا جو پل صراط پر کبھی پیٹھ اور کبھی پیٹ کے بل لیٹتا ہو گا‘ اس لڑکے کی طرح جس کا باپ اسے سخت مارتا ہے اور وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بھاگنے سے عاجز آ جاتا ہے۔ پس وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے بھی جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے چھٹکارا دے دے۔ پس اللہ اسے الہام فرمائے گا: اے میرے بندے! اگر میں تجھے اپنی دوز رخ سے نجات دے کر اپنی جنت میں داخل فر ما دوں تو تو اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے گا۔ پس بندہ عرض کرے گا: جی ہاں! اے میرے رب! تیرے عزت وجلال کی قسم ! اگر تو مجھے دوزخ سے نجات دیدے تو میں تجھے بتا دوں گا کہ میں نے کون سے گناہ کیے اور خطائیں کیں۔ پس وہ پل عبور کرے گا‘ بندہ کہے گا: جو اللہ اور اس کے درمیان مکالمہ ہو گا کہ اگر میں نے اللہ کے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لیا تو وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے گا۔ پس اللہ اس کی طرف الہام فرمائے گا : اے میرے بندے! تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کر‘ میں وہ معاف کر کے‘ تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ پس بندہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم ! میں نے تو کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں‘ نہ کبھی کوئی خطاء مجھ سے سرزد ہوئی۔ پس اللہ اسے الہام فرمائے گا : اے میرے بندے! میرے پاس تیرے خلاف گواہ موجود ہیں۔ پس بندہ ( یہ بات سن کر ) دائیں بائیں دیکھے گا‘ پس اسے کوئی آدمی نظر نہ آئے گا۔ پس وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! اپنے گواہ تو مجھے دکھا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو قوت گویائی عطا کرے گا‘ وہ چھوٹے گناہ بتائے گی۔ پس جب وہ بندہ یہ دیکھے گا تو کہے گا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! میرے پاس پوشیدہ بڑے بڑے گناہ ہیں۔ پس اللہ اس بندے کو الہام فرمائے گا: اے میرے بندے! میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں۔ بس ایک بار تو میرے سامنیان کا اعتراف کر‘ میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا اور تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے گا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اورفرما رہے تھے : یہ تو سب سے چھوٹا جنتی ہے‘ جو اس کے اوپر ہے‘ اس کا کیا حال ہو گا ؟
اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7684
