Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عبد الرحمن ين يزيد عن سليم بن عامر عن أبي أمامة · حديث 7684

7668 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم عن ابن جابر عن سليم بن عامر عن أبي أمامة قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب يوم النحر على راحلته

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جو آدمی سب سے آخر میں جنت کے اندر داخل ہو گا‘ وہ آدمی ہو گا جو پل صراط پر کبھی پیٹھ اور کبھی پیٹ کے بل لیٹتا ہو گا‘ اس لڑکے کی طرح جس کا باپ اسے سخت مارتا ہے اور وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بھاگنے سے عاجز آ جاتا ہے۔ پس وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے بھی جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے چھٹکارا دے دے۔ پس اللہ اسے الہام فرمائے گا: اے میرے بندے! اگر میں تجھے اپنی دوز رخ سے نجات دے کر اپنی جنت میں داخل فر ما دوں تو تو اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے گا۔ پس بندہ عرض کرے گا: جی ہاں! اے میرے رب! تیرے عزت وجلال کی قسم ! اگر تو مجھے دوزخ سے نجات دیدے تو میں تجھے بتا دوں گا کہ میں نے کون سے گناہ کیے اور خطائیں کیں۔ پس وہ پل عبور کرے گا‘ بندہ کہے گا: جو اللہ اور اس کے درمیان مکالمہ ہو گا کہ اگر میں نے اللہ کے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لیا تو وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے گا۔ پس اللہ اس کی طرف الہام فرمائے گا : اے میرے بندے! تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کر‘ میں وہ معاف کر کے‘ تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ پس بندہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم ! میں نے تو کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں‘ نہ کبھی کوئی خطاء مجھ سے سرزد ہوئی۔ پس اللہ اسے الہام فرمائے گا : اے میرے بندے! میرے پاس تیرے خلاف گواہ موجود ہیں۔ پس بندہ ( یہ بات سن کر ) دائیں بائیں دیکھے گا‘ پس اسے کوئی آدمی نظر نہ آئے گا۔ پس وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! اپنے گواہ تو مجھے دکھا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو قوت گویائی عطا کرے گا‘ وہ چھوٹے گناہ بتائے گی۔ پس جب وہ بندہ یہ دیکھے گا تو کہے گا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! میرے پاس پوشیدہ بڑے بڑے گناہ ہیں۔ پس اللہ اس بندے کو الہام فرمائے گا: اے میرے بندے! میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں۔ بس ایک بار تو میرے سامنیان کا اعتراف کر‘ میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا اور تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے گا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اورفرما رہے تھے : یہ تو سب سے چھوٹا جنتی ہے‘ جو اس کے اوپر ہے‘ اس کا کیا حال ہو گا ؟

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7684

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ يزيد بن سنان أبو فروة الرهاوي عن سليم بن عامر · حديث 7685

7669 - حدثنا عبد الله بن سعد بن يحيى الرقي ثنا أبو فروة يزيد بن محمد بن يزيد بن سنان الرهاوي حدثني أبي عن أبيه حدثني أبو يحيى الكلاعي عن أبي أمامة رضي الله عنه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن آخر رجل يدخل الجنة رجل يتقلب على الصراط ظهرا لبطن كالغلام يضربه أبوه وهو يفر منه يعجز عنه عمله أن يسعى فيقول : يا رب بلغ بي الجنة ونجني من النار فيوحي الله تعالى إليه : عبدي إن أنا نجيتك من النار وأدخلتك الجنة أتعترف لي بذنوبك وخطاياك ؟ فيقول العبد : نعم يا رب وعزتك وجلالك لئن تنجيني من النار لأعترفن لك بذنوبي وخطاياي فيجوز الجسر ويقول العبد فيما بينه وبين نفسه : لئن اعترفت له بذنوبي وخطاياي ليردني إلى النار فيوحي الله إليه : عبدي اعترف لي بذنوبك وخطاياك أغفرها لك وأدخلك الجنة فيقول العبد : لا وعزتك ما أذنبت قط ولا أخطأت خطيئة قط فيوحي الله إليه : إن لي عليك بينة فيلتفت العبد يمينا وشمالا فلا يرى أحدا فيقول : يا رب أرني بينتك فيستنطق الله جلده بالمحقرات فإذا رأى ذلك العبد يقول : يا رب عندي وعزتك العظائم المضمرات فيوحي الله عز و جل إليه : عندي أنا أعرف بنا منك أعترف لي بها أغفرها لك وأدخلك الجنة فيعترف العبد بذنوبه فيدخل الجنة ثم ضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه يقول هذا أدنى أهل الجنة فيكف بالذي فوقه ؟

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں اپنی امت کے ایک آدمی کو جانتا ہوں جو پل صراط سے گزرے‘ پل صراط پر پلٹے کھائے گا‘ جس طرح بچہ کو اس کا باپ مارتا ہے‘ اس کے بعد اس کی مثل حدیث ذکر کی۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبُو يَحْيَى الْكَلَاعِيُّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7685

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ يزيد بن سنان أبو فروة الرهاوي عن سليم بن عامر · حديث 7686

7670 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بي أبي شيبة ثنا هاشم بن القاسم ثنا أبو عقيل عبد الله بن عقيل الثقفي عن يزيد بن سنان أخبرني أبو يحيى الكلاعي قال سمعت أبا أمامة يقول Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إني لأعلم آخر رجل من أمتي يجوز الصراط يتولى على الصراط كالغلام حين يضربه أبوه فذكر مثله

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے‘ فرمایا : اے لوگو! ہم پر حج فرض ہے۔ ایک دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : کیا ہر سال؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو بند کر دی اور ناراض ہوئے‘ دیر تک خاموش رہے پھر گفتگو کی‘ آپ نے فرمایا: یہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس دیہاتی نے عرض کی : یارسول اللہ! میں ہوں! آپ نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! تم یقین کرتے ہو کہ اگر میں ہاں کہتا تو واجب ہو جاتا اور اگر واجب ہو جاتا تو تم ضرور چھوڑتے‘ اگر تم چھوٹے تو تم نے کافر ہو جانا تھا‘ تم سے پہلے لوگ حرج میں ڈالنے والے حکمرانوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں‘ اللہ کی قسم ! اگر میں تمہارے لیے زمین کی ہر چیز حلال کر دوں اور اونٹ کے کھر کے برابر چیز حرام کروں گا تو تم اس میں بھی پڑ جاؤ (اگر تقدیر میں لکھا ہو ) پس اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’لا تسالوا عن اشیاء‘‘ ۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← أَبُو يَحْيَى الْكَلَاعِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أَبُو عَقِيلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ، ← هاشم بن القاسم ← أبو بَكْر بي أبي شيبة ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7686

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر · حديث 7688

7672 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا العباس بن عثمان المعلم ( ح ) وحدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا دحيم قالا ثنا الوليد بن مسلم عن صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر و أبي اليمان الهوزني عن أبي أمامة Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل وعدني أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا بغير حساب وزادني ثلاث حثيات قيل : فما سعة حوضك ؟ قال : كما بين عدن إلى عمان فيه شعبان من ذهب وفضة قال : فما حوضك ؟ قال : أشد بياضا من اللبن وأحلى مذاقة من العسل وأطيب رائحة من المسك من شرب منه لم يظمأ بعدها ولم يسود وجهه أبدا

حضرت سلیم بن عامر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے‘ ہمیں آپ نے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنائیں‘ جب آپ خاموش ہوئے تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سمجھ لیا ؟ جس طرح میں نے تم تک پہنچایا تم بھی پہنچاؤ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سليم بن عامر و أبي اليمان الهوزني ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُعَلِّمُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7688

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر · حديث 7689

7673 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو اليمان ثنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر قال : كنا نجلس إلى أبي أمامة الباهلي فيحدثنا كثيرا Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا سكت قال : أعقلتم بلغوا كما بلغتم

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا جنت والے نکاح کریں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ! خوب نکاح کریں گے‘ ایسے ذکر کے ساتھ جوا کتائے گا نہیں اور ایسی شہوت کے ساتھ جو ختم نہ ہو گی۔

أعقلتم بلغوا كما بلغتم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا سكت ← كنا نجلس إلى أبي أمامة الباهلي فيحدثنا كثيرا ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر · حديث 7690

7674 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا الحمصي ثنا سليمان بن سلمة الخبائري ثنا بقية ثنا صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر عن أبي أمامة قال Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم يتناكح أهل الجنة ؟ فقال : نعم بذكر لا يمل وشهوة لا تنقطع دحما دحما

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی: یارسول اللہ! مجھ پر اللہ کی حد قائم کریں! ایک مرتبہ یا دو مرتبہ عرض کی‘ آپ نے اعراض فرمایا‘ پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: وہ کہاں ہے جو کہتا تھا کہ مجھ پر اللہ کی حد قائم کریں؟ اس آدمی نے عرض کی : میں ہوں! آپ نے فرمایا: تو نے مکمل وضو نہیں کیا اور ہمارے ساتھ رات کی نماز نہیں پڑھی؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! آپ نے فرمایا: تیرے گناہ اس طرح معاف ہوئے جس طرح آج ہی تیری ماں نے تجھے جنا ہے‘ پھر نہ کرنا۔ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :’’دن کے دونوں حصوں میں نماز قائم کرو اور رات کے حصے‘‘۔

سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم يتناكح أهل الجنة ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بَقِيَّةُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ← الحمصي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7690

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن الوليد الزبيدي عن سليم بن عامر · حديث 7691

7675 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زبريق الحمصي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا عمارة بن وثيمة المصري قالا ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم عن الزبيدي ثنا سليم بن عامر أنه سمع أبا أمامة يقول Y إن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه فقال : يا رسول الله أقم في حد الله مرة أو ثنتين فأعرض عنه ثم أقيمت الصلاة فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم من الصلاة قال : أين القائل أقم في حد الله ؟ قال : أنا ذا قال : أتممت الوضوء وصليت معنا العشاء ؟ قال : نعم قال : فإنك من خطيئتك كما ولدتك أمك فلا تعد وأنزل الله عز و جل { أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل }

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں سنا کہ آپ اپنی جدعا اونٹنی پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں رکاب میں ڈالے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ اپنے کجاوے کے آگے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کجاوے کے پیچھے‘ بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! خاموش ہو جاؤ! ممکن ہے اس سال کے بعدتم مجھے نہ دیکھ سکو۔ پس لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے بھیجا۔ کسی نے کہا: ہم کیا کام کیا کریں؟ فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرنا‘ پانچ نمازیں پڑھنا‘ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا‘ رمضان شریف کے روزے رکھنا اور اطاعت کرنا‘ جب تمہیں کوئی حکم دیا جائے تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

إن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه فقال ← أَبَا أُمَامَةَ، ← سليم بن عامر أنه ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← وحدثنا عمارة بن وثيمة المصري ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7691

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن الوليد الزبيدي عن سليم بن عامر · حديث 7692

7676 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن العلاء بن زبريق الحمصي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا عمارة بن وثيمة المصري ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي قالا ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم الزبيدي ثنا سليم بن عامر أن أبا أمامة حدثهم Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حجة الوداع هو على ناقته الجدعاء قد أدخل رجليه في الغرز ووضع إحدى يديه على مقدم الرحل والأخرى على مؤخره يتطاول بذلك فقال : يا أيها ناس أنصتوا فإنكم لعلكم لا تروني بعد عامكم هذا فبعث الله عز و جل رجلا من الناس فقال : ماذا نفعل ؟ قال : تعبدون ربكم وتقيمون خمسكم وتؤتون زكاة أموالكم وتصومون شهركم وتطيعوا ذا أمركم تدخلوا جنة ربكم

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عبد الله بن سالم الزبيدي ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبِي ← عمرو بن إسحاق بن العلاء بن زبريق الحمصي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7692

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن الوليد الزبيدي عن سليم بن عامر · حديث 7693

7677 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد مصفى ثنا بقية عن الزبيدي عن سليم بن عامر عن أبي أمامة Y مثله

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کوحکم دیا کہ نماز عشاء کے وقت کل تم نماز کے لیے جمع ہوجانا‘ مجھے تم سے کام ہے۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا: اے فلاں ! اس کو ضرور لکھنا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے کلام فرمائیں کیونکہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوتا ہے۔ دیگر لوگوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں سے کوئی شی رہ جاتی ہے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا جس طرح میں نے حکم دیا تھا‘ تم اکٹھے ہو گئے؟ صحابہ نے عرض کی : جی ہاں! اے اللہ کے رسول! فرمایا: اللہ کی عبادت کرتے رہنا اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا‘ اب بتاؤ! تم نے سمجھ لیا۔ تین بار فرمایا۔ صحابہ نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ تین بارفرمایا‘ پھر تین بارفرمایا: کیا تم نے سمجھ لیا۔ صحابہ نے عرض کی : جی ہاں! پس ہم دیکھ رہے ہوتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ کلام فرمائیں گے‘ پھر آپ کے کلام میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے لیے تمام بات اکٹھی ہو گئی۔

أَبِي أُمَامَةَ، مِثْلَهُ. ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدٌ مُصَفًّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7693

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ محمد بن الوليد الزبيدي عن سليم بن عامر · حديث 7694

7678 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زبريق الحمصي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا بن وثيمة الحمصي ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي قالا ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم عن الزبيدي ثنا سليم بن عامر أن أبا أمامة حدثهم Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر أصحابه عند صلاة العتمة : أن احشدوا للصلاة غدا فإن لي إليكم حاجة فقالت رفقة منهم : يا فلان دونك أول كلمة يتكلم بها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنت الذي تليها لئلا يفوتهم شيء من كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما فرغ من صلاة الصبح قال : هل حشدتم كما أمرتكم ؟ قالوا : نعم يا رسول الله قال : اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وهل عقلتم هذه هل عقلتم هذه هل عقلتم هذه ؟ قالوا : نعم قال : أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة أقيموا الصلاة وأتوا الزكاة هل عقلتم هذه هل عقلتم هذه هل عقلتم هذه ؟ قالوا : نعم قال : اسمعوا وأطيعوا اسمعوا وأطيعوا هل عقلتم هذه هل عقلتم هذه هل عقلتم هذه ؟ قالوا : نعم فكنا نرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سيتكلم كلاما كثيرا ثم نظر في كلامه فإذا هو قد جمع له الأمر كله

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نو جوان آ یا اور عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دیں‘ لوگ چیخے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رک جاؤ! اس (شخص) کوفر مایا: قریب آ ؤ! پس وہ قریب آ کر بیٹھ گیا‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ارشادفرمایا: کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری ماں کے ساتھ کوئی ایسا فعل کرے؟ اس نے عرض کی نہیں! آپ نے فرمایا: اور اس طرح لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہا: تو اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں! آپ نے فرمایا: اس طرح لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے‘ کیا تو اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرتا ہے؟ عرض کی : نہیں! آپ نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے یہ فعل پسند نہیں کرتے‘ کیا تو اپنی پھوپھی کے لیے یہ پسند کرتا ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں! آپ نے ارشاد فرمایا: لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے‘ کیا تو اپنی خالہ کے لیے یہ فعل پسند کرتا ہے؟ اس نے عرض کی نہیں! آپ نے ارشاد فرمایا: لوگ بھی اپنی خالہ کے لیے یہ پسند نہیں کرتے‘ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: اے اللہ ! اس سے گناہوں کو دور فرما‘ اس کے دل کو پاک فرما‘ اس کی شرمگاہ کو پاک فرما!

سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← وحدثنا بن وثيمة الحمصي ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7694

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ حريز بن عثمان عن سليم بن عامر · حديث 7695

7679 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطى ثنا أبو المغيرة ( ح ) وحدثنا أبو زيد أحمد بن يزيد الحوطي ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع قالا ثنا حريز بن عثمان عن سليم بن عامر أن أبا أمامة حدثه Y أن غلاما شابا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ائذن لي بالزنا فصاح الناس فقال مه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقروه ادن فدنا حتى جلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبه لأمك ؟ قال : لا قال وكذلك الناس لا يحبونه لأمهاتم أتحبه لابنتك ؟ قال : لا قال وكذلك الناس لا يحبونه لبناتهم أتحبه لأختك ؟ قال : لا قال وكذلك الناس لا يحبونه لأخواتهم أتحبه لعمتك ؟ قال : لا قال وكذلك الناس لا يحبونه لعماتهم أتحبه لخالتك ؟ قال : لا قال وكذلك الناس لا يحبونه لخالاتهم فوضع رسول الله صلى الله عليه و سلم يده على صدره وقال : اللهم كفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر مبارک میں کبھی بھی جَو کی روٹی نہیں بچی تھی۔

أن غلاما شابا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← وحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحُوطِيُّ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7695

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عفير بن معدان عن سليم بن عامر · حديث 7698

7682 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا عفير بن معدان عن سليم بن عامر عن أبي أمامة رضي الله عنه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الذبح الكبش الأقرن وخير الكفن الحلة

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرے تو اس کے اور اپنے اوپر پردہ کرے اور فرمایا: گدھے کی طرح وہ دونوں ننگے نہ ہوں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7698

chevron_left Previous
1…313233…67
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter