المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ ما أسند أبو سفيان صخر بن حرب · حديث 7289
7273 - حدثنا أبو زرعة ثنا أبو اليمان ثنا شعيب عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس عن أبي سفيان Y نحوه
حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں : بے شک وہ پہلا دن جس میں میرے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رغبت ہو گئی تھی‘ وہ دن تھا جس میں قیصر نے اپنے ملک اور بادشاہی اور وہاں موجود حضرات کے سامنے کہا تھا کہ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ میں آپ کی طرف ضرور چل کر جاؤں گا تو آپ کا سر چوموں گا اور آپ کے دونوں پاؤں دھو کر پیوں گا۔ حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں کہ میں وہاں موجود تھا‘ میں اس خط کی وجہ سے جو آپ نے لکھا اس وجہ سے میری پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں : اس کے بعد مسلسل میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا ہو گئی تھی یہاں تک کہ میں اسلام لے آیا۔ آپ نے اپنے خط میں لکھا تھا: اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے‘ ہم عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی شی کو شریک نہ ٹھہرائیں‘ اللہ کے علاوہ ہم ایک دوسرے کو خدا نہ بنائیں‘ ان کو کہو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں‘ وہی ذات ہے جس نے رسول کو بھی ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کا دین غالب آ جائے‘ اگرچہ مشرکوں کو نا پسند ہو‘ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا اسے حرام نہیں کہتے ہیں‘ جن کو کتاب دی گئی وہ دین کو حق نہیں جانتے ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل وخوار ہو کر۔
أبي سفيان نحوه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زُرْعَةَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7289
